Close Menu
Tr-Urdu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Tr-Urdu
    Subscribe
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    Tr-Urdu
    You are at:Home»پاکستان»محسن نقوی کے ماسٹر اسٹروک نے آئی سی سی میں بھارت کے چھکے چھڑا دیے
    پاکستان

    محسن نقوی کے ماسٹر اسٹروک نے آئی سی سی میں بھارت کے چھکے چھڑا دیے

    ڈاکٹر فرقان حمیدBy ڈاکٹر فرقان حمید3فروری , 2026Updated:3فروری , 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔7 Mins Read
    پاک ، بھارت، کرکٹ
    پوسٹ شئیر کریں
    Facebook Twitter LinkedIn Email

    خصوصی تجزیہ: ڈاکٹر فرقان حمید

    کرکٹ محض ایک کھیل نہیں رہا۔ برصغیر میں یہ شناخت، وقار، سیاست، معیشت اور عوامی جذبات کا استعارہ بن چکا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ مقابلہ ہمیشہ سے کھیل سے بڑھ کر ایک سیاسی، سفارتی اور معاشی مظہر رہا ہے۔ آئی سی سی مینز ٹی20 ورلڈ کپ 2026 سے قبل پاکستان کا بھارت کے خلاف 15 فروری کو شیڈول میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ اسی تناظر میں ایک غیر معمولی، جرات مندانہ اور دور رس اثرات کا حامل قدم ہے۔ یہ فیصلہ نہ صرف کھیل کے میدان میں بلکہ عالمی کرکٹ گورننس، آئی سی سی کی غیر جانبداری، بھارت کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ، اور بنگلہ دیش کے ساتھ اظہارِ یکجہتی جیسے اہم سیاسی و اخلاقی سوالات کو بھی جنم دیتا ہے۔

    یہ اداریہ محض ایک خبر کا اعادہ نہیں بلکہ اس فیصلے کے پس منظر، محرکات، قانونی و مالی اثرات، تاریخی تناظر، اور مستقبل کے ممکنہ منظرناموں کا جامع تجزیہ پیش کرتا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ قاری محض جذباتی نعروں سے آگے بڑھ کر اس فیصلے کی گہرائی، اس کے مضمرات اور عالمی کرکٹ سیاست میں اس کے مقام کو سمجھ سکے۔

    کرکٹ اور سیاست: ایک ناگزیر تعلق

    کرکٹ کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ کھیل اور سیاست کو مکمل طور پر الگ کرنا ہمیشہ ممکن نہیں رہا۔ خاص طور پر جب بات سیکیورٹی، سفارتی تعلقات، اور قومی وقار کی ہو تو کھیل اکثر ریاستی پالیسی کا حصہ بن جاتا ہے۔ 1980 اور 1990 کی دہائیوں میں آسٹریلیا، ویسٹ انڈیز، نیوزی لینڈ اور انگلینڈ سمیت کئی ممالک نے سیاسی یا سیکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر میچز سے دستبرداری اختیار کی۔ 1990-91 میں پاکستان نے کشمیر تنازع کے باعث ایشیا کپ میں شرکت نہیں کی، جبکہ 1996 کے ورلڈ کپ میں سری لنکا کی سیکیورٹی صورتحال کے باعث کچھ ٹیموں نے وہاں کھیلنے سے انکار کیا۔

    یہ مثالیں واضح کرتی ہیں کہ میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ کوئی نئی یا غیر معمولی روایت نہیں، بلکہ یہ عالمی کھیلوں میں ایک تسلیم شدہ احتجاجی اور حفاظتی طریقۂ کار رہا ہے۔

    بھارت، آئی سی سی اور طاقت کا توازن

    گزشتہ ایک دہائی میں بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے مالی طاقت، نشریاتی حقوق، اور اسپانسرشپ کے ذریعے عالمی کرکٹ پر غیر معمولی اثر قائم کیا ہے۔ آئی پی ایل کی کامیابی نے بی سی سی آئی کو نہ صرف معاشی بلکہ انتظامی سطح پر بھی مرکزی حیثیت دے دی۔ ناقدین کے مطابق یہی وجہ ہے کہ آئی سی سی کے کئی فیصلے بھارت نواز دکھائی دیتے ہیں۔

    حکومتی ذرائع کے مطابق جے شاہ کی قیادت میں آئی سی سی کی غیر جانبداری سوالیہ نشان بن چکی ہے، اور بعض حلقے اسے طنزیہ طور پر “انڈین کرکٹ کونسل” قرار دیتے ہیں۔ اس تاثر کو تقویت بنگلہ دیش کے معاملے سے ملی، جہاں سیکیورٹی خدشات کے باوجود بنگلہ دیش کو ٹورنامنٹ سے باہر کر کے اسکاٹ لینڈ کو شامل کیا گیا۔

