Close Menu
Tr-Urdu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Tr-Urdu
    Subscribe
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    Tr-Urdu
    You are at:Home»ترکیہ»ملت اتحاد کا ایردوان کو یقینی شکست دینے کا منصوبہ سامنے آگیا، مرحلہ وار پلاننگ سے منصوبے پر عمل درآمد شروع جمہور اتحاد میں کھلبلی،ناقابلِ شکست صدر ایردوان کے اقتدار کو خطرہ لاحق ہوگیا
    ترکیہ

    ملت اتحاد کا ایردوان کو یقینی شکست دینے کا منصوبہ سامنے آگیا، مرحلہ وار پلاننگ سے منصوبے پر عمل درآمد شروع

    جمہور اتحاد میں کھلبلی،ناقابلِ شکست صدر ایردوان کے اقتدار کو خطرہ لاحق ہوگیا

    ڈاکٹر فرقان حمیدBy ڈاکٹر فرقان حمید9مارچ , 2023Updated:9مارچ , 2023کوئی تبصرہ نہیں ہے۔7 Mins Read
    چھ جماعتی ملت اتحاد
    پوسٹ شئیر کریں
    Facebook Twitter LinkedIn Email

    تحریر: ڈاکٹر فرقان حمید

     

     (نوٹ:    TR-URDU ترکیہ کی پہلی  اور واحد  غیر جانبدار  نیوز ویب سائٹ ہے۔ اس ویب  سائٹ  میں ترکیہ کی بر سر اقتدار  اور اپوزیشن  دونوں ہی کی خبروں   کو جگہ دی جا رہی ہے۔ ان تمام خبروں کے ذرائع  ترک میڈیا اور ایجنسیاں ہی ہیں ۔اس ویب سائٹ  کا ان خبروں اور تبصروں سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے)

    ترکیہ کی تاریخ میں طویل عرصے تک مقبولیت  اور اقتدار قائم رکھنے میں کامیاب جسٹس اینڈ ڈولپمینٹ  پارٹی کے چئیرمین    اور صدر  جمہوریہ ترکیہ، رجب طیب ایردوان  کو اس بار ملت اتحاد نے شکست دینے کہ نہ صرف بڑے پیمانے پر پلاننگ  شروع کردی ہے بلکہ  فوری طور پر عملی اقدامات  بھی اٹھانا شروع کردیے ہیں۔

    ملت اتحاد بمقابلہ جمہور اتحاد

    ملت اتحاد میں شامل ” گڈ پارٹی” کی چئیر پرسن  میرال آق شینیر  کے صدارتی امیدوار کے نام پر مطابقت  نہ  ہونے  اور  اتحاد کو ترک کرنے کی وجہ سے ملت اتحاد میں جو مایوسی پیدا ہوچکی تھی اس پر اس اتحاد میں شامل سب سے بڑی جماعت ” ری پبلیکن پیپلز پارٹی”  کے چئیرمین  کمال کلیچدار اولو نے جس مدابرانہ، افہام و تفہیم  اور صبرو سکون اس مسئلے کو حل کیا اس سے نہ صرف  کلیچدارو  اولو کی عزت و تکریم میں اضافہ ہوا بلکہ ان کی مقبولیت  راتوں رات  آسمان کی بلندیوں کو چھونے لگی ہے۔یاد رہے آق شینیر نے انقرہ  کے مئیر منصور یاواش ( جو   مختلف  کمپنیوں کی  جانب سے  مختلف اوقات میں کروائے جانے والے   سروئیز میں  صدر ایردوان  کو اپنے  پیچھے چھوڑ  چکے ہیں  )  اور استنبول کے  مئیر  اکرم امام اولو   میں سے کسی ایک کو صدارتی امیدوار کے طور پر پیش کرنے  پر اصرار کیا تھا  اور یہی ان دونوں رہنماوں کے درمیان اختلافات کا باعث بھی بنا تھا۔ ان اختلافات کو دور کرنے کے لیے کمال کلیچداراو لو نے بڑی سمجھداری اور فہم و فراست سے کام لیا اور انقرہ  اور استنبول کے مئیرز  دونوں کو انتخابات جیتنے کی صورت میں  دونوں کو نائب  صدر  نامزد کرنے کا اعلان کردیا جس سے  ملت اتحاد کی قوت میں بے پناہ اضافہ ہوگیا ہے۔

