Close Menu
Tr-Urdu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Tr-Urdu
    Subscribe
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    Tr-Urdu
    You are at:Home»ترکیہ»ترکیہ میں زلزلوں کے بعد سیاسی زلزلے نے پورے ملک کو ہلا کر رکھدیا ، آق شینیر کی واپسی سے ملت اتحاد مزید مضبوط ملت اتحاد کی مقبولیت کس طرح صدر ایردوان کو شکست سے دوچار کرسکتی ہے؟
    ترکیہ

    ترکیہ میں زلزلوں کے بعد سیاسی زلزلے نے پورے ملک کو ہلا کر رکھدیا ، آق شینیر کی واپسی سے ملت اتحاد مزید مضبوط

    ملت اتحاد کی مقبولیت کس طرح صدر ایردوان کو شکست سے دوچار کرسکتی ہے؟

    ڈاکٹر فرقان حمیدBy ڈاکٹر فرقان حمید8مارچ , 2023Updated:8مارچ , 2023کوئی تبصرہ نہیں ہے۔8 Mins Read
    میارل آق شینر- کمال کلیچدار اولو
    پوسٹ شئیر کریں
    Facebook Twitter LinkedIn Email
    تحریر: ڈاکٹر فرقان حمید

     

     

     

     

     

     

    6فروروی کو ترکیہ میں صبح سویرئے 4٫17 منٹ پر7٫7 کی شدت اور  اس کے بعد    اسی روز  دوپہر  ایک بجے   7٫6 کی شدت کے  اوپر تلے آئے  دو  زلزلوں جسے  اقوام متحدہ  اور ترکیہ نے ” صدی  کی آفت قرار دیا ہے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی اور سر کاری اعدواد  شمار  کے مطابق   48 ہزار سے زاہد افراد جان بحق  اور 14 ملین افراد ان زلزلوں سے متاثر ہوئے ہیں لیکن ان زلزلوں کے بعد ترکیہ کی سیاست میں ایک ایسا   زلزلہ  آیا ہے جس نے  نہ صرف ان زلزلوں  کی تباہ کاریوں کو پس پشٹ ڈال دیا ہے اور  ترکیہ کی سیاست میں  ایسا بھونچال آگیا ہے جس  سے      ترک اپوزیشن(ملت اتحاد)  کے جو صدر ایردوان کے مقابلے میں بڑی تیزی  سے مقبولیت حاصل کررہی تھی زمین بوس کردیا ہے۔  سیاسی  زلزلے  کے جھٹکے   اور اس کی ترکیہ کی سیاست پر تباہ کاریوں کے اثرات اس وقت محسوس ہونا شروع  ہوگئے جب  گزشتہ جمعہ کے روز سے  صدر ایردوان کے خلاف  قائم  چھ جماعتوں  کے اتحاد  ” ملت  اتحاد  ” میں شامل ” گڈ پارٹی” کی چئیر پرسن  میرال آق شینیر نے  اس اتحاد کی جانب سے مشترکہ  صدارتی امیدوار کے نام  پر اختلافات  پیدا ہونے کی وجہ   سے اس اتحاد  سے   علیحدگی  اختیار کرلی لیکن  بعد میں اپنی شرائط منواتے ہوئےاتحاد میں واپسی اختیارکرلی ہے۔  صدر ایردوان کے خلاف   ملت اتحاد نے  اپنے حق میں فضا کو جس طریقے سے ہموار کیا تھا ، اس سیاسی زلزلے  کے نتیجے میں اگرچہ تھوڑی دیر کے لیے   صدر ایردوان کی کامیابی کے لیے سازگار دکھائی دے رہے تھے لیکن آق شینیر کی واپسی نے ملت اتحاد کو پھر سے مضوط بنادیا ہے۔   

