Close Menu
Tr-Urdu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Tr-Urdu
    Subscribe
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    Tr-Urdu
    You are at:Home»ترکیہ»عالم اسلام کا اپنے بچاؤ کےلیے اسرائیل کے خلاف اتحاد ناگزیر ہے: صدر ایردوان
    ترکیہ

    عالم اسلام کا اپنے بچاؤ کےلیے اسرائیل کے خلاف اتحاد ناگزیر ہے: صدر ایردوان

    شبانہ آیازBy شبانہ آیاز21جون , 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read
    پوسٹ شئیر کریں
    Facebook Twitter LinkedIn Email

    صدر ایردوان کی عالمِ اسلام کو تاریخی دعوت: ’’دو ارب مسلمانوں کو ایک قطب بننا ہوگا‘‘

    اسلامی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کی کونسل کے 51ویں اجلاس سے لطفی کردار کانگریس سینٹر، استنبول میں خطاب کرتے ہوئے صدر رجب طیب ایردوان نے امت مسلمہ کو ایک نئی سمت، نئی صف بندی اور عملی اتحاد کی طرف بلایا۔ ان کا خطاب نہ صرف عالم اسلام کی موجودہ صورتِ حال کا عکاس تھا بلکہ ایک پکار بھی تھی — اتحاد، مزاحمت اور قیادت کی پکار۔
    انہوں نے عالم اسلام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:
    > “دو ارب کی اسلامی دنیا کے لیے ایک قطب بننا ناگزیر ہو چکا ہے۔ ہم ایک ایسے نازک دور میں ہیں جس میں عالم اسلام کو مزید ذمہ داری اٹھانا ہوگی۔”
    ایردوان نے اپنے خطاب کا آغاز فلسطینی شہداء کی یاد سے کیا۔ انہوں نے کہا کہ:
    > “میں ان 55 ہزار سے زائد شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں جو اسرائیلی بربریت کی بھینٹ چڑھے۔ ترکیہ، فلسطینی عوام کے زخموں کو اپنا زخم سمجھتا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ ظلم کا اندھیرا کتنا ہی گہرا کیوں نہ ہو، آخرکار روشنی اور عدل ہی غالب آئے گا، اور کامیابی یقیناً اہلِ ایمان کی ہوگی۔”
    اسرائیل کی پھیلتی ہوئی دہشت گردی:
    *خاموشی جرم ہے*

    صدر ایردوان نے اسرائیل کی خونریز پالیسیوں کو کھل کر بے نقاب کرتے ہوئے کہا:
    > “گزشتہ دو برسوں میں اسرائیل کی قتل عام کی پالیسی نے شدت اختیار کی ہے۔ اسے مغربی طاقتوں کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ اسرائیل نہ صرف غزہ بلکہ لبنان، شام اور یمن کو بھی نشانہ بنا رہا ہے۔ اسرائیل کی ریاستی دہشت گردی اب ایران کو بھی براہِ راست نشانہ بنا رہی ہے۔”
    انہوں نے اسرائیلی بمباری میں شہید ہونے والے ایرانی شہریوں کے لیے تعزیت پیش کی اور واضح کیا کہ:
    > “نیتن یاہو کا منصوبہ پورے خطے کو جنگ میں جھونکنے کا ہے۔ یہ شخص دنیا کو ہٹلر کی راہ پر ڈالنا چاہتا ہے۔ ایران کا اپنی سرزمین کے دفاع میں جواب دینا اس کا حق ہے۔”
    ایران کے خلاف حملہ
    مذاکرات سبوتاژ کرنے کی سازش ہے
    صدر ایردوان نے ایران پر حملے کو بین الاقوامی سفارت کاری کے خلاف ایک سازش قرار دیا:
    > “یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے جب ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات ہو رہے تھے۔ اسرائیل خود تو جوہری کنٹرول سے آزاد ہے مگر دوسروں پر پابندیاں لگانا چاہتا ہے۔ یہ کھلی منافقت ہے۔ نیتن یاہو کی حکومت مسائل کے سفارتی حل کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔”
    ترکیہ کا عزم: امن کے لیے کوششیں جاری رہیں گی
    صدر ایردوان نے اعلان کیا کہ ترکیہ سفارتی سطح پر اپنے روابط جاری رکھے گا:
    > “ہم نے 13 جون سے خطے میں امن کی بحالی کے لیے سنجیدہ کوششیں شروع کی ہیں۔ جب تک مثبت نتائج حاصل نہیں ہوتے، ہم اپنی سفارتی کاوشیں جاری رکھیں گے۔ ہم ایک نئے سائیکس پیکوٹ منصوبے کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے، جس کی سرحدیں خون سے کھینچی جائیں۔”
    دو ریاستی حل کی ناگزیریت اور اسلامی دنیا کا اتحاد
    انہوں نے اس موقع پر دو ریاستی حل پر زور دیتے ہوئے کہا:
    > “یہ وقت ہے کہ اسرائیل کے خلاف مؤثر اقدامات کیے جائیں اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے عالمی دباؤ میں اضافہ کیا جائے۔”
    انہوں نے اسلامی دنیا کو اختلافات بھلا کر متحد ہونے کی تلقین کی:
    > “ہماری تقدیریں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔ استنبول، دمشق، بغداد، تہران، مکہ، مدینہ، غزہ اور یروشلم کی تقدیر ایک ہے۔ جب بات ہمارے مشترکہ مفادات کی ہو تو ہمیں باہم اختلافات ترک کرکے ایک جسم، ایک آواز بننا ہوگا۔”

