Close Menu
Tr-Urdu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Tr-Urdu
    Subscribe
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    Tr-Urdu
    You are at:Home»ترکیہ»ترکیہ میں انتخابات سے قبل سروئے کمپنیوں کے درمیان سخت مقابلہ، مخالفین کو نیچا دکھانے کے حربے اور داؤ پیچ احسان آقتاش کے سروئے میں صدر ایردوان کی کمال کلیچدار اولوپر واضح برتری
    ترکیہ

    ترکیہ میں انتخابات سے قبل سروئے کمپنیوں کے درمیان سخت مقابلہ، مخالفین کو نیچا دکھانے کے حربے اور داؤ پیچ

    احسان آقتاش کے سروئے میں صدر ایردوان کی کمال کلیچدار اولوپر واضح برتری

    ڈاکٹر فرقان حمیدBy ڈاکٹر فرقان حمید21مارچ , 2023Updated:21مارچ , 2023کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read
    احسان آق تاش کا تازہ ترین سروئے
    پوسٹ شئیر کریں
    Facebook Twitter LinkedIn Email

    ترکیہ میں صدارتی اور پارلیمانی انتخابات سے قبل انتخابی نتائج سے متعلق  سروئے پیش کرنے والی   کمپنیوں کے درمیان سخت مقابلہ جاری ہے ۔ یہ کمپنیاں   اپنے اپنے امیدواروں کے حق میں  ایسے ایسے  جائزاتی  سروئے پیش کررہی ہیں جن کا حقائق   سے ذرہ بھر بھی کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس کی بڑی وجہ  ان کمپنیوں کو  حکومت اور اپوزیشن دونوں ہی کی جانب سے   اپنے اپنے مقاصد  حاصل کی تکمیل  کے لیے استعمال کرنا ہے۔  اگرچہ  پانچ سال قبل تک ترکیہ میں تقریباً تمام ہی سروئیز کمپنیاں بڑی غیر جانبداری سے     ایک دوسرے سے کافی حد تک  مشابہت رکھنے والے سروئیز کے نتائج   پیش کرتی رہی ہیں لیکن  موجود دور میں ان سروئیز کمپنیوں  نے اپنی ساکھ کو    داؤ  پر لگاتے ہوئے ایک دوسرے  کو نیچا دکھانے  اور  اپنے مخالف  اتحاد کے سروئیز   کو غلط ثابت کرتے ہوئے اپنی پسندیدہ  جماعت یا اتحاد  کے حق میں زمین  آسمان کے قلابے  ملا رہی ہیں۔   

    TR-URDU نے اس سلسلے میں تمام ہی  کمپنیوں کے  سروئیز کو پیش کرنے کا سلسلہ  شروع کررکھا ہے تاکہ قارئین ان سب کا جائزہ لیتے ہوئے  آئندہ  انتخابات کے بارے میں اپنی رائے قائم کرسکیں۔

    ان تمام سروئیز کے نتائج  ترکیہ ہی کے اخبارات، نیوز ایجنسیوں اور   اور ویب سائٹ کا سہارا لیتے ہوئے     TR-URDU اپنے قارئین تک پہنچا رہی ہے۔  جیسے جیسے  ان کمپنیوں کے سروئیز کے نتائج  ہمارے سامنے  آتے رہیں گے، ان نتائج کو  اپنے قارئین   تک پہنچاتے رہیں گے۔

    تازہ ترین  سروئے  جسے  حکومت  کے حامی احسان آقتاش  کی کمپنی GENAR نے کروایا ہے   اور روزنامہ صباح   نے اسے  جگہ دی ہے۔  

    اس سروئے میں    پارٹیوں کی ووٹنگ کی شرح اور اس موضوع پر تمام تفصیلات  موجود  ہیں۔

    پول کمپنی نے منتخب شدہ افراد سے سوال کیا تھا کہ اگر  آج ملک میں انتخابات ہوتے ہیں تو  آپ کس کو ووٹ دیں گے؟

    جسٹس اینڈ ڈولپمینٹ پارٹی (آق پارٹی ) 40٫7 فیصد  

    جسٹس اینڈ ڈولپمینٹ پارٹی (آق پارٹی )

    سروئے کے مطابق   لوگوں کی  40٫7 فیصد  شرح نے برسراقتدار جسٹس اینڈ ڈولپمینٹ پارٹی (آق پارٹی) کے حق میں ووٹ دیا ہے۔

    آق  پارٹی کے ووٹ کی شرح کی وضاحت کرتے ہوئے،آقتاش نے کہا کہ  آق پارٹی  نے معیشت  کو بہتر بنانے ، مہنگائی کو متوازن کرنےکے لیے بڑے ٹھوس اقدامات  کرنے کے ساتھ ساتھ  بے روزگاری میں کمی، افرطِ زر میں کمی جیسےاقدامات  کرتے ہوئے  کامیابی حاصل کی ہے۔   جس کی وجہ سے  آق   پارٹی کے ووٹوں کی شرح 40 سے 42 فیصد کے درمیان پہنچ گئی  ہے۔

