Close Menu
Tr-Urdu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Tr-Urdu
    Subscribe
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    Tr-Urdu
    You are at:Home»ترکیہ»ایردوان کو اپوزیشن کا چیلنج ، جمہور اتحاد میں تھرتھیلی کیوں؟ ایردوان چھوٹی جماعتوں کو اتحاد میں شامل کرنے پر مجبور ؟ مخالفین کا صدارتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں ایردوان کو شکست دینے کا دعویٰ
    ترکیہ

    ایردوان کو اپوزیشن کا چیلنج ، جمہور اتحاد میں تھرتھیلی کیوں؟ ایردوان چھوٹی جماعتوں کو اتحاد میں شامل کرنے پر مجبور ؟

    مخالفین کا صدارتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں ایردوان کو شکست دینے کا دعویٰ

    ڈاکٹر فرقان حمیدBy ڈاکٹر فرقان حمید12مارچ , 2023Updated:12مارچ , 2023کوئی تبصرہ نہیں ہے۔10 Mins Read
    صدر ایردوان اور جمہور اتحاد
    پوسٹ شئیر کریں
    Facebook Twitter LinkedIn Email

    تحریر: ڈاکٹر فرقان حمید 

     (نوٹ:    TR-URDU ترکیہ کی پہلی  اور واحد  غیر جانبدار  نیوز ویب سائٹ ہے۔ اس ویب  سائٹ  میں ترکیہ کی بر سر اقتدار  اور اپوزیشن  دونوں ہی کی خبروں   کو جگہ دی جا رہی ہے۔ ان تمام خبروں کے ذرائع  ترک میڈیا اور ایجنسیاں ہی ہیں ۔اس ویب سائٹ  کا ان خبروں اور تبصروں سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے)

    صدر رجب طیب ایردوان   نےسرکاری طور پر  انتخابات کو 14 مئی  2023  کروانے کا اعلان    کرتے ہوئے  ترکیہ کی تاریخ کے اس نازک ترین دور میں اپنی باقاعدہ  انتخابی مہم کا آغاز کردیا ہے۔ترکیہ میں  رائے عامہ کے  تازہ ترین  جائزوں کے مطابق اس بار  ترکیہ میں حالات گزشتہ بیس سال کے مقابلے میں  بہت مختلف ہیں او ر پہلی بار  مخالفین  کا اس وقت تک پلڑا   نہ صرف بھاری دکھائی دیتا ہے بلکہ مخالفین کو یقین   ہے کہ اس بار پارلیمانی  انتخابات میں بھی  وہ واضح اکثریت حاصل کرتے ہوئے ترکیہ کے صدارتی نظام کی جگہ  پارلیمانی نظام کو دوبارہ بحال کروانے کے لیے مقرر  کردہ اراکین کی تعداد کو بھی حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

