Close Menu
Tr-Urdu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Tr-Urdu
    Subscribe
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    Tr-Urdu
    You are at:Home»ترکیہ»ترکیہ نے دنیا میں تہلکہ مچادیا،ترکیہ کے -122سپر سونک ڈرون نے فضاء سے بیلسٹک میزائیل داغنے کا کامیاب تجربہ کرکے دنیا کی توجہ حاصل کرلی ترکیہ فضاء میں ڈرون کے ذریعے بیلسٹک میزائیل داغنے والا دنیا کا پہلا ملک
    ترکیہ

    ترکیہ نے دنیا میں تہلکہ مچادیا،ترکیہ کے -122سپر سونک ڈرون نے فضاء سے بیلسٹک میزائیل داغنے کا کامیاب تجربہ کرکے دنیا کی توجہ حاصل کرلی

    ترکیہ فضاء میں ڈرون کے ذریعے بیلسٹک میزائیل داغنے والا دنیا کا پہلا ملک

    ڈاکٹر فرقان حمیدBy ڈاکٹر فرقان حمید26اگست , 2025Updated:26اگست , 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔7 Mins Read
    ترکیہ کا 122سپر سونک ڈرون
    پوسٹ شئیر کریں
    Facebook Twitter LinkedIn Email

    رپورٹ : ڈاکٹر فرقان حمید

    ترکیہ نے  122سپر سونک ڈرون   کا  فضاء سے  بیلسٹک میزائیل داغنے کا کامیاب تجربہ  کرکےدنیا تہلکہ مچادیا  ہے۔ بے مثال ٹیکنالوجی کے حامل ترک دفاعی منصوبے ایک بار پھر دنیا کی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ بائیکار کے چیئرمین سیلچوق  بایراکتار  کے حالیہ بیان  نے  ایک مرتبہ پھر نگاہیں “ترک ڈرون 122” پر مرکوز کر دی ہیں۔ یہ راکٹ سان کے تیار کردہ وہ نیا میزائل ہے جو زمینی لانچر سے فائر کیے جانے والے بیلسٹک ہتھیاروں کا ایک جدید اور انقلابی ورژن ہے، مگر فرق یہ ہے کہ اسے اب ڈرون  سے بھی داغا جا سکتا ہے۔ یہ صلاحیت ترکیہ کے دفاعی ہاتھ کو غیرمعمولی حد تک مضبوط کر رہی ہے۔

    ترکیہ کا 122سپر سونک ڈرون

    گزشتہ چند برسوں میں ترک دفاعی صنعت نے حیران کن ترقی کی ہے۔ میدانِ جنگ کی حقیقی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیے گئے حل نہ صرف جدید جنگی توازن کو بدل رہے ہیں بلکہ ترکی کو دنیا کی صفِ اول کی عسکری طاقتوں میں لے آئے ہیں۔ اسی تناظر میں سیلچوق  بایراکتار  نے حالیہ دنوں ایک نہایت اہم ہتھیار کی طرف اشارہ کرتے ہوئےکہا کہ 
    ٹی بی-3 سے آواز کی رفتار سے چار گنا تیز اور ایک لاکھ فٹ کی بلندی تک پہنچنے والا میزائل کا کامیاب تجربہ کیا گیا ہے  یہ ٹیکنالوجی فی الحال دنیا میں صرف ہمارے پاس موجود ہے۔

    یہ محض ایک فخر بھرا جملہ نہیں، بلکہ دنیا کو دی جانے والی وہ دستاویزی اطلاع ہے جو ظاہر کرتی ہے کہ UAV-122 نامی یہ میزائل اب ترکیہ کی عسکری قوت کا نیا نشان ہے۔

    میزائل کی خصوصیات: رفتار، درستگی اور دھوکہ

    ترکیہ کا 122سپر سونک ڈرون

    UAV-122 اپنی غیرمعمولی سُپر سونک رفتار کے باعث دشمن کے ریڈار کو دھوکہ دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ بجلی کی سی تیزی سے حرکت کرتے ہوئے سب میٹر سطح پر ہدف کو نشانہ بناتا ہے۔ مزید یہ کہ اپنی چابک دستی سے یہ جدید فضائی دفاعی نظاموں کو بھی بے بس کر دیتا ہے۔

    بایراکتار کا اشارہ راکٹ سان کے تیار کردہ جدید ترین UAV-122 کی جانب تھا۔ یہ دراصل ان مشہور ٹی آر جی راکٹوں کا ایک ایسا ورژن ہے جسے حال ہی میں ڈرون  سے فائر کرنے کے قابل بنایا گیا ہے۔ اس کامیابی کے ساتھ ترکیہ نے ایک اور تاریخی عسکری برتری حاصل کر لی ہے۔

