Close Menu
Tr-Urdu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Tr-Urdu
    Subscribe
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    Tr-Urdu
    You are at:Home»ترکیہ»بلدیاتی انتخابات میں ایردوان کی شکست کے حقیقی اسباب، اقتصادی بحران ، ریٹایرڈ ملازمین کا ردِ عمل،غلط سیاسی مہم، مہنگائی تکبر، بے تحاشا اخراجات اور فاتح ایربکان کا آق پارٹی پر ڈینٹ
    ترکیہ

    بلدیاتی انتخابات میں ایردوان کی شکست کے حقیقی اسباب، اقتصادی بحران ، ریٹایرڈ ملازمین کا ردِ عمل،غلط سیاسی مہم، مہنگائی

    تکبر، بے تحاشا اخراجات اور فاتح ایربکان کا آق پارٹی پر ڈینٹ

    ڈاکٹر فرقان حمیدBy ڈاکٹر فرقان حمید7اپریل , 2024Updated:7اپریل , 2024کوئی تبصرہ نہیں ہے۔18 Mins Read
    بلدیاتی انتخابات 2024
    پوسٹ شئیر کریں
    Facebook Twitter LinkedIn Email

    (ترکیہ کی پہلی  اور واحد  غیر جانبدار اُردو  نیوز ویب سائٹ ہے۔ اس ویب  سائٹ  میں ترکیہ کی بر سر اقتدار  اور اپوزیشن تمام  ہی  جماعتوں  اورقائم  اتحاد   سے متعلق  خبروں، تبصروں اور سروئیز  کو  بلا امتیاز  جگہ دی  جاتی ہے۔ ان تمام خبروں  اور سروئیز کے  ذرائع  ترک میڈیا اور ایجنسیاں ہی ہیں ۔اس  نیوز ویب سائٹ  کا ان خبروں اور تبصروں سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے)

    ۔۔۔۔۔۔

    صدر ایردوان کی جسٹس اینڈ ڈولپمینٹ پارٹی (آق پارٹی) کے بلدیاتی انتخابات  میں شکست پر  برصغیر پاک و  ہند میں  بڑے معنی خیز تبصرے کیے جا رہے ہیں  اور شکست  کی وجہ صدر ایردوان کی غزہ  جنگ کے دوران    دوغلی پالیسی اختیار کیے جانے   اور اسرائیل کو اسلحہ فراہم کرنے  اور سفارتی  اور تجارتی تعلقات کے جوں کا تو جاری رکھنے کی پالیسی  کے خلاف ترک عوام کے شدید ردِ عمل کے نتیجے  اورووٹ نہ دینے   کی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔

    صدر ایردوان اور فلسطین

    جو سراسر  لغو، بے ہودہ  اور بغیر کسی  بنیاد کے لگائے جانے والے الزامات  کے سوا کوئی حیثیت نہیں  رکھتے ہیں۔

    یہ الزامات  دراصل ترکیہ کے دشمن ممالک کے میڈیا کی جانب سے گھڑے گئے ہیں تاکہ  فلسطین کے ساتھ کھل  کر یکجہتی  کا اظہار کرنے والے اور  اسرائیل کے وزیراعظم نتَن یا ہو  کو  “قصاب” کا لقب دینے والے   صدر ایردوان   کو خاموش کروایا جاسکے۔

    صدر ایردوان- محمود عباس اور اسمائیل ہنیہ

    کیا کبھی آپ سوچ سکتے ہیں صدر ایردوان جس نے  اسرائیل کے صدر شمعون پئیرز کے منہ  پر انہیں بچوں کا قاتل قرار دینے کے بعدڈیوس   اقتصادی فورم ہی کا بائیکاٹ کردیا تھا اسرائیل کو اسلحہ فراہم کرسکتا ہے؟ ہرگز ممکن نہیں ہے۔  

    حکومتِ ترکیہ کی جانب سے اس سلسلے میں لگائے جانے والے تمام  الزامات کو یکسر مسترد کردیا گیا۔ یہ ذرہ دیکھیے ۔  اس حقیقت کو دیکھنے کے بعد کیا آپ ابھی کہہ سکتے ہیں کے ترکیہ نے اسرائل کو اسلحہ فروخت کیا ہے؟  