    ملت اتحاد اور جمہور اتحاد

    اس وقت تک ترکیہ کے  انتخابات میں صدر کے ” جمہور اتحاد ” اور  اپوزیشن کے ” ملت اتحاد” کے درمیان سخت مقابلہ ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔ جمہور اتحاد میں    صدر ایردوان  کی”   جسٹس اینڈ ڈولپمینٹ پارٹی”  (آق پارٹی )  دولت باہچے لی کی” نیشنلسٹ موومنٹ پارٹی ” (MHP)مصطفیٰ  دستی جی کی” گرانڈ یونین پارٹی “(BBP) شامل ہے۔ یہ اتحاد  گزشتہ انتخابات میں 52 فیصد ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہا تھا لیکن اس بار  اس اتحاد کو 52 فیصد وووٹ حاصل کرنا بڑا مشکل  دکھائی  دیتا ہے اس کی کئی  ایک  وجوہات  موجود ہیں جن  کا آگے چل کر ذکر کیا جائے گا۔ اس اتحاد میں صدر ایردوان کے دستِ راست” دولت باہچے لی”    جنہوں نے  صدر ایردوان  کی حمایت کو جاری رکھا ہوا ہے کی مقبولیت  میں تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماوں کے مقابلے میں بڑی تیزی سے کمی واقع ہوئی ہے جو ایردوان کے اتحاد کے لیے الارم سے کم نہیں ہے۔  اس جماعت  کو گزشتہ انتخابات میں 12 فیصد ووٹ حاصل  ہوئے تھے  جبکہ اس بار اسے پانچ فیصد کے لح بھگ ووٹ ملنے اور پارلیمنٹ تک رسائی حاصل نہ ہونے کا خیال ظاہر کیا  جا رہا  جو صدر ایردوان کے لیے  بڑا  اپ سیٹ ہوگا۔ اس  اپ سیٹ کو دیکھتے ہوئے  صدر ایردوان کے  ” جمہور اتحاد”  میں  سخت کھلبلی  مچی ہوئی ہے ، جس کی وجہ سے صدر ایردوان نے اپنے اتحاد میں اب چھوٹی چھوٹی جماعتوں کو بھی شامل کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔جمہور اتحاد میں   مرحوم  نجم الدین ایربکان  کے صاحبزادے  کی قائم  کردہ  نئی رفاہ  پارٹی  ( جسے صفر اعشاریہ  پانچ فیصد  ووٹ حاصل ہونے کی توقع ہے ) کے علاوہ ترکیہ کے مخالفین   کی جانب سے دہشت گرد تنظیم   قرار دی جانے والی اور  حزب اللہ کے بہت قریب سمجھی جانے والی “خدا پر  پارٹی  ” کے شامل کیے جانے سے متعلق  بھی  خبریں  سامنے آ رہی ہیں(اگر ایردوان نے اس جماعت کو اپنے اتحاد میں شامل کیا تو جمہور اتحاد کو ناقابلِ تلافی نقصان بھی پہنچ سکتا ہے )     صدر ایردوان نے ان جماعتوں کے علاوہ بھی کئی ایک چھوٹی چھوٹی علاقائی جماعتوں سے بھی رابطے قائم کررکھے ہیں تاکہ  ان  کو  صدر منتخب ہونے  کے لیےمقررہ  51 فیصد ووٹ حاصل کرنے میں کسی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

    صدر ایردوان کیوں مشکلات سے دوچار ہیں؟

    اقتصادی صورتِ حال

    ترکیہ کی اقتصادی صورتِ حال

    گزشتہ دو سالوں سے ترکیہ  کے عوام شدید اقتصادی بحران سے دوچار چلے آرہے ہیں۔ ترکیہ میں ایک دور ایسا بھی تھا  جب  آق پارٹی نے ملک میں افرطِ زر (ترکیہ میں ہر دس سال بعد افرطِ زر اور ترک لیرے کی قدرو قیمت میں کمی  کےمسئلے  کا سامنا   کرنا پڑتا ہے)   کی شرح  کو سنگل ڈیجٹ  میں لاتے ہوئے     اور ڈالر اور دیگر کرنسیوں کے مقابلے میں  ترک لیرے کو  “لیراں لیراں ” ہونے   سے نہ صرف بچایا بلکہ ترک لیرے  کے آگے سے   چھ صفر ہٹا  کر  اور  ترک لیرا مضبوط بنا کرتاریخی کارنامہ سر انجام دیا ۔ اور اب ترکیہ ایک بار پھر  کم و بیش اسی صورتِ حال سے دوچار ہے  اور ترک لیرا ” لیرا ں  لیراں”   ہوچکا ہےاور  ملک  کو    اقتصادی بحران نے ایک بار پھر  آن لپیٹا ہے۔  سرکاری اعدادو شمار کے مطابق  کچھ عرصہ قبل تک ملک میں افراطِ زر کی شرح  85 فیصد  تھی (جو دنیا میں دوسری بلند ترین شرح ہے ) جبکہ مخالفین کے مطابق   یہ  شرح 130 فیصد کے لگ بھگ ہے۔ اگرچہ ایردوان حکومت نے اس افراطِ زر کی شرح  کو دیکھتے ہوئے تنخواہوں میں اضافہ  تو کیا ہے  لیکن یہ  اضافہ   افراط زر   کی شرح میں اضافے کے مقابلے میں انتہائی کم ہے جس کی وجہ سے عوام اب تک شدید   اقتصادی بحران  کی وجہ سے عوام کا بڑا حصہ    غربت کی لکیر سے بھی نچلی سطح پر  زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے۔