    UAV-122 کی نمایاں خصوصیات

    بایئکار اور راکٹ سان کے اس مشترکہ شاہکار کی سب سے بڑی خوبی اس کی سُپر سونک رفتار ہے۔ بجلی کی سی تیزی سے حرکت کرنے والا یہ میزائل نہ صرف بے مثال درستگی کے ساتھ اپنے ہدف کو نشانہ بناتا ہے بلکہ شاندار مانورنگ صلاحیتوں کے باعث دنیا کے جدید ترین فضائی دفاعی نظاموں کو بھی دھوکہ دینے میں کامیاب رہتا ہے۔

    ترکیہ کا 122سپر سونک ڈرون

    جدید گائیڈنس کٹ کی بدولت اس میزائل کی نشانہ بازی سب میٹر لیول تک درست ہے۔ کم لاگت، تیز رفتار پیداوار اور ہدف پر انتہائی تباہ کن اثرات کی بدولت یہ میزائل ترکیہ کے لیے “گیم چینجر” حیثیت رکھتا ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ یہ ہتھیار ترکیہ کو “نقطۂ نظر کی حد سے پرے” کارروائی کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے، جو اسے ایک نہایت اسٹریٹجک قوت بنا دیتا ہے۔

    ڈرون سے   بیلسٹک میزائل  فائر کرنے والادنیا کا واحد ملک ترکیہ 

    ترکیہ کا 122سپر سونک ڈرون

    تاریخ کے ریکارڈ کے مطابق آج تک کوئی اور ملک ایسا نہیں جس نے بیلسٹک میزائل کو ڈرون سے داغنے کی عملی صلاحیت حاصل کی ہو۔ماہرین کے مطابق” UAV-122 ” جسے ہوا سے داغا جانے والا بیلسٹک میزائل بھی کہاجاتا ہے  کو تیار کرنے والا  واحد ملک ترکیہ ہے۔  گویا دفاعی صنعت کی لغت میں اب ایک نیا باب لکھا جا رہا ہے، جس کی پہلی سطر پر صرف ترکیہ کا نام درج ہے۔

    اس میزائل کی غیرمعمولی رفتار کے باعث دشمن کے فضائی دفاعی نظام اسے دیر سے پکڑ پاتے ہیں۔ اور جب تک میزائل ان کے ریڈار پر آتا ہے، تب تک وار اپنے ہدف پر جا کر لگ چکا ہوتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں دنیا کے چند ہی ممالک ایسے ہیں جن کے پاس UAV-230 یا UAV-122 جیسے میزائلوں کو روکنے کی صلاحیت ہے۔

    کم لاگت، زیادہ تباہی

    روس-یوکرین جنگ اور حالیہ اسرائیل-ایران کشیدگی میں یہ بات کھل کر سامنے آئی ہے کہ جدید جنگوں میں سب سے بڑا مسئلہ موزوں، کم لاگت اور جلدی تیار ہونے والے مؤثر ہتھیاروں کی کمی ہے۔ دنیا کی بڑی طاقتوں نے دیکھا ہے کہ مہنگے میزائلوں کے ذخائر کس تیزی سے ختم ہوتے ہیں اور یہ صورتحال میدانِ جنگ میں کس قدر نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔

    ایسے وقت میں ترکیہ نے UAV-230 اور UAV-122 جیسے ہتھیار تیار کرکے اپنے لیے ناقابلِ یقین برتری حاصل کر لی ہے۔ یہ میزائل نہ صرف کم لاگت کے ہیں بلکہ بڑی تعداد میں تیزی سے تیار کیے جا سکتے ہیں اور ہدف پر انتہائی تباہ کن اثرات مرتب کرتے ہیں۔

    ترکیہ کا 122سپر سونک ڈرون

    یہ میزائل صرف فضائی دفاعی نظام ہی نہیں بلکہ دشمن کے حساس فوجی اڈوں اور کمانڈ مراکز کو بھی نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ مزید یہ کہ مناسب حالات میں دشمن کے بحری بیڑے پر بھی انہی میزائلوں سے کاری ضرب لگائی جا سکتی ہے۔ یاد رہے کہ مارچ 2025 میں  بائیکار  کے تیار کردہ ٹی بی-3 ڈرون نے بحیرہ میں موجود ایک ہدف کو 50 کلومیٹر سے زائد فاصلے پر UAV-122 کے ذریعے کامیابی سے تباہ کیا تھا۔

    دوسری جانب راکٹ سان نے حال ہی میں یہ اعلان کیا ہے کہ UAV-300 پر بھی کام تیزی سے جاری ہے۔ اس میزائل میں استعمال ہونے والے جدید انجن اور ایندھن کے نظام کی بدولت اس کا رینج 500 کلومیٹر سے بھی تجاوز کر گیا ہے۔

