Close Menu
Tr-Urdu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Tr-Urdu
    Subscribe
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    Tr-Urdu
    You are at:Home»کالم اور مضامین»صدر رجب طیب ایردوان کی جیت یقینی ہے، عارف الحق عارف کا جائزہ
    کالم اور مضامین

    صدر رجب طیب ایردوان کی جیت یقینی ہے، عارف الحق عارف کا جائزہ

    ڈاکٹر فرقان حمیدBy ڈاکٹر فرقان حمید10مئی , 2023Updated:10مئی , 2023کوئی تبصرہ نہیں ہے۔5 Mins Read
    صدر رجب طیپ ایردوان
    پوسٹ شئیر کریں
    Facebook Twitter LinkedIn Email

    )ترکیہ کی پہلی  اور واحد  غیر جانبدار اُردو  نیوز ویب سائٹ ہے۔ اس ویب  سائٹ  میں ترکیہ کی بر سر اقتدار  اور اپوزیشن تمام  ہی  جماعتوں  اورقائم  اتحاد   سے متعلق  خبروں، تبصروں اور سروئیز  کو  بلا امتیاز  جگہ دی  جاتی ہے۔ ان تمام خبروں  اور سروئیز کے  ذرائع  ترک میڈیا اور ایجنسیاں ہی ہیں ۔اس  نیوز ویب سائٹ  کا ان خبروں اور تبصروں سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے)

    عارف الحق عارف

     

     

     

    تحریر عارف الحق عارف

    رجب طیب  ایردوان  اور ترکیہ اب لازم ملزوم ہوچکے ہیں۔ایردوان  کے 21 سالہ دور میں ترکیہ نے ہر شعبے میں بڑی ترقی کی ہے اور معیشت کو آئی ایم ایف سے آزاد کرا کر اسے دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں کی صف میں شامل کر دیا ہے۔دنیا بھر کی نظریں 14 مئی کو ترکیہ میں ہونے والے صدارتی اور پارلیمانی انتخابات پر لگی ہوئی ہیں۔ان کے حامیوں کو یقین کامل ہے کہ ان کی جیت یقینی ہے اور وہ پہلے

    ترکیہ کے ان صدارتی اور پارلیمانی انتخابات میں حکمران جسٹس اینڈ ڈویلپمینٹ پارٹی کے صدارتی امیدوار موجودہ صدر طیب ایردوان  ہیں جب کہ ان کے مقابلے میں اپوزیشن اتحاد کے کمال کلیچ دار اولو اور دو اور امیدوار مملکت پارٹی  کے محرم انجے اور آتا اتحاد کے امیدوار سینان  اوعان ہیں جن کے درمیاں کانٹے کا مقابلہ ہے۔لیکن اصل مقابلہ دو بڑے امیدواروں طیب ایردوان  اور اپوزیشن اتحاد کے مشترکہ امید وار کمال کلیچ دار اولو کے درمیان ہو گا۔14 مئی کے انتخاب کے پہلے راؤنڈ میں جو امیدوار  ووٹوں کا 51 فیصد حاصل نہ کرسکا۔دوسرے راؤنڈ میں اس کے اور دوسرے نمبر پر آنے والے امیدوار کے درمیاں ایک بار پھر مقابلہ ہو گا اور جو امیدوار  اس میں زیادہ ووٹ لے گا وہی ترکیہ کا اگلا صدر بن جائے گا۔

