Close Menu
Tr-Urdu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Tr-Urdu
    Subscribe
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    Tr-Urdu
    You are at:Home»پاکستان»مئی 2025 کی چار روزہ جنگ: وہ لمحہ جب جنوبی ایشیا کا عسکری توازن بدل گیا،خصوصی تجزیہ: ڈاکٹر فرقان حمید
    پاکستان

    مئی 2025 کی چار روزہ جنگ: وہ لمحہ جب جنوبی ایشیا کا عسکری توازن بدل گیا،خصوصی تجزیہ: ڈاکٹر فرقان حمید

    ڈاکٹر فرقان حمیدBy ڈاکٹر فرقان حمید10مئی , 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔11 Mins Read
    معرکہ حق
    پوسٹ شئیر کریں
    Facebook Twitter LinkedIn Email

    خصوصی تجزیہ: ڈاکٹر فرقان حمید

    برصغیر کی تاریخ میں بعض جنگیں صرف میدانِ جنگ میں نہیں لڑی جاتیں بلکہ وہ قوموں کے وقار، ریاستی بیانیے، عسکری ساکھ اور عالمی سفارت کاری کے مستقبل کا بھی فیصلہ کرتی ہیں۔ مئی 2025 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی چار روزہ محدود مگر انتہائی شدت اختیار کر جانے والی جنگ بھی ایک ایسا ہی موڑ ثابت ہوئی جس نے نہ صرف جنوبی ایشیا کی اسٹریٹیجک حقیقتوں کو ہلا کر رکھ دیا بلکہ دنیا کے سامنے پہلی مرتبہ یہ تاثر بھی مضبوط کیا کہ پاکستان روایتی جنگی محاذ پر بھی بھارت کا مقابلہ کرنے بلکہ اسے پیچھے چھوڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    یہ جنگ صرف میزائلوں، لڑاکا طیاروں اور ڈرونز کی جنگ نہیں تھی بلکہ یہ بیانیے، معلومات، ٹیکنالوجی، سفارت کاری اور عسکری اعتماد کی جنگ بھی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اس جنگ کے مہینوں بعد بھی دنیا بھر میں سب سے زیادہ زیرِ بحث سوال یہی رہا کہ آخر بھارت نے اپنے نقصانات کی مکمل تفصیلات کیوں چھپائیں؟ اور کیوں پاکستان اس پورے تنازعے میں نہ صرف عسکری بلکہ نفسیاتی اور سفارتی سطح پر بھی برتری حاصل کرنے میں کامیاب رہا؟

    یہ حقیقت اپنی جگہ اہم ہے کہ جنگ کا آغاز پہلگام میں سیاحوں پر ہونے والے مہلک حملے کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی سے ہوا، مگر اس سے بھی زیادہ اہم حقیقت یہ تھی کہ بھارت نے چھ اور سات مئی کی درمیانی شب پاکستان اور آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں پر میزائل حملے کرکے صورتحال کو براہِ راست جنگ میں تبدیل کردیا۔ نئی دہلی کو شاید یہ یقین تھا کہ وہ اپنی روایتی برتری، بڑی فضائی قوت اور جدید مغربی ہتھیاروں کی بنیاد پر پاکستان کو چند گھنٹوں میں دباؤ میں لے آئے گا۔ مگر تاریخ نے ایک مختلف منظر دیکھا۔

    پاکستان کی جانب سے نہ صرف فوری جوابی کارروائی کی گئی بلکہ پاک فضائیہ نے جس منظم انداز میں بھارتی فضائی کارروائی کا جواب دیا، اس نے پوری دنیا کو حیران کردیا۔ نو مئی کو پاکستانی افواج کے ترجمانوں نے باضابطہ پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا کہ بھارت کے پانچ لڑاکا طیارے مار گرائے گئے ہیں جن میں تین فرانسیسی ساختہ رفال، ایک مگ 29 اور ایک ایس یو 30 شامل تھا۔ چند روز بعد ایئر وائس مارشل اورنگزیب احمد نے ایک اور بریفنگ میں بتایا کہ گرائے جانے والے بھارتی طیاروں کی تعداد دراصل چھ تھی۔

    یہ وہ لمحہ تھا جب دنیا بھر کے عسکری ماہرین کی توجہ اچانک جنوبی ایشیا کی طرف مبذول ہوگئی۔ کیونکہ اگر یہ دعوے درست تھے تو اس کا مطلب صرف چند طیاروں کی تباہی نہیں تھا بلکہ اس کا مطلب یہ تھا کہ جنوبی ایشیا میں فضائی برتری کے بارے میں دہائیوں سے قائم تصور ٹوٹ چکا تھا۔

