Close Menu
Tr-Urdu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Tr-Urdu
    Subscribe
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    Tr-Urdu
    You are at:Home»ترکیہ»رجب طیب اردوان کامیابی کی دہلیز پر کھڑے ہیں ۔
    ترکیہ

    رجب طیب اردوان کامیابی کی دہلیز پر کھڑے ہیں ۔

    شبانہ آیازBy شبانہ آیاز22مئی , 2023کوئی تبصرہ نہیں ہے۔7 Mins Read
    پوسٹ شئیر کریں
    Facebook Twitter LinkedIn Email

    تحریر : شبانہ ایاز

    14 مئی 2023 کو ہونے والے ترکیہ کے انتخابات سے پہلے مغربی طاقتوں نے سروے کمپنیوں کے ذریعے اردوان کے خلاف بھرپور پروپگنڈا کیا اور یہ ثابت کرنے کی بھرپور کوشش کی کہ اردوان عوامی مقبولیت کھو چکے ہیں اور وہ اپنی عوام کی نظروں میں کسی ڈکٹیٹر سے کم نہیں ہیں۔
    ان سروے کمپنیوں نے عوامی رائے عامہ پر اثر انداز ہونے کی بھرپور کوشش کی۔ یہ درحقیقت ففتھ جنریشن وار کا حصہ تھا جس کے تحت انفارمیشن وار ان کے خلاف لڑی جا تی ہے جو مغربی طاقتوں کو پسند نہیں ۔
    ترکیہ میں اردوان ایک مضبوط لیڈر ہیں جو کہ مغربی طاقتوں کو ناپسند ہیں اس کی بنیادی وجہ ترکیہ کو بلندی اور ترقی کی جانب لے کر چلنا ہے۔ ترکیہ نے حال ہی میں ہونے والی آذربائجان کی جنگ کا پانسہ پلٹ دیا ہے، جو کہ ویسٹ کو قطعاً ناقابل قبول ہے۔
    لہذا انفارمیشن وار کے تحت سروے کمپنیوں کو بیک ڈور فنڈنگ کی گئی تاکہ لوگوں کا مائنڈ سیٹ تبدیل کیا جاسکے۔
    سروے کمپنیوں نے پیشن گوئیاں کی تھیں کہ کلچدار اولو کو %56 ووٹ ملیں گے اور طیب اردوان کو %42 ووٹ ملیں گے ۔جس کی وجوہات مہنگائی ،قدامت پسندی،غیر ملکیوں کی ترکیہ میں آبادکاری اور پچھلی دو دہائیوں سے طیب اردوان کی مسلسل حکومت۔
    سروے باقاعدہ ایجنڈا سیٹنگ کے تحت ان علاقوں میں ہوئے جہاں پر طیب اردوان کی مخالفت تھی۔ چند ہزار لوگ سات کروڑ افراد کی نمائندگی نہیں کرتے۔ چند ہزار مخصوص لوگوں کی رائے سوشل میڈیا پر دکھانے سے صرف مغربی طاقتوں کا ایجنڈا سامنے ایا اور 14 مئی کے الیکشن میں ان سروے کمپنیوں نے منہ کی کھائی ہے۔
    ترک گورنمنٹ کو چاہیے کہ وہ سروے کمپنیوں پر پابندی لگادیں کیونکہ انہوں نے بیک چینل فنڈز لیے اور ملین ڈالرز کمائے ہیں۔
    پوری دنیا میں جب مغربی طاقتیں کسی مسلمان ملک میں پروپیگنڈا کرتی ہیں تو عوام اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوتے ہیں ۔جیسے عراق اور لیبیا میں دیکھا گیا ۔لیکن ترکیہ میں اس کے برعکس ہوا۔ سروے کمپنیوں کی اردوان مخالف مہم کا اثر الٹا پڑا اور لوگوں نے اردوان کو لانے کے لیے بھرپور ووٹنگ کی ۔
    28 مئی کو ہونے والے دوسرے مرحلے کے انتخابات میں80 فیصد امید ہے کہ طیب اردوان ہی جیتیں گے۔

