Close Menu
Tr-Urdu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Tr-Urdu
    Subscribe
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    Tr-Urdu
    You are at:Home»ترکیہ»کامیابی کی دہلیز پر، ایردوان دوسرے راونڈ میں کیوں متفکر؟ کیا کمال کلِچداراولو دوسرے راونڈ میں پانسہ پلٹ سکتے ہیں ؟ سینان اوعان کے راتوں رات فیصلہ بدلنے کے پیچھے کون ہے؟
    ترکیہ

    کامیابی کی دہلیز پر، ایردوان دوسرے راونڈ میں کیوں متفکر؟ کیا کمال کلِچداراولو دوسرے راونڈ میں پانسہ پلٹ سکتے ہیں ؟

    سینان اوعان کے راتوں رات فیصلہ بدلنے کے پیچھے کون ہے؟

    ڈاکٹر فرقان حمیدBy ڈاکٹر فرقان حمید25مئی , 2023Updated:25مئی , 2023کوئی تبصرہ نہیں ہے۔5 Mins Read
    کمال کلیچ دار اولو اور صدر ایردوان
    پوسٹ شئیر کریں
    Facebook Twitter LinkedIn Email

    ترکیہ  کی تاریخ میں پہلی بار 28 مئی کو رن آف الیکشن (دوسرے راونڈ ) کا اہتمام  کیا جا رہا ہے۔ پہلے راونڈ  کےصدارتی انتخابات میں اگرچہ تین امیدوار  حصہ لے رہے تھے  لیکن ان میں سے کوئی بھی امیدوار آئین کی روسے مقررہ وٹوں کی حد 50+1 ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب نہیں  ہوا تھا لیکن   صدر ایردوان،    49٫5  فیصد ووٹ حاصل کرتے ہوئے کامیابی کی دہلیز پر پہنچ چکے تھے لیکن وہ  صرف نصف فیصد ووٹوں کی کمی کی وجہ سے اپنا ہدف حاصل کرنے   میں کامیاب نہ ہوسکے اور فتح کے قریب  پہنچ کر بھی فتح سے دور رہے جبکہ ان کے قریبی مدِ مقابل ملت اتحاد  کے صدارتی امیدوار  کمال کلیچ دار اولو   44٫7فیصد ہی ووٹ حاصل کرسکے جبکہ دنیا بھر  کا میڈیا اور سروئیز کمپنیاں آخری وقت تک  کمال کلیچ دار اولو کو کامیاب  قرار دے رہی تھیں۔

    اگرچہ  صدارتی امیدواروں میں     گزشتہ انتخابات  میں  بھی صدر  ایردوان کے مدِ مقابل  محرم اِنجے اس بار بھی اس دوڑ میں   شامل تھے  لیکن  انتخابات سے  چند روز قبل ہی انہوں نے  انتخابات سے دستبردار  ہونے کا اعلان کردیا اور زیادہ  تر لوگوں کا خیال  یہی تھا کہ یہ ووٹ ملت اتحاد  کے صدارتی امیدوار  کمال کلیچ دارا ولوکو مل جائیں گے۔ اس بارے میں  کچھ نہیں کہا جاسکتا تاہم ان ووٹوں کا ایک حصہ  ایک دیگر امیدوار سینان  اوعان جنہیں اتا اتحاد  کی حمایت حاصل تھی  کو چلا گیا جنہوں نے 5٫7 فیصد ووٹ حاصل کیے ۔

    صدر ایردوان اور کمال کلیچ دار اولو

    پہلے راونڈ کے بعد صورتِ حال  اُس وقت  کچھ دیر کے لیے تبدیل ہوگئی جب  اتا اتحاد  کے صدارتی امیدوار سینان اوعان   نے  اپنے اتحاد  سے مشورہ کیے بغیر  اچانک  ہی  صدر ایردوان  کے جمہور اتحاد کی حمایت کا اعلان کردیا۔