    ہم نے جب پانچ ماہ قبل ترکیہ کے دس شہروں  کا دورہ کیا تھا اور ہم نے وہاں کے لوگوں سے صدر ایردوان  کے بارے میں بات کی تھی تو وہ ان سے جس بات پر ناراض نظر آئے وہ ترکیہ میں بڑھتی ہوئی مہنگائی تھی جس سے وہاں کا تنخواہ دار اور متوسط طبقہ سب سے زیادہ متاثر تھا۔ان کا کہنا تھا کہ ہماری تنخواہ میں تو کوئی اضافہ نہیں ہوتا لیکن مہنگائی میں اضافہ ہر روز ہوتا رہتا ہے جس سے ان کی پریشانیوں میں دن بہ دن اضافہ ہی ہوتا رہتا ہے۔ ڈالر کے مقابلے میں لیرا کی قدر بہت گر چکی ہے لیکن تنخواہوں اضافہ نہ ہونے کے بربر ہے۔لوگوں کی عام رائے تھی کہ وہ ایردوان  کو پسند کرتے ہیں اور یہ بھی مانتے ہیں کہ وہ جدید ترکیہ کے سو سال میں پہلے لیڈر ہیں جنہوں نے ترکیہ کو ترقی کے راستے پر ڈالا اور ترکیہ کو ایک عالمی قیادت فراہم کی جو بڑی سے بڑی عالمی طاقت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دندان شکن جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس کے علاوہ ان کے دور میں صنعتی ترقی بھی بہت ہوئی،شہروں کو ایک دوسرے سے ملانے کےلئے سڑکوں اور ہائی وے کا جال بھی بچھا اور شہروں میں ٹرانسپورٹ کا نظام بھی بہت بہتر ہوا لیکن انہوں نے مہنگائی کی روک تھا پر یاتوجہ نہیں دی اور یا اس کو نظرانداز کیا۔اس ترقی کا کوئی مالی فائدہ متوسط اور تنخواہ دار طبقے کو نہیں پہنچا اور وہ آسمان سے باتیں کرتی ہوئی مہنگائی کے ہاتھوں پس کر رہ گئے ہیں۔ان کی تنخواہ اب اتنی کم ہوگئی ہے کہ اب آتے ہی پہلے ہفتے میں ختم ہو جاتی ہے اور پھر تین ہفتے بڑی مشکل سے دو وقت کی روٹی میسر آتی ہے۔ان کی جس دوسری بات پر وہ ناراض نظر آئے۔وہ شامی مہاجروں کو ترکیہ میں پناہ دینے کی اجازت تھا۔ان کی بڑی تعداد میں آمد نے ترکیہ کی پہلے سے گرتی ہوئی معیشت کو مزید تباہ کر دیا ہے۔ان دو باتوں نے ان کے اپنے ووٹروں کو بھی ان کے خلاف کردیا ہے۔اس کا فائدہ اپوزیشن جماعتوں کے متحدہ امیدوار کمال کلچ اور دوسرے دو امیدواروں کو ہواہے اور انہوں نے عوام سے وعدہ  کیا ہے کہ وہ اقتدار میں آکر مہنگائی کا خاتمہ کریں گے اور باہر سے آنے والے مہاجریں کو بھی حدود میں رکھیں گے۔