    بھارت کے لیے سب سے بڑی مشکل یہ تھی کہ وہ فوری طور پر ان دعوؤں کی واضح تردید نہ کرسکا۔ جب بھارتی حکام سے اس بارے میں سوال کیا گیا تو انڈین ایئر مارشل اے کے بھارتی نے صرف اتنا کہا کہ جنگ میں دونوں طرف نقصان ہوتا ہے اور اس کا جائزہ لیا جائے گا۔ یہ بیان دراصل ایک غیر معمولی خاموشی تھی۔ کیونکہ اگر واقعی کوئی بڑا نقصان نہ ہوا ہوتا تو نئی دہلی فوری اور جارحانہ انداز میں پاکستانی دعوؤں کو جھوٹا قرار دیتا، جیسا کہ ماضی میں اکثر کیا جاتا رہا تھا۔

    اس کے بعد جون 2025 میں بھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انیل چوہان کا بیان مزید معنی خیز ثابت ہوا۔ انہوں نے یہ کہنے کے بجائے کہ طیارے نہیں گرائے گئے، یہ کہا کہ ‘اہم بات یہ نہیں کہ طیارے گرائے گئے بلکہ یہ کہ وہ کیوں گرائے گئے۔’  عسکری حلقوں میں اس بیان کو ایک بالواسطہ اعتراف کے طور پر دیکھا گیا۔ کیونکہ جنگی تاریخ میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ریاستیں براہِ راست اعتراف سے گریز کرتی ہیں مگر ان کے بیانات حقیقت کی سمت اشارہ ضرور کردیتے ہیں۔

    پاکستان نے اس پوری جنگ میں ایک ایسی حکمتِ عملی اختیار کی جو بھارت کے لیے سب سے زیادہ نقصان دہ ثابت ہوئی: شفافیت۔ پاکستانی حکام نے نہ صرف مسلسل پریس بریفنگز دیں بلکہ جنگی کارروائیوں کے شواہد، سیٹلائٹ تصاویر، مختلف مقامات کی ویڈیوز، تباہ ہونے والے بھارتی طیاروں کے ملبے، حتیٰ کہ بعض سیریل نمبرز تک میڈیا کے سامنے رکھ دیے۔ پاکستانی میڈیا اور ریاستی ادارے ایک مربوط بیانیے کے ساتھ سامنے آئے۔

    اس کے برعکس بھارت میں صورتحال بالکل مختلف رہی۔ بین الاقوامی میڈیا کو فضائی اڈوں اور حساس عسکری تنصیبات تک رسائی نہیں دی گئی۔ اطلاعات کو سختی سے کنٹرول کیا گیا۔ صرف سرکاری پریس کانفرنسوں کے ذریعے محدود معلومات جاری کی جاتی رہیں۔ یہی وجہ تھی کہ عالمی میڈیا میں سوالات بڑھتے گئے۔

    یہاں ایک اور اہم پہلو بھی قابلِ ذکر ہے۔ بی بی سی ویریفائی سمیت متعدد بین الاقوامی اداروں نے ایسی ویڈیوز کی تصدیق کی جن میں مبینہ طور پر بھارتی رفال طیاروں کا ملبہ دیکھا گیا۔ پام پور، پلوامہ اور رام بن جیسے مقامات سے سامنے آنے والی تصاویر اور ویڈیوز نے بھارتی حکومت کے لیے صورتحال مزید پیچیدہ بنادی۔ خاص طور پر وہ مناظر جن میں بلڈوزر کے ذریعے ملبہ ہٹایا جا رہا تھا، عالمی میڈیا میں بار بار نشر ہوئے۔

    یہ پہلی مرتبہ تھا کہ بھارت، جو خود کو خطے کی ناقابلِ تسخیر عسکری طاقت کے طور پر پیش کرتا رہا تھا، ایک ایسی جنگ کے بعد دفاعی پوزیشن میں نظر آیا۔