    میدانِ جنگ کی نئی حقیقت

    یہ میزائل صرف فضائی دفاعی نظام کو ناکام نہیں بناتے بلکہ دشمن کے حساس فوجی مراکز، کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم اور حتیٰ کہ بحری بیڑے کو بھی نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ مارچ 2025 میں جب ٹی بی-3 نے 50 کلومیٹر سے زائد فاصلے پر سمندری ہدف کو UAV-122 کے ذریعے تباہ کیا تو یہ لمحہ ایک فوجی کامیابی سے بڑھ کر تاریخ میں درج ہونے والا واقعہ بن گیا۔

    مستقبل کی سمت: UAV-300

    ترکیہ کا 122سپر سونک ڈرون

    راکٹ سان نے اعلان کیا ہے کہ UAV-300 پر بھی کام جاری ہے، جس کا رینج 500 کلومیٹر سے تجاوز کر گیا ہے۔ یہ اعلان نہ صرف ایک خبر ہے بلکہ دفاعی ٹیکنالوجی کی تاریخ میں ایک دستاویزی سنگِ میل بھی ہے، جو آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ کیا جانا چاہیے۔

    کیا ترکیہ پاکستان کو یہ ٹیکنالوجی فراہم کرسکتا ہے؟

    پاکستان – ترکیہ

    ترکیہ اور پاکستان ایک دوسرے کے ساتھ دفاعی صنعت اورپرو ڈکشن میں مکمل تعاون کرتے چلے آرہے ہیں۔ حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران جس طرح  پاکستان نے ترکیہ کے ڈرونز  کواستعمال  وہ بھارت کے لیے ایک ڈرو نے خواب سے کم نہیں ہے  ۔ ترکیہ کے ڈرونز نے بھارت کے اندر جاکر جس طرح ان کی دفاعی تنصیبات کو نقصان پہنچایا بھارت کبھی بھی اس نقصان کو فراموش نہیں  کرسکے گا اور اب ترکیہ کی جانب سے  UAV-122 کی تیاری نے بھارت کی نیندیں حرام کردی ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان ترکیہ  سے  ان ڈرونز  کو حاصل کرنے کے لیے  کب اپنے مذاکرات کا آغاز کرتا ہے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Article

    غزہ کو مکمل فوجی کنٹرول میں لینے کا نیتن یاہو حکومت کا منصوبہ نا قابلِ قبول ہے، یہ منصوبہ انسانیت کے ماتھے پر ایک بدنما داغ ہے:صدر ایردوان

    ایردوان کی للکار حسینؑی سچائی: ’ظلم جتنا بھی طاقتور ہو، وہ دیرپا نہیں رہ سکتا‘

    Next Article

    ترکیہ کی تاریخ ساز کامیابی،مقامی وسائل سے اسٹیل ڈوم یا فضائی ڈھال تیار کرنے والا پہلا اسلامی ملک جبکہ دنیا کےسر فہرست ممالک سے ایک بن گیا

    سسٹمز آف سسٹم، اسٹیل ڈوم دوستوں کیلیے اعتماد اور دشمنوں کیلیے خوف

    ڈاکٹر فرقان حمید

    Related Posts

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    21جنوری , 2026

    Comments are closed.

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    ٹیگز
    #اسرائیل #حقان فیدان #حماس #سیاحت #غزہ #فلسطین آئی ٹی استنبول اسلام آباد افراطِ زر الیکشن 2024 انتخابات انقرہ اپوزیشن ایردوان بھونچال بیسٹ ماڈل آف ترکیہ ترقی ترک صدی ترک میڈیا ترکیہ تعلیم حزبِ اختلاف دنیا دہماکہ دی اکانومسٹ روس سلائِڈر سلائیڈر--- شہباز شریف صدر ایردوان صدر ایردوان، وزیراعظم شہباز شریف، پاکستان، ترکیہ عدلیہ عمران خان فیچرڈ قاتلانہ حملہ لانگ مارچ مغربی میڈیا ملت اتحاد وزیراعظم وزیراعظم شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف، صدر ایردوان، پاکستان، امداد پاکستان پاک فوج یورپ
    • Facebook
    • Twitter
    • Instagram
    اہم خبریں

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    ترکیہ اسکالرشپس: دنیا کی جامع ترین ( fully funded)اسکالرشپس، آن لائن درخواستوں کا طوفان، ویب سائٹ کو کریش کے خدشات

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    مقبول پوسٹس

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026
    Tr-Urdu All Rights Reserved © 2022
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.