Close Menu
Tr-Urdu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Tr-Urdu
    Subscribe
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    Tr-Urdu
    You are at:Home»ترکیہ»کیا ایردوان اپوزیشن کو مات دے سکتے ہیں؟ کیا ترکیہ میں شدید مہنگائی ایردوان کی جیت میں رکاوٹ بن سکتی ہے؟ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ترک عوام کا فیصلہ کیا ہوگا؟
    ترکیہ

    کیا ایردوان اپوزیشن کو مات دے سکتے ہیں؟ کیا ترکیہ میں شدید مہنگائی ایردوان کی جیت میں رکاوٹ بن سکتی ہے؟

    غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ترک عوام کا فیصلہ کیا ہوگا؟

    ڈاکٹر فرقان حمیدBy ڈاکٹر فرقان حمید19اپریل , 2023Updated:19اپریل , 2023کوئی تبصرہ نہیں ہے۔7 Mins Read
    صدر ایردوان کا اصل مقابلہ مہنگائی سے
    پوسٹ شئیر کریں
    Facebook Twitter LinkedIn Email

    اب جبکہ  ترکیہ میں تاریخ کے سب سے بڑے اور اہم  انتخابی معرکے،  صدارتی اور پارلیمانی انتخابات میں صرف  چند دن ہی  باقی رہ گئے ہیں انتخابی مہم  اپنے زوروں پر ہے ۔  اگرچہ اس بار اس انتخابی مہم  میں   رقص و موسیقی کو   6 فروری کو آنے والے ہولناک زلزلے جس میں  50 ہزار سے زاہد ہلاکتیں ہوئی ہیں کیو جہ کو جگہ نہیں دی جا رہی ہے  لیکن اس کے  باوجود بڑی گرمجوشی سے  انتخابی  مہم کا سلسلہ جارری ہے۔

    دفاعی پیداورا میں ترکیہ کا ریکارڈ

    صدر رجب طیب ایردوان گزشتہ  بیس سال سے ترکیہ کی تاریخ کے طویل ترین مسلسل  حکمران  رہنے والے  اور مقبولیت   کو برقرار رکھنے والے    واحد ترک حکمران ثابت ہوئے ہیں ۔  انہوں نے اپنے دورِ اقتدار میں  دفاعی  صنعت، پیداوار، ڈرانز، مقامی سیٹلائٹ، مقامی الیکٹرک گاڑیوں ،  الیکٹرونک سازو سامان  اور سیاحت کے شعبے میں جو کارہائے نمایاں سر انجام دیے ہیں اس کی بدولت ان کا نام ترکیہ کی تاریخ میں سنہری حروف  سے لکھا جائے گا۔ یہ کہنا  غلط نہ ہوگا کہ  صدر ایردوان نے ترکیہ کو دفاعی لحاظ سے خطے کا سب سے مضبوط اور مستحکم  ملک بنادیا ہے اور اب کسی بھی ملک میں اتنی جرات نہیں ہے کہ وہ ترکیہ کو میلی آنکھ سے دیکھ سکے   بلکہ اب فرانس  برطانیہ، جرمنی،  اور  امریکہ کو ترکیہ سے متعلق کوئی بھی قدم اٹھانے سے قبل سو بار سوچنا پڑتا ہے۔  ترکیہ کے قارا باغ   میں ڈرانز کے استعمال سے حاصل کردہ فتح، لیبیا میں  ترک مسلح  افوج  کی گرفت، شام  اور  عراق   کی سرحدوں کے اندر دور تک  داخل ہو کر فوجی آپریشن کرنے کی صلاحیت نے اور پھر  فن لینڈ  اور سویڈن کے نیٹو کی رکنیت  پر ترکیہ  کے  ردِ عمل اور  ویٹو نے    ترکیہ کو  وہ مقام  دلوادیا ہے جس کے بارے میں اس قبل سوچنا بھی ممکن نہ تھا۔

    ترکیہ کی پہلی مقامی الیکٹرک کار سڑکوں پر

    جیسا کہ عرض کرچکا ہوں  صدر ایردوان   آج بھی اپنی مقبولیت برقرار رکھنے والے دنیا کی گنی چنی شخصیات میں سے ایک ہیں اور وہ اپنی اس مقبولیت ہی کے سہارے  ایک بار پھر پانچ سال کے عرصے کے لیے صدر منتخب ہونے  کے لیے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ  وہ 14 مئی کے  صدارتی انتخابات میں کامیابی حاصل کرسکیں گے؟ اس بارے میں مختلف سروئیز پیش کیے جا رہے ہیں حکومت کی حامی سروئے کمپنیاں  پہلے یا دوسرے مرحلے کے صدارتی انتخابات میں   صدر  ایردوان کے منتخب ہونے کے نتائج پیش کررہی ہیں تو اپوزیشن  کا ساتھ دینے والی  سروئے کمپنیاں حزبِ اختلاف کے  رہنما کمال کلیچ دار اولو کے پہلے ہی مرحلے میں کامیاب ہونے کا واویلا مچا رہی ہیں۔