    گڈ پارٹی کی چئیرپرسن میرال آق شینیر

    یاد رہے صدر ایردوان  جنہوں نے گزشتہ صدارتی انتخابات میں 52 فیصد ووٹ حاصل کرتے ہوئے  نہ صرف تاریخ ساز کامیابی حاصل کی بلکہ اپوزیشن  کی تمام جماعتوں کو تہس نہس کرکے رکھدیا جس کے بعد ہی  اپوزیشن کی تمام سیاسی جماعتوں نے صدر ایردوان کا   2023ء کے صدارتی  انتخابات میں  مقابلہ کرنے کے لیے ” ملت اتحاد” کے نام سےاتحاد قائم کیا  اور صدر ایردوان کے خلاف مشترکہ سیاسی  مہم کا اغاز کردیا۔ صدر ایردوان بھی   گزشتہ  دو سالوں سے  اقتصادی بحران  کی وجہ سے  اپنی مقبولیت کھوتے چلے جا رہے تھے  اور 2023ء  کے صدارتی  انتخابات  میں صدر ایردوان کے   جیتنے کے امکانات  حالیہ  تمام  سروئیز میں    بہت کم دکھائی دے رہے تھے بلکہ کئی ایک سروئیز میں  صدر ایردوان کے مخالف ” ملت اتحاد” کے غیر سرکاری  صدارتی امیدوارجس میں انقرہ کے مئیر  منصور یاوش( مسلسل کئی سروئیز میں )  اور  استنبول کے  مئیر اکرم  امام اولو  کے نام شامل تھے کو  صدر ایردوان پر برتری بھی حاصل رہی ہے۔  (ترکیہ میں انتخابی نتائج بڑی حد تک  سروئیزہی کے نتائج کی عکاسی کررہے ہوتے ہیں )  یاد رہے انقرہ اور  استنبول کے مئیرز کو  ری پبلیکن پیپلز پارٹی  اور گڈ پارٹی کے صدار ایردوان کے خلاف قائم تحاد ہی کے نتیجے میں کامیابی حاصل ہوئی تھی  ۔ ری  پبلیکن پیپلز پارٹی  کا تعلق  بائیں  بازو سے ہے اور  تمام ہی سروئیز  اور انتخابات میں  ترکیہ بھر میں  اسے 25 فیصد  کے لگ بھگ ووٹ پڑتے ہیں  جبکہ  گڈ پارٹی (ترک قومیت پسند )دائیں بازو کی جماعت ہے  اور اس وقت اسے  15 سے 17 فیصد تک عوامی حمایت حاصل ہے ۔

    ملت اتحاد

    یعنی اگر ری پبلیکن پیپلز پارٹی  تنہا  اپنا صدارتی امیدوار  کھڑا کرے تو اس کے جیتنے کے چانسز نہ ہونے کے برابر ہیں کیونکہ ترک عوام کا اسی فیصد حصہ  دائیں بازو  سے تعلق رکھنے  والے جماعتوں یا افراد ہی کو ووٹ دینے کو ترجیح دیتا  ہے۔ اسی چیز کو  مدِ نظر رکھتے ہوئے   گڈ پارٹی  کی چئیر پرسن   میرال آق شینر(دائیں باوزو کی جماعت) نےاس اتحاد میں شامل سب سے بڑی جماعت  ری پبلیکن پیپلز پارٹی  (بائیں بازو کی جماعت)کے چئیرمین  کمال کلیچدار اولو جنہیں  کسی بھی  سروئے  میں صدر ایردوان  پر برتری حاصل نہیں ہوئی ہے کا نام پیش کیے جانے پر اعتراض کرتے ہوئے  چھ جماعتوں کے اتحاد سے  علیحدگی  اختیار کرلی ہے اور سخت بیان دیتے ہوئے  کمال کلیچدار اولو   کے کسی    بھی صورت  صدر ایردوان   (زلزلے  کے  بعد امدادی  کاروائیوں میں بر وقت  اقدامات نہ کرنے کے الزامات کی وجہ سے مقبولیت میں کمی کے باوجود) کو شکست  سے دوچار کرنے کی صلاحیت نہ رکھنے کیوجہ سے  صدر ایردوان کو شکست سے دوچار کرنے والی شخصیت (انقرہ اور استنبول کے مئیرز میں کسی ایک)  کو  صدارتی امیدوار کے طور پر   پیش کیے جانے ابتداء ہی زور دینے کا سلسلہ  جاری رکھا بلکہ ان کے تازہ ترین بیان سے پتہ چلتا ہے کہ اگر کوئی ایسی  شخصیت جو صدر ایردوان کو  شکست دینے کی صلاحیت  رکھتی ہیں  اور ان کا نام پیش کرنے کی صورت میں وہ واپس اتحاد کا حصہ بھی  بن سکتی ہیں اور ایسی ہی ہوا ہے اور وہ اب دوبارہ سے اتحاد کو مقبول بنانے کی کوششوں کا آغاز کرچکی ہیں۔ 