    غزہ سے متعلق حقائق

    یہ  دشمنوں کی پھیلائی ہوئے  بھونڈی  خبر ہے جس کی زد میں ہمارے پاکستانی  اور بھارت کے مسلمان  صحافی  آ جاتے ہیں۔ یہ تمام خبریں میں آپ  کی خدمت میں پیش کررہا ہوں ۔ ان تمام خبروں کو ذرہ غور سے دیکھیے اور ان کے لنک بھی  ڈیسکرپشن میں بھیج رہا ہوں۔ تاکہ آپ  خود ہی ان خبروں کو  پڑھ سکیں ۔

    اس لیے میں سب سے پہلے اس قسم کے تمام بے بنیاد خبروں  کو اچھالنے والے  یو ٹیوبرز سے درخواست کروں گا  خبر دینے سے پہلے خبر کی تصدیق ضرور کرلیا کریں۔

    فلسطین کو ترکیہ کی جانب سے امداد

    اب ایک اور خبر آپ کی خدمت میں پیش کررہا ہوں  جس میں آپ کو پتہ چل سکے گا کہ ترکیہ  کتنے بڑے پیمانے پر فلسطینیوں کی مدد کرہا ہے۔ یہ خبر ذرہ دیکھیے ۔ خبر کے مطابق ترکیہ فلسطین کی امداد کرنے والا دوسرا بڑا ملک ہے اور فلسطین کو سب سے زیادہ ایمبلونیس سروسز فراہم کرنے والا  پہلا بڑا ملک ہے۔ 

    یہ ایک حقیقت  ہے   کہ ترکیہ نے جس طریقے سے بین الاقوامی سطح پر  فلسطین کا ساتھ دیا ہے شاید ہی کسی دیگر ملک نے ایسا سا تھ دیا ہو ا، اقوام متحدہ  کی تازہ ترین رپورٹ  سے متعلق   خبر کو آپ کی خدمت میں پیش کردیا ہے۔

    اس لیے  میرے پاکستانی بھائیوں سے درخواست ہے پاکستان کے دوست اور برادر ملک ترکیہ کو تنقید کا نشانہ بنانے سے قبل  تھوڑی سی محنت کرلیا کریں اور گوگل پر ریسرچ ضرور کرلیا کریں سنی  سنائی باتوں سے گریز کیا کریں صرف اپنے یو ٹیوب چینل کے ویورز  کی تعداد  بڑھانے کے لیے  اس قسم کے بے ہودہ پراپگینڈا  اور  پاکستان اور ترکیہ کے  دشمن  ممالک کے  ہاتھوں کھلونا  بننے سے گریز  کیا کریں۔

    اب آتے ہیں  صدر ایردوان  کی پارٹی کی شکست کی  حقیقی وجوہات کی جانب ، اگرچہ میں بہت ہی قریب سے صدر ایردوان کو جانتا ہوں،  ان کی سیاسی زندگی کے بارے میں بے شمار مقالے تحریر بھی  کرچکا ہوں  جن میں سے انہوں نے چند ایک کو اپنی کتاب میں بھی جگہ دی ہے ، اس لیے کہہ سکتا ہوں میں ان کو بہت قریب سے جانتا ہوں  اور ویسے بھی کئی بار   ان کے مترجم کی حیثیت سے فرائض   بھی ادا کرچکا ہوں لیکن آج  ان کی شکست کی وجوہات بیان کرتے ہوئے ان کے خیر خواہ ہونے کے ناتے ان کی شکست کے حقیقی اسباب کی جانب روشنی ڈالنے کی کوشش کروں گا۔ میری نیت صاف ہے اور میرا مقصد  صرف آق پارٹی  کی کوتائیوں اور خطاوں کی نشاندہی  کرنا ہے  تاکہ مستقبل میں  آق پارٹی ان کوتاہیوں اور غلطیوں سے سبق حاصل کرتے ہوئے    ماضی کی شان و شوکت اور عظمت کو دوبارہ حاصل  کرسکے۔  

