Close Menu
Tr-Urdu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Tr-Urdu
    Subscribe
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    Tr-Urdu
    You are at:Home»ترکیہ»ترکیہ کے صدارتی انتخابات میں کلیدی کردار’’ محرم اِنجے‘‘ کون ہیں؟ وہ ایردوان کی گرتی ہوئی دیوار کو سہارا دیں گے؟یا وہ ملت اتحاد کا ساتھ دےکر ڈیموکریسی کو مضبوط بنائیں گے؟:ترک اپوزیشن
    ترکیہ

    ترکیہ کے صدارتی انتخابات میں کلیدی کردار’’ محرم اِنجے‘‘ کون ہیں؟ وہ ایردوان کی گرتی ہوئی دیوار کو سہارا دیں گے؟

    یا وہ ملت اتحاد کا ساتھ دےکر ڈیموکریسی کو مضبوط بنائیں گے؟:ترک اپوزیشن

    ڈاکٹر فرقان حمیدBy ڈاکٹر فرقان حمید2اپریل , 2023Updated:2اپریل , 2023کوئی تبصرہ نہیں ہے۔6 Mins Read
    محرم اِنجے صدارتی امیدوار
    پوسٹ شئیر کریں
    Facebook Twitter LinkedIn Email

     (نوٹ:    TR-URDU ترکیہ کی پہلی  اور واحد  غیر جانبدار  نیوز ویب سائٹ ہے۔ اس ویب  سائٹ  میں ترکیہ کی بر سر اقتدار  اور اپوزیشن تمام  ہی  جماعتوں  اور اتحاد    کی خبروں   کو  مساوی طور پر جگہ دی جا رہی ہے۔ ان تمام خبروں کے ذرائع  ترک میڈیا اور ایجنسیاں ہی ہیں ۔اس  نیوز ویب سائٹ  کا ان خبروں اور تبصروں سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے)

    اتاترک کی نظریات  اور سیکولرازم پر سختی سے کاربند  محرم اِنجے نے سب سے پہلے    1995ء    کے انتخابات میں ری پبلکن پیپلز پارٹی (CHP) کی طرف سے  برصا،  یالووا سے پارلیمنٹ کے انتخابات میں حصہ لیتے ہوئے   اپنی سیاست کا آغاز کیا لیکن وہ  یہ انتخابات جیتنے میں ناکام رہے   تاہم انہوں نے      1998 میں  CHP کے یالووا کے صوبائی چیئرمین  منتخب  ہو کر  اپنی سیاست کو جاری رکھا  اور اس دوران  علاقائی اخبار میں کالم لکھتے ہوئے  شہرت حاصل کی۔

    محرم اِنجے صدارتی امیدوار

    محرم  اِنجے   2002 ءکے انتخابات میں CHP  کے رکنِ پارلیمنٹ  منتخب  ہو کر  قومی اسمبلی  میں  قومی تعلیمی کمیشن کے رکن   نامزد  کردیے گئے ۔انہوں نے اس دوران امام خطیب   اسکولوں  سے فارغ التحصیل طلبا   کے یونیورسٹیوں میں داخل کے امتحانات میں    ایکسٹرا  مارکس کے ساتھ  داخلے  کی شرط  کے قانون میں ترمیم کرنے  کی سختی سے  مخالفت کی   جس پر اسلامی حلقوں میں ان کے خلاف شدید ردِ عمل ابھر کر سامنے آیا۔   

    ایردوان  ہمیشہ محرم اِنجے کی تنقید  کی زد میں رہے

    محرم اِنجے  کو صدر ایردوان کے خلاف  سخت  بیانات دینے  اور  مسلسل تنقید کا نشانہ بنانے کی وجہ سے بڑی شہرت حاصل ہوئی ۔25 دسمبر 2009  میں ترکیہ کی قومی اسمبلی  اپنی  10 منٹ کی تقریر میں صدر ایردوان   اور برسر  اقتدار آق پارٹی پر سخت الفاظ کی بوچھاڑ کردی  جسے  اپوزیشن  ہاتھوں ہاتھ لیا اور میڈیا  میں محرم  اِنجے   کے چرچے ہونے لگے۔

    محرم اِنجے اور صدر ایردوان

    محرم اِنجے   نے اپنے آپ کو حکومت پر  تنقید کرنے تک ہی  محدود نہ رکھا بلکہ اپنی پارٹی پر بھی تنقید کے تیر برسا ئے اور   18 اگست 2014 کو پارٹی کے  گروپ  ڈپٹی چیئرمین کے عہدے سے مستعفی ہو کر پارٹی کے چئیرمین  کے انتخابات میں حصہ لیا  لیکن  کمال کلیچ دارو نے  انہیں شکست سے دوچار کردیا ۔

