Close Menu
Tr-Urdu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Tr-Urdu
    Subscribe
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    Tr-Urdu
    You are at:Home»ترکیہ»ترکیہ اپنے خطے پر مکمل غلبہ حاصل کرنے کی پوزیشن میں، ایٹمی توانائی سے چلنے والی جدید ترک آبدوزیں خطے کی طاقت کا توازن تبدیل کردیں گی اے آئی پی ٹیکنالوجی کی حامل آبدوزیں ریڈار سے مکمل طور پر اوجھل
    ترکیہ

    ترکیہ اپنے خطے پر مکمل غلبہ حاصل کرنے کی پوزیشن میں، ایٹمی توانائی سے چلنے والی جدید ترک آبدوزیں خطے کی طاقت کا توازن تبدیل کردیں گی

    اے آئی پی ٹیکنالوجی کی حامل آبدوزیں ریڈار سے مکمل طور پر اوجھل

    ڈاکٹر فرقان حمیدBy ڈاکٹر فرقان حمید1ستمبر , 2025Updated:1ستمبر , 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔6 Mins Read
    ترک بحری بیڑہ
    پوسٹ شئیر کریں
    Facebook Twitter LinkedIn Email

    رپورٹ: ڈاکٹر فرقان حمید

    امریکی جریدہ نیشنل انٹرسٹ نے ترکیہ کی ریئس کلاس آبدوزوں پر تفصیلی تجزیہ کرتے ہوئے انہیں’خطے کے طاقت کے توازن کو بدل دینے والا ہتھیار‘ قرار دیا ہے۔ جریدے کے مطابق یہ آبدوزیں ترکیہ کی دفاعی حکمتِ عملی میں فیصلہ کن کردار ادا کریں گی اور خاص طور پر بحیرہ ایجین اور بحیرہ اسود میں ترکیہ کو ایسا غلبہ عطا کریں گی جو پہلے کبھی ممکن نہ تھا۔

    امریکی جریدہ نیشنل انٹرسٹ

    ترک بحری تاریخ کا تسلسل

    خیرالدین پاشا (باربروسا)

    یہ حقیقت فراموش نہیں کی جا سکتی کہ سلطنتِ عثمانیہ کے دور سے ترکیہ کے ملاح اور جہاز ران عالمی سمندری قوتوں کے مقابلے میں صفِ اول پر رہے ہیں۔ خیرالدین پاشا (باربروسا) اور ترگت  ریئس جیسے سپہ سالاروں نے بحیرہ روم کی لہروں پر اپنی بہادری کے نقوش چھوڑے۔ ’’ریئس کلاس‘‘ کا نام دراصل اسی عظیم میراث کو آگے بڑھانے کا ایک استعارہ ہے۔

    جدید ٹیکنالوجی کا شاہکار

    جدید ترک آبدوز

    ریئس کلاس آبدوزیں نہ صرف جدید ڈیزائن رکھتی ہیں بلکہ ان میں ہوا سے آزاد انجن (AIP) ٹیکنالوجی موجود ہے جس کی بدولت یہ طویل عرصے تک زیرِآب رہ کر دشمن کی نظروں سے اوجھل رہتی ہیں۔ امریکی تجزیے کے مطابق ان کا شور اس قدر کم ہے کہ دشمن کے ریڈار انہیں ڈھونڈنے میں تقریباً ناکام رہتے ہیں۔ یہی صلاحیت انہیں ترکیہ کی ’ غیر متوازن بحری حکمتِ عملی ‘ کا مرکزی عنصر بناتی ہے۔

    ماوی وطن-(بلیو وطن)  اور ایردوان کا وژن

    صدر ایردوان

    صدر رجب طیب ایردوان بارہا اس حقیقت پر زور دے چکے ہیں کہ ’ مضبوط بحریہ کے بغیر کوئی قوم سمندروں میں اپنے حقوق کا دفاع نہیں کر سکتی۔ ‘ ان کے پیش کردہ  ’ ماوی وطن-بلیو وطن ‘ کے تصور نے دراصل ترکیہ کے بحری عزائم کو ایک نظریاتی بنیاد فراہم کی ہے۔ مشرقی بحیرہ روم میں توانائی کے ذخائر، تجارتی راہداریوں کا تحفظ اور سمندری حدود کی حفاظت، یہ سب اہداف ریئس کلاس آبدوزوں کے ذریعے حقیقت کا روپ دھار رہے ہیں۔ ترک بحریہ کی کمان میں شامل ہونے والی 214 طرز کی ریئس کلاس آبدوزیں، ترکیہ کی زیرِآب جنگی صلاحیتوں میں ایک نیا موڑ ہیں۔ اپنی خفیہ ساخت اور جدید خصوصیات کے باعث یہ آبدوزیں کم لاگت میں ترک بیڑے کے لیے زبردست قوت ثابت ہو رہی ہیں۔  یہ نہ صرف انقرہ کے دفاعی ڈھانچے کو طاقتور بنا رہی ہیں بلکہ ترکیہ کے علاقائی سمندری غلبے کے عزم کی علامت بھی سمجھی جا رہی ہیں۔

