Close Menu
Tr-Urdu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Tr-Urdu
    Subscribe
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    Tr-Urdu
    You are at:Home»کالم اور مضامین»صدر ایردوان  ، افراطِ زر اور حزبِ اختلاف
    کالم اور مضامین

    صدر ایردوان  ، افراطِ زر اور حزبِ اختلاف

    ڈاکٹر فرقان حمیدBy ڈاکٹر فرقان حمید14دسمبر , 2022کوئی تبصرہ نہیں ہے۔6 Mins Read
    پوسٹ شئیر کریں
    Facebook Twitter LinkedIn Email

    تحریر ڈاکٹر فرقان حمید

    ترکیہ میں   آئندہ سال   جون میں  ہونے والے صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کے لیے ابھی ہی سےانتخابی مہم نے زور پکڑنا شروع  کردیا ہے۔ صدر ایردوان روزانہ ہی    ملک کے مختلف شہروں میں ایک ساتھ ہی کئی کئی    افتتاحی تقاریب میں خود موجود ہو کر یا پھر   آن لائن شرکت کرتے ہوئے آئندہ پانچ سال کے لیے بھی ان پر ہی اعتماد کرنے  تاکہ   ترکیہ کو ماضی کی طرح مستقبل میں بھی ترقی کی راہ پر گامزن رکھنے  اوراس ترقی کی بدولت اسے   دنیا کے پہلے  دس ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل کروانے کی یقین دہانی کروا رہے ہیں۔ میری ذاتی رائے کے مطابق  صدر   ایردوان    اس وقت  دنیا کے مصروف ترین  صدر ہیں  اوراپنی مصروفیت ، ملکی  اور غیر ملکی دوروں کی بدولت ان کا   نام کسی وقت بھی  گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں  رقم کیا جاسکتا ہے یا کرلیا گیا ہو ۔ وہ   موجودہ دور میں مختلف ممالک کے رہنماوں سے ون آن ون ملاقات  کرنے والے دنیا کے واحد لیڈر ہیں اور دنیا میں جس طریقے سے  ان پر ثالث  کی حیثیت سے  اعتماد  کیا جا رہا ہے  اور وہ  روس اور یوکرین کے درمیان   جس طریقے سے  ثالثی  کا کردار ادا کررہے ہیں یورپی یونین  اور نیٹو کا کوئی بھی رکن ایسا کرنے  کی صلاحیت ہی نہیں رکھتا ہےاور یہی چیز ان کو دنیا کے تمام لیڈروں سے ممتاز کرتی ہے اور اب دنیا کے نظریں  صدر ایردوان پر مرکوز ہو کر رہ گئی ہیں اور وہ  قد آور   شخصیت کو طور پر دنیا کے سامنے آئے ہیں۔  

    اس حقیقت   کو بیان کرنے کے بعد  یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ  صدر ایردوان  کے لیے  آئندہ  صدارتی  اور پارلیمانی  انتخابات میں  کامیابی حاصل کرنا  مشکل بھی بنتا جا رہا ہے۔  اگرچہ پارلیمانی  انتخابات میں (پارلیمنٹ) میں ان کی جماعت کو پہلی پوزیشن حاصل ہو جائے گی لیکن صدر ایردوان نے  ملک میں صدارتی نظام متعارف کروانے کے لیے جو ریفرنڈم کروایا تھا اس میں ملک کے کسی بھی صدارتی امیدوارکی کامیابی کے لیے 51 فیصد ووٹ حاصل کرنے کی شرط عائد کردی تھی  لیکن  اب یہ  شرط  ان کی راہ  میں کامیابی کی سب سے بڑی رکاوٹ بنتی جا رہی ہے کیونکہ موجود حالات میں   ان کے لیے اکیاون فیصد ووٹ حاصل  کرنا  ملک میں اقتصادی صورتِ حال  ،  افراطِ زر  کی شرح  85 فیصد ہونے (اپوزیشن کے مطابق 120 فیصد سے زاہد ہونے ) اور مہنگائی کی وجہ سے بڑا مشکل دکھائی  دیتا ہے۔

