Close Menu
Tr-Urdu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Tr-Urdu
    Subscribe
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    Tr-Urdu
    You are at:Home»کالم اور مضامین»اشرافیہ کی گرفت سے اشرافیہ کو گرفتار کرنے تک پاکستان میں بدعنوانی کے نتائج
    کالم اور مضامین

    اشرافیہ کی گرفت سے اشرافیہ کو گرفتار کرنے تک

    پاکستان میں بدعنوانی کے نتائج

    ڈاکٹر فرقان حمیدBy ڈاکٹر فرقان حمید22فروری , 2023Updated:22فروری , 2023کوئی تبصرہ نہیں ہے۔2 Mins Read
    پاکستان اشرافیہ
    پوسٹ شئیر کریں
    Facebook Twitter LinkedIn Email
    تحریر: منظر قریشی

     

     

     

     

    Force Majeure قانون قومی آفات یا قابل نفاذ واقعات کی صورت میں چھوٹے کاروباری اداروں کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لیے بنایا گیا ہے لیکن پاکستان کے معاملے میں کیا معاشی مشکلات کی تمام تر ذمہ داری صرف حکومت پر ڈالی جا سکتی ہے؟

    کئی ایک ایسے  گروہ  بھی ہیں جو حکومت اور انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز (IPPs) دونوں کو بلیک میل کرکے سبسڈی وصول کرتے ہیں اور  گردشی قرضوں سے قومی معیشت کا گلا گھونٹ دیتے ہیں۔ ان گروہوں کو  جو اپنی دولت اور مفادات کے تحفظ کے لیے زبردستی ہنگامہ آرائی کرتے ہیں  اکثر بااثر خاندانوں کی ایک چھوٹی سی تعداد کے ذریعے کنٹرول کیا جاتا ہے ۔

    بدعنوانی کے ذریعے کمائی گئی یہ دولت مغربی ممالک میں رکھی جاتی ہے اور اسے نوآبادیاتی انتظامات کی مالی معاونت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور  اشرافیہ کے حکم پرانتشار  اور دہشت گردی کو ہوا دی جاتی ہے۔ اس سے   بدعنوانی کے خود ساختہ سائیکل کو بنانے میں مدد ملتی ہے جس سے  چوری شدہ دولت کو فیصلہ سازوں، ریگولیٹری اتھارٹیز، اور متعلقہ اداروں پر اثر انداز ہونے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ جس کے نتیجے میں  مزید قرض لینے،  کرنٹ اکاؤنٹ میں بڑے پیمانے پر خسارہ ہونے اور ملک  کو نقصان پہنچتا ہے۔

    کیا ان اشرافیہ کو فورس میجیور کو اپنی بقا کے لیے استعمال کرنے کی  اجازت دی جانی چاہئے؟ بدقسمتی سے، ایک کرپٹ اور ہیرا پھیری سے بھرے عدالتی نظام اور میڈیا، بیوروکریسی جیسے معاشرے کے ہر تانے بانے میں مافیا کی افزائش  ہوتی رہتی ہے۔

    ضلعی انتظامیہ، پولیس اور عام عوام اس وقت تک نقصان اٹھاتے رہیں گے جب  تک  یہ دیگر ممالک کی طرح  افراتفری ہی کا شکار ہیں گے۔ اس کے لیے  “اشرافیہ کی گرفت کو ” کے طوق کو توڑ کر اور “اشرافیہ کو گرفتار کرنے” کے عمل کو نافذ کرنے ہی سے  ملک کو اس  گراوٹ سے نکالنے اور  مستقبل  سنوارنے کی امید پیدا ہوسکتی ہے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Article

    پاک ترک تعلقات میں پاکستانی میڈیاکیسے بھارت کا آلہ کار بنا؟ پاکستانی نوجوان نے ملک کی عزت کیسے خاک میں ملائی؟

    پاکستانی میڈیا پاک ترک تعلقات میں ذمہ داری کا احساس کرنے میں کیوں ناکام ؟

    Next Article

    ترکیہ اپوزیشن جماعت’’گڈ پارٹی‘‘ کی چئیر پرسن میرال آق شینر کی صدر ایردوان پر الفاظ کی شدید بمباری اور اعتراضات

    زلزلے کی تباہ کاریوں کا واحد ذمہ دار ایردوان ، اس صدی کا بدترین اقتدارقرار دیدیا

    ڈاکٹر فرقان حمید

    Related Posts

    دنیا کے تواز ن کا پانسہ پلٹنے والے نئےدفاعی ستون، جلد ہی پاک-ترک -سعودی ا سلامی اتحادقائم کیے جانے کی توقع

    15جنوری , 2026

    عوام فوج کو اور فوج عوام کو گلے لگا ئے ، یہی وقت کا تقاضا اور ضرورت ہے ایک ایسا مصالحتی کالم جو سینسر کی نذر ہوگیا

    8جنوری , 2026

    طاقت کی نئی لغت، عالمی نظام کا انہدام اور وینزویلا کا خوف دنیا پرطاری، جس کی لاٹھی اس کی بھینس

    5جنوری , 2026

    Comments are closed.

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    ٹیگز
    #اسرائیل #حقان فیدان #حماس #سیاحت #غزہ #فلسطین آئی ٹی استنبول اسلام آباد افراطِ زر الیکشن 2024 انتخابات انقرہ اپوزیشن ایردوان بھونچال بیسٹ ماڈل آف ترکیہ ترقی ترک صدی ترک میڈیا ترکیہ تعلیم حزبِ اختلاف دنیا دہماکہ دی اکانومسٹ روس سلائِڈر سلائیڈر--- شہباز شریف صدر ایردوان صدر ایردوان، وزیراعظم شہباز شریف، پاکستان، ترکیہ عدلیہ عمران خان فیچرڈ قاتلانہ حملہ لانگ مارچ مغربی میڈیا ملت اتحاد وزیراعظم وزیراعظم شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف، صدر ایردوان، پاکستان، امداد پاکستان پاک فوج یورپ
    • Facebook
    • Twitter
    • Instagram
    اہم خبریں

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    ترکیہ اسکالرشپس: دنیا کی جامع ترین ( fully funded)اسکالرشپس، آن لائن درخواستوں کا طوفان، ویب سائٹ کو کریش کے خدشات

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    مقبول پوسٹس

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026
    Tr-Urdu All Rights Reserved © 2022
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.