    امت مسلمہ کے لیے لمحۂ فکریہ۔
    صدر ایردوان نے اسلامی تعاون تنظیم کے اجلاس کو تاریخی موقع قرار دیتے ہوئے کہا:
    > “یہ اجلاس امت مسلمہ کے ضمیر کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس موقع پر ہمیں اسرائیل کی جارحانہ پالیسیوں کے خلاف کھل کر موقف اختیار کرنا ہوگا۔ ہمیں اپنی باہمی رواداری کو وسعت دے کر اتحاد کو عملی جامہ پہنانا ہوگا۔”
    انہوں نے آخر میں زور دیا:

    > “ہم ایک ایسے مرحلے پر ہیں جہاں عالم اسلام کو مزید ذمہ داری اٹھانا ہوگی۔ ہمیں اسرائیلی جارحیت کے مقابل ایک طاقتور اور متحد موقف اختیار کرنا ہوگا۔ پیچھے ہٹنا نہیں، بلکہ مل کر ہر آزمائش پر قابو پانا ہی ہماری نجات کی راہ ہے۔”

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Article

    وزیرِاعظم شہباز شریف کی صدر رجب طیب ایردوان سے نہایت گرمجوش اور پُرخلوص ملاقات ، پاکستان اور ترکیہ کے برادرانہ تعلقات میں نئی جہت

    پاکستان-ترکیہ کااسٹریٹجک شراکت داری کو نئی بلندیوں تک پہنچانے کا عزم

    Next Article اسلامی عسکری اتحاد: وقت کی پکار، امت کی بقا، خواب جوحقیقت بن سکتا ہے
    شبانہ آیاز
    • Facebook
    • X (Twitter)

    Related Posts

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    21جنوری , 2026

    Comments are closed.

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    ٹیگز
    #اسرائیل #حقان فیدان #حماس #سیاحت #غزہ #فلسطین آئی ٹی استنبول اسلام آباد افراطِ زر الیکشن 2024 انتخابات انقرہ اپوزیشن ایردوان بھونچال بیسٹ ماڈل آف ترکیہ ترقی ترک صدی ترک میڈیا ترکیہ تعلیم حزبِ اختلاف دنیا دہماکہ دی اکانومسٹ روس سلائِڈر سلائیڈر--- شہباز شریف صدر ایردوان صدر ایردوان، وزیراعظم شہباز شریف، پاکستان، ترکیہ عدلیہ عمران خان فیچرڈ قاتلانہ حملہ لانگ مارچ مغربی میڈیا ملت اتحاد وزیراعظم وزیراعظم شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف، صدر ایردوان، پاکستان، امداد پاکستان پاک فوج یورپ
    • Facebook
    • Twitter
    • Instagram
    اہم خبریں

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    ترکیہ اسکالرشپس: دنیا کی جامع ترین ( fully funded)اسکالرشپس، آن لائن درخواستوں کا طوفان، ویب سائٹ کو کریش کے خدشات

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    مقبول پوسٹس

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026
    Tr-Urdu All Rights Reserved © 2022
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.