Close Menu
Tr-Urdu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Tr-Urdu
    Subscribe
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    Tr-Urdu
    You are at:Home»کالم اور مضامین»پاکستان نے صدر ایردوان کو نوبل امن ایوارڈ کیلیے نامزدکرکے دوستی کا حق ادا کردیامغربی ممالک صدر ایردوان کو نوبل امن ایوارڈلینےدیں گے؟
    کالم اور مضامین

    پاکستان نے صدر ایردوان کو نوبل امن ایوارڈ کیلیے نامزدکرکے دوستی کا حق ادا کردیا

    مغربی ممالک صدر ایردوان کو نوبل امن ایوارڈلینےدیں گے؟

    ڈاکٹر فرقان حمیدBy ڈاکٹر فرقان حمید11جنوری , 2023Updated:11جنوری , 2023کوئی تبصرہ نہیں ہے۔7 Mins Read
    پاکستان نے صدر ایردوان کو نوبل امن ایوارڈ کے لیے نامزد کرتے ہوئے دوستی کا حق ادا کردیا
    پوسٹ شئیر کریں
    Facebook Twitter LinkedIn Email

    صدر ایردوان جب سے ترکیہ میں برسر اقتدار آئے ہیں  انہوں نے اس وقت   سب سے پہلے   ترکیہ کی خارجہ پالیسی   اور حکمتِ عملی میں بڑے پیمانے پر تبدیلی  کی ہے۔ ترکیہ ایردوان سے قبل  ایک  نام نہاد سیکولر  ملک ہونے کے ناتے  اسلامی ممالک،   اسلامی تنظیموں اوراسلامی  این جی اوز  سے دور رہنے ہی میں اپنی عافیت سمجھتا  رہا ہے۔ اس کے اسلامی ممالک میں صرف پاکستان کے ساتھ شروع   دن  سے  بڑے گہرے  سیاسی، معاشرتی، سفارتی  اور معنوی تعلقات  قائم رہے ہیں  جو آج بھی وقت کے ساتھ ساتھ فروغ پا رہے ہیں لیکن ترکیہ کے ایردوان سے قبل  تک ایسا سوچنا ممکن نہ تھاکیونکہ  ایک سیکولر ملک ہونے کے ناتے ترکیہ میں حکمران اور حکام  مغرب ہی کو اپنا قبلہ سمجھتے رہے ہیں  اور خاص طور پر ایران میں آنے والے اسلامی انقلاب کے بعد ترکیہ اسلامی ممالک سے  مزید دور ہوگیا ور  اور ایران کے ساتھ  اس کے  تعلقات  میں  بھی سرد مہری  دیکھی گئی جو ایردوان  دور میں اپنے اختتام کو پہنچی جبکہ ترکیہ کے عرب ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات موجود ت ہونے کے باوجود  ان تعلقات میں کبھی گرمجوشی   نہیں دیکھی گئی تھی۔

    صدر رجب طیب ایردوان

    ایردوان  کے برسر اقتدار آنے کے بعد  ایردوان نے سب سے پہلے اسلامی ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات  پر نہ صرف نظر ثانی کی بلکہ  اسلامی تعاون تنظیم جس  میں ترکیہ نے  کبھی کوئی فعال کردار ادا نہیں کیا تھا    ایردوان دور میں اس تنظیم میں گہری  دلچسپی لی جانے لگی   اور اسی کے نتیجے میں   5جون 2004  کو ترکیہ سے تعلق رکھنے والے  اکمل الدین  احسان اولو کو   اسلامی تعاون تنظیم  کا  سیکرٹری جنرل منتخب  کرلیا گیا جو 30  دسمبر 2013        تک  اس  عہدے  پر فائض رہے۔ اسی دور میں  ترکیہ  کے  اسلامی ممالک کے ساتھ بڑے قریبی سفارتی، سیاسی ،اقتصادی، تجارتی  اور معاشرتی تعلقات قائم  ہوئے اور یوں ترکیہ مغرب پرست گروپ سے  نکل کر اسلامی ممالک میں ایک لیڈر ملک کی حیثیت سے ابھر  کر سامنے آیا۔  