    ملک میں  اس وقت مہنگائی کو یا افراطِ زر کو کنٹرول کرنے والا کوئی ادارہ سرے سے موجود ہی نہیں ہے جس کی وجہ سے  جیسے ہی حکومت کی جانب سے تنخواہوں میں اضافہ کرنے  کا اعلان کیا جاتا ہے  اس اعلان کے فوراً بعد ہی   روزمرہ  کی اشیاء کی قیمتیں  آسمان  کو چھونا شروع  کردیتی ہیں ۔ اس سے   ترکیہ میں امیر لوگ امیر تر ہوتے جارہے ہیں جبکہ درمیانہ طبقہ جو کسی زمانے ترکیہ کی  اقتصادیات میں ریڑھ  کی ہڈی کی حیثیت رکھتا تھا  کو مہنگائی کے کینسر نے  ختم کرکے رکھدیا ہے  اور اب یہی طبقہ غربت کی لکیر کے  نیچے  زندگی  بسر کرنے پر مجبور ہے۔اب چونکہ انتخابات جیسےجیسے  قریب آتے جا رہے ہیں صدر ایردوان نے ملک کے خزانے  کا منہ بھی کھولنے کا فیصلہ کرلیا    اور ماہ جنوری میں اس وقت ترکیہ میں کم از کم اجرت  جو ساڑھے پانچ ہزار ٹر کش لیرا ہے (300ڈالرکے لگ بھگ) کےآٹھ ہزار ٹرکش لیرا کے لگ بھگ کیے جانے کا خیال  ظاہر کیا جا رہا ہےلیکن اس کے ساتھ حکومت   کی جانب سے ٹیکسوں میں بے پناہ  اضافےجو   قیمتوں میں اضافے مین چنگاری کی حیثیت رکھتی ہے امہنگائی کی ایک ایسی آگ بڑھک  اٹھتی ہے جس پر قابو پانا ناممکن ہو جاتا ہے۔ ملک میں مہنگائی کی سب سے بڑی وجہ حکومت کے  اخراجات  میں بے پناہ اضافہ ہیں   اگرچہ حکومت ملک کے مرکزی بینک میں  125 بلین ڈالر کے ریزرو موجود ہونے کا اعلان کرتی ہے  لیکن اپوزیشن  کے مطابق اگرچہ  مرکزی بینک  میں اس وقت  125 بلین ڈالر موجود ہیں  لیکن یہ صرف چند دنوں کے لیے ہیں  کیونکہ حکومت کے اس سال کے اندر اندر  160 بلین کی غیر ملکی ادائیگی کرنے کی ضرورت ہے اور یہی وجہ ہے کہ حکومت ترکیہ نے چند ماہ قبل  قطر سے بیس بلین ڈالر،متحدہ  عرب امارت  سے 15 بلین ڈالرمرکزی بینک میں رکھنے کے لیے لے چکی ہے تو   آئندہ ہفتے  سعودی عرب سے  5 بلین ڈالر ملنے کی توقع ۔

    اپوزیشن کے مطابق   حکومتِ ترکیہ نے  ڈالر کی قدرو قیمت پر کنٹرول رکھنے کے لیے جو پالیسی اختیار کررکھی ہے  ، اُس سے حکومتِ ترکیہ کو   اس وقت تک 90 بلین ڈالر کا

    خسارہ ہوچکا ہے اوریہ پالیسی جاری رہنے کی صورت میں مزید خسارہ جاری رہے گا۔  ترکیہ کی اپوزیشن کی جانب سے   اس بار ٹیلی ویژن چینلز پر   جن اعدادو شمار کو پیش کیا جا رہا ہے اور عوام کو حقائق سے آگاہ کرتے ہوئے آئندہ انتخابات کے لیے  صدر ایردوان  کی راہ میں  مشکلات کھڑی کی جا رہی ہے۔

    ترکیہ میں   آئندہ سال   جون میں  ہونے والے صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کے لیے ابھی ہی سےانتخابی مہم نے زور پکڑنا شروع  کردیا ہے

