Close Menu
Tr-Urdu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Tr-Urdu
    Subscribe
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    Tr-Urdu
    You are at:Home»کالم اور مضامین»اسلامی عسکری اتحاد: وقت کی پکار، امت کی بقا، خواب جوحقیقت بن سکتا ہے
    کالم اور مضامین

    اسلامی عسکری اتحاد: وقت کی پکار، امت کی بقا، خواب جوحقیقت بن سکتا ہے

    ڈاکٹر فرقان حمیدBy ڈاکٹر فرقان حمید24جون , 2025Updated:24جون , 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔9 Mins Read
    اسلامی تعاون تنظیم
    پوسٹ شئیر کریں
    Facebook Twitter LinkedIn Email

    تحریر:  ڈاکٹر فرقان حمید

    عالمِ اسلام اس وقت ایک نازک ترین دور سے گزر رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ سے لے کر شمالی افریقہ اور جنوبی ایشیا تک، ہر خطہ اضطراب، مداخلت، اور کمزور قیادت کے شکنجے میں جکڑا ہوا ہے۔ اس سارے منظرنامے میں اگر کوئی چیز سب سے زیادہ مفقود ہے تو وہ ہے ’’اتحاد‘‘۔ اتحاد، جس کی آواز قرآن مجید میں واضح طور پر گونجتی ہے، اور جسے پیغمبرِ اسلام ﷺ نے اپنے عمل سے مضبوطی سے قائم کیا۔ مگر آج یہ امت، جو ایک جسم کی مانند تھی، منتشر، کمزور، اور مغرب کی سازشوں اور حملوں کے سامنے بے بس کھڑی ہے۔

    اسلامی تعاون تنظیم یا اسلامی عسکری اتحاد؟

    اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کا قیام ایک امید افزا قدم تھا، مگر وقت نے ثابت کیا کہ یہ تنظیم محض قراردادوں اور اجلاسوں تک محدود رہ گئی۔ فلسطین سے کشمیر، شام سے یمن، برما سے افغانستان تک ہر جگہ مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے گئے، مگر OIC کی عملی خاموشی نے مظلوم اقوام کے دلوں میں سوالات پیدا کیے۔ امت کو ایسی تنظیم کی ضرورت ہے جو محض باتوں کی حد تک نہ ہو بلکہ عملی طور پر اپنے وجود کا لوہا منوائے۔

    یہ وقت تقاضا کرتا ہے کہ ہم نیٹو (NATO) کی طرز پر ایک منظم، مربوط اور طاقتور اسلامی عسکری اتحاد کی بنیاد رکھیں۔ ایسا اتحاد جو کسی بھی اسلامی ملک پر حملے کو تمام اسلامی ممالک پر حملہ تصور کرے، اور فوری طور پر حملہ آور کے خلاف عسکری کارروائی عمل میں لائے۔

    نیٹو سے سبق: اتحاد میں طاقت ہے

    نیٹو کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ مغرب نے اپنے جغرافیائی، نظریاتی اور اسٹریٹیجک مفادات کے تحفظ کے لیے 1949 میں یہ اتحاد بنایا، جو آج بھی دنیا کی سب سے بڑی عسکری طاقت کے طور پر موجود ہے۔ اس اتحاد نے اپنے رکن ممالک کے لیے ایک مضبوط حفاظتی چادر فراہم کی۔ اب سوال یہ ہے کہ 57 سے زائد اسلامی ممالک، جن کے پاس بے پناہ قدرتی وسائل، عسکری قوت، افرادی قوت، اور اسٹریٹیجک لوکیشن موجود ہے، وہ کیوں نہ ایسا اتحاد قائم کر سکیں؟

    پاکستان، ترکیہ اور ایران: قدرتی قیادت

    اسلامی دنیا میں پاکستان، ترکیہ اور ایران تین ایسے ممالک ہیں جو دفاعی لحاظ سے نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے، جس کی فوج دنیا کی چھٹی بڑی فوج مانی جاتی ہے۔

     پاکستان کی حالیہ عسکری فتح: ایک حوصلہ افزا مثال

    حالیہ دنوں میں پاکستان نے بھارت کے ساتھ سرحدی کشیدگی کے دوران جس طرح دشمن کو منہ توڑ جواب دیا، وہ نہ صرف پاک فوج کی پیشہ ورانہ مہارت کا ثبوت ہے بلکہ اسلامی دنیا کے لیے ایک امید کا پیغام بھی ہے۔ دشمن کے جدید ٹیکنالوجی پر مبنی حملوں کو ناکام بنانا، پاکستانی فضائیہ کی جانب سے دشمن کے ٹھکانوں کو کامیابی سے نشانہ بنانا، اور بحریہ کی بھرپور تیاری، یہ سب کچھ امت مسلمہ کے لیے ایک پیغام ہے کہ اگر نیت صاف ہو، قیادت مضبوط ہو، اور فوج پر یقین ہو تو دنیا کی کوئی طاقت مسلمانوں کو زیر نہیں کر سکتی۔

