Close Menu
Tr-Urdu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Tr-Urdu
    Subscribe
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    Tr-Urdu
    You are at:Home»ترکیہ»30اگست، یومِ ظفر: ملتِ ترکیہ کی جاویداں داستان، مصطفیٰ کمال اتاترک کی قیادت میں حاصل کردہ عظیم الشان فتح نے غلامی کی زنجریں توڑ دیں یومِ ظفر محض ایک عسکری کامیابی نہیں بلکہ ایک تہذیبی و سیاسی بیداری تھی
    ترکیہ

    30اگست، یومِ ظفر: ملتِ ترکیہ کی جاویداں داستان، مصطفیٰ کمال اتاترک کی قیادت میں حاصل کردہ عظیم الشان فتح نے غلامی کی زنجریں توڑ دیں

    یومِ ظفر محض ایک عسکری کامیابی نہیں بلکہ ایک تہذیبی و سیاسی بیداری تھی

    ڈاکٹر فرقان حمیدBy ڈاکٹر فرقان حمید29اگست , 2025Updated:29اگست , 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔6 Mins Read
    30 اگست یومِ ظفر
    پوسٹ شئیر کریں
    Facebook Twitter LinkedIn Email

    تحریر: ڈاکٹر فرقان حمید

    30 اگست 1922 کا دن ایک ایسا دن ہے  جب ترک ملت نے غلامی کے اندھیروں کو چیرتے ہوئے پوری دنیا پر اعلان کیا کہ یہ سرزمین آزاد ہے، یہ پرچم سرخرو ہے، اور یہ قوم کبھی غلام نہیں رہے گی۔ کمانڈر انچیف غازی مصطفیٰ کمال کی قیادت میں  حاصل کی جانے والی یہ عظیم فتح محض ایک عسکری کامیابی نہ تھی، بلکہ ایک تہذیبی و سیاسی بیداری کی صدا تھی، جو آج بھی گونج رہی ہے۔

    شکستہ سلطنت سے آزادی کی تڑپ تک

    سلطنتِ عثمانیہ کا زوال

    انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے آغاز میں سلطنتِ عثمانیہ زوال کے دہانے پر تھی۔ ’’یورپ کا مردِ بیمار‘‘ کہلانے والی اس عظیم سلطنت کی رگوں میں قرض اور محکومیت کا زہر سرایت کرچکا تھا۔ 1881 میں دَیونِ عمومیہ کے قیام نے اقتصادی خودمختاری کو چھین لیا، اور پھر 30 اکتوبر 1918 کو موندروس معاہدے نے سیاسی آزادی پر بھی ضرب لگا دی۔ جنگِ عظیم کے بعد اناطولیہ کے ہر کونے میں غیر ملکی افواج کے بوٹوں کی چاپ سنائی دے رہی تھی۔ ازمیر پر یونا ن کے قبضے نے دلوں کو زخمی کیا اور ملت کو بیدار کردیا۔

    اسی شکست و ریخت کے دور میں کمانڈر انچیف غازی مصطفیٰ کمال پاشا نے ایک نئے عزم کے ساتھ 19 مئی 1919 کو سامسُن کی مٹی پر قدم رکھا۔ یہ وہ لمحہ تھا جس نے غلامی کے اندھیروں میں امید کا چراغ روشن کیا۔ اس کے بعد ایروان، سیواس اور اماسیا کی مجالسِ مشاورت گویا ملتِ ترکیہ کے شعور کی اجتماعی صدائیں تھیں۔

    استقلال کی جنگ: گولی، قربانی اور سیاسی حکمت کا حسین امتزاج

    جنگِ استقلال

    استقلال کی جدوجہد صرف میدانِ جنگ کی گولیوں سے نہیں جیتی گئی، یہ سیاسی حکمتِ عملی سے بھی پروان چڑھی۔ 23 اپریل 1920 کو ترکیہ کی گرینڈ نیشنل اسمبلی  (TBMM) کے قیام نے واضح کردیا کہ اب فیصلے سامراجی درباروں میں نہیں، بلکہ ترک ملت کے نمائندوں کے ایوان میں ہوں گے۔ اسی سیاسی بصیرت نے جنگی حکمتِ عملی کو ایک ہمہ گیر قومی منصوبہ بنایا۔