    نوبل امن ایوارڈ

    صدرایردوان نے  اس دوران نہ صرف فلسطینیوں کے لیے آواز بلند کی بلکہ انہوں نے عالمی پلیٹ فارم پر مسئلہ کشمیر کو جس طرح اٹھایا  اور پھر روہنگیا کے مسلمانوں پر ہونے والے ظلم و ستم کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے اپنے وزیر خارجہ، اس  وقت کے وزیر اعظم  اور اپنی اہلیہ کو روہنگیا مسلمانوں کی امداد کے لیے خطے روانہ کیااس سے تمام مسلمانوں کے دلوں میں انہوں نے اپنے لیے مستقل طور پر جگہ بنالی اور آج بھی جہاں کہیں بھی کوئی مسلمان  ظلم و ستم کا شکار ہوتا ہے تو سب سے پہلے  ایردوان ہی  ان سب کی مدد کو پہنچتے ہیں۔ پھر انہوں نے تمام اپوزیشن  کی سخت تنقید اور مغربی ممالک کی جانب سے شامی پناہ گزینوں  کے لیے دروازے بند کیے جانے پر   اپنے ملک کے دروازے ان  شامی پناہ گزینوں کے لیے  کھول  دیے اور چار ملین کے لگ بھگ شامی پناہ گزین  گزشتہ  گیارہ سالوں سے ترکیہ میں مقیم ہیں  جس کی وجہ سے  دنیا کی نگاہوں میں  صدر ایردوان کی قدرو منزلت میں بے  حد  اضافہ ہوا ہے۔  

    پاکستان سینیٹ

    ایک اچھا مسلمان ہونے کے ناتے صدر ایردوان  نے اپنے آپ کو صرف مسلمانوں ہی کی مدد  کے لیے   وقف نہیں کیا ہے بلکہ انہوں نے یوکرین جنگ کے دوران جو کردار ادا کیا ہے  وہ سب کے سامنے ہے۔ انہوں نے  اس جنگ کو رکوانے،  مہاجرین کی امداد  اور اس جنگ کی وجہ سے دنیا میں پیدا ہونے والی اناج کی قلت  کو دور  کرنے کے لیے جس طرح روس اور یوکرین کے درمیان سفارتکاری  کا بیڑہ اٹھایا اور پھر دن رات  کے مذاکرات کے بعد اناج راہداری  کھولنے کا بندو بست کیا اس کا سو فیصد کریڈٹ ایردوان ہی  کو جاتا ہے کیونکہ  دنیا کا کوئی اور لیڈر ایسا کرنے  کی صلاحیت ہی نہیں  رکھتاہے۔

    چئیرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی

     پاکستان  جس کے ہر دور میں ترکیہ کے ساتھ  بڑے گہرے اور قریبی تعلقات قائم رہے ہیں ترکیہ  اور صدر ایردوان  کی جانب سے کی جانے والی  کوششوں کا ہمیشہ ہی معترف رہا ہے  اور یہی وجہ ہے کہ   جیسے ہی ترکیہ کی گرانڈ نیشنل اسمبلی  کے اسپیکر   مصطفیٰ شَن توپ  نے دارالحکومت انقرہ میں پارلیمانی رپورٹروں کے ساتھ ملاقات کے موقع پر  24 فروری سے جاری روس۔یوکرین جنگ  کے خاتمے   یوکرینی اناج کو  دنیا کو  تک پہنچانے  اوراس کے لیے ترکیہ میں راہداری  قائم کرنے  کی    کوششوں  کو سراہتے ہوئے صدر  ایردوان  کو      نوبل امن ایوارڈ کے لئے نامزد کرنے  کے لیے دنیا  کی  مختلف ممالک کی پارلیمنٹوں کے سربراہان  کو خطوط  روانہ کیے تو  سب سے پہلے   پاکستان   سینیٹ  کے چئیرمین  محمد  صادق سنجرانی نے ناروے کی نوبل کمیٹی کو خط ارسال  کرتے ہوئے  روس –  یوکرین  جنگ، اس جنگ کے  تیزی سے   ایٹمی  فلیش پوائنٹ  میں تبدیل  ہونے سے روکنے   کے لیے     صدر رجب طیب ایردوان کی کوششوں کے نتیجے میں انہیں  بین الاقوامی نوبل امن انعام کیلئے نامزد کرنے کی درخواست کی ہے۔ اس حوالے سے چیئرمین سینیٹ کا کہنا ہے کہ نوبل انعام امن یا جاری تنازعات کے حل میں غیرمعمولی اقدام پر دیا جاتا ہے، ترک صدر نے روس، یوکرین تنازع کے تناؤ میں کمی کیلئے  بڑا اہم کردار ادا کیا ہے ۔ صادق سنجرانی نے کہا کہ روس یوکرین جنگ پوری دنیا کے لیے بڑی تباہی کا باعث بن سکتی تھی، ترک صدر نے فریقین کے ساتھ بروقت اور مؤثر رابطہ کاری سے دنیا کو بڑی تباہی سے بچایا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ بلیک سی گرین منصوبے نے بھی اس خطے کو تباہ کن قحط سے بچایا، ترک صدر رجب طیب ایردوان ایک سچے اور بڑے عوامی رہنما ہیں۔صادق سنجرانی نے کہا کہ صدر ایردوان  نہ صرف اپنے ملک بلکہ خطے اور بالعموم پوری دنیا کی بہتری اور خوشحالی کے لیے ہمیشہ کوشاں رہتے ہیں۔ صدر رجب طیب ایردوان  تمام انسانیت کے لیے امن، رواداری اور محبت کے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حقیقی پیغام اور تعلیمات کو لے کر چلتے ہیں۔  صدر اردوان کی اسلامی تعلیمات سے متعلق غلط فہمیوں کو دور کرنے کیلئے کوششیں باعث فخر ہیں۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ صدر رجب طیب ایردوان کو نوبل انعام کے لیے نامزد کرنے پر خوشی محسوس کر رہا ہوں۔ مجھے امید ہے کہ نارویجین نوبل کمیٹی صدر ایردوان کی عالمی امن کیلیے غیر معمولی اور بے مثال کوششوں کو ضرور زیر غور لائے گی۔