    یہی وہ لمحہ ہے جب اسلامی دنیا پاکستان کے کردار کو تسلیم کرے، اور اسے عسکری اتحاد میں قائدانہ کردار دے تاکہ یہ قوت صرف ایک ملک تک محدود نہ رہے، بلکہ امت کا اجتماعی دفاع بن جائے۔

    ایران کی مزاحمت: ایک غیرتمند قوم کی مثال

    دوسری جانب ایران نے اسرائیل اور امریکہ کے مسلسل دباؤ، حملوں، اور پابندیوں کے باوجود جس مزاحمت کا مظاہرہ کیا ہے، وہ بھی امت مسلمہ کے لیے ایک سبق ہے۔ ایران نے نہ صرف اسرائیلی حملوں کا جواب دیا بلکہ اپنی علاقائی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہ کرتے ہوئے، عسکری لحاظ سے خود انحصاری کی اعلیٰ مثال قائم کی۔ ایرانی میزائل سسٹمز، ڈرونز، اور مقامی دفاعی صنعت نے ثابت کیا کہ اگر عزم ہو تو مغرب کی ٹیکنالوجی پر انحصار کیے بغیر بھی اپنی حفاظت ممکن ہے۔

    ترکیہ کی دفاعی صنعت اور  جدید ڈرون ٹیکنولوجی عالمِ اسلام کے لیےایک عمدہ مثال

    ترکیہ کی دفاعی صنعت آج دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہو چکی ہے۔
    ترکیہ نے محدود وسائل کے باوجود عسکری خود انحصاری کا جو سفر شروع کیا، وہ آج ایک کامیاب ماڈل بن چکا ہےاور دنیا بھر میں اپنی صلاحیت کا لوہا منوا چکا ہے۔یہ ڈرون شام، لیبیا، آذربائیجان اور یوکرین جیسے میدانوں میں فیصلہ کن کردار ادا کر چکے ہیں۔
    ترکیہ اب نہ صرف خود کفیل ہے بلکہ دنیا کے کئی ممالک کو اسلحہ اور ڈرونز برآمد بھی کر رہا ہے۔
    ترک دفاعی صنعت نے میزائل ٹیکنالوجی، ٹینکس، اور نیول سسٹمز میں بھی حیران کن ترقی کی ہے۔آج ترکیہ کی جدید ڈرون ٹیکنالوجی پوری مسلم دنیا کے لیے ایک امید اور قابلِ تقلید مثال بن چکی ہے۔

    پاکستان، ترکیہ اور ایران  عالمِ اسلام کے محافظ

    تینوں ممالک  کا یہی جذبہ اگر اسلامی ممالک کے عسکری اتحاد  کی شکل اختیار  کرلے تو  ایک ناقابلِ تسخیر اسلامی عسکری اتحاد کا قیام ممکن  ہوسکتا ہے جو نیٹو کے ہم پلہ ہو۔ اور یہی وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔

    خلیجی ممالک کا کردار: مالی حمایت اور قربانی

    خلیج کے وہ ممالک جو تیل و گیس کی دولت سے مالا مال ہیں، اور جو آج مغرب کی خوشنودی کے لیے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری ان کے بنکوں میں رکھتے ہیں، انہیں چاہیے کہ وہ اس سرمایہ کو امت کے اجتماعی مفاد میں صرف کریں۔ اگر آج سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، اور کویت جیسے ممالک پاکستان، ترکیہ اور ایران کی دفاعی تحقیق، اسلحہ سازی، اور ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے مالی معاونت کریں، تو ایک دہائی کے اندر ایک ایسا اتحاد ممکن ہو سکتا ہے جو امریکہ اور اسرائیل کو آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جواب  دینے بلکہ اسرائیل کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کرسکتا ہے۔

    گریٹر اسرائیل: ایک خاموش مگر حقیقی خطرہ

    مسلمانوں کو سب سے بڑا خطرہ اس وقت گریٹر اسرائیل کے خواب سے ہے، جو صہیونی ذہنیت کے تحت ایک طویل المدتی منصوبہ ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کے ٹکڑے کرنا، قوموں کو کمزور کرنا، آپس میں لڑوانا، اور امریکی عسکری موجودگی کے ذریعے مسلمانوں کو غلامی میں دھکیلنا اسی منصوبے کا حصہ ہے۔ اگر امتِ مسلمہ نے اب بھی آنکھیں بند رکھیں، تو وقت دور نہیں جب فلسطین کے بعد دیگر اسلامی ممالک بھی اپنی آزادی سے محروم ہو جائیں گے۔

