Close Menu
Tr-Urdu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Tr-Urdu
    Subscribe
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    Tr-Urdu
    You are at:Home»پاکستان»ڈاکٹر جمال سانگو: پاک-ترک دل کی دھڑکن، مقبولیت کا منفرد باب، ثقافت اور تہذیب کا سفیر، پاکستان اور ترکیہ دوستی کا لازوال نشانالوداع قونصلر جنرل جمال سانگو ، پاکستان آپ کو miss کرے گا
    پاکستان

    ڈاکٹر جمال سانگو: پاک-ترک دل کی دھڑکن، مقبولیت کا منفرد باب، ثقافت اور تہذیب کا سفیر، پاکستان اور ترکیہ دوستی کا لازوال نشان

    الوداع قونصلر جنرل جمال سانگو ، پاکستان آپ کو miss کرے گا

    ڈاکٹر فرقان حمیدBy ڈاکٹر فرقان حمید4ستمبر , 2025Updated:4ستمبر , 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔7 Mins Read
    ڈاکٹر جمال سانگو پاک-ترک دل کی دھڑکن
    پوسٹ شئیر کریں
    Facebook Twitter LinkedIn Email

    تحریر: ڈاکٹر فرقان حمید

    دنیا میں بعض شخصیات ایسی بھی آتی ہیں جو اپنی سادہ مسکراہٹ، بے مثال محبت، اور خلوص کے ذریعے ایسے نقوش چھوڑ جاتی ہیں کہ وقت گزرنے کے باوجود وہ ہمیشہ یاد رکھی جاتی ہیں۔ ترکیہ کے قونصلر جنرل کراچی، ڈاکٹر جمال سانگو انہی میں سے ایک نام ہیں۔ ان کی مدتِ معیاد اب اپنے اختتام کو پہنچی ہے اور وہ جلد ترکیہ واپس روانہ ہونے والے ہیں، لیکن وہ اپنی خدمات، اپنی شخصیت، اور اپنے دلنشین اندازِ سفارتکاری کے باعث پاکستان اور خصوصاً کراچی کے عوام کے دلوں پر وہ چھاپ چھوڑ گئے ہیں جو شاید ہی کسی اور ترک سفارتکار کے حصے میں آئی ہو۔

    ڈاکٹر جمال سانگو۔قونصلر جنرل کراچی

    کراچی میں ایک محبت بھرا سفیر

    پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات ہمیشہ برادرانہ اور تاریخی نوعیت کے رہے ہیں۔ ان رشتوں کو مزید مضبوط کرنے کے لیے ہر دور میں ترک سفارتکاروں نے اپنی خدمات انجام دیں، مگر جمال سانگو کی سفارتکاری کا رنگ مختلف تھا۔ وہ محض ترکیہ کے نمائندہ نہیں تھے بلکہ ایک ایسے سفیر تھے جنہوں نے پاکستانی عوام کے ساتھ رشتہ دلوں سے جوڑا۔ کراچی کی گلیوں، ثقافتی تقریبات اور علمی محافل میں ان کی موجودگی نے ایک ایسی قربت پیدا کی جو رسمی سفارتکاری سے بڑھ کر ایک رشتۂ محبت کی صورت اختیار کر گئی۔

    کراچی میں ان کا قیام محض ایک سفارتکار کی ذمہ داریوں تک محدود نہ رہا۔ انہوں نے ترکیہ کو پاکستانی عوام کے دلوں میں اس طرح راسخ کیا کہ آج انہیں محبت سے “پاکستان اور ترکیہ کا دل” کہا جاتا ہے۔ ان کے بچھڑنے پر نہ صرف کراچی بلکہ پورے پاکستان کے لوگ انہیں شدت سے یاد کریں گے۔

    مقبولیت کا ایک منفرد باب

    ڈاکٹر جمال سانگوگورنر سندھ اور وزیر اعلیٰ سندھ کے ہمراہ

    پاکستان میں شاید ہی کوئی اور ترک قونصلر جنرل ہو جسے وہ مقبولیت حاصل ہوئی ہو جو جمال سانگو کو نصیب ہوئی۔ ان کے الوداعی لمحات میں یہ منظر بخوبی نظر آ رہا ہے کہ کراچی کے نامور ادارے، جامعات، سماجی تنظیمیں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات ان کے اعزاز میں ضیافتوں اور تقریبات کا اہتمام کر رہی ہیں۔ یہ تقاریب محض رسمی نہیں بلکہ ان کے دلوں میں موجود محبت اور عقیدت کا عملی اظہار ہیں۔

