Close Menu
Tr-Urdu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Tr-Urdu
    Subscribe
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    Tr-Urdu
    You are at:Home»ترکیہ»ترکیہ بڑی سرعت سےسُپر قوت بننے کی راہ پر گامزن،سفارتی کامیابیوں پردنیا کی نظریں ترکیہ اور ترکیہ کے ثالثی کے کردار پر مرکوز ہو کر رہ گئیں ترک ڈرانز اورسٹیلتھ جنگی طیارے قاآن نے دنیا پر اپنی دھاک بیٹھا دی
    ترکیہ

    ترکیہ بڑی سرعت سےسُپر قوت بننے کی راہ پر گامزن،سفارتی کامیابیوں پردنیا کی نظریں ترکیہ اور ترکیہ کے ثالثی کے کردار پر مرکوز ہو کر رہ گئیں

    ترک ڈرانز اورسٹیلتھ جنگی طیارے قاآن نے دنیا پر اپنی دھاک بیٹھا دی

    ڈاکٹر فرقان حمیدBy ڈاکٹر فرقان حمید10فروری , 2025Updated:10فروری , 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔6 Mins Read
    ترکیہ سُپر قوت
    پوسٹ شئیر کریں
    Facebook Twitter LinkedIn Email

    تحریر:    ڈاکٹر فرقان حمید 

    ترکیہ اپنے  ماضی رفتہ کی شا ن  و شوکت اور عظمت کا  خیال رکھتے ہوئے   بڑی سرعت سے دنیا  کی   سپر قوت بننے  کی راہ پر گامزن ہوچکا ہے اور اس بار اس کی راہ میں کوئی رکاوٹ کھڑی  کرنے  کی جسارت نہیں کرسکتا ہے۔  صدر رجب طب ایردوان کی قیادت میں گزشتہ چند سالوں کے دوران ترکیہ کو سپر قوت بنانے کی جن   کوششوں کا آغاز کیا گیا تھا اس نے اب اپنے ثمرات دینا شروع کردیے ہیں۔

    ترک ڈرونز

    ترکیہ نے دنیا کو اُس وقت ورطہ  حیرت میں مبتلا کردیا  تھا جب اس نے بڑی تعداد میں جدید ٹیکنولوجی کے حامل  ڈرونز    تیار کرتے ہوئے دنیا کے پہلے پانچ ممالک کی صف میں جگہ بنالی۔ ترکیہ  نیٹو میں دفاعی لحاظ سے   اور خاص طور پر  عسکری  نفری قوت کے لحاظ سے دوسرے نمبر پر ہے ۔  ترکیہ اس وقت نیٹو کا رکن  اور اتحادی ملک ہونے کے باوجود واحد ملک ہے جو روس  سے ایس-400   میزائیل بھی خرید چکا ہے  ۔سن 2002 میں صدر ایردوان کے برسر اقتدار   آنے کے موقع پر  ترکیہ میں   دفاعی صنعت کے شعبے میں صرف 57کمپنیاں کام کر رہی تھیں جبکہ آج ان کی تعداد بڑھ کر 2 ہزار 500 ہو چکی ہے۔  اور 2023 کے اواخر تک دفاعی  صنعت میں  مقرر کردہ چھ بلین ڈالر کے ہدف کو بہت پہلے ہی حاصل بھی کیا جا چکا ہے۔

    قاآن

    موجودہ دور میں  ترکیہ کی مقامی   دفاعی صنعتی پیداوار  جس میں قومی جنگی طیارہ قاآن، حر جیٹ ، حُرکش، گیون سونگور، بائیراکتار آقنجی،  بائیراکتار ٹی بی-2، بائیراکتارٹی بی-3، ٹی 929 آتاک ہیلی کاپٹر، ٹی-629اٹیک ہیلی کاپٹر ، دیگر ہیلی کاپٹر، گیزگین میزائیل، آق بابا میزائیل، حصار فضائی ڈیفینس سسٹم،  ملجیم  بحری جہاز،  آبدوز، ٹی سی جی انادولو شامل ہیں  نہ  صرف دنیا کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں بلکہ ترکیہ نے اپنے ان ڈرونز  اور خاص طور پر  اسٹیلتھ جنگی طیاروں کی پیداوار سے دنیا پر  اپنی دھاک  بیٹھا دی ہے۔