    عسکری اتحاد: ایک نئی صبح کی امید

    ہمیں ایسی فوج درکار ہے جو صرف دفاع کے لیے نہ ہو، بلکہ جس کا قیام امت کی خودداری، غیرت اور عزتِ نفس کی بحالی کے لیے ہو۔ ایک ایسی فوج جس کا سربراہ کوئی اسلامی سپہ سالار ہو، جو امت کے مفادات کو مقدم سمجھے، اور جس کے جوان ہر اسلامی ملک سے آئیں تاکہ بھائی چارے اور مشترکہ دفاع کی اصل روح زندہ ہو۔

    یہ فوج ہر اسلامی ملک میں عسکری اڈے بنائے، انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ کرے، اور مشترکہ فوجی مشقیں منعقد کرے۔ اس فوج کا بجٹ OIC کی طرز پر نہ ہو، بلکہ ہر اسلامی ملک اپنی GDP کا ایک معینہ حصہ اس فوج کے لیے مختص کرے، جیسا کہ نیٹو میں ہوتا ہے۔

    رکاوٹیں اور حل

    یقیناً، ایسا اتحاد بنانا آسان نہیں۔ مسلم دنیا میں فرقہ واریت، جغرافیائی مفادات، بیرونی دباؤ، اور سیاسی قیادت کی کمزوری جیسی بڑی رکاوٹیں ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم ان رکاوٹوں کے سامنے سر جھکا کر غلامی کو قبول کر لیں؟ یا پھر متحد ہو کر ان رکاوٹوں کو عبور کر کے تاریخ کا دھارا بدل دیں؟

    اس کا حل یہی ہے کہ مسلمانوں کو ایک نئے بیانیے کی ضرورت ہے، جو فرقہ پرستی سے بالاتر ہو، اور جس کا محور ’’امت‘‘ ہو، نہ کہ محض قوم یا مکتبہ فکر۔ ہمیں ایسے علما، دانشور، اور لیڈرز کی ضرورت ہے جو دلوں کو جوڑیں، بانٹیں نہیں۔

    اسلامی بیداری کی لہر

    الحمدللہ، اب ایک نئی لہر اٹھی ہے۔ نوجوان نسل بیدار ہو رہی ہے۔ وہ اب صرف فیس بک اور انسٹاگرام کے نعرے سے آگے بڑھ کر عملی تبدیلی کی بات کر رہی ہے۔ اگر اس بیداری کو مثبت سمت دی جائے، تو آنے والا وقت اسلامی دنیا کی تقدیر بدل سکتا ہے۔

    ایک خواب جو حقیقت بن سکتا ہے

    یہ خواب ہے، مگر حقیقت بن سکتا ہے۔ اگر امتِ مسلمہ کے حکمران، خاص طور پر پاکستان، ترکیہ اور ایران، دل بڑا کریں، اختلافات کو پسِ پشت ڈالیں، اور مشترکہ عسکری اتحاد کی بنیاد رکھیں، تو آئندہ نسلیں ہمیں معمارِ اتحاد کہیں گی۔

    یاد رکھیں، دنیا اُن ہی اقوام کو اہمیت دیتی ہے جو اپنے نظریے، اپنی آزادی، اور اپنے تحفظ کے لیے کھڑی ہوتی ہیں۔ وقت کی گھڑی ہمیں پکار رہی ہے۔ یہ امت محمدیہ ﷺ کی بقا کا لمحہ ہے۔ اب ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا: یا تو ہم بکھرے رہیں اور غلام بنے رہیں، یا متحد ہو جائیں اور اپنے مقدر کو خود لکھیں۔

    موجودہ فتوحات: جذبے کو کندن بنانے  کا وقت

    پاکستان کی بھارت کے خلاف عسکری کامیابی اور ایران کی اسرائیل و امریکہ کے حملوں کے خلاف مزاحمت، امت کے دلوں میں ایک نئی روح پھونکنے کے لیے کافی ہے۔ یہ کامیابیاں ہمیں دکھاتی ہیں کہ عسکری اتحاد کوئی خواب نہیں، بلکہ حقیقت کا وہ دروازہ ہے جس پر امت مسلمہ دستک دینے کے قریب ہے۔