    31 مارچ  2024 کے بلدیاتی انتخابات  میں ری پبلکن پیپلز پارٹی ( CHP) نے 1977 کے کے بعد پہلی بار       تاریخی “فتح” حاصل   کی ہے جبکہ حکمراں جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی (آق پارٹی )  جو گزشتہ 22 سالوں سے مسلسل   اپنی  مقبولیت کی چوٹی پر  رہی ہے  کو    پہلی بار  شدید  ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔

    بلدیاتی انتخابات 2024 کے نتائج

    ترکیہ بھر میں ری پبلکن پیپلز پارٹی  ( CHP)  کو 37.8 فیصد،  جسٹس اینڈ ڈولپمینٹ پارٹی( آق پارٹی ) کو   35.5 فیصد، نیو رفاہ  پارٹی کو 6.2 فیصد، DEM پارٹی کو 5.7 فیصد، MHP کو 5 فیصد، اور İYİ پارٹی کو 3.8 فیصد ووٹ  حاصل ہوئے ہیں۔

    بائیس سال کے طویل اقتدار   کے پہلے  تین ادوار میں مسلسل اپنی مقبولیت میں اضافہ کرتے ہوئے جمہوری دنیا میں اپنا نام ثبت کروانے والے   رجب طیب ایردوان کی پارٹی کو  2024 کے بلدیاتی انتخابات میں آخر کار شکست کا منہ دیکھنا پڑا ہے ۔    

    حقیقت یہ ہے کہ   برسراقتدار  آق پارٹی  کی مقبولیت میں کمی کا سلسلہ   2016 ہی  سے شروع ہوگیا  تھا  لیکن اس کمی کو 2019 کے بلدیاتی انتخابات  تک جب ترکیہ کے بڑے بڑے  شہر  استنبول ،  انقرہ ، انطالیہ، ادانہ،   آق پارٹی کے ہاتھوں سے نہ نکل گئے اس وقت تک مقبولیت کے گرتے ہوئے گراف  کو   محسوس ہی  نہ کیا گیا۔ آق پارٹی  کے ووٹو ں میں کمی   14 مئی 2023 کے انتخابات میں بھی ظاہر ہوئی  اور  یہ مقبولیت  2002  کی سطح سے بھی نیچےیعنی  35 فیصد   آن پہنچی تھی  لیکن صدارتی انتخابات میں کامیابی  نے مقبولیت میں اس کمی پر پردہ ڈال  دیا   لیکن  آق پارٹی نےاپنی  مقبولیت میں ہونے والی اس کمی  کا کوئی احساس نہ کیا  اور  اپنے ووٹرز کے دل جیتنے ، مہنگائی کو کم کرنے  اور عوام سے کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جانب کوئی توجہ ہی نہ  دی بلکہ 2023 کے صدارتی انتخابات کی کامیابی کے زعم ہی میں مبتلا رہی ۔

    عوام  سے کیے جانے والے وعدوں  کی پاسداری نہ کیے جانے ہی کے نتیجے میں  2024 کے بلدیاتی انتخابات میں بھی   انقرہ ، استنبول، ازمیر  ، انطالیہ جیسے شہر نہ صرف ان کے ہاتھوں سے ایک بار پھر نکل گئے بلکہ ان کے قلعے  یا  گڑھ سمجھے جانے والے  شہر  برصا، دینزلی، سیواس، یوزگات اور شانلی عرفہ کی مئیر شپ سے بھی آق پارٹی کو محروم ہونا پڑا ۔ یہ آق پارٹی کی اب تک  کی سب سے بڑی شکست ہے۔  

    ان انتخابات میں  CHP نے اپنے  میٹروپولیٹن بلدیات کی تعداد 11 سے بڑھا کر 14 کر لی اور چھوٹے شہروں  کی مئیر شپ 21 تک بڑھالی جبکہ اس کے بالکل برعکس   آق  پارٹی کے میٹروپولیٹن شہروں کی تعداد 15 سے کم ہو کر 12  جبکہ ڈسٹرکٹ  چئیرمین  کی  تعداد 24 سے کم ہو کر 9  رہ گئی  ہے  اور  تاریخ میں پہلی  بار  آق پارٹی  پہلے نمبر سے دوسرے نمبر پر آگئی ہےجوکہ اس پارٹی کے لیے  بہت بڑا دہچکا ہے۔  