    سنان اوعان کی حمایت
    Sinan Oğan etkisi: ne kadarı gerçek ne kadarı kurmaca? - Yetkin Report |  Siyaset, Ekonomi Haber-Analiz, Yorum۔ اس وقت سنان اوعان کی حمایت کی طرف بین الاقوامی میڈیا کی انکھیں لگی ہوئی ہیں۔
    سنان اوعان نے ایک پریس کانفرنس میں طیب اردوان کی حمایت کا اعلان کردیا ہے۔
    ان کی اس حمایت سے طیب اردوان کی جیت یقینی ہوگئی ہے۔
    سنان اوعان وہ شخصیت ہیں جن کی سوچ پاکستان کے حق میں ہے۔ جس وقت سعودی عرب میں ایک حادثہ پیش ایا تھا تو ترکیہ نے سرکاری سطح پر سوگ کا اعلان کیا تھا۔ سنان اوعان نے اس وقت اپنی ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ پاکستان میں ایک ٹرین کے حادثے میں 70 سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں اور پاکستان ہمارا سب سے قریبی اور ہر مشکل میں ساتھ دینے والا ملک ہے، میں طیب اردوان سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ پاکستان کے لیے بھی سرکاری سطح پر سوگ کا اعلان کریں۔ سنان اوعان جنھوں نے ماسکو سے ڈاکٹریٹ کیا ہے وہ اسلامی ممالک کے ساتھ الائنس کے حق میں ہیں۔ طیب اردوان بھی اسلامی ممالک کے الائنس کی حمایت کرتے ہیں۔ سنان اوعان نے اذربائجان میں جا کر یہ بیان دیا تھا کہ ہم ایک قوم اور دو ملک ہیں۔(آذر بائیجان اور ترکیہ). اسی طرح انہوں نے طیب اردوان کے متعلق بھی یہ بیان دیا تھا کہ میں طیب اردوان کو بہت پسند کرتا ہوں کیونکہ وہ فیصلہ کرنے کی طاقت رکھتے ہیں اور میں کسی ایسے لیڈر کو پسند نہیں کرتا جو سب کی سنتا ہو۔
    سنان اوعان کو کمال کلچداراولو کی جانب سے آٹھواں وائس پریزیڈنٹ بنانے کی افرز تھیں،
    یہاں پر دلچسپ بات یہ ہے کہ
    سنان اوعان کی شدید ضرورت کلچدار اولو کو تھی، جبکہ سنان اوعان کو طیب اردوان کی ضرورت ہے۔
    سنان اوعان وائس پریزیڈنٹ کا عہدہ لینے کے ساتھ ساتھ امیگریشن کی منسٹری کے بھی خواہاں ہیں اور ان کے عزائم بہت واضح ہیں۔ انہوں نے اپنے انتخابی منشور میں یہ واضح طور پر عوام سے وعدہ کر رکھا ہے کہ ہمیں ترکیہ میں غیر ملکی منظور نہیں اسی لیے وہ امیگریشن کی منسٹری پر نگاہ لگائے ہوئے ہیں۔
    سنان اوعان کی حمایت کے بعد طیب اردوان کی جیت بہت قریب ہے۔ انہیں صرف 0.5% ووٹوں کی ضرورت ہے. ۔

    اردوان کو جیت کے لئے صرف تین لاکھ ووٹ درکارہیں ۔

    طیب اردوان کو 0.5% ووٹ حاصل کرنے کا مطلب پونے تین لاکھ مزید ووٹ لینا ہے اور جیتنے کے لیے یہ کوئی بہت بڑا ووٹ بینک نہیں ۔ جس بندے نے دو کروڑ 70 لاکھ ووٹ لے لیے اس کے لیے پونے تین لاکھ ووٹ لینا کوئی مسئلہ نہیں۔ 14مئی کو کینسل شدہ ووٹوں کی تعداد 13 لاکھ ہے یہ اگر دوسرے راؤنڈ میں سارے کے سارے کلچدار اولو کو مل بھی جائیں تو بھی کلچدار اولو کے ووٹ %47 بنیں گے ۔لہذا وہ پھر بھی نہیں جیتیں گے۔
    اس وقت طیب اردوان کو جیت کے لیے صرف 0.5% ووٹ چاہیے ، لہذا طیب اردوان تو پہلے ہی کامیابی کی دہلیز پر کھڑے ہیں بس ان کا 28 مئی کو اس دروازے سے اندر داخل ہونا باقی ہے۔
    اس وقت دنیا کی نظریں اور کان ترکیہ سے آنے والی خبروں پر جمی ہیں۔ ترکیہ میں ہونے والے 28 مئی 2023 کے انتخابات کی لمحہ بہ لمحہ عالمی میڈیا نے تازہ ترین صورتحال پر توجہ مرکوز رکھی ہوئی ہے۔
    بہت سے اخبارات اور ٹیلی ویژن جو الیکشن کی نبض پر ہاتھ رکھے ہوئے ہیں 2023 کے اہم ترین واقعات میں سے ترکیہ کے الیکشن کو ان میں سے ایک واقعے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ وہ لمحہ بہ لمحہ پیشرفت اپنے قارئین اور ناظرین کے ساتھ شیئر کر رہے ہیں۔
    جرمنی کہ اخبار ویلٹ( Welt) نے ترکی کے انتخابات کے
    *”حقیقی فاتح”*کے طور پر طیب اردوان کا اعلان کرتے ہوئے لکھا کہ 28 مئی کو ہونے والے رن آف الیکشن طے کر دیں گے کہ جمہوریہ ترکیہ کے تیرویں صدر کون ہوں گے۔۔
    دی اگنامک ٹائمز نے اردوان کو
    اتا ترک کے بعد ترکی کے سب سے اہم رہنما کے طور پر پیش کیا ہے۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی نے یہ ہیڈ لائن لگائی کہ “اردوان الیکشن کے تاریخی دوسرے راؤنڈ میں اقتدار کی تیسری دہائی کو دیکھیں گے۔”
    برطانیہ میں قائم مڈل ایسٹ ائی نے لکھا ہے کہ بیرون ملک ووٹنگ کا عمل شروع ہو گیا ہے۔ انتخابات میں زیادہ ٹرن اؤٹ کی طرف اخبار نے توجہ مبذول کروائی ہے۔
    فرنچ اخبار لی مونڈے(Le Monde) نے کلچدار اولو کی حکمت عملی میں تبدیلی کو اپنے قارئین کے سامنے ہیڈ لائن کے طور پر پیش کیا ہے۔اخبار لکھتا ہے کہ ” اپوزیشن خطرناک طریقے سے دائیں طرف منتقل ہو رہی ہے۔”
    یوریشیا گروپ اف کنسلٹنسی نے اتوار 28 مئی کو اردوان کے جیتنے کے امکانات کو 80 فیصد قرار دیا ہے, خبر میں بتایا گیا ہے کہ روم میں بارش کے باوجود ترک سفارت خانے کے سامنے لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں اور بیرون ملک مقیم 3.4 ملین ترک شہری 24 مئی تک ووٹ ڈال سکتے ہیں.
    العربیہ نے خبر میں سنان اوعان کی طرف توجہ مبذول کرائی ہے جو 5.17% ووٹ لے کر تیسرے نمبر پر ائے ہیں. خبر میں کہا گیا ہے کہ دوسرے راؤنڈ میں دونوں امیدواروں میں سے کسی ایک کی حمایت کا فیصلہ ممکن طور پر فیصلہ کن کردار ادا کر سکتا ہے۔