       ترک بحری تاریخ کا نیا باب

    ترک جدید آبدوز

    ترکیہ کا جدید آبدوز پروگرام 2006 میں شروع ہوا۔ اس مقصد کے لیے مختلف ممالک سے پیشکشیں طلب کی گئیں اور آخرکار 2011 میں جرمن-برطانوی اتحاد ایچ ڈی ڈبلیو (موجودہ تھائسِن کروپ میرین سسٹمز) کے ساتھ 6 آبدوزوں کی تیاری کا 2.06 ارب یورو کا معاہدہ طے پایا۔ یہ آبدوزیں گولجک شپ یارڈ میں تیار کی جا رہی ہیں۔

    ابتدا میں ’ جربہ کلاس ‘ کہلانے والے اس منصوبے کو 2014 میں سلطنتِ عثمانیہ کے عظیم ملاحوں کی یادگار کے طور پر ’ ریئس کلاس ‘ کا نام دیا گیا۔ منصوبے میں اسل سان، ہیول سان اور ایس ٹی ایم جیسی ترک دفاعی کمپنیوں نے کلیدی کردار ادا کیا اور بڑے پیمانے پر مقامی ٹیکنالوجی کو شامل کیا۔

    خطے میں طاقت کا توازن

    ترک جدید آبدوز

    ریئس کلاس آبدوزوں کی شمولیت یونان اور مشرقی بحیرہ روم میں ترکیہ کے لیے ایک توازن پیدا کرتی ہے۔ امریکی جریدے کے مطابق یہ آبدوزیں نہ صرف خطے کے خطرات کے مقابلے میں ڈھال ہیں بلکہ ترکیہ کی عسکری قوت کا وہ پہلو ہیں جو مخالفین کے لیے ناقابلِ پیش گوئی اور ڈرانے والا عنصر بن جائے گا۔

    مستقبل کی راہ: ملدن  اور ممکنہ ایٹمی آبدوزیں

    National Submarine Project

    ترک بحری بیڑہ

    ریئس کلاس کو دراصل ایک عبوری منصوبہ بھی کہا جا سکتا ہے کیونکہ ان کے بعد ’ ملدن ‘ یعنی National Submarine Projectمکمل طور پر مقامی ڈیزائن کی آبدوزوں کی تیاری شروع ہو گی۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ 2030 کی دہائی میں ترکیہ ایٹمی توانائی سے چلنے والی آبدوزوں کی جانب بھی قدم بڑھا سکتا ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو ترکیہ خطے میں پہلی مسلم طاقت ہو گی جو اس درجے کی بحری صلاحیت رکھتی ہو۔

    اسٹریٹجک کامیابی

    آخرکار یہ کہنا بجا ہے کہ ریئس کلاس آبدوزیں محض ایک فوجی منصوبہ نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک بیانیہ ہیں۔ یہ اس بات کی علامت ہیں کہ ترکیہ صرف خطے میں نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی اپنی بحری شناخت منوانے کے لیے پرعزم ہے۔ نیشنل انٹرسٹ نے درست ہی کہا کہ یہ پیش رفت محض جدید کاری نہیں بلکہ خطے میں طاقت کے توازن کو نئی شکل دینے والی ایک تاریخی کامیابی ہے۔

      دشمن کی نظروں سے اوجھل

    ترک بحری بیڑہ

    رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ اے آئی پی ٹیکنالوجی اور نہایت کم شور پیدا کرنے والے انجن کے باعث ریئس کلاس آبدوزیں طویل مدت تک زیرِآب رہنے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور دشمن کے ریڈار سے تقریباً مکمل طور پر اوجھل رہتی ہیں۔ یہی خصوصیت انہیں ترکیہ کی ’’غیر متوازن بحری حکمتِ عملی‘‘ کا مرکزی ہتھیار بناتی ہے۔