    بنگلہ دیش کا معاملہ اور پاکستان کا ردِعمل

    بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے بھارت میں سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر اپنی ٹیم بھیجنے سے انکار کیا۔ آئی سی سی نے طویل مشاورت اور سیکیورٹی اسیسمنٹ کے بعد یہ موقف اختیار کیا کہ کوئی قابلِ تصدیق خطرہ موجود نہیں، اور حتمی جواب نہ ملنے پر گورننس قوانین کے تحت متبادل ٹیم شامل کر لی گئی۔

    پاکستان نے اس فیصلے کو جانبدارانہ قرار دیتے ہوئے بنگلہ دیش کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کا اعلان کیا۔ اسی تناظر میں حکومتِ پاکستان نے فیصلہ کیا کہ قومی ٹیم ٹی20 ورلڈ کپ میں شرکت تو کرے گی، مگر 15 فروری کو بھارت کے خلاف میچ بطور احتجاج نہیں کھیلے گی۔

    حکومتی فیصلہ اور سیاسی پہلو

    وزیر اعظم شہباز شریف اور چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کے درمیان ملاقات کے بعد یہ فیصلہ سامنے آیا، جسے ایک ریاستی پالیسی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس فیصلے کے ذریعے پاکستان نے یہ پیغام دیا کہ کھیل کے میدان میں بھی اصول، انصاف اور برابری کی خلاف ورزی پر خاموشی اختیار نہیں کی جائے گی۔

    یہ قدم داخلی سیاست میں بھی اہم ہے، جہاں عوامی سطح پر بھارت کے خلاف سخت موقف کو پذیرائی ملتی ہے۔ تاہم اس کے ساتھ یہ سوال بھی جڑا ہے کہ آیا جذباتی حمایت عملی نقصانات کا ازالہ کر سکتی ہے یا نہیں۔

    قانونی اور اسپورٹنگ اثرات

    آئی سی سی کی پلیئنگ کنڈیشنز کی شق 16.10.7 کے مطابق اگر کوئی ٹیم میچ کھیلنے سے انکار کرے تو دستبردار ٹیم کا نیٹ رن ریٹ متاثر ہوتا ہے، جبکہ دوسری ٹیم کو واک اوور کے ذریعے پوائنٹس مل جاتے ہیں۔ اس صورت میں پاکستان کو گروپ مرحلے میں شدید دباؤ کا سامنا ہوگا اور سپر ایٹ مرحلے تک رسائی کے لیے باقی تمام میچز بہتر رن ریٹ کے ساتھ جیتنا ناگزیر ہو جائے گا۔

    گروپ اے میں بھارت اور پاکستان کے علاوہ امریکہ، نمیبیا اور نیدرلینڈز شامل ہیں، جو صورتحال کو مزید پیچیدہ بناتے ہیں۔

    مالی مضمرات اور براڈکاسٹنگ بحران

    پاک بھارت میچ کو دنیا کا سب سے بڑا کرکٹ مقابلہ قرار دیا جاتا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس میچ کے نہ ہونے کی صورت میں بھارتی براڈکاسٹرز کو تقریباً 500 ملین ڈالر تک کے نقصان کا سامنا ہو سکتا ہے۔ اشتہارات، نشریاتی حقوق، اسپانسرشپ اور ٹکٹوں کی فروخت اس تخمینے کا حصہ ہیں۔

    این ڈی ٹی وی کے مطابق صرف اشتہارات سے متوقع آمدن اربوں روپے تھی۔ اگر براڈکاسٹر اپنا نقصان آئی سی سی سے پورا کرتا ہے تو اس کا اثر دیگر فل اور ایسوسی ایٹ بورڈز کی ادائیگیوں پر بھی پڑے گا، جس سے عالمی کرکٹ معیشت متاثر ہو سکتی ہے۔

    ممکنہ پابندیاں اور خطرات

    بھارتی میڈیا کے مطابق پاکستان کو اس فیصلے کے نتیجے میں پابندیوں، مالی جرمانوں اور مستقبل کے ٹورنامنٹس میں مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ یہاں تک کہ پاکستان سپر لیگ میں غیر ملکی کھلاڑیوں کی شرکت پر اثر پڑنے کے خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ تاہم ماضی کی مثالیں بتاتی ہیں کہ آئی سی سی نے ایسے معاملات میں ہمیشہ سخت ترین اقدامات نہیں کیے۔

