آئی ایم ایف کے کہنے پر نوجوانوں کو آئی ٹی میں رعایت دینے پر پابندی عائد نہیں کر سکتے، ٹیکس چھوٹ نہیں دیں گے تو شرح نمو کیسے بڑھے گی‘ہم نے فیصلہ کرنا ہے آئی ایم کے ساتھ یا اس کے بغیر زندہ رہنا ہے‘آئی ایم ایف ہو یا نہ ہو پاکستان کو کچھ نہیں ہوگا‘عوام کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ‘ہر چیز اِن آرڈر ہے‘انتظام موجود ہے ‘ہر ادائیگی ہورہی ہے ‘آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات ناکام نہیں ہوئے ‘ ازسرنو جائزہ اسی ماہ مکمل ہوگا۔کرنسی کی اسمگلنگ کو ہر صورت روکنا ہے، اس کیلئے کریک ڈاؤن کرنا ہے‘اسمگلنگ روکنے کیلئے تمام ایجنسیوں کو مل کر کوشش کرنا ہوگی ۔

وزیر خزانہ نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ عالمی مالیاتی فنڈ چاہتا ہے کہ ہم کسی شعبے میں بالکل ٹیکس استثنیٰ نہ دیں، لیکن ہم آئی ایم ایف کو اس سے متفق ہونے کیلئے بریفنگ دیں گے‘ہم ایک خود مختار ملک ہیں، ہمیں اتنا حق توہوناچاہئے کہ ہم اپنے فیصلے خود کریں۔ہمیں پتا ہے کہاں سے کتنا ٹیکس اکٹھا کرنا ہے‘ اگر آئی ٹی میں روزگار نہیں بڑھائیں گے تو کیا 0.29 فیصد شرح نمو پر رہیں‘ریونیو نہیں آئے گا تو ملک کیسے چلے گا۔ وزیرخزانہ نے کہا کہ اسٹیٹ بینک ایکٹ میں ترامیم کی ہیں لیکن ابھی مکمل نہیں ہوئیں۔

موجودہ کابینہ میں شامل ہونے اور ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد میں نے آئی ایم ایف ٹیم کو پاکستان آنے کا کہا اور 3ماہ ان کا انتظار کیا ۔ 31 جنوری کو آئی ایم ایف کا وفد پاکستان پہنچا‘ رات کو مذاکرات ختم ہونے کے بعد صبح 4بجے ہمیں پریس ریلیزملی لیکن اس میں آئی ایم ایف کی جانب سے کچھ بھی واضح نہیں بتایا گیا تھا، فروری سے لے کر آج تک پروگرام نہ ہونے کی کوئی ٹھوس وجوہات نہیں۔میں نےآئی ایم ایف کو کہا کہ 9واں رویو مکمل اور 10واں رویو شروع کریں تو بجٹ نمبرز دیں گے، ہم نے آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن پر بجٹ تیار نہیں کیا، وزیراعظم کے کہنے پر پھر نمبرز شیئر کئے گئے، ہماری چھوٹی سی بات بھی انہیں پسند نہیں آتی‘ ہمیں کہا گیا ڈالر ریٹ کو مارکیٹ بیسڈ کر دیا جائے اور بلیک مارکیٹ کے ریٹ کو نافذ کیا جائے‘دوسرا ہمیں بیرونی فنانسنگ کا بھی کہا گیا۔ اسحاق ڈار نے بتایا کہ 30جون تک 6ارب ڈالرز پر آئی ایم ایف بضد ہے، ہم نے اعداد وشمار کے ذریعے ثابت کیا کہ اس وقت گیپ 3 ارب ڈالرز کا ہے جس کی گارنٹی ہم نے آئی ایم ایف کو دی ہوئی ہیں، لیکن آئی ایم ایف ہمارا وقت ضائع کر رہا ہے۔

اسحاق ڈار نے بتایا کہ روس سے بارٹر ٹریڈ میں تیل شامل نہیں ہے، ہم نے اب روس سے تیل منگوا لیا ہے اور اس حوالے سے جی سیون ممالک کو مطمئن کیا ہے اور کہا اگر دیگر ممالک تیل لے سکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں؟، روس کو چینی کرنسی میں ادائیگیاں کی جائیں گی۔