    پاکستان نے صرف دفاع تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ دس مئی کو آپریشن ‘ بنیان المرصوص’ کے آغاز کے ساتھ بھرپور جوابی کارروائیاں بھی کیں۔ پاکستانی ذرائع کے مطابق بھارت کے اندر متعدد عسکری اہداف کو نشانہ بنایا گیا جن میں بیاس میں براہموس میزائل سائٹ، ادھم پور ایئربیس اور پٹھان کوٹ ایئر فیلڈ شامل تھے۔ بھارت نے خود تسلیم کیا کہ پاکستان نے 26 مختلف مقامات پر مربوط حملے کیے۔

    بھارت کی دہائیوں پر محیط دفاعی حکمتِ عملی اس تصور پر قائم رہی تھی کہ روایتی جنگ میں اسے پاکستان پر فیصلہ کن برتری حاصل ہے۔ جدید مغربی طیارے، بڑی فوج، وسیع دفاعی بجٹ اور عالمی حمایت نئی دہلی کے اعتماد کا مرکز تھے۔ مگر مئی 2025 کی جنگ نے اس تصور کو پہلی بار سنجیدگی سے چیلنج کردیا۔

    دفاعی تجزیہ کار پروین ساہنی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ   امریکی کانگریس کی رپورٹ میں واضح طور پر لکھا گیا کہ چار روزہ جنگ میں پاکستانی افواج نے بھارتی افواج سے بہتر کارکردگی دکھائی۔ یہ بیان محض ایک تبصرہ نہیں تھا بلکہ عالمی سطح پر بدلتے ہوئے تاثر کا اظہار تھا۔

    اس جنگ کے بعد عالمی دفاعی حلقوں میں ایک اہم سوال گردش کرتا رہا: اگر پاکستان محدود وسائل کے باوجود بھارتی فضائیہ کو اس سطح پر چیلنج کرسکتا ہے تو پھر جنوبی ایشیا میں طاقت کا اصل توازن کیا ہے؟

    یہی وہ سوال تھا جس نے بھارت کی سفارتی کوششوں کو بھی متاثر کیا۔ جنگ کے بعد بھارت نے دنیا کے 30 سے زیادہ ممالک میں پارلیمانی وفود بھیجے تاکہ اپنا مؤقف پیش کرسکے، مگر اسے وہ پذیرائی نہ مل سکی جس کی توقع کی جا رہی تھی۔ اس کی ایک بنیادی وجہ یہ تھی کہ عالمی رائے عامہ میں پہلے ہی یہ تاثر بن چکا تھا کہ پاکستان نے نہ صرف فوری جواب دیا بلکہ اپنے دعوؤں کے ساتھ ثبوت بھی پیش کیے۔ اس کے مقابلے میں بھارت مسلسل دفاعی وضاحتیں دیتا دکھائی دیا۔

    بین الاقوامی سیاست میں perception یعنی تاثر بعض اوقات زمینی حقیقت سے بھی زیادہ اہم ہوجاتا ہے۔ مئی 2025 کی جنگ میں پاکستان نے یہی میدان جیتا۔ دنیا نے پہلی بار دیکھا کہ پاکستان نہ صرف اپنی عسکری صلاحیتوں پر اعتماد رکھتا ہے بلکہ وہ انہیں عالمی سطح پر پیش کرنے کی بھی صلاحیت رکھتا ہے۔

    یہی وجہ ہے کہ اس جنگ کے بعد پاکستان کے عالمی امیج میں نمایاں بہتری دیکھی گئی۔ عالمی میڈیا، دفاعی تھنک ٹینکس اور سفارتی حلقوں میں پاکستان کو ایک ایسے ملک کے طور پر دیکھا جانے لگا جو جدید جنگی حکمتِ عملی، نیٹ ورک سینٹرک وارفیئر، ڈرون ٹیکنالوجی اور فضائی دفاع کے میدان میں غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہے۔

    اس پورے تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کردار بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا۔ جنگ بندی کے بعد ٹرمپ نے متعدد مواقع پر انڈیا اور پاکستان کے درمیان جنگ رکوانے کا ذکر کیا اور ایک موقع پر کہا کہ اس تنازعے میں کئی لڑاکا طیارے مار گرائے گئے۔ بعد ازاں انہوں نے تعداد میں اضافہ کرتے ہوئے گیارہ طیاروں کا ذکر بھی کیا۔

    یہ بیانات محض سفارتی جملے نہیں تھے۔ واشنگٹن جیسے دارالحکومت میں الفاظ انتہائی احتیاط سے استعمال کیے جاتے ہیں۔ اگر امریکہ مکمل طور پر بھارتی مؤقف کے ساتھ کھڑا ہوتا تو ایسی زبان کبھی استعمال نہ کی جاتی۔