    چھ جماعتی ملت اتحاد

    یعنی ملت اتحاد نے منصور یاواش  اور اکرم امام اولو کے ووٹوں کو بھی یقینی بناتے ہوئے  کمال کلیچدار اولو کے ہاتھوں کو مضوط کردیا ہے۔ منصور یاواش( جن کا تعلق دائیں بازو کی MHP  سے  تھا ) جو اس سے قبل  بے پازاری   اور بعد میں   انقرہ   میں    صدر ایردوان ہی کی پارٹی کے گزشتہ بیس سالوں سے زاہد عرصے سے  مئیر  منتخب ہونے والے  ملیح  گیو کچیک کو شکست فاش سے دوچار کرچکے ہیں  اور  انقرہ کے عوام کے دلوں پر حکمرانی بھی کررہے ہیں اور اس وقت  برسر اقتدار اتحاد میں شامل  نیشنسلٹ موومنٹ  پارٹی MHP ہی کے ووٹوں کو نہیں بلکہ  کچھ  حد تک  آق پارٹی کے ووٹوں کو بھی حاصل کرنے کی صلاحیت  رکھتے ہیں۔ صدر ایردوان  جنہوں نے استنبول کے مئیر کی حیثیت سے  جو شہرت  اورمقبولیت حاصل کی تھی  اور جس طرح استنبول کا چہرہ تبدیل کرکے رکھدیا تھا  اور اسی کے نتیجے میں  ایردوان کے لیے پہلے وزارتِ اعظمیٰ اور پھر صدارت کے دروازے مکمل طور پر کھل گئے تھے۔ استنبول میں ان کے بعد قادر تو پ باش نے بھی  طویل عرصے تک آق پارٹی کے پرچم کو لہرانے اور استنبول کے عوام کی خدمات کا سلسلہ جاری رکھا  لیکن  ایردوان   کے  ایک غلط فیصلے نے  انقرہ اور استنبول کی مئیر  شپ  آق پارٹی کے  ہاتھوں سے   نکلنے کی بنیاد رکھدی اور اس طرح ترکیہ کے بڑے بڑے شہروں پر دیکھا جائے تو  ری پبلیکن پیپلز پارٹی یا  ملت اتحاد ہی  کے مئیرز عوامی خدمات  سر انجام دے رہے ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اگر منصور یاواش کو کردوں کی پارٹی ڈیموکریٹک HDP سے ووٹ نہیں لے سکتے  تھے  جبکہ اکرم امام اولو لازمی طور پر  کردوں کی جماعت ایح ڈی پی کی حمایت حاصل کرلیتے۔

    ملت اتحاد

    ملت اتحاد کے رہنماوں نے  اپنی انتخابی مہم میں  انقرہ اور  استنبول کے مئیرز کو اپنے ساتھ رکھنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ انتخابی مہم کو موثر بناتے ہوئے عوام میں جوش و خروش پیدا کیا جاسکے اور ان پر واضح کردیا جائے کہ اب ان انتخابات میں  یقینی فتح ملت اتحاد کو ہی حاصل ہوگی۔

    اگر م موجودہ صورتِ حال کو دیکھا جائے اور مختلف کمپنیوں کی جانب سے کروائے جانے والے سروئیز پر ایک نگاہ ڈالی جائے حالات واضح طور پر ملت اتحاد کے حق میں نظر آتے ہیں۔

     ملت اتحاد میں   اس وقت  چھ جماعتیں شامل ہیں   جن  ملنے والے ووٹوں کی شرح کچھ یوں ہے :

    سیاسی جماعتوں کا سروئے

    ری پبلیکن پیپلز پارٹی CHP: 26 فیصد سے  لے کر 30 فیصد تک

    گڈ پارٹی                                 :       15 فیصد سے  لے کر 19 فیصد تک

    سعادت، دیوا، فیوچر،ڈیموکریٹک پارٹیز     :      3 فیصد سے  لے کر 4  فیصد تک

    پیپلز ڈیموکرٹیک (باہر سےسپورٹ)       :      10 فیصد سے 13 لے کر  فیصد تک

    ملت اتحاد نے اس وقت کمال کلیچدار اولو کو صدارتی امیدوار  نامزد کرتے ہوئے دراصل کردوں کی جماعت  پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی حمایت کو بھی حاصل کرلیا ہے اور وہ جلد ہی  کردوں کی اس جماعت کے اراکین کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے والے ہیں جبکہ  کمال کلیچداراولو  کے ملت اتحاد کی جانب سے صدارتی امیدوار  بنائے جانے کے بعد HDP نے اپنا الگ  صدارتی امیدوار نہ کھڑا کرنے کا اعلان کرتے ہوئے  فضا ء ملت اتحاد کے حق میں کردی ہے۔