    معرکہ ہائے انونو: پہلی جیت سے استقلال کی راہوں تک

    معرکہ ہائے انونو

    ترک فوج کے قدم بہ قدم بڑھنے کی داستان معرکوں سے بھری ہوئی ہے۔

    • پہلا انونو معرکہ (جنوری 1921): ایک قوم کی پہلی کامیاب مزاحمت، دشمن کو حیرت میں ڈالنے والا معرکہ۔
    • دوسرا انونومعرکہ  (مارچ-اپریل 1921): ترک فوج کی مستقل مزاجی اور قربانی کا استعارہ۔
    • جنگِ سکاریہ جب تاریخ نے پلٹا کھایا (اگست-ستمبر 1921):
    • وہ فیصلہ کن مقام جہاں مصطفی کمال پاشا نے کہا:
      “ہتیانِ وطن کی کوئی حد نہیں، حد صرف دفاع کی قوت ہے”
      یہ وہ معرکہ تھا جس نے جنگ کے توازن کو پلٹ دیا اور ترک فوج کو دفاع سے حملے کی پوزیشن میں لے آیا۔

    کمانڈر انچیف کی قیادت میں  بڑے حملے سے  آزادی کے افق تک

    کمانڈر انچیف غازی مصطفی کمال پاشا

    مہینوں کی تیاری، سپاہیوں کی قربانی، اور ملت کی دعاؤں نے بالآخر وہ دن لایا جب 26 اگست 1922 کو بڑا حملہ شروع ہوا۔ 25 اگست کی رات مصطفی کمال پاشا شوہوت سے کوجاتپے کی طرف روانہ ہوئے۔ یہ 14 کلومیٹر کی مسافت دراصل غلامی سے آزادی تک کا سفر تھی۔ صبح کی پہلی روشنی کے ساتھ توپوں کی گرج اٹھی، اور یوں تاریخ کا فیصلہ کن باب شروع ہوا۔

    26 اگست سے 30 اگست تک جاری رہنے والے معرکوں میں ترک فوج نے دشمن کو ہر سمت سے گھیر لیا۔ میدانِ جنگ میں وہ لمحہ آیا جب اتاترک نے براہِ راست محاذ سے جنگ کی قیادت کی اور دشمن کی کمر توڑ دی۔ یونانی افواج پسپا ہوئیں، کئی گرفتار ہوئیں، اور باقی ماندہ افواج کو منتشر ہونا پڑا۔

    اسی وقت مصطفی کمال پاشا نے وہ تاریخی حکم صادر کیا:
    ” اے افواجِ ترک ! تمہارا پہلا ہدف بحیرۂ روم ہے، آگے بڑھو!”
    یہ جملہ محض ایک عسکری حکم نہ تھا، یہ پوری ملت کے مستقبل کا اعلان تھا۔

    یومِ فتح (ظفر )کے سیاسی اثرات

    کمانڈر انچیف غازی مصطفی کمال پاشا

    30 اگست کی یہ فتح ترکی کی سفارتکاری میں بھی ایک نیا موڑ ثابت ہوئی۔ چند ہی ہفتوں بعد 11 اکتوبر 1922 کو مدانیا معاہدہ طے پایا جس کے نتیجے میں مشرقی تھریس بغیر کسی خونریزی کے آزاد ہوا۔ اس کے بعد 24 جولائی 1923 کو لوزان معاہدہ دستخط ہوا، جس نے دنیا کو ترکی کی خودمختاری تسلیم کرنے پر مجبور کردیا۔

    یقیناً اگر 30 اگست کا معرکہ نہ جیتا جاتا تو لوزان کی میز پر ترکی کو سر جھکانا پڑتا۔ یہ معرکہ نہ صرف عسکری بلکہ سیاسی آزادی کی ضمانت بنا۔

    عالمی اثرات اور اسلامی دنیا پر گونج

    ترکی کی یہ فتح صرف ایک قومی کامیابی نہیں تھی۔ یہ فتح دنیا کی محکوم اقوام کے لیے امید کی کرن تھی۔ ایشیا اور افریقہ کی تحریکاتِ آزادی نے اس جدوجہد سے حوصلہ پایا۔ برصغیر کے مسلمان ترک قوم کی کامیابی پر سجدہ شکر بجا لائے۔ یہ ایک ایسا لمحہ تھا جب ترکی صرف اپنے لیے نہیں، پوری امتِ مسلمہ کے لیے استعارہ بن گیا۔