    صدر رجب طیب ایردوان

    صدر ایردوان نے  24 فروری سے  جاری روس – یوکرین جنگ کے آغاز ہی سے اس جنگ کو رکوانے کے لیے اور خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنی کوششوں کا آغاز کردیاتھا ۔ یہ اعزاز صدر ایردوان ہی کو حاصل ہے کہ انہوں نے روس کے صدر  پوتن اور یوکرین کے صدر  زیلنیسکی  کے ساتھ مسلسل  رابطہ قائم رکھا ہوا ہے اوہ وہ کئی  بار ان دونوں ممالک کا دورہ بھی کرچکے ہیں۔ اگرچہ  کئی دیگر رہنماوں نے روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بند کروانے کی کوششیں کی ہیں  لیکن  دونوں رہنماوں کی نظر میں صدر ایردوان کو جو عزت  وقار  حاصل ہے وہ شاید کسی  دیگر رہنما کو حاصل نہیں ہے۔ صدر ایردوان نے  روس کی  اجازت سے  ترکیہ میں غلے کی راہداری کھول کر نہ صرف دنیا پر احسان کیا ہے بلکہ  غلے کے قحط یا قلت کی وجہ سے  دنیا میں جو بے چینی  پیدا ہونی تھی اور غلے کی قیمتوں میں ہوشربا جو اضافہ ہونا تھا  اس کی پیش بندی کرتے ہوئے انسانیت پر بہت بڑا احسان کیا ہے۔

    پاکستان پہلا ملک ہےجس نے اپنے برادر اور دوست ملک اور پاکستان کے خیر خواہ صدر رجب طیب ایردوان کو  نوبل امن ایوارڈ دلوانے کے لیے  بین الاقوامی سطح پر اپنی کوششوں کا آغاز کیا ہے اور صدر ایردوان کو یہ نوبل امن ایوارڈ دلوانے تک اپنی کوششوں کو جاری رکھنے  سے بھی آگاہ کیا ہے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Article

    ترکیہ کی یونیورسٹیوں میں اسکالر شپ کیسے حاصل کیا جائے؟

    آج ہی اس اسکالر شپ کو حاصل کرنے کے لیے رجوع کریں

    Next Article

    پاکستان نےحلیمہ سلطان کو ارب پتی بنادیا

    اشتہاری کمپنیوں کی حلیمہ سلطان پرڈالروں کی بارش

    ڈاکٹر فرقان حمید

    Related Posts

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026

    ترکیہ اسکالرشپس: دنیا کی جامع ترین ( fully funded)اسکالرشپس، آن لائن درخواستوں کا طوفان، ویب سائٹ کو کریش کے خدشات

    16جنوری , 2026

    دنیا کے تواز ن کا پانسہ پلٹنے والے نئےدفاعی ستون، جلد ہی پاک-ترک -سعودی ا سلامی اتحادقائم کیے جانے کی توقع

    15جنوری , 2026

    Comments are closed.

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    ٹیگز
    #اسرائیل #حقان فیدان #حماس #سیاحت #غزہ #فلسطین آئی ٹی استنبول اسلام آباد افراطِ زر الیکشن 2024 انتخابات انقرہ اپوزیشن ایردوان بھونچال بیسٹ ماڈل آف ترکیہ ترقی ترک صدی ترک میڈیا ترکیہ تعلیم حزبِ اختلاف دنیا دہماکہ دی اکانومسٹ روس سلائِڈر سلائیڈر--- شہباز شریف صدر ایردوان صدر ایردوان، وزیراعظم شہباز شریف، پاکستان، ترکیہ عدلیہ عمران خان فیچرڈ قاتلانہ حملہ لانگ مارچ مغربی میڈیا ملت اتحاد وزیراعظم وزیراعظم شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف، صدر ایردوان، پاکستان، امداد پاکستان پاک فوج یورپ
    • Facebook
    • Twitter
    • Instagram
    اہم خبریں

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    ترکیہ اسکالرشپس: دنیا کی جامع ترین ( fully funded)اسکالرشپس، آن لائن درخواستوں کا طوفان، ویب سائٹ کو کریش کے خدشات

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    مقبول پوسٹس

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026
    Tr-Urdu All Rights Reserved © 2022
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.