    زلزلے  کے اثرات

    ترکیہ میں زلزلہ

    جیسا کہ عرض کرچکا ہوں  اقتصادی بحران نے ترک عوام کو کمر توڑ کر رکھدی ہے تو  زلزلے نے رہی سہی کسر بھی  پوری کردی ہے۔  6 فروری کو ترکیہ میں     آنے والے اوپر تلے دو زلزلوں نے  ترکیہ  کو شدید جانی اورمالی نقصان پہنچایا ہے ان زلزلوں کے شہروں کے شہر اجڑ  کر رہ گئے ہیں۔   اور زلزلے سے بچ جانے والے افراد  شدید مشکلات میں ٹینٹوں اور  کنٹیرز میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ مخالفین  کا دعویٰ  ہے کہ اس بار حکومت ان زلزلوں کے موقع پر بر وقت اقدامات کرنے   میں ناکام رہی ہے  اور   صدر  ایردوان کا  مختلف مواقع پر پہلے دو روز  میں  وقت پر  امداد  نہ پہنچانے  اور اس سلسلے میں کوتاہی  کے اعتراف نے  اپوزیشن کو ایک ایسا مہرہ فراہم کردیا ہے جسے وہ   ایردوان کی ناکامی سے تعبیر  کرتی ہے۔  اگرچہ حکومت بڑے پیمانے پر  زلزلہ متاثرین کے لیے اپنی امدادی کاروائیوں کو جاری رکھے ہوئے  اور ایک سال کے اندر اندر تمام متاثرین  کو نئے گھروں میں آباد کرنے  کا وعدہ کرچکی ہے لیکن مخالفین کے مطابق  یہ کام اب ایردوان حکومت کے بس کا نہیں ہے بلکہ اب ملک میں قائم ہونے والے ملت اتحاد ہی  ملت کا سہار ابنے گی۔

    مخالفین کا ترکیہ کی ہلالِ احمر ( قزلائی ) پر خیمے فروخت  کرنے  کا الزام

    ترک ہلالِ احمر- قزلائی

    ترکیہ کے نہ صرف مخالفین بلکہ ترکیہ بھر کے اداکاروں گلوکاروں اور دیگر  اہم شخصیات کی جانب سے  ترکیہ کے اس سے قبل  ہمیشہ ہی قابلِ عزت  و محترم   سمجھے جانے والے ادارے   قزلائی کے چئیرمین  کی جانب سے  زلزلہ متاثرین  کے لیے  تیار کردہ  خیموں کو مختلف  این جی اوز کو فروخت کرنے  کے  الزامات نے  ترکیہ  میں  ایک نیا بھونچال  برپا کر رکھا ہے ۔ قزلائی کے چئیرمین اگرچہ اس بارے میں مختلف تاویلیں پیش  کررہے ہیں لیکن عوام ان کی جانب سے دیے جانے والے کسی بھی بیان سے مطمئن  نہیں ہیں  بلکہ ان کے مستعفی ہونے کے مطالبے میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے جو صدر ایردوان کی حکومت پر ایک بڑ دھبہ لگنے کا باعث بنا ہے۔

