Close Menu
Tr-Urdu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Tr-Urdu
    Subscribe
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    Tr-Urdu
    You are at:Home»تعلیم»انقرہ یونیورسٹی کی اہمیت کیا ہے ؟ طلبا ءکیونکر انقرہ یونیورسٹی میں داخلے کو ترجیح دیتے ہیں ؟
    تعلیم

    انقرہ یونیورسٹی کی اہمیت کیا ہے ؟

    طلبا ءکیونکر انقرہ یونیورسٹی میں داخلے کو ترجیح دیتے ہیں ؟

    ڈاکٹر فرقان حمیدBy ڈاکٹر فرقان حمید10جنوری , 2023Updated:10جنوری , 2023کوئی تبصرہ نہیں ہے۔5 Mins Read
    انقرہ یونیورسٹی
    پوسٹ شئیر کریں
    Facebook Twitter LinkedIn Email
    تحریر ڈاکٹر فرقان حمید

     

     

     

     

    ( نوٹ: تعلیم کے زیر عنوان  اس کیٹگری میں  ہم اپنے قارئین کو ترکیہ کی مختلف یونیورسٹیوں کے بارے میں معلومات  فراہم کرنے کا سلسلہ شروع کررہے ہیں ۔آج سب سے پہلے انقرہ یونیورسٹی کے بارے میں اپنے قارئین کو آگاہی فراہم کررہے ہیں )

    جدید جمہوریہ  ترکیہ کی تاریخ اور مشن لیے قائم ہونے والی انقرہ  یونیورسٹی ، جدید سائنس، عصری جمہوری اقدار اور اداروں پر مبنی ایک عظیم سوچ ہی کا دوسرا نام ہے۔ انقرہ یونیورسٹی ایک ایسی یونیورسٹی ہے جس کی بنیاد خود عظیم اتاترک نے رکھی تھی تاکہ اتاترک کے اصولوں، انقلابات  اور اصلاحات کو عملی جامہ  پہنانے کی راہ ہموار کی جاسکے اور  ان  کو پورے ملک میں پھیلایا جا سکےاور  ملک میں  جدیدیت، سائنس اور روشن خیالی کا پرچار  کیا جاسکے۔

    انقرہ یونیورسٹی

    اعلیٰ تعلیم کے میدان میں نوجوانوں  کو  قانون کی تعلیم دینے  اور وکلاء  کی تربیت کے لیے   1925 میں  قانونِ  مکتب کے نام سے اسی یونیورسٹی کے تحت  کے لیے قائم کیا  گیا، اس کے بعد  1933 میں  ہائر انسٹی ٹیوٹ آف ایگریکلچرکو   ترک کسانوں کی خدمت کے لیے  قائم کیا گیاجہاں  1935 میں باقاعدہ درس و تدریس کا آغاز ہوا۔ اسی  یونیورسٹی کے تحت  پہلے استنبول میں  زبان، تاریخ اور جغرافیہ کے عنوان سے  فیکلٹی (فیکلٹی آف لیٹرز)کا افتتاح کیا گیا ۔ 1859 میں مکتبہ الملکی   کے نام سے قائم   ادارے کو 1936 میں اتاترک کے خصوصی احکامات سے   انقرہ منتقل کرتے ہوئے  اسکول آف پولیٹیکل سائنسز کا درجہ دے دیا گیاجہاں   سینئر پبلک ایڈمنسٹریٹرز کو تربیت  دی جانے لگی۔  اتاترک  ہی کی جانب سے  میڈیسن اور سائنس کی فیکلٹی کی تیاریوں  کاآغاز کردیا گیا لیکن  اسے دوسری جنگِ عظیم  کے اوائل میں  انقرہ میں قائم کیا گیا اور  سن 1946 میں سرکاری طور پر انقرہ یونیورسٹی   کے  قیام کا اعلان کرتے ہوئے اسے جدید  جمہوریہ  ترکیہ کے قیام کے بعد  قائم ہونے والی پہلی یونیورسٹی  کی حیثیت حاصل ہو گئی اور اس یونیورسٹی کے تحت مختلف فیکلٹیز کو قائم کیا جانے  لگا۔