    Atatürk'ün Hayatı - Vize Belediyesi
    جو کہ سنان اوعان ،طیب اردوان کی حمایت کرکے انتخابات کو فیصلہ کن راؤنڈ میں پہنچا چکے ہیں۔
    یونانی اخبارERT نے خبر کا عنوان دیا
    “کلچدار اولو کے لیے اخری جنگ ” اخبار کا لکھنا ہے کہ کلچدار اولو کا قوم پرستانہ گفتگو کا رجحان اس کی حمایت کرنے والی کرد نواز پارٹی کو بے حد پریشان کرتا ہے۔ نیوز بامب News bomb نے خبر میں لکھا ہے کہ پہلے راؤنڈ کے نتائج نے اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد میں شدید پھوٹ پیدا کر دی ہے لیکن اس کے باوجود اکشنر نے کمال کلچدارکی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ ہندوستان کے دی اکنامک ٹائمز نے اردوان کو ترکی کی ناقابل تردید طاقت قرار دیتے ہوئے ہیڈ لائن لگائی ہے کہ ” اتا ترک کے بعد سب سے اہم رہنما صدر طیب اردوان ہیں ۔” اخبار لکھتا ہے کہ 69 سالہ اردوان ترکیہ کے سب سے اہم رہنما مصطفی کمال اتاترک کے بعد جمہوریہ عثمانیہ کے بعد کے قابل احترام بانی کے طور پر ہیں۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Article

    صدر ایردوان کی فتح یقینی،دوسرا راونڈ صرف رسمی کاروائی، سینان اوعان نے صدر ایردوان کی مکمل حمایت کا اعلان کردیا،

    ایردوان کے بہت بڑے مارجن سے انتخابات جیتنے کے امکانات

    Next Article یورپ۔ توانائی کا بحران شدت اختیار کرتا جا رہا ہے: قطر کا اکنامک فورم میں انتباہ
    شبانہ آیاز
    • Facebook
    • X (Twitter)

    Related Posts

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    21جنوری , 2026

    Comments are closed.

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    ٹیگز
    #اسرائیل #حقان فیدان #حماس #سیاحت #غزہ #فلسطین آئی ٹی استنبول اسلام آباد افراطِ زر الیکشن 2024 انتخابات انقرہ اپوزیشن ایردوان بھونچال بیسٹ ماڈل آف ترکیہ ترقی ترک صدی ترک میڈیا ترکیہ تعلیم حزبِ اختلاف دنیا دہماکہ دی اکانومسٹ روس سلائِڈر سلائیڈر--- شہباز شریف صدر ایردوان صدر ایردوان، وزیراعظم شہباز شریف، پاکستان، ترکیہ عدلیہ عمران خان فیچرڈ قاتلانہ حملہ لانگ مارچ مغربی میڈیا ملت اتحاد وزیراعظم وزیراعظم شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف، صدر ایردوان، پاکستان، امداد پاکستان پاک فوج یورپ
    • Facebook
    • Twitter
    • Instagram
    اہم خبریں

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    ترکیہ اسکالرشپس: دنیا کی جامع ترین ( fully funded)اسکالرشپس، آن لائن درخواستوں کا طوفان، ویب سائٹ کو کریش کے خدشات

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    مقبول پوسٹس

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026
    Tr-Urdu All Rights Reserved © 2022
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.