    ترک عسکری بحری جہاز ٹی سی جی انادولو

    یہ ایک حقیقت ہے کی اس وقت ترک سیاست میں   صدر ایردوان کے پائے کا  کوئی بھی سیاسی لیڈر  موجود نہیں ہے  اور کسی بھی رہنما میں اتنی سکت نہیں ہے کہ وہ تنہا  صدر ایردوان کا مقابلہ کرسکے اور صدر ایردوان کو حاصل ووٹو ں  کے لگ بھگ ووٹ حاصل کرسکے ۔ یہی وجہ ہے کہ ترکیہ کے تمام اپوزیشن جماعتوں نےصدر ایردوان کے خلاف  ایک مشترکہ  پلیٹ فارم تلے جسے  ” ملت اتحاد” کا نام دیا گیا ہے   صدر ایردوان کو اس بار اقتدار سے  ہٹانے کا عزم  کیے ہوئے ہے۔ ایک دوسرے سے بالکل تضاد خصوصیات  اور نظریات  کی حامل ان جماعتوں کے رہنماوں نے  صرف ایردوان  کی مخالفت (بغضِ معاویہ  میں  ) میں یکجا ہو کر    اپنے نظریات کو ایک طرف رکھتے ہوئے صرف ایردوان کو  شکست سے دوچار کرنے کا بیڑہ اٹھا رکھا ہے ۔ اپوزیشن  کاصدر ایردوان کو شکست  سے دوچار کرنا کوئی آسان کام نہیں لیکن ملک میں بڑھتی ہوئی  مہنگائی کی وجہ سے  ایردوان نے خود ہی ان کے لیے آسانی پیدا کردی ہے۔ یعنی اگر یہ کہا جائے کہ  صدر ایردوان کا مقابلہ ان رہنماوں سے نہیں بلکہ   مہنگائی سے ہے تو زیادہ بہتر ہوگا۔

    کیا ایردوان اپوزیشن کو مات دے سکتے ہیں؟

       ملک میں  بڑھتی ہوئی مہنگائی اس دفعہ  ان انتخابات  میں فیصلہ کن کردارا دا کرے گی۔ جیسا کہ عرض کرچکا ہوں  کہ ایردوان کے دور میں ترکیہ میں جو ترقی ہوئی ہے اس سے پہلے ترکیہ میں ایسی ترقی ممکن ہی نہ تھی، یعنی  دوسرے الفاظ میں کہا جاسکتا ہے کہ ترکیہ اس وقت نہ  صرف   ترقی یافتہ ممالک  کی صرف شامل ہوچکا ہے بلکہ کئی ایک شعبوں میں ان سے آگے بھی  نکل چکا ہے لیکن ترک عوام کی اکثریت اس ترقی  کے باوجود خوش نہیں ہے کیونکہ وہ  اپنے آپ کو ان ترقی یافتہ ممالک کے عوام کے معیار زندگی  سے بہت کم  تر معیار  پر زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں ۔ 

    ترکیہ میں مہنگائی میں مسلسل اضافہ

    ترک عوام کا اس وقت   نصف سے بھی زاہد    حصہ  غربت کی لکیر  سے نیچے بے بسی ، کسمپرسی اور کھٹن  حالات میں  زندگی بسرکررہا ہے   ۔ ایک  نجی ٹی  وی چینل پر ایک  ترک خاتون کا بیان”  غیر ملکیوں کے لیے ترکیہ جنت بن چکا ہے اورلاکھوں  کی تعداد میں غیر ملکی سیاح ترکیہ کی سیر کو آرہے ہیں اور اپنے پیچھے ترکیہ میں  50 بلین ڈالر  سے زاہد رقم چھوڑ کر (خرچ کرتے ہوئے)  جا رہے ہیں  تو یہی ملک مقامی ترکوں کے لیے  جہنم بن چکا ہے جہاں اپنے شہر  سے دوسرے شہر  میں  تعطیلات  گزارنا تو کجاروزمرہ کی زندگی گزرانا مشکل بن گیا ہے۔  ترکیہ کی  نصف سے زاہد آبادی  گوشت ، پینیر، انڈے اور دیگر ضروری اشیاء حاصل کرنے سے محروم ہوچکی ہے۔ترکیہ میں اس وقت  کم از کم  تنخواہ  (اصغری اجرت) 420 ڈالر ہے  اور اس تنخواہ سےترکیہ کے تمام بڑے شہروں میں    کرائے پر  دو کمروں کو گھر  حاصل کرنا ممکن ہی نہیں رہا ۔ ترکیہ میں گزشتہ دو سال سے گھروں  کے کرائے میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے  اور حکومت  اس سلسلے میں اب تک کوئی  ٹھوس  قدم اٹھانے میں ناکام رہی ہے۔