    آق پارٹی کو کیونکر اس صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑا ؟

    اقتصادی  صورتِ حال

    اقتصادی بحران

    آق پارٹی کی شکست کی سب سے بڑی وجہ  ملک کی بگڑتی ہوئی اقتصادی صورتِ حال  جس کے بارے میں  اگرچہ حکومت کی جانب سے  ملک میں شرح ترقی  میں اضافے کے دعوے کیے جاتے رہے ہیں لیکن اس کے اثرات کبھی  بھی عوام پر نہیں دیکھے گئے ہیں بلکہ عوام غریب سے غریب تر ہوتے رہے ہیں، جس کی وجہ سے  انہوں نے  ان انتخابات میں  صدر ایردوان کی پارٹی کو مسترد کردیا۔  دیگر اقتصادی وجوہات کچھ یوں ہیں۔

    لیرے کی قدرو قیمت میں کمی

    ڈالر کے مقابلے میں ترک لیرا کی قدرو قیمت میں کمی

    ترکیہ کی اقتصادیات   اُس وقت شدید بحران کا شکار ہونا شروع ہوگئی تھی  جب   ترکیہ نے امریکہ کے  پادری     برنسن  Brunson کو جاسوسی  کرنے کے الزام میں گرفتار  کیا  تھا   اور امریکہ کے  دباو کے باوجود  اسے رہا  کرنے سے انکار کردیا تھا جس پر امریکہ نےترکیہ کو سزا دینے کے لیے اس کی کرنسی کی قدرو قیمت   کو دیوار سے لگادیا  اور  ترک لیرا ایک ہی دن میں دگنی قیمت کھو بیٹھا اور اس طرح  اس کے  منفی اثرات کو  2019 کے انتخابات میں واضح طور پر  دیکھا گیا اور رہی سہی کسر  کرونا وائرس نے پوری کردی اور  ملک اُس وقت سے  آج تک    اقتصادی بحران سے نہیں نکل پایا ہے۔  

    افراطِ زر کی شرح  میں مسلسل اضافہ

    ترکیہ میں افراطِ زر کی شرح 78 فیصد

    ترک لیرے کی قدرو قیمت میں ہونے والی کمی نے ترکیہ میں افراطِ زر کی شرح کو آسمان کی بلندیوں تک پہنچانے میں بڑا نمایاں  کردار ادا کیا ہے۔گزشتہ تین سے چار سالوں سے افراطِ زر کی شرح  میں کمی کرنے سے متعلق جواقدامات اٹھائے گئے ہیں ان میں سے کوئی ایک  قدم بھی  افراطِ زر کی شرح کو گرانے میں کامیاب نہیں ہوسکا جس کے نتیجے میں روز بروز مہنگائی میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے ۔ وقتاً فوقتاً وزراء اور سینٹرل بینک کے گورنر کی جانب سےافراطِ زر کی شرح کو سنگل ڈیجٹ میں لانے کے جو ووعدے    کیے گئے وہ وعدے  صرف وعدے ہی رہے  اور عوام ،  خاص طور پر  ملازمین پیشہ افراد اور ریٹایرڈ  ملازمین  مسلسل  مہنگائی  کا  لقمہ بنتے ہی چلے گئے ۔

    میرٹ کی دھجیاں 

    میرٹ کی دھجیاں

    صدر ایردوان کی آق پارٹی کی بلدیاتی انتخابات  میں شکست کی سب سے بڑی وجہ  ملک میں طویل عرصے سے  میرٹ  یا لیاقت کا خیال رکھے بغیر مختلف عہدوں پر صرف اور صرف آق پارٹی  کے حامی ملازمین کو ترقی دینا  یا منتظمین کے عہدوں پر فائض کرنا ہے ۔ سرکاری اداروں میں کسی قسم کا امتحان لیے بغیر صرف اور صرف آق پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ   یا دیگر اعلیٰ حکام  کی سفارش پر ترقیاں دینے کا سلسلہ طویل  عرصے سے جاری ہے جبکہ  ایردوان دور سے قبل میرٹ پر سختی سے عمل درآمد کیاجاتا رہا ہے چاہے یہ دور سیلمان دیمرل کا ہو یا بلنت ایجوت  یا پھر ترگت اوزال  سب نے ہمیشہ میرٹ  کے بعد ہی  کسی ملازم کی  ترقی کی سفارش کی ۔

