Close Menu
Tr-Urdu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Tr-Urdu
    Subscribe
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    Tr-Urdu
    You are at:Home»ترکیہ»صدارتی انتخابات سے متعلق مختلف سروئے کمپنیوں کے نتائج کیونکر ایک دوسرے سے کافی حد مشابہت رکھتے ہیں؟ ایردوان اور کلیچ دار اولو کے درمیان سخت مقابلہ ، انتخابات میں برتری کس کو؟
    ترکیہ

    صدارتی انتخابات سے متعلق مختلف سروئے کمپنیوں کے نتائج کیونکر ایک دوسرے سے کافی حد مشابہت رکھتے ہیں؟

    ایردوان اور کلیچ دار اولو کے درمیان سخت مقابلہ ، انتخابات میں برتری کس کو؟

    ڈاکٹر فرقان حمیدBy ڈاکٹر فرقان حمید26مارچ , 2023Updated:26مارچ , 2023کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read
    کمال کلیچ دار اولو بمقابلہ ایردوان
    پوسٹ شئیر کریں
    Facebook Twitter LinkedIn Email

    (نوٹ:    TR-URDU ترکیہ کی پہلی  اور واحد  غیر جانبدار  نیوز ویب سائٹ ہے۔ اس ویب  سائٹ  میں ترکیہ میں 14 مئی کے الیکشن سے   قبل بلا امتیاز   تمام ہی اہم سروئے کمپنیوں کے  تازہ ترین  سروئیز  کو جگہ دی جا رہی ہے۔ یہ تمام  سروئیز    ترک کمپنیوں  کی جانب سے کروائے  جا رہے ہیں  اور ان سروئیز سے    نیوز ویب سائٹ TR-URDU کا متفق ہونا  ضروری نہیں ہے۔   )

    ترکیہ میں  14 مئی 2023 کو ہونے والے  صدارتی اور پارلیمانی کے انتخابات  کے لیے انتخابی   مہم کا باقاعدہ  آغاز   ہوچکا ہے تو اسی دوران مختلف  سروئے کمپنیاں بھی  اپنے اپنے سروئیز کے نتائج  پیش کررہی ہیں۔

    یہ تمام سروئیز ماہ مارچ کے دوران کرائے گئے   جس سے  صدارتی امیدواروں کی تازہ ترین صورتِ حال ابھر کر سامنے آتی ہے۔ ماہ مارچ میں   پیش کیے جانے والے سروئیز  کمپنیوں کے الگ الگ  اور اوسطاً نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ  ملت اتحاد کے  صدارتی امیدوار کمال کلیچ دار اولو  کو  جمہور اتحاد کےصدارتی امیدوار رجب طیب ایردوان پر واضح  برتری  حاصل ہے۔

    14 مئی 2023 کے صدارتی انتخابات کے سروے کے نتائج کو نیچے گرافک میں  پیش کیا گیا ہے۔  

    ماہ مارچ میں سروئے کے نتائج

    MAK کنسلٹنگ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین مہمت علی کلات نے  ترک ٹی وی چینل  خبر ترک کو اپنی  کمپنی کے  تازہ ترین سروئے  کے نتائج کو پیش کیا ہے۔ ان نتائج کے مطابق  کمال کلیچ دار اولو کو اس وقت  47 فیصد ووٹر کی حمایت حاصل ہے تو صدر ایردوان کے حق میں 42 فیصد ووٹ پڑتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔

    ان ہی کے سروئے کے مطابق   محرم  اِنجے  کو  صرف تین فیصد ووٹروں  کی حمایت حاصل ہے تو  اس وقت تک  8 فیصد ووٹروں  نے ووٹ دینے کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں  کیا ہے۔

    ماہ مارچ کے وسط میں سروئے کرنے والی کمپنی  ترکیہ رپورٹ کے سروئے کے  مطابق کلیچ دار اولو اور صدر ایردوان کے درمیان    9 فیصد ووٹوں کا فرق موجود ہے  اور اس  وقت تک  کلیچ دار اولو کو 54٫5  فیصد جبکہ صدر ایردوان کو 45٫5 فیصد ووٹروں  کی حمایت حاصل ہے۔

    ترکیہ کی ایک دیگر  سروئے کمپنی AR-G کی جانب سے  14 مارچ کو کروائے جانے والے سروئے کے مطابق  صدارتی انتخابات  کا فیصلہ پہلے مرحلے کی بجائے بلکہ دوسرے مرحلے میں ہونے سے آگاہ کیا ہے۔ سروئے کے مطابق  کلیچ دار اولو کو 46٫2 فیصد  اور ایردوان کو 43٫1 فیصد  ووٹروں  کی حمایت حاصل ہے جبکہ محرم اِنجے کو 7 فیصد ووٹر  اور  سینان اوعان کو 3٫1 فیصد ووٹر کی حمایت حاصل ہے۔  

