Close Menu
Tr-Urdu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Tr-Urdu
    Subscribe
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    Tr-Urdu
    You are at:Home»ترکیہ»صدر ایردوآن کی طرف سے عوام کے لیے مذید خوشحالی کی خوشخبری
    ترکیہ

    صدر ایردوآن کی طرف سے عوام کے لیے مذید خوشحالی کی خوشخبری

    شبانہ آیازBy شبانہ آیاز7اکتوبر , 2023کوئی تبصرہ نہیں ہے۔7 Mins Read
    پوسٹ شئیر کریں
    Facebook Twitter LinkedIn Email

    صدر ایردوان کی جانب سے ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کے لیے نئی خوشخبری: وہ اس کا اعلان کابینہ کے پہلے اجلاس کے بعد کریں گے۔

    صدر رجب طیب ایردوان نے آق پارٹی کنونشن کے موقع پر ترک عوام کے لیے خوشخبری کا اعلان کردیا ۔

    انہوں نے کنونشن میں آئے لوگوں کو محبت کا پیغام دیا ۔انہوں نے کہا کہ محبت ترکیہ کی صدی کی تعمیر کا آغاز ہے”

    یہ محبت ہمارے مقصد کو بلند کرنے ، ترک صدی کی تعمیر اور ترکیہ کے ملینیم کی طرف چلنے کی محبت ہے۔

    ایسی محبت جو ہمیں ملاتی ہے؛ نیکوسیا سے کاراباخ تک… سرائیوو سے دریائے زرد تک… مدینہ سے سمرقند تک… یروشلم سے کازان… الپس سے الٹائی پہاڑوں تک… ایڈریاٹک سے وسط افریقہ تک

    انہوں نے کہا کہ ہم 14 اور 28 مئی کے انتخابات میں اپنے عوام کی محبتوں کو کبھی نہیں بھولیں گے”

    یہ ایک عظیم قوم کی محبت ہے جس کے پیچھے ہزاروں سال کی تاریخ، ثقافت، تہذیب، بھائی چارہ اور مشترکہ تقدیر ہے۔ ایک بار پھر، میں اپنی عوام کو دل کی گہرائیوں سے سلام پیش کرتا ہوں،

    ۔ مجھے امید ہے کہ 31 مارچ 2024 کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں دوبارہ اسی پرعزم رویے کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہم ایک بار پھر پوری دنیا کو ترک صدی کی خوشخبری سنائیں گے۔اور

    اپنے کیے ہوئے تمام وعدوں کو پورا کریں گے۔

    ہم LGBT کو نہیں پہچانتے ۔ ہم ایک ایسی قوم کے رکن ہیں جو خاندانی ادارے کو مضبوط رکھتی ہے۔ ہم ان لوگوں کو اجازت نہیں دیں گے جو ہماری قوم کو جھوٹی خبروں سے مایوسی کی طرف گھسیٹنا چاہتے ہیں۔

    ایک نیا اور سویلین آئین بنانا ہمارے فرائض میں شامل ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ہم اپنے قبلہ اول، مسجد اقصیٰ کی تاریخی اور مذہبی حیثیت کو ختم کرنے کی کسی بھی کوشش کے خلاف کھڑے رہیں گے۔ اسرائیل میں آج صبح پیش آنے والے واقعات کی روشنی میں، ہم تمام فریقین سے تحمل سے کام لینے اور ایسے جذباتی اقدامات سے گریز کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں جس سے کشیدگی میں مزید اضافہ ہو۔

    ہم اپنی سرحدوں کے اندر اور باہر کسی ایک شخص کی بھی ناک سے خون بہنے نہیں دیں گے،اور نہ ان کی عزت کو ٹھیس پہنچنے دیں گے ۔ ہم “دہشت گردی کو اس کے مرکز پر مٹانے کی اپنی حکمت عملی کو مکمل طور پر نافذ کریں گے، اور ہم خونخوار مجرموں کو پکڑیں گے، PKK سے لے کر FETO تک، داعش سے لے کر پسماندہ تنظیموں تک، ان کے بہائے گئے خون کے ہر قطرے کا محاسبہ کریں گے۔ ہم دشمنوں کےاس خوف کو کبھی کم نہیں کریں گے کہ “ہم کسی بھی رات اچانک ان پر حملہ کرسکتے ہیں”

    ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ اس ملک کا ہر شہری ہر قسم کی خدمات بالخصوص ’’انصاف، تحفظ، تعلیم اور صحت‘‘ پیدائش سے لے کر موت تک اعلیٰ ترین سطح پر مستفید ہو سکے۔ امید ہے کہ ہم آنے والے وقت میں اپنے کارکنوں، سرکاری ملازمین اور ریٹائر ہونے والوں کو نئی خوشخبری دیتے رہیں گے، جنہیں ہم گزشتہ 21 سالوں سے ہر شعبے میں خوشخبری دیتے آئے ہیں ۔

    ہمارے 21 سالہ دورِ حکومت میں اگر آپ تعلیم کو دیکھیں تو ہم نے کلاس رومز کی تعداد 343 ہزار سے بڑھا کر 620 ہزار، یونیورسٹیوں کی تعداد 76 سے بڑھا کر 208 کر دی، اپنے سکولوں میں 800 ہزار نئے اساتذہ کا تقرر کیا، یونیورسٹی کے طلباء کی تعداد 7.5 ملین تک بڑھا دی، ہاسٹل کی گنجائش میں اضافہ کیا۔ 950 ہزار، اور پیشہ ورانہ تعلیم کو مضبوط بنایا۔

    اگر آپ صحت پر نظر ڈالیں؛ تو ہم نے اپنے ہسپتال کے بستروں کی گنجائش 164 ہزار سے بڑھا کر 268 ہزار کر دی ہے، کہ ہم نے شہر کے ہسپتالوں کے ساتھ سروس کے معیار کو عروج پر پہنچا دیا ہے، اور یہ کہ ہم نے صحت کے نظام کی مکمل تجدید کر دی ہے۔

    اگر آپ انصاف کی طرف دیکھیں۔ تو ہم نے ججوں اور پراسیکیوٹرز کی تعداد تقریباً 24 ہزار تک بڑھا دی ہے، عدلیہ پر بوجھ کم کیا ہے، نظام عدل کے بنیادی ڈھانچے کی تجدید کی ہے، عدلیہ کو تسلط سے آزاد کر کے قوم کے حوالے کر دیا ہے جن کے بل بوتے پر ان کی طرف سے انصاف پر مبنی فیصلہ دیا جاتا ہے.

    اگر آپ سیکورٹی پر نظر ڈالیں تو ہم نے کس طرح دہشت گرد تنظیموں کے عزائم کو ترک کیا جنہوں نے ہماری آزادی اور مستقبل پر نظریں جما رکھی تھیں، اور ہم نے سرحد پار آپریشنز اور 15 جولائی جیسے عظیم افسانے کیسے لکھے۔

    اگر آپ سماجی امداد پر نظر ڈالیں؛ تو آپ دیکھیں گے کہ ہم اپنے ملک کے ہر ضرورت مند اور ہر مظلوم شخص کے ساتھ کھڑے ہیں، ہم تعلیم سے لے کر روزگار تک، زندگی کے تمام شعبوں میں معذوروں کی حمایت کرتے ہیں، اور یہ کہ ہم ہی بے گھر افراد کے مددگار ہیں۔

    اگر نقل و حمل کو دیکھیں۔تو ہم نے اپنی منقسم سڑکوں کی لمبائی 29 ہزار کلومیٹر، ہائی وے کی لمبائی 3 ہزار 630 کلومیٹر، ہماری سرنگوں کی تعداد 486، ہوائی اڈوں کی تعداد 57، اپنے ملک کو تیز رفتار ٹرینوں سے متعارف کرایا، اور مواصلاتی انقلابات جیسے انٹرنیٹ اور ای گورنمنٹ کو متعارف کروایا ۔

    اسی طرح توانائی کو دیکھیں تو ہم نے بجلی کو 105 ہزار 417 میگا واٹ تک بڑھا دیا اورہم نے بحیرہ اسود میں اپنی تاریخ کی سب سے بڑی قدرتی گیس کی دریافت کی خوشی میں بجلی کے بلوں میں چھوٹ دے دی۔ ہمارا ملک قابل تجدید توانائی کی سرمایہ کاری کے ساتھ سب سے آگے ہے۔

    اب زراعت پر نظر ڈالیں تو ہم موجودہ اعداد و شمار میں اپنے کسانوں کو 844 بلین لیرا کی زرعی امداد فراہم کررہے ہیں، ہم نے ڈیموں کی تعداد 992، ہائیڈرو الیکٹرک پاور پلانٹس کی تعداد 740، ہمارے پینے کے پانی کی سہولیات 386، ہماری آبپاشی کی سہولیات 3400 تک کردی گئی ہیں۔ ہم نے اپنے جنگلاتی اثاثوں میں بھی اضافہ کیا ہے۔