    یہ وقت ہے کہ OIC اپنی روایتی خاموشی کو توڑے، اور اسلامی عسکری اتحاد کو محض سعودی قیادت میں قائم ہونے والے ’اسلامی فوجی اتحاد برائے انسداد دہشت گردی‘ کی حد تک محدود نہ رکھے، بلکہ اسے ایک مکمل دفاعی بلاک کی صورت دے، جو دشمن کے ہر محاذ پر فوری اور مؤثر جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

    فیصلہ کن مرحلہ

    یہ وقت صرف تبصروں کا نہیں، فیصلوں کا ہے۔ اسلامی عسکری اتحاد اب صرف ایک نظریہ نہیں، بلکہ ایک فریضہ بن چکا ہے۔ ہمیں ان کامیابیوں کو صرف خبروں کی زینت نہیں بنانا، بلکہ انہیں امت کے اجتماعی شعور کا حصہ بنانا ہے۔ ہمیں نوجوان نسل کو بتانا ہے کہ بدر اور احد کے وارث آج بھی زندہ ہیں، اور اگر ہم متحد ہو جائیں تو خیبر جیسے قلعے آج بھی سر ہو سکتے ہیں۔

    امتِ محمدیہ   ﷺ کے تحفظ و عظمت کے لیے عسکری اتحاد کا عملی آغاز کریں

    اب بھی وقت ہے! ہم بیدار ہوں، متحد ہوں، اور امتِ محمدیہ ﷺ کے تحفظ و عظمت کے لیے عسکری اتحاد کا عملی آغاز کریں۔اگر اسلامی دنیا، خصوصاً پاکستان، ترکیہ، ایران، اور خلیجی ممالک نے اب بھی وقت کی پکار نہ سنی، تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔ مگر اگر ہم نے جرأت، بصیرت، اور حکمت کا مظاہرہ کیا، تو یہ وہ اتحاد ہوگا جو نہ صرف امت مسلمہ کا وقار بحال کرے گا، بلکہ دنیا میں انصاف، امن، اور توازن کا ضامن بھی بنے گا۔

    اللہ ہمیں اتحاد کی توفیق دے، اور ہمیں وہ غیرت عطا کرے جو بدر، احد، اور خیبر کے مجاہدین کا خاصہ تھی

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleعالم اسلام کا اپنے بچاؤ کےلیے اسرائیل کے خلاف اتحاد ناگزیر ہے: صدر ایردوان
    Next Article

    ترکیہ کے وزیر خارجہ حقان فیدان اور وزیر قومی دفاع یشار گیولر کا پاکستان کا اہم دورہ: خطے میں اسٹریٹجک شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہو رہا ہے

    بھارت میں ترک وفد کی پاکستان آمد سے کھلبلی اور افرا تفری پیدا ہوگئی

    ڈاکٹر فرقان حمید

    Related Posts

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026

    ترکیہ اسکالرشپس: دنیا کی جامع ترین ( fully funded)اسکالرشپس، آن لائن درخواستوں کا طوفان، ویب سائٹ کو کریش کے خدشات

    16جنوری , 2026

    دنیا کے تواز ن کا پانسہ پلٹنے والے نئےدفاعی ستون، جلد ہی پاک-ترک -سعودی ا سلامی اتحادقائم کیے جانے کی توقع

    15جنوری , 2026

    Comments are closed.

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    ٹیگز
    #اسرائیل #حقان فیدان #حماس #سیاحت #غزہ #فلسطین آئی ٹی استنبول اسلام آباد افراطِ زر الیکشن 2024 انتخابات انقرہ اپوزیشن ایردوان بھونچال بیسٹ ماڈل آف ترکیہ ترقی ترک صدی ترک میڈیا ترکیہ تعلیم حزبِ اختلاف دنیا دہماکہ دی اکانومسٹ روس سلائِڈر سلائیڈر--- شہباز شریف صدر ایردوان صدر ایردوان، وزیراعظم شہباز شریف، پاکستان، ترکیہ عدلیہ عمران خان فیچرڈ قاتلانہ حملہ لانگ مارچ مغربی میڈیا ملت اتحاد وزیراعظم وزیراعظم شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف، صدر ایردوان، پاکستان، امداد پاکستان پاک فوج یورپ
    • Facebook
    • Twitter
    • Instagram
    اہم خبریں

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    ترکیہ اسکالرشپس: دنیا کی جامع ترین ( fully funded)اسکالرشپس، آن لائن درخواستوں کا طوفان، ویب سائٹ کو کریش کے خدشات

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    مقبول پوسٹس

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026
    Tr-Urdu All Rights Reserved © 2022
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.