    تاریخ کے آئینے میں آج کا فیصلہ

    اگر تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو واضح ہوتا ہے کہ کھیل کے میدان میں احتجاج ہمیشہ وقتی نقصان کے ساتھ آیا، مگر بعض اوقات اس نے بڑے اصولی مباحث کو جنم دیا۔ جنوبی افریقہ کے خلاف کھیلوں کی پابندیاں، سری لنکا کے سیکیورٹی خدشات، اور ایشیا کپ کی منسوخیاں اس کی مثالیں ہیں۔

    پاکستان کا موجودہ فیصلہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، جس کا حتمی نتیجہ وقت ہی بتائے گا۔

    مستقبل کے منظرنامے

    اگر پاکستان اور بھارت ناک آؤٹ مرحلے تک پہنچتے ہیں تو سوال یہ ہوگا کہ آیا پاکستان اپنا یہی موقف برقرار رکھے گا یا حالات کے مطابق نئی حکمتِ عملی اپنائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ آئی سی سی کی گورننس، شفافیت اور غیر جانبداری پر بھی دباؤ بڑھے گا کہ وہ مستقبل میں ایسے تنازعات سے کیسے نمٹے۔

    پاکستان کا بھارت کے خلاف ٹی20 ورلڈ کپ میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ محض ایک اسپورٹنگ فیصلہ نہیں بلکہ ایک سیاسی، اخلاقی اور سفارتی موقف ہے۔ اس میں خطرات بھی ہیں اور مواقع بھی۔ خطرہ یہ کہ کھیل اور معیشت کو نقصان پہنچ سکتا ہے، اور موقع یہ کہ عالمی کرکٹ میں طاقت کے عدم توازن پر سنجیدہ بحث کا آغاز ہو۔

    آخرکار سوال یہ نہیں کہ پاکستان نے کیا کھویا یا پایا، بلکہ یہ ہے کہ کیا عالمی کرکٹ ایک منصفانہ، شفاف اور اصولوں پر مبنی نظام کی طرف بڑھ سکے گی یا نہیں۔ یہی اس اداریے کا مرکزی نکتہ اور قاری کے لیے غور و فکر کا مقام ہے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleڈی-8 سیکریٹریٹ میں اے ڈی ایف آئی ایم آئی کے سیکریٹری جنرل کا دورہ، ترقیاتی مالیاتی تعاون پر اہم تبادلۂ خیال
    ڈاکٹر فرقان حمید

    Related Posts

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026

    ترکیہ اسکالرشپس: دنیا کی جامع ترین ( fully funded)اسکالرشپس، آن لائن درخواستوں کا طوفان، ویب سائٹ کو کریش کے خدشات

    16جنوری , 2026

    دنیا کے تواز ن کا پانسہ پلٹنے والے نئےدفاعی ستون، جلد ہی پاک-ترک -سعودی ا سلامی اتحادقائم کیے جانے کی توقع

    15جنوری , 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    ٹیگز
    #اسرائیل #حقان فیدان #حماس #سیاحت #غزہ #فلسطین آئی ٹی استنبول اسلام آباد افراطِ زر الیکشن 2024 انتخابات انقرہ اپوزیشن ایردوان بھونچال بیسٹ ماڈل آف ترکیہ ترقی ترک صدی ترک میڈیا ترکیہ تعلیم حزبِ اختلاف دنیا دہماکہ دی اکانومسٹ روس سلائِڈر سلائیڈر--- شہباز شریف صدر ایردوان صدر ایردوان، وزیراعظم شہباز شریف، پاکستان، ترکیہ عدلیہ عمران خان فیچرڈ قاتلانہ حملہ لانگ مارچ مغربی میڈیا ملت اتحاد وزیراعظم وزیراعظم شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف، صدر ایردوان، پاکستان، امداد پاکستان پاک فوج یورپ
    • Facebook
    • Twitter
    • Instagram
    اہم خبریں

    محسن نقوی کے ماسٹر اسٹروک نے آئی سی سی میں بھارت کے چھکے چھڑا دیے

    ڈی-8 سیکریٹریٹ میں اے ڈی ایف آئی ایم آئی کے سیکریٹری جنرل کا دورہ، ترقیاتی مالیاتی تعاون پر اہم تبادلۂ خیال

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    مقبول پوسٹس

    محسن نقوی کے ماسٹر اسٹروک نے آئی سی سی میں بھارت کے چھکے چھڑا دیے

    3فروری , 2026

    ڈی-8 سیکریٹریٹ میں اے ڈی ایف آئی ایم آئی کے سیکریٹری جنرل کا دورہ، ترقیاتی مالیاتی تعاون پر اہم تبادلۂ خیال

    2فروری , 2026
    Tr-Urdu All Rights Reserved © 2022
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.