    انقرہ یونیورسٹی

    انقرہ یونیورسٹی، جس کی بنیاد جمہوریہ کے بانی اور عظیم رہنما مصطفیٰ کمال اتاترک نے رکھی تھی اور وہ  اس کا اپنے صحتمند ہونے کے دور میں افتتاح کرنا چاہتے تھے ، 13 جون 1946 کو گرینڈ  نیشنل اسمبلی  کے  قانون نمبر 4936 کے ساتھ سرکاری طور پر قائم کردی گئی۔

    انقرہ یونیورسٹی

    اس طرح انقرہ   یونیورسٹی کو  جمہوریہ  ترکیہ کی پہلی یونیورسٹی ہونے کا اعزاز حاصل ہے اور  یہ یونیورسٹی   عظیم رہنما مصطفیٰ کمال اتاترک کے نام سے مربوط ہے  جنہوں نے جمہوریہ ترکیہ کی بنیاد رکھنے کے ساتھ ساتھ  اس یونیورسٹی کی بھی  بنیاد رکھی ۔

    اتاترک کے اس  قول  ” حیات (زندگی) میں سب سے حقیقی  مرشد(رہنما)   علم  ہے۔” کوبنیاد بناتے ہوئے انقرہ یونیورسٹی کو ترک قوم،  سائنس اور انسانیت کی خدمت کے اصول کے تحت چلایا جا رہا ہے۔

    انقرہ یونیورسٹی

    انقرہ یونیورسٹی ترکیہ میں   اپنے  علمی  معیار اور ریسرچ کی بدولت اس وقت    چوتھے نمبر پر ہے  جبکہ دنیا میں اس کا  اس وقت 770واں نمبر ہے گزشتہ سال  یہ یونیورسٹی 824 ویں  نمبر پر تھی۔انقرہ یونیورسٹی کے Q1 مستند  تھیسزکے پوائنٹس 26٫63 سے 33٫65  پوائنٹس تک پہنچ گئے ہیں۔

    انقرہ یونیورسٹی کے تحت موجود دور میں  19 مختلف فیکلٹیز کام کررہی ہیں اور ان کے  نام اور ویب سائٹ ایڈریس بھی  دیے گئے ہیں  تاکہ ان فیکلٹیز سے رجوع کرنے میں آسانی ہو۔

    انقرہ یونیورسٹی کے ریکٹر پروفیسر۔ ڈاکٹر نجدت انوور  نے یونیورسٹی  کی بین الاقوامی حیثیت پر اطمینان کا اظہار  کرتے ہوئے  کہا کہ   انقرہ یونیورسٹی نے  ترکیہ اور بین الاقوامی میدان میں اپنے درجہ بندی میں جو بلندی  حاصل کی ہے  اس پر  انہوں نے   انقرہ یونیورسٹی کے تمام  اساتذہ اور طلباء کا اس ترقی میں کردار اور تعاون پر شکریہ ادا کیا ۔

    انقرہ یونیورسٹی

    اس وقت انقرہ یونیورسٹی میں  طالبات کی تعداد 31370 اور طلباء کی تعداد  35664   یعنی  طلباء اور طالبات کی کل تعداد 67034   اور اساتذہ کی کل تعداد 4191    ہے۔

    انقرہ  یونیورسٹی  کے دنیا کی مختلف یونیورسٹیوں کے ساتھ تعاون کے کئی ایک سمجھوتے موجود ہیں جن میں مغرب کی یونیورسٹیوں کی بھرمار ہے  جبکہ اس کے  بنگلہ دیش،  بھارت اور متحدہ عرب امارات کی یونیورسٹیوں کے ساتھ بھی تعاون کے   سمجھوتے موجود ہیں لیکن بڑے ہی افسوس  کی بات ہے انقرہ  یونیورسٹی  اور پاکستان کی کسی بھی یونیورسٹی کے ساتھ تعاون کو کوئی سمجھوتہ موجود نہیں ہےلیکن امید ہے  اس سلسلے میں دونوں ممالک کی حکومتیں جلد ہی  جلد ہی کوئی  اقدام اٹھائیں گی۔

    انقرہ یونیورسٹی  کی مختلف فیکلٹیز سے آپ درجہ ذیل لنک پر کلک کرتے  ہوئے   مختلف موضوعات  کے بارے میں  معلومات حاصل کرسکتے ہیں۔