    یومِ ظفر پر مارچ : یادگار اور پیغام

    30 اگست یومِ ظفر

    آج جب ہر سال ہزاروں ترک شہری شوہوت سے کوجاتپے تک کا سفر دہراتے ہیں تو یہ صرف ایک مارچنہیں ہوتا۔ یہ ایک عہد کی تجدید ہوتی ہے کہ قربانی کے بغیر آزادی ممکن نہیں، اور اتحاد کے بغیر طاقت بے معنی ہے۔ جشنِ فتح یا ظفر یورویشی گویا ایک چلتی پھرتی تاریخ ہے جو ہر نسل کو سبق دیتی ہے۔

    یومِ ظفر کا لازوال پیغام

    30 اگست ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ:

    • غلامی کی زنجیریں اس وقت ٹوٹتی ہیں جب ملت متحد ہو۔
    • سیاست اور جنگ اگر ایک حکمت میں پرو جائیں تو تاریخ کا دھارا پلٹا جا سکتا ہے۔
    • اور ایک مخلص قیادت قوموں کو مایوسی سے نکال کر عروج کی طرف لے جا سکتی ہے۔

    یومِ ظفر ایک عہد ساز دن 

    ڈرونز کا بنایا گیا ستارہ و ہلال 

    یقیناً 30 اگست کوئی عام دن نہیں۔ یہ وہ دن ہے جب ترک ملت نے غلامی سے جمہوریت، شکست سے فتح اور تاریکی سے روشنی کا سفر مکمل کیا۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قربانی دینے والی قومیں کبھی فنا نہیں ہوتیں۔

    آج کا آزاد ترکی، جدید جمہوریہ، ترقی کرتی ہوئی معیشت اور بلند ہوتا ہوا پرچم دراصل اسی دن کی قربانیوں اور استقلال کا مرہونِ منت ہے۔

    30 اگست صرف ایک تاریخ نہیں، یہ ایک عہد ہے۔ ایک عہد کہ یہ ملت کبھی غلام نہیں ہوگی، یہ پرچم کبھی جھکے گا نہیں اور یہ سرزمین ہمیشہ آزاد رہے گی۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Article

    ترکیہ کی تاریخ ساز کامیابی،مقامی وسائل سے اسٹیل ڈوم یا فضائی ڈھال تیار کرنے والا پہلا اسلامی ملک جبکہ دنیا کےسر فہرست ممالک سے ایک بن گیا

    سسٹمز آف سسٹم، اسٹیل ڈوم دوستوں کیلیے اعتماد اور دشمنوں کیلیے خوف

    Next Article

    ترکیہ اپنے خطے پر مکمل غلبہ حاصل کرنے کی پوزیشن میں، ایٹمی توانائی سے چلنے والی جدید ترک آبدوزیں خطے کی طاقت کا توازن تبدیل کردیں گی

    اے آئی پی ٹیکنالوجی کی حامل آبدوزیں ریڈار سے مکمل طور پر اوجھل

    ڈاکٹر فرقان حمید

    Related Posts

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    21جنوری , 2026

    Comments are closed.

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    ٹیگز
    #اسرائیل #حقان فیدان #حماس #سیاحت #غزہ #فلسطین آئی ٹی استنبول اسلام آباد افراطِ زر الیکشن 2024 انتخابات انقرہ اپوزیشن ایردوان بھونچال بیسٹ ماڈل آف ترکیہ ترقی ترک صدی ترک میڈیا ترکیہ تعلیم حزبِ اختلاف دنیا دہماکہ دی اکانومسٹ روس سلائِڈر سلائیڈر--- شہباز شریف صدر ایردوان صدر ایردوان، وزیراعظم شہباز شریف، پاکستان، ترکیہ عدلیہ عمران خان فیچرڈ قاتلانہ حملہ لانگ مارچ مغربی میڈیا ملت اتحاد وزیراعظم وزیراعظم شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف، صدر ایردوان، پاکستان، امداد پاکستان پاک فوج یورپ
    • Facebook
    • Twitter
    • Instagram
    اہم خبریں

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    ترکیہ اسکالرشپس: دنیا کی جامع ترین ( fully funded)اسکالرشپس، آن لائن درخواستوں کا طوفان، ویب سائٹ کو کریش کے خدشات

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    مقبول پوسٹس

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026
    Tr-Urdu All Rights Reserved © 2022
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.