    اگرچہ کز شتہ پانچ ماہ میں طیب ایردوان  نے اپنی انتخابی مہم کے دوران اپنے خلاف پروپیگنڈے کو بڑی حد تک زائل کیا ہے اور اپنی گرتی ہوئی مقبولیت کو نا صرف روکا ہے بلکہ اس میں خاطر خواہ اضافہ بھی کیا ہے۔انہوں نے استنبول میں چند روز قبل ترکیہ کی تاریخ کا سب سے بڑا جلسہ عام منعقد کر کے ثابت کر دیا ہے کہ وہ اب بھی ترکیہ کے مقبول لیڈر ہیں۔اس جلسہ عام میں میڈیا اور ہمارے ذرائع کے مطابق 17لاکھ لوگوں نے شرکت کی ہے۔اب دیکھنا یہ ہو گا کہ وہ اپنی اس مقبولیت کو انتخاب والے دن پولنگ اسٹیشنوں اور ووٹوں کے ڈبوں میں کس طرح منتقل کرتے ہیں اور مخالفین کے ہتھکنڈوں کا پولنگ اسٹیشنوں کو کس طرح ناکام بناتے ہیں۔ ایردوان  کے خلاف جو منفی تاثر ہے اس کا یہ پہلو اپنے اندر بڑا وزن رکھتا ہے کہ کہ وہ مسلسل 21 برسوں سے اقتدار میں میں ہیں اور لوگ بار بار ان ہی کا چہرہ دیکھ دیکھ کر تھک چکے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ان کی قیادت اور صلاحیتوں سے جو کچھ ترکیہ اور ان کو مل سکتا تھا وہ مل چکا ہے اب کسی دوسری پارٹی اور لیڈر کو خدمت کا موقع ملنا چاہیئے۔اس کے علاوہ ترکیہ کے ایک بڑے طبقے کا یہ احساس بھی ہے کہ ایردوان  کی دین کے ساتھ گہری وابستگی ترکیہ کو کمال اتاترک کے سیکولرزم کے نظریہ سے دور لے جارہی ہے۔اس کو اب نہ روکا گیا تو پھر کبھی نہیں روکا جاسکے گا۔اس بات نے کمال اتاترک کے حامی سب گروپوں اور جماعتوں کو متحد کر دیا ہے۔ ہماری ذاتی رائے ہے اور استنبول کے کامیاب جلسہ عام کے بعد امید ہے کہ ایردوان  ان شااللہ پہلے راؤنڈ ہی میں جیت جائیں گے اور ان کی جیت ہی ترکیہ کے آئندہ مستقبل کے لئے مفید ہے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleانقرہ میں سفیر پاکستان ڈاکٹر یوسف جنید کی رہائش گاہ پر پاکستان سول ایوارڈز کی تقریب  کاانعقاد
    Next Article

    محرم اِنجے نے صدارتی انتخابات سے دستبردار ہوکر ترکیہ کے انتخابات کا پانسہ ہی پلٹ دیا ، ملت اتحاد میں خوشی کی لہر دوڑ گئی

    صدارتی انتخابات کے پہلے ہی راونڈ میں فیصلہ ہونے کی توقع

    ڈاکٹر فرقان حمید

    Related Posts

    دنیا کے تواز ن کا پانسہ پلٹنے والے نئےدفاعی ستون، جلد ہی پاک-ترک -سعودی ا سلامی اتحادقائم کیے جانے کی توقع

    15جنوری , 2026

    عوام فوج کو اور فوج عوام کو گلے لگا ئے ، یہی وقت کا تقاضا اور ضرورت ہے ایک ایسا مصالحتی کالم جو سینسر کی نذر ہوگیا

    8جنوری , 2026

    طاقت کی نئی لغت، عالمی نظام کا انہدام اور وینزویلا کا خوف دنیا پرطاری، جس کی لاٹھی اس کی بھینس

    5جنوری , 2026

    Comments are closed.

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    ٹیگز
    #اسرائیل #حقان فیدان #حماس #سیاحت #غزہ #فلسطین آئی ٹی استنبول اسلام آباد افراطِ زر الیکشن 2024 انتخابات انقرہ اپوزیشن ایردوان بھونچال بیسٹ ماڈل آف ترکیہ ترقی ترک صدی ترک میڈیا ترکیہ تعلیم حزبِ اختلاف دنیا دہماکہ دی اکانومسٹ روس سلائِڈر سلائیڈر--- شہباز شریف صدر ایردوان صدر ایردوان، وزیراعظم شہباز شریف، پاکستان، ترکیہ عدلیہ عمران خان فیچرڈ قاتلانہ حملہ لانگ مارچ مغربی میڈیا ملت اتحاد وزیراعظم وزیراعظم شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف، صدر ایردوان، پاکستان، امداد پاکستان پاک فوج یورپ
    • Facebook
    • Twitter
    • Instagram
    اہم خبریں

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    ترکیہ اسکالرشپس: دنیا کی جامع ترین ( fully funded)اسکالرشپس، آن لائن درخواستوں کا طوفان، ویب سائٹ کو کریش کے خدشات

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    مقبول پوسٹس

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026
    Tr-Urdu All Rights Reserved © 2022
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.