    ترکیہ میں مہنگائی میں مسلسل اضافہ

    اگرچہ ایردوان حکومت نے تنخواہوں میں اضافہ تو  کیا ہے لیکن یہ اضافہ   افراط زر  (مہنگائی ) میں ہونے والے اضافے کے مقابلے میں بہت ہی کم ہے بلکہ تنخواہوں میں اضافے کی وجہ ہی سے  افراطِ زر ( مہنگائی) میں ہونے والے اضافے  نے تنخواہ دار طبقے کے لیے  نہ صرف مشکلات کھڑی کردی ہیں بلکہ ان کا جینا دوبھر کردیا ہے۔ ترکیہ سے اس وقت دنیا میں افراطِ زر  ( مہنگائی )کے لحاظ سے  دوسرے نمبر پر ہے ، اگرچہ حکومت کی جانب سے  افراطِ زر کی شرح میں کمی ہونے  کا دعویٰ کیا جا رہا ہے  اور اعدادو  شمار  بھی پیش کیے جا رہے ہیں لیکن اپوزیشن،   حکومت کے  غلط بیانی سے کام لینے اور افراطِ زر  کی شرح کے  سو  فیصد سے بھی  زاہد ہونے کا دعویٰ کررہی ہے۔  اپوزیشن   کے صدارتی  امیدوار  کمال کلیچ دار اولو  اپنی انتخابی مہم  کے ایک  اشتہار میں ہاتھ میں پیاز لے کر اس حکومت پر انسانی ضروریات  سے محروم کرنے کا الزام لگاتے ہوئے   دکھائی دیتے ہیں اور  ان کی  اشتہاری مہم بڑی  مقبولیت  بھی حاصل  کررہی ہے۔ کلیچ دار اولو ہی کے ایک اشتہار  میں  ” پانچ کے جتھے” کی 418 بلین ڈالر کی لوٹ مار کو پیش کیا گیا  جس پر  حکومت کے حامی تمام ٹیلی ویژن چینلز  نے پابندی عائد کردی ہے لیکن  یہ اشتہار سوشل میڈیا پر ریکارڈ قائم کررہا ہے۔ اپوزیشن  اس لوٹ مار ہی  کو  ترکیہ میں مہنگائی کے  اپنے عروج  پر پہنچنے کی وجہ قرار دے رہی ہے۔  اب دیکھنا یہ ہے کہ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کا،  کیا صدر ایردوان  مقابلہ کرسکیں گے ؟

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Article

    اپریل کا تازہ ترین سروئے، صدارتی امیدواروں میں سے صدر ایردوان یا اپوزیشن رہنما کلِچ دار اولو میں سے آگے کون؟

    انتخابات سے قبل فضا ء کیسے بدل رہی ہے ؟فیصلہ پہلے مرحلے میں یا دوسرے میں؟

    Next Article

    صدارتی اور پارلیمانی انتخابات سے متعلق تازہ ترین سروئے، کس صدارتی امیدوار کی جیت کے چانسز بڑھتے جا رہے ہیں؟

    پارلیمانی انتخابات میں کونسی جماعت اپنی واضح برتری برقرار رکھے ہوئے ہے؟

    ڈاکٹر فرقان حمید

    Related Posts

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    21جنوری , 2026

    Comments are closed.

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    ٹیگز
    #اسرائیل #حقان فیدان #حماس #سیاحت #غزہ #فلسطین آئی ٹی استنبول اسلام آباد افراطِ زر الیکشن 2024 انتخابات انقرہ اپوزیشن ایردوان بھونچال بیسٹ ماڈل آف ترکیہ ترقی ترک صدی ترک میڈیا ترکیہ تعلیم حزبِ اختلاف دنیا دہماکہ دی اکانومسٹ روس سلائِڈر سلائیڈر--- شہباز شریف صدر ایردوان صدر ایردوان، وزیراعظم شہباز شریف، پاکستان، ترکیہ عدلیہ عمران خان فیچرڈ قاتلانہ حملہ لانگ مارچ مغربی میڈیا ملت اتحاد وزیراعظم وزیراعظم شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف، صدر ایردوان، پاکستان، امداد پاکستان پاک فوج یورپ
    • Facebook
    • Twitter
    • Instagram
    اہم خبریں

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    ترکیہ اسکالرشپس: دنیا کی جامع ترین ( fully funded)اسکالرشپس، آن لائن درخواستوں کا طوفان، ویب سائٹ کو کریش کے خدشات

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    مقبول پوسٹس

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026
    Tr-Urdu All Rights Reserved © 2022
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.