    ری پبلیکن پیپلز پارٹی (CHP) 23٫1 فیصد

    ری پبلیکن پیپلز پارٹی (CHP)

    CHP کے ووٹ کی شرح کے بارے میں بات کرتے ہوئے، آق تاش  نے کہا، “CHP کے ووٹ کی شرح 21 اور 23 فیصد کے درمیان ہے۔ پچھلے مہینے، ووٹوں کی شرح 22 فیصد تھی۔ چونکہ  گڈ پارٹی کی وجہ  سے اتحاد میں کچھ گڑ بڑ پیدا ہوئی تھی  جس کی وجہ سے   گڈ پارٹی کے ایک فیصد ووٹ   CHP کو چلے گئے۔

    نیشنلسٹ موومنٹ  پارٹی (MHP)7٫6 فیصد

    نیشنلسٹ موومنٹ پارٹی (MHP)

    آق تاش نے مزید کہا کہ MHP کا ووٹ آج تک  گڈ  پارٹی کے ووٹوں سے زیادہ ہے۔

    گڈ پارٹی (İYİ PARTİ)7 فیصد

    گڈ پارٹی (İYİ PARTİ)7 فیصد

    تازہ ترین پولز کے مطابق، گڈ پارٹی کے ووٹ 7 فیصد کے  لگ بھگ ہیں۔

    پیپلز ڈیموکرٹیک پارٹی (HDP)10٫8 فیصد

    پیپلز ڈیموکرٹیک پارٹی (HDP)

    آق تاش نے کہا ہے کہ HDP کے ووٹوں کی شرح 10.8 فیصد  کے لگ بھگ ہے۔

    مملکت  پارٹی-4.7

    مملکت پارٹی

    پولز کے مطابق مملکت  پارٹی کے ووٹ 4.7 فیصد ہیں۔

    آق تاش کی جانب سے کیا جانے والا یہ سوال کہ اگر صدارتی انتخابات دوسرے راؤنڈ میں ہوتے اور دوسرے راؤنڈ میں صرف رجب طیب ایردوان اور کمال کلیچدارو  ایک دوسرے کے مردِ مقابل رہ جاتے ہیں تو  آپ کس کو ووٹ دیں گے؟

    جمہور اتحاد کے امیدوار رجب طیب ایردوان – 52.3 فیصد ووٹ

    صدر ایردوان اور جمہور اتحاد

    ملت اتحاد کے امیدوار کمال کلیچدار اولو -47.7 فیصد

    چھ جماعتی ملت اتحاد
    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Article

    صدر ایردوان کے اپنے ہی خصوصی سروئے سے صدارتی محل میں کھلبلی ، سروئےسے صدر کے چند قریبی ساتھی آگاہ

    نتائج کے کسی بھی صورت صدارتی محل سےباہر نہ نکلنے کے احکامات: ٹیلی ون دعویٰ

    Next Article

    الیکشن کمیشن نے پنجاب اسمبلی کے انتخابات ملتوی کردیے

    الیکشن کمیشن کا تمام صوبوں میں 8 اکتوبر کو ایک ساتھ انتخابات کروانے کا اعلان

    ڈاکٹر فرقان حمید

    Related Posts

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    21جنوری , 2026

    Comments are closed.

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    ٹیگز
    #اسرائیل #حقان فیدان #حماس #سیاحت #غزہ #فلسطین آئی ٹی استنبول اسلام آباد افراطِ زر الیکشن 2024 انتخابات انقرہ اپوزیشن ایردوان بھونچال بیسٹ ماڈل آف ترکیہ ترقی ترک صدی ترک میڈیا ترکیہ تعلیم حزبِ اختلاف دنیا دہماکہ دی اکانومسٹ روس سلائِڈر سلائیڈر--- شہباز شریف صدر ایردوان صدر ایردوان، وزیراعظم شہباز شریف، پاکستان، ترکیہ عدلیہ عمران خان فیچرڈ قاتلانہ حملہ لانگ مارچ مغربی میڈیا ملت اتحاد وزیراعظم وزیراعظم شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف، صدر ایردوان، پاکستان، امداد پاکستان پاک فوج یورپ
    • Facebook
    • Twitter
    • Instagram
    اہم خبریں

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    ترکیہ اسکالرشپس: دنیا کی جامع ترین ( fully funded)اسکالرشپس، آن لائن درخواستوں کا طوفان، ویب سائٹ کو کریش کے خدشات

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    مقبول پوسٹس

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026
    Tr-Urdu All Rights Reserved © 2022
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.