    آق سوئے  سروئے کمپنی  کی طرف سے 8 مارچ کو کرائے گئے پولزکے مطابق، ملت اتحاد  کے صدارتی امیدوار  کمال کلیچ دار اولو  کو 55.6 فیصد ووٹ  حاصل ہیں تو   جمہور اتحاد کے امیدوار کو ایردوان کو  44.4 فیصد ووٹ ملتے دکھائی دیتے ہیں ۔

    PIAR  کی  جانب سے  10 مارچ کو کروائے جانے والے سروئے  میں ملت اتحاد کے صدارتی امیدوار  کلیچ دار اولوکو  57.1 فیصد ووٹوں کے ساتھ  جمہور اتحاد کے صدارتی امیدوار  ایردوان  کے  42٫9 فیصد ووٹوں کے مقابلے میں واضح برتری حاصل ہے ۔ PIAR  نے  12  بڑے شہروں میں میں 1,460 افراد  کے ساتھ  ٹیلی فون کے ذریعے رابطہ قائم کرتے ہوئے  یہ نتائج حاصل کیے ہیں۔  

    ماہ مارچ میں سروئے کے نتائج

    میرال آق شینیر کی جانب سے ملت اتحاد   کو ترک کرنے  کے بعد پیدا ہونے والے  بحران اور بحران پر  قابو پانے  کے فوراً بعد  ORC نے  سب سے پہلے سروئے کروایا تھا   جس کے مطابق  کمال کلیچ دار اولو نے  56.8 فیصد ووٹ  حاصل کیے تو  ان کے مخالف صدر ایردوان نے   43.2 فیصد ووٹ  حاصل کیے ۔ یہ سروے 28  بڑے شہروں میں 1,850 افراد کے CATI کے ذریعے   کیا  تھا۔

    ALF سروے کمپنی نے  26  بڑے شہروں میں  6-7 مارچ کو CATI طریقہ استعمال کرتے ہوئے 1,770 لوگوں سے رابطہ قائم کرتے ہوئے کیا۔

    کمال  کلیچ دار اولو  کے صدارتی امیدوار بننے کے اعلان  یعنی 6 مارچ  سے  قبل کیا گیا   جبکہ کلیچ داولو کے صدارتی امیدوار  بننے کے اعلان کے فوراً بعد پہلا سروئے  ALF کمپنی ہی کی جانب سے کروایا  گیا تھا۔

    ALF کمپنی کے سروئے  میں 10٫2 پوائنٹس کا فرق

    ALF کمپنی کی جانب سے کروائے جانے والے سروئے  کے مطابق  کمال کلیچ دار اولو کو 55٫1 فیصد  ووٹ ملے ہیں تو صدر ایردوان کو پڑنے والے ووٹوں کی تعداد  44٫9 فیصد ہے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Article

    محرم اِنجے تیسرے صدارتی امیدوار بن گئے ، چوتھے روز ایک لاکھ دستخط حاصل کرنے والے واحد صدارتی امیدوار

    محرم اِنجے’’ ایردوان‘‘ یا پھر ’’کلیچ دار اولو‘‘ میں سے کس کے لیے باعثِ رحمت ؟

    Next Article

    صدر ایردوان نے الیکشن سے پہلے خزانے کا منہ کھول دیا ،بجلی اور گیس کے نرخوں میں کمی، خوشخبریوں کا سلسلہ جاری

    کم از کم اجرت پرایک بار پھر نظر ثانی اور ماہ جولائی میں مزید اضافہ کرنے کا اعلان

    ڈاکٹر فرقان حمید

    Related Posts

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    21جنوری , 2026

    Comments are closed.

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    ٹیگز
    #اسرائیل #حقان فیدان #حماس #سیاحت #غزہ #فلسطین آئی ٹی استنبول اسلام آباد افراطِ زر الیکشن 2024 انتخابات انقرہ اپوزیشن ایردوان بھونچال بیسٹ ماڈل آف ترکیہ ترقی ترک صدی ترک میڈیا ترکیہ تعلیم حزبِ اختلاف دنیا دہماکہ دی اکانومسٹ روس سلائِڈر سلائیڈر--- شہباز شریف صدر ایردوان صدر ایردوان، وزیراعظم شہباز شریف، پاکستان، ترکیہ عدلیہ عمران خان فیچرڈ قاتلانہ حملہ لانگ مارچ مغربی میڈیا ملت اتحاد وزیراعظم وزیراعظم شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف، صدر ایردوان، پاکستان، امداد پاکستان پاک فوج یورپ
    • Facebook
    • Twitter
    • Instagram
    اہم خبریں

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    ترکیہ اسکالرشپس: دنیا کی جامع ترین ( fully funded)اسکالرشپس، آن لائن درخواستوں کا طوفان، ویب سائٹ کو کریش کے خدشات

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    مقبول پوسٹس

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026
    Tr-Urdu All Rights Reserved © 2022
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.