    چھ جماعتی ملت اتحاد

    کتنی ہی عجیب بات ہے کہ  صدر ایردوان کے بیس سالہ اقتدار کے خاتمے  کے لیے ترکیہ کی   حزبِ اختلاف کی چھ جماعتوں  پر  مشتمل  “ملت اتحاد” کے  15  مئی  2018ء  کو قائم ہونے کے بعد سے بڑی باقاعدگی  سے ہونے والے   اپنے مشترکہ اجلاسوں میں آئین میں ترامیم، صدارتی نظام کے خاتمے، مضبوط پارلیمانی نظام کی بحالی ، آپس میں  پارلیمنٹ کی نشستوں کی تقسیم،نائب صدور ،   کابینہ ، ملکی انتظامیہ  اور اداروں کے کردارپر تمام پہلووں سے غور کرنے  کے بعد  اسے نئے سرے سے منظم کرنے  پر   مکمل  مطابقت پائی جانے والی دستاویزات  پر   اتحاد میں شامل تمام سیاسی جماعتوں کے چئیرمین  دستخط کرچکے ہیں    جبکہ اس حالیہ اجلاس میں   صدارتی امیدوار  کے نام کے بارے میں  اعلان کیے جانے کی توقع کی جا رہی تھی کہ گڈ پارٹی کی چئیر پرسن  میرال  آق شینیر کے برپا کردہ  بھونچال  نے  ترک سیاست کا پانسہ ہی پلٹ کر رکھدیا   اور اتحادکی پانچ جماعتوں کی جانب سے متفقہ طور پر ری پبلیکن پیپلز پارٹی  کے چئیرمین کمال کلیچدار اولو کے نام کو صدارتی امیدوارکے طور پر پیش کیے جانے  کی دستاویزات  پر دستخط نہ کرتے ہوئے اتحاد ہی سے علیحدگی  اختیار کرلی۔   آق شینیر کےاس اقدام سے اپوزیشن کو صدر ایردوان کے خلاف  اپنے صدارتی امیدوار کو کامیاب کروانے  کی  جو امید  پیدا ہوچکی تھی اب ان امیدوں پر پانی پھر چکا ہے اور جسٹس  اینڈ ڈولپمینٹ پارٹی  کے حامی جو وقفوں وقفوں سے کروائے  جانے والے سروئیز سے  کے نتائج سے  مایوسی کا شکار  ہوچکے تھے   آق شینیر کے اس فیصلے سے ان کے چہروں پر رونق واپس آتے ہوئے دکھائی دیتی ہے۔ ملت اتحاد کے اس انتشار  کے بارے میں صدر ایردوان نے   فارسی زبان   کے اس محاورے “نشستن و گفتن و برخاستن  ” کو استعمال  کرتے ہوئے    کہا ہے کہ بلا مقصد اور صرف  اور صرف  ایردوان کی حکومت  کے خاتمے کے لیے قائم اس اتحاد سے  اپنی موت آپ ہی مرنے کی توقع  کی جارہی تھی اور ایسا ہی ہوا ہے۔

    صدر رجب طیب ایردوان

    صدر ایردوان کے خلاف  قائم” ملت اتحاد ” میں شامل صرف دو جماعتیں ہی اہمیت کی حامل ہیں جن میں سے  اتاترک کی قائم کردہ  ری پبلیکن پیپلز پارٹی جس پر(اتاترک کے بعد بائیں بازو  کی چھاپ  لگ چکی ہے )  سب سے بڑی جماعت ہے اور اسے 25 فیصد سے  وقتاً فوقتاً 30 فیصد تک  عوام کی حمایت حاصل ہے کے بعد دوسرے نمبر پر دائیں بازو کی  گڈ پارٹی ہے اور اسے  15 سے  17 فیصد تک  عوام کی حمایت حاصل ہے۔