    فروری 2018 میں منعقدہ CHP کی 36 ویں عام  کنونشن  میں انہوں نے ایک بار پھر کمال کلیچ دار اولو  کو چیلنج کیا  لیکن اس بار بھی کمال کلیچ دار اولو کے ہاتھوں شکست سے دوچار ہوئے ۔

    محرم اِنجے صدارتی امیدوار

    4 مئی 2018  کے  ترکیہ  کے صدارتی انتخابات  میں CHP نے  ان کو صدارتی امیدوار کے طور پر نامزد کیا۔   محرم  اِنجے نے  45 دنوں میں 75 صوبوں میں 107 ریلیاں کرکے  ریکارڈ قائم کیا۔ انہوں نے صدارتی  انتخابات میں 30.67 فیصد (15.216.199 ووٹ) ووٹ   حاصل کرتے ہوئے دوسری پوزیشن  حاصل کی  اور  اس طرح  41 سالوں بعد ری پبلکن پیپلز پارٹی (CHP) کے  کسی بھی امیدوار کو  پہلی بار  30 فیصد سے زاہد ووٹ حاصل ہوئے۔

    محرم اِنجے  نے   11 ستمبر 2019 کو ایک بار پھر  2023ء میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کردیا تاہم انہوں نے   8 دسمبر 2020 کو  CHP  سے علیحدگی  اختیار کرتے ہوئے ’’  مملکت  پارٹی‘‘ کے نام سے  نئی سیاسی پارٹی تشکیل دی  اور 17 مئی 2021  میں  وہ  مملکت پارٹی کے  چئیرمین منتخب ہوگئے۔

     محرم  اِنجے  باضابطہ  طور پر  صدارتی  امیدوار

    محرم اِنجے صدارتی امیدوار

    محرم   اِنجے نے  14 مئی 2023 کے صدارتی  انتخابات میں  حصہ لینے کے لیے  ترکیہ کے سپریم  الیکشن کمیشن کی جانب سے عائد  ایک لاکھ دستخط حاصل کرنے کی شرط کو پہلے دو دنوں ہی میں پوری کرتے ہوئے چار صدارتی امید  واروں کی فہرست میں جگہ  بنالی ہے۔  

    محرم  اِنجے  جو بائیں بازو سے تعلق رکھتے ہیں اور   ہمیشہ کمال ازم  اور سیکولرازم کا پرچار کرتے ہیں بائیں بازو کی جماعتو ں  کے شدید دباو کے باوجود  آخری دم تک صدارتی  انتخابات میں حصہ لینے پر اصرار جاری  رکھے  ہوئے ہیں  اور وہ  اس  وقت ملت اتحاد  کے جیتنے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھے جا رہے ہیں۔  کچھ عرصہ قبل تک  کروائے  جانے والے سروئیز میں ان کو   4 سے 6 فیصد ووٹروں کی حمایت حاصل تھی  جیسے جیسے  انتخابات قریب آتے جا رہے ہیں  مختلف  سروئے کمپنیاں ان کے ووٹروں کی  تعداد میں مسلسل اضافہ  ہونے سے آگاہ کررہی  ہیں۔  اپوزیشن کا خیال ہےایسا جان بوجھ کر کیا جا رہا ہے  اور ایسا کرنے کے پیچھے دراصل     صدر ایردوان  کا ہاتھ ہے۔ ایردوان  کو ملت اتحاد سے سخت تشویش  لاحق ہے اور وہ اس اتحاد کو شکست سے دوچار کرنے کے لیے اپوزیشن کے ووٹ تقسیم  کرنے اور اپنی کامیابی  کو یقینی بنانے  کی ہر ممکنہ کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں۔  اپوزیشن کے مطابق  کوئی بھی صدارتی امیدوار چند دنوں کے اندر اندر اتنی مقبولیت حاصل نہیں کر پاتا جتنی مقبولیت  محر م اِنجے کے سروئے میں دکھائی جا رہی ہے۔  ان کے مطابق   آق پارٹی کے  سپورٹر دراصل  محرم اِنجے   کے حق میں ووٹ استعمال کررہے ہیں تاکہ   محرم اِنجے کی مقبولیت  کو بڑھا چڑھا کر  پیش کیا جائے اور ان کو صدارتی  انتخابات  کی  دوڑ میں شامل رکھا جائے اور اس طرح ملت اتحاد کے ووٹوں کو تقسیم   کرکے صدر ایردوان کی جیت کو یقینی  بنایا جاسکے۔