    مذید اگر آپ تجارت کو دیکھیں۔ ہم نے اپنی برآمدات کو 36 بلین ڈالر سے بڑھا کر 254 بلین ڈالر تک پہنچا کر ہر ماہ ایک ریکارڈ توڑا، اسی طرح روزگار اور پیداوار کو مسلسل تقویت دی، اور 51 ملین سے زائد سیاحوں کی آمد اور 46.5 بلین ڈالر کی سیاحت کے ذریعے آمدنی ہوئی۔

    اب آجائیں معیشت پر نظر ڈالیں؛ ہم نے اپنے ملک کو 1 ٹریلین ڈالر سے زیادہ کی قومی آمدنی تک پہنچایا ہے اور خریداری کی برابری کے مطابق دنیا میں 11 ویں نمبر پر ترکیہ کو لے آئے ہیں۔

    صنعت کو بھی دیکھیں ۔

    ہمارا ملک اب دفاعی صنعت میں دنیا کے صف اول میں سے ایک ملک بن گیا ہے جس کا پروجیکٹ حجم 90 بلین ڈالر تک پہنچ گیا ہے، اور 163 نئے منظم صنعتی زونز، 37 صنعتی زونز اور 100 ٹیکنو پارکس کے ساتھ عالمی پیداواری بنیاد بن چکا ہے۔

    اسی طرح ماحولیات اور شہریت کو دیکھیں۔ آپ دیکھیں گے کہ ہم نے اپنے فراہم کردہ 10 لاکھ 158 ہزار مکانات اور 413 ہزار زیر تعمیر مکانات، 81 صوبوں میں پھیلے 81 ملین مربع میٹر کے عوامی باغات، صفر فضلہ کے طریقوں سے اپنے آپ سے مقابلہ کر رہے ہیں جو ایک مثال قائم کرتے ہیں۔

    زلزلے کے علاقوں کو بحال کرنے کی کوششوں میں ہم سو فیصد کامیاب ہوئے ہیں۔

    ہم نے کم از کم اجرت 184 لیرا سے بڑھا کر 11 ہزار 402 لیرا کر دی ہے، سب سے کم پنشن 64 لیرا سے بڑھا کر 7 ہزار 500 لیرا کر دی ہے، کہ ہم نے روزگار کو 32 ملین کے قریب پہنچا دیا ہے، اور ہم نے کام کے حالات کو بہت بہتر کیا ہے۔

    مختصر یہ کہ آپ جس بھی شعبے کو دیکھیں گے وہ ترقی کرتا ہوا نظر آئے گا ۔

    اس سال کے آخر تک ہماری وزارت ہمارے ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کو بڑھانے پر کام کر رہی ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ہماری پہلی کابینہ میٹنگ کے بعد ہم اپنے ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کو نئی خوشخبری سنائیں گے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleانقرہ میں حملے پر ترکیہ کا سخت ردعمل ۔۔۔ حقان فیدان
    Next Article حافظ قاسم معروف ترک اداکار بُراق اوزچیویت کو شیلڈ پیش کررہے ہیں
    شبانہ آیاز
    • Facebook
    • X (Twitter)

    Related Posts

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    21جنوری , 2026

    Comments are closed.

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    ٹیگز
    #اسرائیل #حقان فیدان #حماس #سیاحت #غزہ #فلسطین آئی ٹی استنبول اسلام آباد افراطِ زر الیکشن 2024 انتخابات انقرہ اپوزیشن ایردوان بھونچال بیسٹ ماڈل آف ترکیہ ترقی ترک صدی ترک میڈیا ترکیہ تعلیم حزبِ اختلاف دنیا دہماکہ دی اکانومسٹ روس سلائِڈر سلائیڈر--- شہباز شریف صدر ایردوان صدر ایردوان، وزیراعظم شہباز شریف، پاکستان، ترکیہ عدلیہ عمران خان فیچرڈ قاتلانہ حملہ لانگ مارچ مغربی میڈیا ملت اتحاد وزیراعظم وزیراعظم شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف، صدر ایردوان، پاکستان، امداد پاکستان پاک فوج یورپ
    • Facebook
    • Twitter
    • Instagram
    اہم خبریں

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    ترکیہ اسکالرشپس: دنیا کی جامع ترین ( fully funded)اسکالرشپس، آن لائن درخواستوں کا طوفان، ویب سائٹ کو کریش کے خدشات

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    مقبول پوسٹس

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026
    Tr-Urdu All Rights Reserved © 2022
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.