    2025-عسکری قوت کی عالمی فہرست

    ترکیہ نے پہلی بار اپنے ڈرانز کو  قارا باغ میں استعمال کیا اور  دہائیوں سے آرمینیا کے قبضہ میں موجود  قارا باغ  کو دنیا  کی آنکھوں کے سامنے  نہ صرف آزادی دلوائی بلکہ  پہلی باراپنے   سپر قوت ہونے کی مہر بھی ثبت کروالیاور اس مسئلے  کو اپنی قوتِ بازو پر یقین رکھتے ہوئے ہمیشہ ہمیشہ   کے لیے حل بھی کروالیا۔  اسی دوران فرانس جس کا جادو   لیبیا میں قذافی کے بعد سے   سر چڑھ کر بول رہا  تھا لیبیا سے ایسے نکال باہر کیا جیسے مکھن سے بال نکالا جاتا ہے اور پھر فرانس  نے کبھی بھی دنیا میں کسی بھی مقام پر   ترکیہ سے پنگا لینے کی کوشش ہی نہیں کی ہےاور یوں ترکیہ نے دفاعی لحاظ سے  فرانس پر اپنی برتری ثابت کردی ۔ 

    ترکیہ  نیٹو میں دفاعی لحاظ سے   اور خاص طور پر  عسکری  نفری قوت کے لحاظ سے دوسرے نمبر پر ہے  اور ترکیہ اس وقت نیٹو کا رکن  اور اتحادی ملک ہونے کے باوجود واحد ملک ہے جو روس  سے ایس-400   میزائیل بھی خرید چکا ہے  اور نئی اقسام کے میزائیل  کی مشترکہ تیاری  کے منصوبے پر دستخط بھی کرچکا ہے۔ ترکیہ نےسویڈن اور فن لینڈ کی نیٹو کی رکنیت پر بھی ویٹو استعمال کرتے ہوئے  نیٹو کو بھی اپنے سامنے جھکنے پر مجبور کررکھا ہے اور وہ ترکیہ کے خلاف کسی قسم کی تادیبی کاروائی کرنے سے بھی قاصر  ہے ۔

    ترک بحری بیڑہ

    ترکیہ صدر ایردوان  کے برسر اقتدار آنے سے قبل دفاعی صنعت میں کوئی خاص مقام نہیں رکھتا تھا بلکہ ترکیہ  ہمیشہ  مغربی ممالک پرہی ترکیہ انحصار کرتے   چلا آیا ہے لیکن یہ مغربی ممالک جب چاہتے مختلف حیلوں بہانوں سے  ترکیہ پر اسلحہ دینے کی پابندیاں عائد کر دیتے۔ قبرص کی جنگ  ہو  یا ترکیہ کے اندر   دہشت گردی  کا کاروائیاں،  ترکیہ کو ضرورت کے وقت ان ممالک نے ترکیہ کو اسلحہ دینے کی پابندیاں عائد کردیں اور ایسے موقع پر    ہمیشہ کی طرح پاکستان ہی  نے ترکیہ کی مدد کی اور ترکیہ کو اسلحہ اور گوہ بارود فراہم کیا۔  

    ترکیہ نے اپنے اتحادی ممالک کے رویے  سے سبق حاصل کرتے ہوئے سب سے پہلے  دفاعی صنعت  کی طرف توجہ دی۔ سن 2002 میں صدر ایردوان کے برسر اقتدار   آنے کے موقع پر  ترکیہ میں   دفاعی صنعت کے شعبے میں صرف 57کمپنیاں کام کر رہی تھیں جبکہ آج ان کی تعداد بڑھ کر 2 ہزار 500 ہو چکی ہے۔  اور 2023 کے اواخر تک دفاعی  صنعت میں  مقرر کردہ چھ بلین ڈالر کے ہدف کو بہت پہلے ہی حاصل بھی کیا جا چکا ہے۔   موجودہ دور میں  ترکیہ کی مقامی   دفاعی صنعتی پیداوار  جس میں قومی جنگی طیارہ قاآن، حر جیٹ ، حُرکش، گیون سونگور، بائیراکتار آقنجی،  بائیراکتار ٹی بی-2، بائیراکتارٹی بی-3، ٹی 929 آتاک ہیلی کاپٹر، ٹی-629اٹیک ہیلی کاپٹر ، دیگر ہیلی کاپٹر، گیزگین میزائیل، آق بابا میزائیل، حصار فضائی ڈیفینس سسٹم،  ملجیم  بحری جہاز،  آبدوز، ٹی سی جی انادولو شامل ہیں  نہ  صرف دنیا کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں بلکہ ترکیہ نے اپنے ان ڈرونز  اور خاص طور پر  اسٹیلتھ جنگی طیاروں کی پیداوار نے اپنی دھاک  بیٹھا دی ہے۔