    صدارتی امیدوار

    سینان اوعان جنہوں نے انتخابی مہم  کے آغاز ہی سے  صدر ایردوان کے خلاف  سخت زبان استعمال کرتے ہوئے شہرت حاصل کی تھی  اور جنہوں نے  صدر ایردوان کے محل کو جہنم  قرار دیا تھا اچانک ایسا پلٹا کھایا جس پر ان کی پارٹی ہی نہیں بلکہ  تمام  باشندے ہی بڑے حیران ہوئے تھے۔ تاہم   ذرائع سے حاصل کردہ  معلومات کے مطابق  سینان  اوعان  نے  پارٹی چئیرمین  اُمیت اوزداع  کو اندھیرے میں رکھتے ہوئے  صدر ایردوان کے  وزیر سے  اچانک ملاقات کی  تھی اور پھر بعد میں آذربائیجان  کے صدر الہام علی ایف   نے  سینان اوعان سے  ٹیلی فونک رابطہ قائم کیا  اور  اُ ن ہی کے اصرار پر   پارٹی چئیرمین سے مشورہ کیے بغیر   اچانک جمہور اتحاد  میں شامل ہونے  کا اعلان  بھی  کردیا ۔ سینان اوعان کے  الہام علی ایف  کی جانب سے   صدر ایردوان کی کابینہ میں بہت اہم عہدہ   دیے جانے کی یقین دہانی  کے بعد ہی سینان اوعان نے  اچانک اپنے رویے میں تبدیلی    پیدا کی اور جمہور اتحاد کا ساتھ دینے کا اعلان کیا۔  (یہ عہدہ  نائب صدر  یا پھر  سنئیر وزیر کا بھی ہوسکتا ہے)

    ترکیہ صدارتی انتخابات

    سینان  اوعان کے جمہور اتحاد کی حمایت کرنے کے اعلان کے بعد ظفر پارٹی کے چئیرمین امیت اوزداع  نے ملت اتحاد  کے صدارتی امیدوار  کمال کلیچ دار اولو کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ملت اتحاد کے صدارتی امیدوار  کی حمایت کا اعلان کردیا ۔

    دوسرے راونڈ کے صدارتی انتخابات اگرچہ اس تازہ ترین صورتِ  حال سے قبل  ایک رسمی  کاروائی   کے طور پر ہی دیکھے جا رہے تھے     کیونکہ  صدر ایردوان   کو صرف نصف فیصد ووٹ ہی لینے کی ضرورت ہے جو وہ با آسانی حاصل کرسکتے ہیں  اور    ملت اتحاد  کے حامیوں کا مورال  ڈاون ہونے کی وجہ سے   ملت اتحاد  کے ووٹروں  کے پہلے سے کم ہی تعداد گھروں سے باہر ووٹ ڈالنے کے لیے نکلنے     کا خیال ظاہر کیا جا رہا  ہے لیکن ظفر پارٹی  کی حمایت کے اعلان اور غیر ممالک میں ریکارڈ  حد تک  ووٹ پڑنے کی وجہ سے  ملت اتحاد کے ابھی بھی   ڈٹ کر مقابلہ  کرنے کی عکاسی ہو رہی  ہے۔

    ملت اتحاد  کا کہنا ہے جس طرح استنبول  کے مئیر کے انتخابات کے پہلے  راونڈ میں انہیں   شکست کا سامنا کرنا پڑا  تھا لیکن جمہور  اتحاد   کی دھاندلیوں کیوجہ سے دوسر ے راونڈ میں مئیر شپ کے  انتخابات میں  بڑے مارجن سے  فتح حاصل ہوئی  تھی اور اب بھی ایسا ہی ہوگا اور  جو ملت اتحاد کے ووٹرز جنہوں نے  گزشتہ انتخابات میں ووٹ نہیں ڈالے تھے28 مئی کو لازمی طور پر   ووٹ ڈالنے کے لیے نکلیں گے  کیونکہ  ملت اتحاد پہلی بار  فتح کے  بہت قریب پہنچ چکی ہے۔