    بے تحاشا اخراجات

    ترکیہ میں ایردوان دور سے قبل ہمیشہ ہی سرکاری اداروں  میں اخراجات پر بڑی سختی سے کنٹرول  کیا جاتا رہا ہے  اور اداروں میں اتنی بڑی تعداد میں کبھی گاڑیوں کو کرایے  پر حاصل نہ کیا گیا اور نہیں ہی خریدا گیا جیسا کہ ایردوان دور میں دیکھنے کو ملا ہے۔ اس دور میں گاڑیوں کو کراِے پر حاصل کرنے کا ایک باقاعدہ سیکٹر ابھر کر سامنے آیا ہے  جبکہ ماضی میں  کبھی بھی کرایے پر گاڑیاں حاصل نہیں کی جاتی تھیں بلکہ صرف محدود پیمانے پر ہی اعلیٰ عہدیداروں ہی کے لیے اکا دکا گاڑیاں مخصوص  ہوتی تھیں جبکہ موجود دور میں ہر ادارے میں گاڑیوں کا بازار لگا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ ماضی میں اداروں کی جانب سے  اخراجات  سے قبل  تمام فارملیٹیز  کو پورا کیا جاتا تھا  لیکن  موجود دور میں تمام قسم کی فارملیٹیز کو ایک طرف رکھتے ہوئے سرکاری اداروں کے اخراجات اس قدر بڑھ چکے ہیں کہ امریکہ یا یورپ کے کسی بھی ملک میں سرکاری اداروں میں اس قسم  شاہ خرچیاں دیکھنا ممکن ہی نہیں ہے  ۔  ایردوان دور سے قبل  سرکاری ملازمین جو ریٹایرڈ ہوتے وقت  حکومت کی جانب سے ملنے والی گریچویٹی  Gratuity حاصل کیا کرتے تھے  اور اس رقم  س ے چھوٹا موٹا  مکان ضرور خرید لیا کرتے تھےاب ایسا ہرگز ممکن نہیں ہے  اب گریچویٹی کی رقم سے گھر خریدنا درکنار  گھر کا ایک سال کا کرایہ تک ادا  کرنا ممکن نہیں  رہا ۔    

    ریٹایرڈ ملازمین  اور ان کے اہلِ  خانہ کا ردِ عمل  

    ریٹایرڈ ملازمین کا ردِ عمل

    رجب طیب ایردوان کی آق پارٹی کو ان بلدیاتی انتخابات  میں ریٹایرڈ ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ  کے شدید ردِ عمل کی وجہ سے شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ذرہ سوچیے  اٹھارہ ملین  ریٹایرڈ ملازمین اور ان کے اہل خانہ  جن کے لیے دس ہزار لیرے ( تقریباً300 ڈالر) میں زندگی  بسر کرنا ممکن نہیں ہے ۔ حالانکہ  ایردوان کی جانب سے ریٹایرڈ ملازمین کی  تنخواہوں میں  اضافہ کرنے کا کئی بار  وعدہ کرنے کے باوجود  انتخابات سے قبل تک کوئی ٹھوس قدم نہ اٹھایا گیا  جس پر   ریٹایرڈ ملازمین نےاپنے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے اس بار   ایردوان کو ووٹ نہ دینے کا فیصلہ کیا حالانکہ  یہی گروپ ایردوان کی سب سے زیادہ سپورٹ کرنے والا گروپ تھا۔   

    مکانات کی قیمتوں اور گھروں کے کرایوں میں ہوشربا اضافہ 

    دنیا کے کسی بھی ملک میں  مکانات کی قیمتوں اور گھروں کے کرایہ جات میں  ایک سال میں  کئی کئی گنا اضافہ نہیں دیکھاگیا ہے جیساکہ ترکیہ میں دیکھا گیا ہے۔ افراطِ زر کی شرح میں اضافے اور غیر ملکی باشندوں کی بڑی تعداد میں  ترکیہ میں مکانات کی خریدو فروخت نے مکانات کی قیمتوں کو  صرف چند مہینوں کے اندر اندر آسمان کی بلندیوں تک پہنچا دیا جس کے نتیجے میں مقامی باشندوں کی قوتِ خرید     گر گئی   اور سونے پر سہاگہ ،    گھروں کے کرایوں میں بھی   ہوشربا  اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے جس نے   عام لوگوں کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔

    بینکوں  کی شرح سود میں  بے تحاشا اضافہ 

    بینکوں میں شرح سود

    صدر ایردوان  گزشتہ  کئی سالوں سے  ملک میں افراطِ زر میں اضافے کی اصل وجہ شرح سود قرار دیتے رہے ہیں اور اسے دو تین سال سے مسلسل کم  کرتے چلے آرہے تھے  لیکن مہمت شمشیک  کے وزیر خزانہ بنائے جانے کےبعد انہوں نے اپنی اس پالیسی سے یو ٹرن لیا اور بینکوں کی شرح سود میں مسلسل اضافہ کرتے چلے آرہے ہیں اور اس وقت دنیا  میں ا گر کوئی ملک،  سب سے زیادہ شرح سود اپنے صارفین کو دے رہا ہے تو وہ بلا شبہ ترکیہ ہی ہے۔ ترکیہ میں اس وقت 50 فیصد کی شرح سے بلکہ کئی ایک بینکوں میں اس سے بھی زاہد شرح سود  لاگو کیا جا رہا ہے مقصد ڈالر کی قدرو قیمت پر کنٹرول رکھنا  اورعوام  کے ڈالر  کے سحر میں کھونے سے روکنا ہے۔ایردوان کے اس یو ٹرن کی وجہ سے   ملک میں قرضہ جات حاصل کرنے میں جس مشکلات کا سامنا ہے اسکے ردِ عمل کے  طور پر عوام نے صدر ایردوان کی پارٹی کو ووٹ نہیں دیا ہے اور   ایردوان کی ناقابل تسخیر تصویر کو ہلا کر رکھ دیا ہے ۔

    غلط امیدوار

    ایردوان جو کہ عام طور پر خود ہی  پارٹی امیدواروں  کا چناو کرتےچلے آئے ہیں اس بار بلدیاتی انتخابات کے موقع پر آق پارٹی کے ان امیداروں کو کھڑا نہیں کرسکے ہیں جو کامیابی کی علامت سمجھے جاتے ہیں  بلکہ اس بار بلدیاتی امیداروں کے چناو میں  بڑے پیمانے پر غلطیاں کی گئی ہیں  جس کی وجہ سے  علاقے کے عوام نے بھی ان امیداروں کا ساتھ نہیں دیا ہے جس کی وجہ سے  آق پارٹی کے امیداروں  کو بڑے پیمانے پر ہزیمت اٹھانی پڑی ہے۔

    کم   ٹرن اوٹ

    ترکیہ میں ہمیشہ ہی ووٹ ڈالنے کے موقع پر ٹرن اوٹ  85 فیصد سے 90 فیصد  تک رہی ہے لیکن اس بار طویل عرصے کے بعد ٹرن اوٹ 78 فیصد تک رہی ہے اور آق پارٹی والوں کا خیال ہے کہ ان کی پارٹی  کی سپورٹ کرنے والے   لوگ اس بار  اس طریقے سے گھروں سے باہر نہیں نکلے  جس طریقے سے پہلے نکلتے رہے ہیں  جس کی وجہ سے  آق پارٹی بڑے پیمانے پر ووٹ حاصل نہیں کر پائی ہے۔