    اپوزیشن  کے مطابق  محرم  اِنجے  کو ابھی بھی 4  سے  6 فیصد تک ہی ووٹ حاصل ہیں   اور یہ 4  سے 6 فیصد کے لگ بھگ ووٹ بھی ملت اتحاد کی کامیابی کے لیے بڑی اہمیت کے حامل ہیں ۔  

    محرم اِنجے صدارتی امیدوار

    محرم اِنجے کا مستقبل

    ادھر سروئیز کمپنیوں کا خیال ہے جنگ اور  سیاست میں ہر چیز جائز   ہےلیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اگر محرم اِنجے  صدارتی انتخابات میں حصہ لینے سے باز نہیں آتے  اور ان کی وجہ سے  ملت اتحاد  شکست سے دوچار  ہوتا ہے  تو  محرم  اِنجے  کا مستقبل ہمیشہ ہمیشہ  کے لیے تاریک   بھی ہوسکتا ہے اور وہ کسی کو منہ دکھانے کے بھی لائق نہیں رہیں گے  کیونکہ  اپنے آپ کو اتاترک اور سیکولر ازم کا داعی سمجھنے والے   محرم اِنجے  کی سیاست پر ایک  ایسا  دھبہ  لگ جائے گا جس کو وہ کبھی بھی   نہیں دھو سکیں گےاور سیاست سے کنارا کشی پر مجبور ہو سکتے ہیں جبکہ  ملت اتحاد  کا ساتھ دینے کی صورت میں آئندہ چل کران کے لیے  ری پبلکن پیپلز پارٹی کے چئیر مین بننے  کی  راہ بھی ہموار  ہوسکتی ہے   اور   مستقبل میں ان کے لیے اقتدار کے دروازے بھی کھل سکتے ہیں۔

    یہ انتخابات  ایک طرف ترکیہ کی تاریخ میں  بہت بڑے معرکے  کی حیثیت بھی رکھتے  ہیں تو دوسری طرف  یہ  انتخابات  محرم اِنجے کی   مستقبل کی سیاست کا تعین  کرنے کے لحاظ سے بھی  بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔اپوزیشن  کے مطابق   فیصلہ محرم  اِنجے   نے  کرنا ہے۔  اپوزیشن کا کہنا ہے کہ  محرم اِنجے کے پاس دو ہی متبادل موجود ہیں ، ان میں سے ایک     ایردوان کی گرتی ہی دیوار   کو سہارا دینا ہے یا پھر   دوسرا راستہ ملت اتحاد کا ساتھ دیتے ہوئے ملک میں ڈیموکریسی  کو مضبوط بنانا ہےاور  تاریخ رقم کرنا ہے  ؟

                                            

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Article

    ملت اتحاد کے صدارتی امیدوار کمال کلِچ دار اولو کی انتخابی مہم زوروں پر، کلِچ داراولو نے برسراقتدار آق پارٹی میں نقب لگالی

    کلِچ دار اولو کی سابق صدور میں سے عبداللہ گل اور احمد نجدت سیزر سے ملاقاتیں

    Next Article

    صدارتی انتخابات سےقبل ایردوان کی عظیم کامیابی،ترک صدی کاانمٹ شاہکار توگTOGG ایردوان کےسپرد

    مقامی ا لیکٹرک کار توگ کی ترسیل نےایردوان کی کامیابی کے امکانات کو بڑھا دیا

    ڈاکٹر فرقان حمید

    Related Posts

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    21جنوری , 2026

    Comments are closed.

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    ٹیگز
    #اسرائیل #حقان فیدان #حماس #سیاحت #غزہ #فلسطین آئی ٹی استنبول اسلام آباد افراطِ زر الیکشن 2024 انتخابات انقرہ اپوزیشن ایردوان بھونچال بیسٹ ماڈل آف ترکیہ ترقی ترک صدی ترک میڈیا ترکیہ تعلیم حزبِ اختلاف دنیا دہماکہ دی اکانومسٹ روس سلائِڈر سلائیڈر--- شہباز شریف صدر ایردوان صدر ایردوان، وزیراعظم شہباز شریف، پاکستان، ترکیہ عدلیہ عمران خان فیچرڈ قاتلانہ حملہ لانگ مارچ مغربی میڈیا ملت اتحاد وزیراعظم وزیراعظم شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف، صدر ایردوان، پاکستان، امداد پاکستان پاک فوج یورپ
    • Facebook
    • Twitter
    • Instagram
    اہم خبریں

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    ترکیہ اسکالرشپس: دنیا کی جامع ترین ( fully funded)اسکالرشپس، آن لائن درخواستوں کا طوفان، ویب سائٹ کو کریش کے خدشات

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    مقبول پوسٹس

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026
    Tr-Urdu All Rights Reserved © 2022
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.