    اس دوران صدر ایردوان اور  کمال کلیچ دارا اولو نے اپنی انتخابی  مہم کو  بڑے جوش وخروش سے  جاری رکھا ہوا ہے  اور دونوں ایک دوسرے  پر دہشت گردوں کو پڑوان چڑھانے  اور ان کی  حمایت کرنے کا  الزام بھی لگا رہے ہیں جو کہ عام طور پر پاکستان اور بھارت  ہی کی سیاست میں دیکھا جاتا ہے لیکن اس قسم کی سیاست کو اب  ترکیہ کی صدارتی انتخابی مہم میں  بھی دیکھا جاسکتا ہے جبکہ  کچھ عرصہ قبل  صدر ایردوان نے کمال کلیچ  دار اولو کے دہشت گردوں سے مذاکرات  کی ایک ویڈیو بھی جاری کی تھی  جس کے فیک ویڈیو ہونے پر  ملت اتحاد صدر ایردوان کو شدید تنقید کا نشانہ بنا رہی ہے اگرچہ صدر ایردوان نے  بل واسطہ طور پر اس   ویڈیو  کے فیک ویڈیو ہونے کا اعتراف تو  کیا ہے لیکن اس کے اثرات  لازمی طور پر عوام پر مرتب ہوئے ہیں کیونکہ ترک  بڑے قوم پسند واقع  ہوئے ہیں اور قومیت پسندی  میں وہ کسی کی نہیں سنتے ہیں۔

    اب دیکھنا یہ ہے کہ  28 مئی کے انتخابات میں کون فاتح  بن کر ابھرتا ہے۔ صدر ایردوان جنہیں اپنی فتح  کا  سو فیصد یقین ہے اور  جو فتح  کی دہلیز  قدم بھی  رکھ چکے ہیں۔

    غیر متوقع طور پر کمال کلیچ دار جنہوں نے  استنبول میں اپنی شکست  کو دوسرے راونڈ میں فتح میں تبدیل کردیا  تھا  ۔  کیا اب وہ  پہلے راونڈ  کی  شکست   کو دوسرے  راونڈ میں فتح میں تبدیل کرسکتے ہیں

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Article

    صدارتی انتخابات کے دوسرے راونڈ سے قبل، کمال کلِچ دارا ولو کا صدر ایردوان کو بہت بڑا چیلنج ، ہمت ہے تو میرے سامنے آو

    TRT پر ہی اپنے پسندیدہ صحافیوں کے سوالات کا جواب دیں

    Next Article ترک ہدایت کار نوری جیلان کی کانز فلم فیسٹویل میں زبردست پزیرائی، گیارہ منٹ تک تالیاں بجتی رہیں
    ڈاکٹر فرقان حمید

    Related Posts

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    21جنوری , 2026

    Comments are closed.

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    ٹیگز
    #اسرائیل #حقان فیدان #حماس #سیاحت #غزہ #فلسطین آئی ٹی استنبول اسلام آباد افراطِ زر الیکشن 2024 انتخابات انقرہ اپوزیشن ایردوان بھونچال بیسٹ ماڈل آف ترکیہ ترقی ترک صدی ترک میڈیا ترکیہ تعلیم حزبِ اختلاف دنیا دہماکہ دی اکانومسٹ روس سلائِڈر سلائیڈر--- شہباز شریف صدر ایردوان صدر ایردوان، وزیراعظم شہباز شریف، پاکستان، ترکیہ عدلیہ عمران خان فیچرڈ قاتلانہ حملہ لانگ مارچ مغربی میڈیا ملت اتحاد وزیراعظم وزیراعظم شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف، صدر ایردوان، پاکستان، امداد پاکستان پاک فوج یورپ
    • Facebook
    • Twitter
    • Instagram
    اہم خبریں

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    ترکیہ اسکالرشپس: دنیا کی جامع ترین ( fully funded)اسکالرشپس، آن لائن درخواستوں کا طوفان، ویب سائٹ کو کریش کے خدشات

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    مقبول پوسٹس

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026
    Tr-Urdu All Rights Reserved © 2022
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.