    زلزلے کے فوراً  بعد فوج کیوں ریسکیو کے لیے نہ پہنچی؟  

    ترک فوجی متاثرہ علاقوں میں

    ترکیہ میں فوج کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ اگرچہ  15 جولائی 2016ء کی ناکام بغاوت کے بعد  ترک فوج  ملکی اقتدار پر اپنی گرفت  کھوچکی ہے لیکن اس کے باوجود   ترک عوام میں  جس طرح ترک فوج کی تکریم کی جاتی ہے اور عزت و احترام  کی نظر سے دیکھا جاتا ہے  دنیا میں اس کی کوئی مثال موجود نہیں ہے۔ (پاکستان کے عوام  کو بھی  ترک عوام  سے اس سلسلے میں بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے )  جب ہم  ترکیہ کی ماضی کی تاریخ پر ایک نگاہ ڈالتے ہیں تو  پتہ چلتا ہے کہ ترک فوج ہمیشہ ہی ہر مصیبت، آفت یا   تباہ  کاریوں کے مواقع پر  سب سے پہلے    عوام کی مدد اور ریسکیو  کے لیے  پہنچنے والا یہ ادارہ ہی ہے۔  دراصل  ترکیہ میں فوجیوں کو  مہمت چیک( یعنی محمد کے سپاہی ) طور پر یاد کیا جاتا ہے  ۔ ہمیشہ کی طرح اس بار بھی  فوجی امدادی اور ریسکیو ٹیموں ہی کو زلزلے سے متاثرہ علاقوں پہنچنے کی توقع کی جا رہی تھی لیکن   مخالفین  کا دعویٰ  ہے کہ اس بار کہیں بھِ فوجی امدادی دستے  نظر نہیں آئے  ہیں۔    اگرچہ حکومت کی جانب سےامدادی فوجی دستوں کے  متاثرہ علاقوں  میں موجود ہونے کی کئی بار وضاحت کی جاچکی ہے  لیکن اپوزیشن    ابھی بھی اپنے  دعوے پر مسلسل اصرار کررہی ہے  ، ان کے  مطابق اس کی بڑی وجہ صدر ایردوان  کی جانب سے جان بوجھ کر فوجی دستوں کو  سویلین ٹیموں کے پیچھے رکھنا ہے تاکہ سویلین امدادی  ٹیموں کی امدادی کاروائیوں کو گرہن  نہ  لگ جائے۔  

    اپوزیشن  کے بلدیاتی  اداروں کی  ریسکیو ٹیموں  اور سازو مان وقت پر  متاثرہ علاقوں میں پہنچنے کی اجازت کیوں   نہیں دی گئی؟

    اپوزیشن  نے حکومت کو  آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے  کہا ہے کہ  حکومت نے پہلے روز بودرم اور کئی دیگر شہروں کے بلدیاتی اداروں  کی ریسکیو ٹیموں اور امدادی سازو سامان کو متاثرہ علاقوں  میں پہنچنے  اجازت نہ جبکہ  یہ ٹیمیں متاثرہ علاقوں  کے باہر حکومت کے آرڈر کی منتظر تھیں  لیکن   حکومت نے    ڈزاسٹر اینڈ مینجمنٹ ادارے AFAD کی ریسکیو  ٹیموں  کے پہنچنے تک ان کو  متاثرہ علاقوں  کے باہر ہی روکے رکھا۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ  72 گھنٹے   زلزلے کے بعد عمارتوں سے افراد کو زندہ بچانے کے لیے بڑی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں  اور اپوزیشن   کے بلدیاتی اداروں کی ریسکیو ٹیمیں جوبر  وقت متاثرہ  علاقے  پہنچ چکی تھیں کو   اگر  امداد ی کاروائیاں  جاری رکھنے کی اجازت  دے دی جاتی تو  بڑی تعداد میں لوگوں کو زندہ بچایا جاسکتا  تھا۔

    حطائے   سے  ری پبلیکن پیپلز پارٹیCHPکی رکنِ پارلیمنٹ کے  جذباتی   اور رقت آمیز خطاب نے پارلیمنٹ کوہلا کر رکھ دیا  