    خود پسندی  یا تکبر

     آق پارٹی  جب پہلی بار برسر اقتدار  آئی تو اس  نے  دیگر جماعتوں کے برعکس عوام سے گھل مل جانے  اور پارٹی کے  حکام کے  کسی تکبر  میں مبتلا نہ ہونے کی وجہ سے دیگر تمام جماعتوں پر دنوں ہی کے اندر  برتری حاصل کرلی  اور دیکھتے ہی دیکھتے صرف چند ماہ کے اندر اندر  اقتدار بھی حاصل کرلیا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ آق پارٹی  کے اعلیٰ حکام کے رویے میں   تبدیل آتی چلی گئی اور وہ دیگر جماعتوں کی طرح ہی  عوام میں  گھل مل جانےکی کیفیت  سے اکتاہٹ محسوس کرنے لگے بلکہ  پارلیمنٹ میں  ارکان پارلیمنٹ  کا کام قانون سازی  ہی  تک محدود رہ جانے کے باوجود  ارکان پارلیمنٹ وقت ہونے کے باوجود  عوام  سے ماضی کی طرح گھل  مل جانے میں تردد محسوس کرتے ہیں  اور مختلف حیلوں  بہانوں سے  ملنے سے کتراتے  رہے  ہیں ۔  

    سروئیز کی بھر مار

    غلط سروئیز رپورٹ

    اس دفعہ  کروائے جانے والے سروئیز نے  برسر اقتدار  جماعت آق پارٹی کو اندھیرے میں رکھا  اور سب کچھ  ٹھیک  ہے اور سخت مقابلے ہونے سے متعلق اوپر  تلے مختلف کمپنیوں کی جانب سے   سروئیز جاری کیے جاتے رہے  جس کے نتیجے میں آق پارٹی  اپنی اصلی پوزیشن سمجھنے سے قاصر رہی  اور اس طرح مہم نہ چلاسکی جیسی اس نے ہمیشہ چلائی ہے بلکہ یہ انتخابی مہم ماضی کے مقابلے میں    پہلی بار بڑی پھیکی پھیکی   رہی ہے۔

    صدر ایردوان کی سیاسی مہم 

    صدر ایردوان کی انتخابی مہم

    صدر ایردوان کی جانب  سے گزشتہ دو ماہ سے  ترکیہ کے تقریباً تمام ہی شہروں میں چلائی  جانے والی  انتخابی مہم   سے کوئی زیادہ مثبت نتائج اخذ نہیں کیے گئے ہیں بلکہ اس کے  کئی ایک شہروں میں منفی اثرات بھی مرتب ہوئے ہیں۔ بڑے بڑے شہروں  انقرہ ، استنبول ، ازمیر انطالیہ جیسے شہروں  میں عوام نے اس بات کو واضح طور پر محسوس کیا کہ اگر شہر کے مئیر کو اپنے انتخاب کے لیے صدر کے سہارے کی ضرورت ہے تو  کل مئیر منتخب ہونے کی صورت میں اس کی نگاہیں صدر ہی کی جانب مرکوز رہیں گی اور  وہ اپنے تئیں کچھ بھی نہیں کرسکے گا ۔اس نفسیات میں کھوکر  بڑے شہروں میں لوگوں نے  اپوزیشن کو  ووٹ دیا ہے۔

    میڈیا کی ڈس انفارمیشن مہم

    آق پارٹی  جسے بڑے پیمانے پر اپنی میڈیا ٹیم کی حمایت حاصل رہی ہے اپنے وہ جوہر نہ دکھا سکی جبکہ اپوزیشن کی جماعتوں جن کی میڈیا ٹیم بہت کمزور تھی لیکن اس کے باوجود ان  اس کمزور میڈیا ٹیم نے  عوام کی توجہ اپنی جانب مرکوز کیے  رکھی  اور مختلف ٹی وی چینلز پر ان کی ریٹنگ میں بے حد اضافہ  بھی  دیکھنے کا  ملا جبکہ  آق پارٹی کی میڈیا ٹیم  آق پارٹی کی حمایت میں فضا کو سازگار بنانے میں اس قدر کامیابی  نہ دکھا سکی جیسی کہ اپوزیشن کی  کمزوڑ میڈیا ٹیم دکھا سکی ہےاور وہ مسلسل آق پارٹی کے بڑے مارجن سے ان انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے دعوے ہی کرتے رہے جس آق پارٹی کی شکست کی وجہ بھی بنی ہے ۔