      دفاعی لحاظ سے  نوئے فیصد کے لگ بھگ  مغربی ممالک پر انحصار کرنے والا یہ ملک اب اسی فیصد دفاعی ضروریات مقامی طور پر تیار کررہا ہے اوراس کے علاوہ  اس نے   بڑے   پیمانے پر   اپنے ڈرونز اور دیگر جنگی سازو سامان  کو فروخت کرتے ہوئے اپنے زرمبادلہ میں بھی بے حد اضافہ کرلیا ہے۔

    دفاعی صنعتی پیداوار اور ترکیہ کی بڑھتی ہوئی فوجی قوت کو دیکھ کر یہ بات وثوق سےکی جاسکتی ہے کہ ترکیہ دفاعی صنعتی پیداوار اور قوت کے لحاظ سے اتنی سرعت سے ترقی کررہا ہے کہ اب اس ملک کا موازنہ صرف اور صرف امریکہ، چین اور روس جیسے ممالک ہی سے کیا جاسکتا ہے ۔ یہ ملک اب دفاعی قوت کے لحاظ سے فرانس، جرمنی اور برطانیہ کو نہ صرف پیچھے چھوڑ چکا ہے بلکہ دفاعی صنعت کے لحاظ سے تیسری  پوزیشن  حاصل کرنے کی تگ و دو کررہا ہے۔

    ترک دفاعی فرمیں

    ترک  دفاعی صنعت  کی  کمپنیوں کی برآمدات میں مسلسل اضافے کے بارے  میں  اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹSIPRI  کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق   دنیا کی  100 دفاعی صنعت  کی فہرست میں چار  ترک کمپنیاں شامل ہوچکی ہیں جنہوں نے گزشتہ سال  سب سے زیادہ ہتھیار اور فوجی خدمات فروخت کی ہیں۔ سو کمپنیوں کی فہرست میں  ASELSAN اسلن سان 60 ویں، بائیکار 76ویں،  ترک ایرو اسپیس انڈسٹریز 82 ویں اور Roketsan راکٹ سان 100 ویں نمبر پر ہے۔

    ترک کمپنیوں کی کل آمدنی میں  2021 کے مقابلے میں گزشتہ سال 25  فیصد بڑھ کر 6 بلین ڈالر سے  تجاوز کرچکی ہے۔

    یاد رہے  1966 میں اپنے قیام کے بعد سے، SIPRI جنگوں، ، اسلحہ سازی، اسلحہ کنٹرول اور تخفیف اسلحہ جیسے شعبوں میں تحقیق، رپورٹس اور تجزیے تیار کرتی چلی آرہی ہے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Article

    تاریخ کی روشنی میں پاک – ترک تعلقات، برصغیر پاک و ہند میں ترک حکمرانوں کے حملے، آمد ، حاکمیت اور اُردوزبان کی اشاعت و ترویج

    تحریکِ خلافت، اقبال کی مہم، تحریک آزادی اور پاک ترک سفارتی تعلقات

    Next Article

    پاکستان اور کشمیر کےسچے، کھرے، خیر خواہ دوست صدر ایردوان اپنے عزیز برادر، وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر آج اسلام آباد پہنچ رہے ہیں

    دو روزہ دورہ پاکستان پر ترک صدر ایردوان کا فقیدالمثال استقبال کیا جائے گا

    ڈاکٹر فرقان حمید

    Related Posts

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    21جنوری , 2026

    Comments are closed.

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    ٹیگز
    #اسرائیل #حقان فیدان #حماس #سیاحت #غزہ #فلسطین آئی ٹی استنبول اسلام آباد افراطِ زر الیکشن 2024 انتخابات انقرہ اپوزیشن ایردوان بھونچال بیسٹ ماڈل آف ترکیہ ترقی ترک صدی ترک میڈیا ترکیہ تعلیم حزبِ اختلاف دنیا دہماکہ دی اکانومسٹ روس سلائِڈر سلائیڈر--- شہباز شریف صدر ایردوان صدر ایردوان، وزیراعظم شہباز شریف، پاکستان، ترکیہ عدلیہ عمران خان فیچرڈ قاتلانہ حملہ لانگ مارچ مغربی میڈیا ملت اتحاد وزیراعظم وزیراعظم شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف، صدر ایردوان، پاکستان، امداد پاکستان پاک فوج یورپ
    • Facebook
    • Twitter
    • Instagram
    اہم خبریں

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    ترکیہ اسکالرشپس: دنیا کی جامع ترین ( fully funded)اسکالرشپس، آن لائن درخواستوں کا طوفان، ویب سائٹ کو کریش کے خدشات

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    مقبول پوسٹس

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026
    Tr-Urdu All Rights Reserved © 2022
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.