    اگرچہ اس وقت  صدر ایردوان کے خلاف چھ جماعتوں کا اتحاد  ” جسے “ملت اتحاد” کے نام سے  یاد کیا جاتا ہے کی  پوزیشن صدر ایردوان کے قائم کردہ  اتحاد ” جمہور اتحاد”  کے مقابلے میں بہت بہتر ہے  لیکن اس اتحاد   کو ابھی تک ایسا کوئی  لیڈر میسر نہیں آیا ہے جو     صدر ایردوان کا مقابلہ کرسکے ۔ اسی لیے  اپوزیشن کا اتحاد  صدر ایردوان کے مقابلے میں  اپنے صدارتی امیدوار کا نام پیش کرنے سے قاصر ہے ۔ اگرچہ اس اتحاد میں مختلف نظریات   رکھنے والی جماعتیں موجود ہیں اور  ان تمام جماعتوں سے متعلق کروائے جانے والے  سروئیز سے بھی  اس اتحاد  ( جو صرف صدر ایردوان کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے  وجود میں آیا ہے ) کے جمہور اتحاد سے مضبوط ہونے  کے واضع  اشارات مل رہے ہیں لیکن جب تک  ایردوان کے خلاف قائم اتحاد کی جانب سے  اپنے  یا  باہر سے کسی لیڈر کا نام پیش نہیں کیا جاتا اس وقت تک  صدر ایردوان کو ان پر برتری حاصل رہے گی کیونکہ صدر ایردوان کرشمہ ساز شخصیت کے مالک ہیں    ۔ وہ عوام کو اپنی مٹھی میں لینے کے فن سے پوری طرح آگاہ ہیں  اور آخری وقت تک جب تک کامیابی حاصل نہیں  ہوجاتی اپنی جدو جہد کو جاری رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے ان کے خلاف ایک بھی سیاسی جماعت مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی جس کی وجہ سے  انہوں نے ایردوان کے خلاف چھ جماعتوں کا اتحاد قائم کیا  ہے  جس میں مزید ایک دو جماعتوں کے شامل ہونے کی توقع  کی جا رہی ہے۔ترکیہ کے آئندہ صدارتی انتخابات صدر ایردوان  اور ترکیہ کے مستقبل کے لیے بڑی اہمیت کے حامل ہیں جس لے لیے دونوں ااتحادوں کے علاوہ مزید سیاسی جماعتیں  ابھی ہی سے میدان میں آگئی ہیں ۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleترکیہ کی سیاست میں امام اولوکا بھونچال،  عدلیہ کے فیصلے نے ایک ہی رات میں  امام اولو کو زمین سے اٹھا کرآسمان کی بلندیوں تک پہنچادیا
    Next Article ترکیہ ایک آزاد اورخودمختیار مملکت ہے، اپنا فیصلہ خود کرنے کےمجاز ہیں، روس کے توسط سے شام کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہیں: صدر ایردوان
    ڈاکٹر فرقان حمید

    Related Posts

    دنیا کے تواز ن کا پانسہ پلٹنے والے نئےدفاعی ستون، جلد ہی پاک-ترک -سعودی ا سلامی اتحادقائم کیے جانے کی توقع

    15جنوری , 2026

    عوام فوج کو اور فوج عوام کو گلے لگا ئے ، یہی وقت کا تقاضا اور ضرورت ہے ایک ایسا مصالحتی کالم جو سینسر کی نذر ہوگیا

    8جنوری , 2026

    طاقت کی نئی لغت، عالمی نظام کا انہدام اور وینزویلا کا خوف دنیا پرطاری، جس کی لاٹھی اس کی بھینس

    5جنوری , 2026

    Comments are closed.

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    ٹیگز
    #اسرائیل #حقان فیدان #حماس #سیاحت #غزہ #فلسطین آئی ٹی استنبول اسلام آباد افراطِ زر الیکشن 2024 انتخابات انقرہ اپوزیشن ایردوان بھونچال بیسٹ ماڈل آف ترکیہ ترقی ترک صدی ترک میڈیا ترکیہ تعلیم حزبِ اختلاف دنیا دہماکہ دی اکانومسٹ روس سلائِڈر سلائیڈر--- شہباز شریف صدر ایردوان صدر ایردوان، وزیراعظم شہباز شریف، پاکستان، ترکیہ عدلیہ عمران خان فیچرڈ قاتلانہ حملہ لانگ مارچ مغربی میڈیا ملت اتحاد وزیراعظم وزیراعظم شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف، صدر ایردوان، پاکستان، امداد پاکستان پاک فوج یورپ
    • Facebook
    • Twitter
    • Instagram
    اہم خبریں

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    ترکیہ اسکالرشپس: دنیا کی جامع ترین ( fully funded)اسکالرشپس، آن لائن درخواستوں کا طوفان، ویب سائٹ کو کریش کے خدشات

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    مقبول پوسٹس

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026
    Tr-Urdu All Rights Reserved © 2022
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.