    غلط اسٹریٹجی

    آق پارٹی کی بلدیاتی انتخابات کی ناکامی کی ایک اور وجہ  آق پارٹی کی جانب سے  اپنائی جانے والی پالیسی ہے۔ آق پارٹی نے ان انتخابات کو بلدیاتی انتخابات کی بجائے  عام پارلیمانی اور صدارتی انتخابات کی طرح لیا  اور اس کے بلدیاتی  امیدوار صرف  صدر ایردوان کے احکامات ہی  کی تعمیل  کرتے ہوئے  دکھائی دیے  جبکہ  تمام اپوزیشن جماعتوں نے  گزشتہ انتخابات سے  بالکل برعکس  کسی قسم کا کوئی  کھلے عام اتحاد  قائم کیے بغیر  خفیہ  اتحاد کو ترجیح دی تاکہ   اندر ہی اندر سے ایک دوسرے  کی  حمایت کرتے ہوئے زیادہ  سے زیادہ ووٹ حاصل کیے جاسکیں اور اپویشن اپنی اس اسٹریٹجی میں کامیاب بھی رہی ہے۔

    طویل اقتدار سے اکتاہٹ

    یہ بھی ایک حیقت ہے کہ آق پارٹی گزشتہ 22 سالوں سے مسلسل اقتدار میں ہے اور اقتدار میں رہنے والی جماعت  کو ہمیشہ ہی سب سےزیادہ  تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور اس کے ووٹر ز اور حامیوں میں بھی وقت کے ساتھ ساتھ اتنا جوش و خروش نہیں رہتا جیسا کہ آغاز میں   دیکھا جاتا ہے جبکہ اقتدار سے محروم  پارٹیوں میں اقتدار کی ہوس ہونے کی وجہ سے  وہ زیادہ پر جوش طریقے سے ووٹ کاسٹ کرنے  اور اپنی جماعت کا ساتھ دینے کے لیے باہر نکلتے ہیں ۔ 

    نجم الدین ایربکان کے صاحبزادے  فاتح ایربکان  کی نیو رفاہ پارٹی نے آق پارٹی میں ڈینٹ ڈالدیا

    بلدیاتی انتخابات کے اصلی فاتح، فاتح ایربکان

    صدر ایردوان کی شکست کی وجوہات میں سے ایک وجہ اس کے جمہور اتحاد کے  اتحافی فاتح ایربکان نے اس بار  ایردوان  کے ساتھ نہیں دیا ہے بلکہ انہوں نے اپنی پارٹی کو تنہا ہی میدان میں اتار کر آق پارٹی کے ووٹ حاصل کرنے میں کامیا بی حاصل کی  اور ان انتخابات میں وہ ترکیہ کی تیسری بڑی پارٹی ابھر کر سامنے آئی ہے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleترکیہ کے بلدیاتی انتخابی نتائج: دورس اثرات کے حامل، تحریر : افتخار گیلانی
    Next Article اسماعیل ہانیہ سے ان کے بیٹوں،پوتوں کی اسرائیلی حملے میں ہونے والی شہادت پر ایردوآن کی تعزیت ۔
    ڈاکٹر فرقان حمید

    Related Posts

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    21جنوری , 2026

    Comments are closed.

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    ٹیگز
    #اسرائیل #حقان فیدان #حماس #سیاحت #غزہ #فلسطین آئی ٹی استنبول اسلام آباد افراطِ زر الیکشن 2024 انتخابات انقرہ اپوزیشن ایردوان بھونچال بیسٹ ماڈل آف ترکیہ ترقی ترک صدی ترک میڈیا ترکیہ تعلیم حزبِ اختلاف دنیا دہماکہ دی اکانومسٹ روس سلائِڈر سلائیڈر--- شہباز شریف صدر ایردوان صدر ایردوان، وزیراعظم شہباز شریف، پاکستان، ترکیہ عدلیہ عمران خان فیچرڈ قاتلانہ حملہ لانگ مارچ مغربی میڈیا ملت اتحاد وزیراعظم وزیراعظم شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف، صدر ایردوان، پاکستان، امداد پاکستان پاک فوج یورپ
    • Facebook
    • Twitter
    • Instagram
    اہم خبریں

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    ترکیہ اسکالرشپس: دنیا کی جامع ترین ( fully funded)اسکالرشپس، آن لائن درخواستوں کا طوفان، ویب سائٹ کو کریش کے خدشات

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    مقبول پوسٹس

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026
    Tr-Urdu All Rights Reserved © 2022
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.