    ان کی عادت تھی کہ کوئی بھی دعوت ہو، خواہ چند لمحوں کے لیے ہی سہی، وہ ضرور شرکت کرتے تاکہ سب کا دل رکھا جا سکے۔ یہی ان کی عظمت اور ان کی شرافت کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔

    ڈاکٹر جمال سانگو قونصلر جنرل کراچی

    جمال سانگو کا قیام کراچی میں ایک اور حوالے سے بھی یادگار رہا۔ اپنی سفارتی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ انہوں نے تعلیم کے میدان میں بھی ایک قابلِ ذکر کارنامہ انجام دیا۔ کراچی کی ایک معروف نجی جامعہ سے انہوں نے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ یہ نہ صرف ان کی علمی لگن کا اظہار ہے بلکہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان علمی و تعلیمی روابط کو مضبوط بنانے کی ایک خوبصورت علامت بھی ہے۔ اب وہ جب ترکیہ کی وزارتِ خارجہ میں اپنے نئے منصب پر فائز ہوں گے تو ایک ڈاکٹر جمال سانگو کی حیثیت سے اپنی خدمات جاری رکھیں گے۔ یہ اعزاز نہ صرف ان کا ہے بلکہ پاکستان کے لیے بھی باعثِ فخر ہے۔

    ثقافت اور تہذیب کا سفیر

    ڈاکٹر جمال سانگو قونصلر جنرل کراچی

    کراچی میں اپنے قیام کے دوران انہوں نے ترکیہ کو محض ایک سیاسی یا تجارتی پارٹنر کے طور پر متعارف نہیں کروایا بلکہ ایک تہذیبی اور ثقافتی ورثے کے امین کے طور پر بھی روشناس کروایا۔ ان کی سرپرستی میں کراچی میں کئی ایک ثقافتی تقریبات منعقد ہوئیں جن میں ترکی موسیقی، فنونِ لطیفہ، فلمی نمائشیں اور ادبی محافل شامل تھیں۔ یہ تقریبات نہ صرف پاکستانی عوام کو ترکیہ کے قریب لے آئیں بلکہ دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان دوستی کو مزید گہرا کر گئیں۔

    انہوں نے ترکیہ کی تاریخ، تہذیب اور روایات کو کراچی کے ہر طبقے تک پہنچایا۔ یہی وجہ ہے کہ آج کراچی کے عام شہری سے لے کر دانشور طبقے تک ہر ایک انہیں خلوص اور محبت سے یاد کرتا ہے۔

    دلوں کو جوڑنے والا سفارتکار

    ڈاکٹر جمال سانگو قونصلر جنرل کراچی

    جمال سانگو کی سب سے بڑی کامیابی یہ رہی کہ انہوں نے دلوں کو جوڑا۔ سفارتکاری عام طور پر رسمی ملاقاتوں، سرکاری معاہدوں اور سیاسی بیانات تک محدود رہتی ہے، مگر انہوں نے اس دائرے کو توڑتے ہوئے عوامی سفارتکاری کی ایک نئی روایت قائم کی۔ ان کی مجالس میں عام شہری بھی شامل رہا اور اعلیٰ سیاسی قیادت بھی۔ وہ سب کے ساتھ یکساں محبت اور احترام کے ساتھ ملتے۔

    کراچی کے وہ لوگ جو ان سے ملے، سب اس بات پر متفق ہیں کہ وہ ایک ایسے سفارتکار تھے جن کے رویے میں کبھی غرور یا تکلف نہیں آیا۔ وہ ہر ایک سے ایسے ملتے جیسے پرانے دوست ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے جانے کا دکھ ہر دل کو ہے۔

    پاکستان اور ترکیہ کی لازوال دوستی کا نشان

    ڈاکٹر جمال سانگو قونصلر جنرل کراچی

    ترکیہ اور پاکستان کے تعلقات محبت، ایثار اور قربانی کی طویل داستان رکھتے ہیں۔ ان تعلقات کی بنیاد خلافتِ عثمانیہ کے دور میں رکھی گئی جب برصغیر کے مسلمانوں نے ترک بھائیوں کے لیے اپنی سب کچھ قربان کر دیا۔ اس محبت کو بعد کے ادوار میں مختلف ترک اور پاکستانی رہنماؤں نے پروان چڑھایا۔ آج یہ رشتہ ایک ایسی مثال بن چکا ہے جس پر دنیا رشک کرتی ہے۔

    اس محبت کے سفر میں جمال سانگو کا کردار ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کراچی میں اپنے قیام کے دوران اس رشتے کو نہ صرف مزید مضبوط کیا بلکہ ایک نئی روح بھی بخشی۔ ان کے جانے کے بعد بھی یہ محبت اسی طرح قائم رہے گی اور انہیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