    ترکیہ اپوزیشن کے ملت اتحاد  میں پیدا ہونے والے سیاسی  بحران پر قابو پانے  اور  اتحاد کی جانب سے  صدارتی امیدوار  کے طور پر’’ ری پبلیکن پیپلز پارٹی  ‘‘کے چئیرمین ’’ کمال کلیچدار اولو ‘‘کے نام  کی صدارتی امیدوار کے طور پر  اعلان  کیے جانے کے بعد   کروائے جانے والے پہلے سروئے کے نتائج کا اعلان کردیا گیا ہے۔

    ملت اور جمہور اتحاد

    سروئے کے نتائج بڑے حیران کن ہیں   جس کے مطابق   صدارتی انتخابات کے پہلے ہی مرحلے میں ملت اتحاد کے امیدوار  کمال کلیچدار اولو کو صدر ایردوان  پر واضح  برتری حاصل ہے۔

    ترکیہ کے سروئے کروانے والی کمپنی ORC کے  3 مارچ  کے سیاسی بحران کے بعد 4 سے 6 مارچ  کے درمیان ترکیہ کے 28 صوبوں میں کروائے  گئے سروے کے نتائج کا اعلان کردیا ہے۔

    کروائے جانے والے سروئے کے مطابق   ملت اتحاد میں شامل ’’ری پبلیکن پیپلز پارٹی ‘‘کے چئیرمین  کمال کلیچدار اولو   کو  56٫8 فیصد اور ’’جمہور اتحاد  ‘‘کی ’’جسٹس اینڈ ڈولپمینٹ پارٹی  ‘‘کے چئیرمین  اور موجودہ صدر ’’ایردوان‘‘   43٫2 فیصد ووٹ حاصل ہوں گے۔

    ترکیہ میں 14 مئی 2023 کے صدارتی اور پارلیمانی انتخابات  کروانے کا اعلان کیا گیا گیا ہے

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Article

    ترکیہ کے تازہ ترین صدارتی سروئے میں ملت اتحاد کے صدارتی امیدوار کمال کلیچدار اولو کی صدر ایردوان پر برتری

    اپوزیشن کا ملت اتحاد اس بارصدر ایردوان کو شکست دینے میں کامیاب ہو جائے گا؟

    Next Article

    ملت اتحاد کا ایردوان کو یقینی شکست دینے کا منصوبہ سامنے آگیا، مرحلہ وار پلاننگ سے منصوبے پر عمل درآمد شروع

    جمہور اتحاد میں کھلبلی،ناقابلِ شکست صدر ایردوان کے اقتدار کو خطرہ لاحق ہوگیا

    ڈاکٹر فرقان حمید

    Related Posts

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    21جنوری , 2026

    Comments are closed.

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    ٹیگز
    #اسرائیل #حقان فیدان #حماس #سیاحت #غزہ #فلسطین آئی ٹی استنبول اسلام آباد افراطِ زر الیکشن 2024 انتخابات انقرہ اپوزیشن ایردوان بھونچال بیسٹ ماڈل آف ترکیہ ترقی ترک صدی ترک میڈیا ترکیہ تعلیم حزبِ اختلاف دنیا دہماکہ دی اکانومسٹ روس سلائِڈر سلائیڈر--- شہباز شریف صدر ایردوان صدر ایردوان، وزیراعظم شہباز شریف، پاکستان، ترکیہ عدلیہ عمران خان فیچرڈ قاتلانہ حملہ لانگ مارچ مغربی میڈیا ملت اتحاد وزیراعظم وزیراعظم شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف، صدر ایردوان، پاکستان، امداد پاکستان پاک فوج یورپ
    • Facebook
    • Twitter
    • Instagram
    اہم خبریں

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    ترکیہ اسکالرشپس: دنیا کی جامع ترین ( fully funded)اسکالرشپس، آن لائن درخواستوں کا طوفان، ویب سائٹ کو کریش کے خدشات

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    مقبول پوسٹس

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026
    Tr-Urdu All Rights Reserved © 2022
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.