    لیکن اصل علامتی واقعہ اس وقت پیش آیا جب امریکی صدر نے پاکستان کے اس وقت کے آرمی چیف، جنہوں نے بعد میں   فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی پائی، کو وائٹ ہاؤس میں لنچ پر مدعو کیا۔

    یہ دعوت محض ایک سفارتی ملاقات نہیں تھی بلکہ ایک طاقتور علامت تھی۔

    امریکی صدور،  عام طور پر غیر ملکی سربراہانِ مملکت کو مدعو کرتے ہیں، مگر کسی دوسرے ملک کی فوجی قیادت کو اس نوعیت کی خصوصی توجہ دینا غیر معمولی امر سمجھا جاتا ہے۔ عالمی سفارتی حلقوں میں اس دعوت کو پاکستان کی عسکری کامیابیوں اور خطے میں اس کی بڑھتی ہوئی اہمیت کے اعتراف کے طور پر دیکھا گیا۔

    اس دعوت نے ایک اور حقیقت کو بھی واضح کردیا: امریکہ سمیت بڑی طاقتیں اب جنوبی ایشیا میں پاکستان کو صرف ایک دفاعی ریاست کے طور پر نہیں بلکہ ایک مؤثر اسٹریٹیجک طاقت کے طور پر دیکھنے لگی تھیں۔

    مئی 2025 کی جنگ نے پاکستان کے لیے ایک اور اہم دروازہ بھی کھولا: قومی اعتماد کی بحالی۔

    ایک طویل عرصے سے پاکستان عالمی سطح پر دہشت گردی، معاشی مشکلات اور سیاسی عدم استحکام جیسے موضوعات کے تناظر میں زیرِ بحث رہتا تھا۔ مگر اس جنگ کے بعد پہلی مرتبہ عالمی میڈیا میں پاکستان کا ذکر جدید عسکری صلاحیت، مؤثر فضائی حکمتِ عملی اور تکنیکی برتری کے تناظر میں ہونے لگا۔یہ تبدیلی معمولی نہیں تھی۔

    قوموں کی عالمی شناخت صرف معیشت سے نہیں بنتی بلکہ ان کی ریاستی صلاحیت، بحران سے نمٹنے کی اہلیت اور جنگی نظم و ضبط بھی عالمی تاثر تشکیل دیتے ہیں۔ پاکستان نے اس جنگ میں یہ سب کچھ دکھایا۔

    دوسری طرف بھارت کے لیے یہ جنگ ایک نفسیاتی دھچکا ثابت ہوئی۔ کیونکہ بھارت نے گزشتہ ایک دہائی میں خود کو ایک ابھرتی ہوئی عالمی طاقت، خطے کے’ سکیورٹی پرووائیڈر’ اور ایشیا کی بڑی عسکری قوت کے طور پر پیش کرنے میں بے پناہ سرمایہ کاری کی تھی۔ رفال طیاروں کی خریداری کو بھارتی میڈیا نے ‘ گیم چینجر’  قرار دیا تھا۔ مگر اگر واقعی انہی طیاروں کو جنگ کے ابتدائی گھنٹوں میں نشانہ بنایا گیا تو اس نے نہ صرف بھارتی فضائیہ بلکہ بھارتی دفاعی بیانیے کو بھی شدید نقصان پہنچایا۔

    یہی وجہ ہے کہ جنگ کے کئی ماہ بعد بھی نئی دہلی اپنے نقصانات کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے نہ لا سکا۔

    آج کے ڈیجیٹل دور میں جنگی حقائق کو مکمل طور پر چھپانا تقریباً ناممکن ہوچکا ہے۔ سیٹلائٹ تصاویر، اوپن سورس انٹیلی جنس، سوشل میڈیا ویڈیوز اور عالمی صحافت ریاستی بیانیوں کو مسلسل جانچتی رہتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت کی خاموشی خود ایک سوال بن گئی۔

    اس جنگ نے ایک اور حقیقت بھی ثابت کی: جدید جنگیں صرف اسلحے کی تعداد سے نہیں جیتی جاتیں بلکہ معلومات، رفتار، رابطے، حکمتِ عملی اور قیادت سے جیتی جاتی ہیں۔