    ·         Faculty of Open and Distance Education

    https://www.ankara.edu.tr/en/dizin/Fakulteler/acik-ve-uzaktan-egitim-fakultesi

    • Faculty of Languages and History-Geography

    http://www.dtcf.ankara.edu.tr/

    • Faculty of Dentistry

    http://www.dentistry.ankara.edu.tr/

    • Faculty of Pharmacy

    http://www.pharmacy.ankara.edu.tr/

    • Faculty of Educational Sciences

    http://www.education.ankara.edu.tr/

    ·         Faculty of Science

    http://www.science.ankara.edu.tr/

    • Faculty of Fine Arts

    http://www.gsf.ankara.edu.tr/

    • Faculty of Nursing

    http://www.nursing.ankara.edu.tr/

    • Faculty of Law

    http://www.law.ankara.edu.tr/

    • Faculty of Divinity

    http://www.divinity.ankara.edu.tr/

    • Faculty of Communication

    http://www.ilef.ankara.edu.tr/

    • Faculty of Engineering

    http://www.eng.ankara.edu.tr/

    • Faculty of Health Sciences

    http://health.ankara.edu.tr/

    • Faculty of Political Sciences

    http://www.politics.ankara.edu.tr/

    • Faculty of Sports Sciences

    http://www.sporbilimleri.ankara.edu.tr/

    • Faculty of Medicine

    http://www.medicine.ankara.edu.tr/

    • Faculty of Applied Sciences

    http://ubf.ankara.edu.tr/

    • Faculty of Veterinary Medicine

    http://www.veterinary.ankara.edu.tr/

    • Faculty of Agriculture
    انقرہ یونیورسٹی

    ان فیکلٹیز کے علاوہ  انقرہ یونیورسٹی   کے تحت 14 مختلف شعبوں میں انسٹیٹیوٹ موجود ہیں جبکہ انقرہ یونیورسٹی ہی کے تحت  4  مختلف ہسپتال کام کررہے ہیں ، علاوہ ازیں انقرہ یونیورسٹی کے تحت   Conservatory، 11 پیشہ وار کالجز اور 6 ہوسٹلز مختلف مقامات پر خدمات فراہم کررہے ہیں ۔

     

     

     

     

     

     

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Article

    پاکستان کے سیلاب متاثرین کی بحالی کیلئے 10 ارب ڈالر امداد کے وعدے

    عالمی برادری مدد کرے: انتونیو گوتریس

    Next Article

    دنیا بھر میں ترکیہ کےقومی جنگی طیارےکی باز گشت

    جرمن اور چین میڈیا:ترکیہ دفاعی صنعت میں حیران کن طور پرعروج پر

    ڈاکٹر فرقان حمید

    Related Posts

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026

    ترکیہ اسکالرشپس: دنیا کی جامع ترین ( fully funded)اسکالرشپس، آن لائن درخواستوں کا طوفان، ویب سائٹ کو کریش کے خدشات

    16جنوری , 2026

    دنیا کے تواز ن کا پانسہ پلٹنے والے نئےدفاعی ستون، جلد ہی پاک-ترک -سعودی ا سلامی اتحادقائم کیے جانے کی توقع

    15جنوری , 2026

    Comments are closed.

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    ٹیگز
    #اسرائیل #حقان فیدان #حماس #سیاحت #غزہ #فلسطین آئی ٹی استنبول اسلام آباد افراطِ زر الیکشن 2024 انتخابات انقرہ اپوزیشن ایردوان بھونچال بیسٹ ماڈل آف ترکیہ ترقی ترک صدی ترک میڈیا ترکیہ تعلیم حزبِ اختلاف دنیا دہماکہ دی اکانومسٹ روس سلائِڈر سلائیڈر--- شہباز شریف صدر ایردوان صدر ایردوان، وزیراعظم شہباز شریف، پاکستان، ترکیہ عدلیہ عمران خان فیچرڈ قاتلانہ حملہ لانگ مارچ مغربی میڈیا ملت اتحاد وزیراعظم وزیراعظم شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف، صدر ایردوان، پاکستان، امداد پاکستان پاک فوج یورپ
    • Facebook
    • Twitter
    • Instagram
    اہم خبریں

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    ترکیہ اسکالرشپس: دنیا کی جامع ترین ( fully funded)اسکالرشپس، آن لائن درخواستوں کا طوفان، ویب سائٹ کو کریش کے خدشات

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    مقبول پوسٹس

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026
    Tr-Urdu All Rights Reserved © 2022
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.