    اگر  اس وقت  ان تمام جماعتوں کے  ووٹوں  کو جمع کیا جائے  اور مختلف کمپنیوں کی کم ترین شرح  ہیکو مدِ نظر رکھتے ہوئے   حساب لگایا جائے تو بھی ملت اتحاد کے صدارتی امیدوار کو ملنے والے ووٹوں کی  شرح  یعنی 26+10+3+15 کو جمع کرنے سے  54 فیصد  کے لگ بھگ ہے۔ جو کسی بھی صدارتی امیدوار  کو کامیاب ہونے کی شرح سے  تین فیصد زاہد ہے۔   اس کے علاوہ جیسا کہ عرض کرچکا ہوں بر سر اقتدار  صدر ایردوان کے اتحاد میں شامل جماعت MHP جس کے ووٹوں کی شرح کم ہوتے ہوئے 5 فیصد کے لگ بھگ رہ گئی ہے سے بھی بڑی تعداد میں منصور یاواش  اور میرال آق شینیر کی وجہ سے یہ ووٹ ملت اتحاد کو مل سکتے ہیں  جبکہ بائیں بازو  کی ایک دیگر جماعت  ” مملکت پارٹی ”  کے چئیرمین  محرم انجے  جو اس سے قبل    صدر ایردوان کے مقابلے میں کھڑے ہوئے  تھے اور  گزشتہ انتخابات میں 37 فیصد ووٹ حاصل کیے تھے لیکن اپنی پارٹی  کے ساتھ اختلافات کی وجہ سے انہوں نے  پارٹی سے علیحدگی  اختیار کرتے ہوئے نئی پارٹی  تشکیل دی۔

    میرال آق شینیر اور کمال کلیچدار اولو

    انکے بھی اگر پہلے مرحلے میں ملت اتحاد کے کامیاب نہ ہونے کی صورت میں دوسرے مرحلے میں ملت اتحاد کا ساتھ دینے کی توقع کی جا رہی ہے۔ دوسرے الفاظ میں کہاجاسکتا ہے کہ اس بار ملت اتحاد نے اپنے پلان  پر عمل درآمد شروع کردیا ہے اور اگر ان کے درمیان کوئی آخری وقت میں اختلافات  پیدا نہ ہوئے تو صدر ایردوان کے خلاف ان کی کامیابی کے زیادہ اور واضح امکانات موجود ہیں۔ فیصلہ ترک عوام  نے 14 مئی کو کرنا ہے اور اس بار 10 ملین کے قریب   نئی نسل (جو پہلی بار اپنا ووٹ استعمال کریں گے اور   نئی نسل صدر ایردوان کی جانب سے لگائی جانے والی  پابندیوں کےسخت خلاف ہیں اس لیے ان کے ووٹ بھی  ملت اتحاد کو ملنے کی توقع ہے ) کے ووٹ بھی ان انتخابات کا فیصلہ کرنے میں بڑا نمایا ں کردارا ادا کریں گے۔

    ملت اور جمہور اتحاد

    آخر میں اتنا عرض کردوں  صدر ایردوان انتخابات کے ماسٹر ہیں  اور وہ  گزشتہ بیس سالوں سے مسلسل انتخابات جیتنے کے فن  کے ماہر تصور کیے جاتے ہیں ، انہوں نے بھی کوئی کچی  گولیاں نہیں کھیلی ہوئیں، وہ آخری وقت تک   اپنی جان لڑاتے ہوئے دشمن  کے منہ  سے  نوالہ چھیننے کے ماہر ہیں۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Article

    ترکیہ میں زلزلوں کے بعد سیاسی زلزلے نے پورے ملک کو ہلا کر رکھدیا ، آق شینیر کی واپسی سے ملت اتحاد مزید مضبوط

    ملت اتحاد کی مقبولیت کس طرح صدر ایردوان کو شکست سے دوچار کرسکتی ہے؟

    Next Article منی بیک گارنٹی کی مقبولیت بالی وڈ تک پہنچ گئی،پاکستان فلم انڈسٹری کی پرانی رونقیں بحال کروں گا: شایان خان
    ڈاکٹر فرقان حمید

    Related Posts

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    21جنوری , 2026

    Comments are closed.

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    ٹیگز
    #اسرائیل #حقان فیدان #حماس #سیاحت #غزہ #فلسطین آئی ٹی استنبول اسلام آباد افراطِ زر الیکشن 2024 انتخابات انقرہ اپوزیشن ایردوان بھونچال بیسٹ ماڈل آف ترکیہ ترقی ترک صدی ترک میڈیا ترکیہ تعلیم حزبِ اختلاف دنیا دہماکہ دی اکانومسٹ روس سلائِڈر سلائیڈر--- شہباز شریف صدر ایردوان صدر ایردوان، وزیراعظم شہباز شریف، پاکستان، ترکیہ عدلیہ عمران خان فیچرڈ قاتلانہ حملہ لانگ مارچ مغربی میڈیا ملت اتحاد وزیراعظم وزیراعظم شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف، صدر ایردوان، پاکستان، امداد پاکستان پاک فوج یورپ
    • Facebook
    • Twitter
    • Instagram
    اہم خبریں

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    ترکیہ اسکالرشپس: دنیا کی جامع ترین ( fully funded)اسکالرشپس، آن لائن درخواستوں کا طوفان، ویب سائٹ کو کریش کے خدشات

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    مقبول پوسٹس

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026
    Tr-Urdu All Rights Reserved © 2022
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.