    سوزان شاہین- حطائے رکنِ پارلیمنٹ

    پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے ری پبلیکن پیپلز پارٹی CHPکی حطائے سے رکنِ پارلیمنٹ سوزان  شاہین  کے  رقت آمیز خطاب  نے پارلیمنٹ میں  سکتہ طاری  کردیا ۔ سوزان شاہین نے اپنے خطاب میں حکومت کی نااہلی کا پردہ چاک کرتے ہوئے زلزلہ متاثرین کو اس وقت جبکہ  ڈیڑھ ماہ  کا عرصہ بیت چکا ہے کو امدادہ نہ ملنے زلزلے کے وقت  حکومت کے خوابِ خرگوش میں غرق ہونے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسی کسی بھی  حکومت کو اپنی نا اہلی  کو  قبول کرتے ہوئے فوری طور پر  مستعفی  ہونے کی ضرورت تھی  لیکن حکومت کی کسی بھی ایک رکن حتی کہ  قزلائی کے چئیرمین تک  نے  مستعفی  ہونے کی جسارت نہیں دکھائی ہے  اور حکومت کی اس  نالائقی اور نا اہلی کا جواب عوام آئندہ  انتخابات   کے موقع پر دیں گے۔

    یہ تمام الزامات  اپوزیشن  کی جانب سے حکومت پر لگائے گئے ہیں جبکہ حکومت نے ان تمام الزامات کا یکسر مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ حکومت پہلے روز ہی سے  زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں عوام کو امداد فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے  ہے۔  جس طرح اس  حکومت نے ماضی  میں وان میں اور دیگر علاقوں میں آنے والوں زلزلے میں عوام کو نئے گھروں میں آباد کیا اب بھی وہ ان کو بالکل اسی طرح آباد کرے  گئی۔

    اب دیکھنا یہ ہے کہ ترکیہ کی تاریخ کے اس نازک ترین  انتخابات  میں   کون کامیاب  ہوتا ہے؟ یہ انتخابات حکومت کی کارگردگی سے مطمئن افراد یا   یا پھر  اپوزیشن  کے الزامات اور عوام سے کیے گئے وعدوں  سے امید وابستہ کرنے والوں کے درمیان امتحان کی حیثیت رکھتے ہیں ۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleمنی بیک گارنٹی کی مقبولیت بالی وڈ تک پہنچ گئی،پاکستان فلم انڈسٹری کی پرانی رونقیں بحال کروں گا: شایان خان
    Next Article

    رائٹرز کے ترکیہ انتخابات کےحیران کن انتخابی سروے کے نتائج، صدرایردوان ، کمال کلیچدار اولو سے 10پوائنٹس پیچھے

    پارلیمانی انتخابات میں بھی ملت اتحادکو 44 فیصد ووٹوں کے ساتھ برتری حاصل

    ڈاکٹر فرقان حمید

    Related Posts

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    21جنوری , 2026

    Comments are closed.

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    ٹیگز
    #اسرائیل #حقان فیدان #حماس #سیاحت #غزہ #فلسطین آئی ٹی استنبول اسلام آباد افراطِ زر الیکشن 2024 انتخابات انقرہ اپوزیشن ایردوان بھونچال بیسٹ ماڈل آف ترکیہ ترقی ترک صدی ترک میڈیا ترکیہ تعلیم حزبِ اختلاف دنیا دہماکہ دی اکانومسٹ روس سلائِڈر سلائیڈر--- شہباز شریف صدر ایردوان صدر ایردوان، وزیراعظم شہباز شریف، پاکستان، ترکیہ عدلیہ عمران خان فیچرڈ قاتلانہ حملہ لانگ مارچ مغربی میڈیا ملت اتحاد وزیراعظم وزیراعظم شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف، صدر ایردوان، پاکستان، امداد پاکستان پاک فوج یورپ
    • Facebook
    • Twitter
    • Instagram
    اہم خبریں

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    ترکیہ اسکالرشپس: دنیا کی جامع ترین ( fully funded)اسکالرشپس، آن لائن درخواستوں کا طوفان، ویب سائٹ کو کریش کے خدشات

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    مقبول پوسٹس

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026
    Tr-Urdu All Rights Reserved © 2022
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.