    بیڑے میں شمولیت کا شیڈول

    • ٹی سی جی پِری ریئس (S-330): 2019 میں سمندر میں اتاری گئی، 2022 میں آزمائشی سفر مکمل کیا اور اگست 2024 میں باقاعدہ سروس میں شامل ہو گئی۔
    • ٹی سی جی حِضر ریئس (S-331): 2023 میں سمندر سے روشناس ہوئی اور رواں برس بحریہ میں شامل ہو گی۔
    • ٹی سی جی مُرات ریئس (S-332): 2025 میں پہلی بار پانی میں اتاری گئی۔
    • باقی تین آبدوزیں، ’ اوروج ریئس ‘ ، ’ سلیمان ریئس ‘ اور ’ یاوُز ریئس ‘ 2029 تک بیڑے کا حصہ بن جائیں گی۔

    رپورٹ میں صدر رجب طیب ایردوان کے اس موقف کا بھی ذکر کیا گیا کہ ایک مؤثر اور طاقتور بحریہ ترکیہ کی بقا اور خطے میں مفادات کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہے۔’ ماوی وطنMavi Vatan یعنی نیلا وطن ‘ کے تصور کے تحت ترکیہ اپنے سمندری حقوق، توانائی و تجارتی راہداریوں کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کر رہا ہے اور ریئس کلاس آبدوزیں اسی حکمتِ عملی کی ٹھوس مثال ہیں۔

    خطرات کے مقابلے میں توازن

    ترک بحری بیڑہ

    امریکی جریدہ مزید لکھتا ہے کہ یہ آبدوزیں یونان اور مشرقی بحیرہ روم میں ممکنہ خطرات کے خلاف ترکیہ کے لیے ایک توازن قائم کرتی ہیں اور ملکی دفاعی ڈھانچے میں فیصلہ کن کردار ادا کریں گی۔

    ایک تاریخی کامیابی

    تجزیے کا اختتام اس جملے پر ہوا کہ ’ ریئس کلاس آبدوزیں صرف ایک جدید کاری منصوبہ نہیں بلکہ خطے میں ترکیہ کی بحری بالادستی کو دوبارہ قائم کرنے والی ایک بڑی اسٹریٹجک کامیابی ہیں۔ ‘

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Article

    30اگست، یومِ ظفر: ملتِ ترکیہ کی جاویداں داستان، مصطفیٰ کمال اتاترک کی قیادت میں حاصل کردہ عظیم الشان فتح نے غلامی کی زنجریں توڑ دیں

    یومِ ظفر محض ایک عسکری کامیابی نہیں بلکہ ایک تہذیبی و سیاسی بیداری تھی

    Next Article

    ڈاکٹر جمال سانگو: پاک-ترک دل کی دھڑکن، مقبولیت کا منفرد باب، ثقافت اور تہذیب کا سفیر، پاکستان اور ترکیہ دوستی کا لازوال نشان

    الوداع قونصلر جنرل جمال سانگو ، پاکستان آپ کو miss کرے گا

    ڈاکٹر فرقان حمید

    Related Posts

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    21جنوری , 2026

    Comments are closed.

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    ٹیگز
    #اسرائیل #حقان فیدان #حماس #سیاحت #غزہ #فلسطین آئی ٹی استنبول اسلام آباد افراطِ زر الیکشن 2024 انتخابات انقرہ اپوزیشن ایردوان بھونچال بیسٹ ماڈل آف ترکیہ ترقی ترک صدی ترک میڈیا ترکیہ تعلیم حزبِ اختلاف دنیا دہماکہ دی اکانومسٹ روس سلائِڈر سلائیڈر--- شہباز شریف صدر ایردوان صدر ایردوان، وزیراعظم شہباز شریف، پاکستان، ترکیہ عدلیہ عمران خان فیچرڈ قاتلانہ حملہ لانگ مارچ مغربی میڈیا ملت اتحاد وزیراعظم وزیراعظم شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف، صدر ایردوان، پاکستان، امداد پاکستان پاک فوج یورپ
    • Facebook
    • Twitter
    • Instagram
    اہم خبریں

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    ترکیہ اسکالرشپس: دنیا کی جامع ترین ( fully funded)اسکالرشپس، آن لائن درخواستوں کا طوفان، ویب سائٹ کو کریش کے خدشات

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    مقبول پوسٹس

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026
    Tr-Urdu All Rights Reserved © 2022
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.