    الوداعی لمحات اور یادگار نقوش

    ڈاکٹر جمال سانگو قونصلر جنرل کراچی

    کسی بھی محبوب شخصیت کی رخصتی ہمیشہ دلوں کو اداس کر دیتی ہے۔ کراچی آج ایک ایسے ہی دوراہے پر کھڑا ہے جہاں لوگ خوش بھی ہیں کہ جمال سانگو نے اپنے وطن واپس جا کر اپنی نئی ذمہ داریاں سنبھالنی ہیں، اور غمگین بھی ہیں کہ وہ ایک ایسے دوست سے بچھڑ رہے ہیں جس نے ان کے دل جیت لیے۔

    ان کی یادگار تقریبات، ان کے محبت بھرے جملے، ان کی مسکراہٹ اور ان کا خلوص ہمیشہ کراچی کے باسیوں کے دلوں میں زندہ رہے گا۔

    ایک سفارتکار کی کامیابی

    ڈاکٹر جمال سانگو قونصلر جنرل کراچی

    سفارتکار کی اصل کامیابی یہی ہوتی ہے کہ وہ میزبان ملک میں عوام کے دل جیت لے۔ جمال سانگو نے یہ کامیابی بھرپور انداز میں حاصل کی۔ وہ صرف ایک ترک سفارتکار نہیں تھے بلکہ وہ پاکستان کے دوست، کراچی کے ساتھی اور عوام کے دلوں کی دھڑکن بن گئے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا نام ہمیشہ محبت اور بھائی چارے کی علامت کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔

    ڈاکٹر جمال سانگو کا قیام کراچی میں ایک تاریخ ساز دور کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے اپنے کردار، خدمات اور خلوص سے پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات میں ایک نئی روح پھونک دی۔ ان کی رخصتی پاکستانی عوام کے لیے ایک دکھ بھرا لمحہ ضرور ہے، مگر یہ حقیقت بھی ہے کہ ان کا چھوڑا ہوا ورثہ، ان کی یادیں اور ان کے نقوش ہمیشہ زندہ رہیں گے۔

    ڈاکٹر جمال سانگو قونصلر جنرل کراچی

    کراچی کے لوگ آج ان سے محبت کے جذبات کے ساتھ رخصت کر رہے ہیں اور دعاگو ہیں کہ ترکیہ کی وزارتِ خارجہ میں وہ مزید ترقی کریں، اپنے ملک کا نام مزید بلند کریں اور پاکستان و ترکیہ کی دوستی کو ہمیشہ زندہ رکھیں۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Article

    ترکیہ اپنے خطے پر مکمل غلبہ حاصل کرنے کی پوزیشن میں، ایٹمی توانائی سے چلنے والی جدید ترک آبدوزیں خطے کی طاقت کا توازن تبدیل کردیں گی

    اے آئی پی ٹیکنالوجی کی حامل آبدوزیں ریڈار سے مکمل طور پر اوجھل

    Next Article 6 ستمبر 1965 یومِ دفاع پاکستان ، جنگی ،عظمت، قومی اتحاد کا ناقابلِ فراموش دن جس نے معرکہ حق کی بنیاد رکھی اور اپنی فتح کی مہر ثبت کردی
    ڈاکٹر فرقان حمید

    Related Posts

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    21جنوری , 2026

    Comments are closed.

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    ٹیگز
    #اسرائیل #حقان فیدان #حماس #سیاحت #غزہ #فلسطین آئی ٹی استنبول اسلام آباد افراطِ زر الیکشن 2024 انتخابات انقرہ اپوزیشن ایردوان بھونچال بیسٹ ماڈل آف ترکیہ ترقی ترک صدی ترک میڈیا ترکیہ تعلیم حزبِ اختلاف دنیا دہماکہ دی اکانومسٹ روس سلائِڈر سلائیڈر--- شہباز شریف صدر ایردوان صدر ایردوان، وزیراعظم شہباز شریف، پاکستان، ترکیہ عدلیہ عمران خان فیچرڈ قاتلانہ حملہ لانگ مارچ مغربی میڈیا ملت اتحاد وزیراعظم وزیراعظم شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف، صدر ایردوان، پاکستان، امداد پاکستان پاک فوج یورپ
    • Facebook
    • Twitter
    • Instagram
    اہم خبریں

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    ترکیہ اسکالرشپس: دنیا کی جامع ترین ( fully funded)اسکالرشپس، آن لائن درخواستوں کا طوفان، ویب سائٹ کو کریش کے خدشات

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    مقبول پوسٹس

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026
    Tr-Urdu All Rights Reserved © 2022
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.