    پاکستان نے محدود وقت میں جس انداز سے اپنی فضائی، میزائل اور ڈرون صلاحیتوں کو استعمال کیا، اس نے دنیا بھر کے عسکری ماہرین کو حیران کردیا۔ خاص طور پر یہ بات قابلِ توجہ رہی کہ پاکستان نے اپنے ردعمل کو مکمل جنگ میں تبدیل ہونے سے بھی روکے رکھا، جو اس کی عسکری قیادت کی پختگی کو ظاہر کرتا ہے۔

    مئی 2025 کی چار روزہ جنگ شاید جغرافیائی اعتبار سے محدود تھی، مگر اس کے اثرات دور رس ثابت ہوئے۔ اس جنگ نے جنوبی ایشیا کے طاقت کے توازن، عالمی سفارت کاری، عسکری نفسیات اور بین الاقوامی تاثر کو نئی شکل دی۔

    پاکستان کے لیے یہ صرف ایک عسکری کامیابی نہیں تھی بلکہ ایک اسٹریٹیجک موڑ تھا۔ ایک ایسا موڑ جہاں دنیا نے پہلی مرتبہ کھل کر تسلیم کیا کہ پاکستان نہ صرف دفاع کرسکتا ہے بلکہ جدید جنگی ماحول میں برتری بھی حاصل کرسکتا ہے۔

    اور شاید یہی وہ اصل وجہ تھی کہ جنگ کے بعد عالمی سطح پر پاکستان کا وقار بلند ہوا، اس کی عسکری قیادت عالمی توجہ کا مرکز بنی، اور وائٹ ہاؤس میں ہونے والی وہ تاریخی دعوت ایک علامت بن گئی ،  اس بات کی علامت کہ مئی 2025 کی جنگ نے صرف چار دنوں میں کئی دہائیوں پرانے تصورات بدل دیے تھے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں معرکۂ حق کی پر وقار تقریب
    ڈاکٹر فرقان حمید

    Related Posts

    ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں معرکۂ حق کی پر وقار تقریب

    8مئی , 2026

    حقان فیدان: ہم پاکستان کے کردار کو سراہتے ہیں ،پاکستان کی ثالثی پر مکمل اعتماد ہے ،ترکیہ خطے میں امن کے قیام میں پاکستان کی کی مکمل حمایت جاری رکھے گا

    29اپریل , 2026

    ترکیہ کے شہر چوروم میں چغتائی آرٹ ایوارڈز 2026 کی پُروقار تقریبِ تقسیمِ انعامات

    27اپریل , 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    ٹیگز
    #اسرائیل #حقان فیدان #حماس #سیاحت #غزہ #فلسطین آئی ٹی استنبول اسلام آباد افراطِ زر الیکشن 2024 انتخابات انقرہ اپوزیشن ایردوان بھونچال بیسٹ ماڈل آف ترکیہ ترقی ترک صدی ترک میڈیا ترکیہ تعلیم حزبِ اختلاف دنیا دہماکہ دی اکانومسٹ روس سلائِڈر سلائیڈر--- شہباز شریف صدر ایردوان صدر ایردوان، وزیراعظم شہباز شریف، پاکستان، ترکیہ عدلیہ عمران خان فیچرڈ قاتلانہ حملہ لانگ مارچ مغربی میڈیا ملت اتحاد وزیراعظم وزیراعظم شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف، صدر ایردوان، پاکستان، امداد پاکستان پاک فوج یورپ
    • Facebook
    • Twitter
    • Instagram
    اہم خبریں

    مئی 2025 کی چار روزہ جنگ: وہ لمحہ جب جنوبی ایشیا کا عسکری توازن بدل گیا،خصوصی تجزیہ: ڈاکٹر فرقان حمید

    ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں معرکۂ حق کی پر وقار تقریب

    ڈی-8 نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے باہمی تعاون کو عملی لائحۂ عمل کو فروغ دیا ہے

    حقان فیدان: ہم پاکستان کے کردار کو سراہتے ہیں ،پاکستان کی ثالثی پر مکمل اعتماد ہے ،ترکیہ خطے میں امن کے قیام میں پاکستان کی کی مکمل حمایت جاری رکھے گا

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    مقبول پوسٹس

    مئی 2025 کی چار روزہ جنگ: وہ لمحہ جب جنوبی ایشیا کا عسکری توازن بدل گیا،خصوصی تجزیہ: ڈاکٹر فرقان حمید

    10مئی , 2026

    ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں معرکۂ حق کی پر وقار تقریب

    8مئی , 2026
    Tr-Urdu All Rights Reserved © 2022
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.