Close Menu
Tr-Urdu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Tr-Urdu
    Subscribe
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    Tr-Urdu
    You are at:Home»ترکیہ»اسرائیل کا پہلا ہدف قطر نہیں بلکہ ترکیہ تھا، نیٹو کی رکنیت اسرائیلی حملے کی راہ میں رکاوٹ، حماس کے اعلیٰ حکام کاترکیہ میں قیام اورایردوان سے رابطہ یہ حملہ صرف قطر پر نہیں بلکہ پوری امتِ مسلمہ پر حملہ ہے: صدر ایردوان
    ترکیہ

    اسرائیل کا پہلا ہدف قطر نہیں بلکہ ترکیہ تھا، نیٹو کی رکنیت اسرائیلی حملے کی راہ میں رکاوٹ، حماس کے اعلیٰ حکام کاترکیہ میں قیام اورایردوان سے رابطہ

    یہ حملہ صرف قطر پر نہیں بلکہ پوری امتِ مسلمہ پر حملہ ہے: صدر ایردوان

    ڈاکٹر فرقان حمیدBy ڈاکٹر فرقان حمید11ستمبر , 2025Updated:29ستمبر , 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔6 Mins Read
    اسرائیل کا پہلا ہدف ترکیہ تھا
    پوسٹ شئیر کریں
    Facebook Twitter LinkedIn Email

    رپورٹ: ڈاکٹر فرقان حمید

    اسرائیل کا پہلا ہدف قطر نہیں  ترکیہ تھا

    قطر-اسرائیل اور امریکہ

    اسرائیل جو خود  کو خطے کی “ناقابلِ شکست طاقت” سمجھتا ہے، دراصل عالمی ضمیر پر ایک ایسا بوجھ ہے جس نے انسانی اقدار، عالمی قوانین اور ریاستی خودمختاری کو مذاق بنا کر رکھ دیا ہے۔ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں حماس کے مذاکراتی وفد پر حالیہ اسرائیلی حملہ نہ صرف اس خطے کی خودمختاری پر کاری ضرب ہے بلکہ ایک ایسا سنگین سوال بھی اٹھاتا ہے: کیا اسرائیل کو کوئی روکنے والا باقی رہ گیا ہے؟

    پہلا ہدف قطر نہیں ترکیہ تھا

    لیکن اس بار صورتحال ذرا مختلف ہے۔ اسرائیلی ریاستی ٹی وی کان اور لبنانی اخبار الاخبار نے تہلکہ خیز انکشاف کیا کہ تل ابیب کا اصل منصوبہ دوحہ نہیں بلکہ انقرہ تھا۔ یعنی پہلا ہدف قطر نہیں، ترکیہ تھا۔ اگرچہ ترکیہ کی نیٹو رکنیت اور عالمی سطح پر ممکنہ ردِعمل کے باعث اسرائیل نے وقتی طور پر قطر کا انتخاب کیا، لیکن اس سے ایک حقیقت پوری دنیا پر عیاں ہو گئی کہ اسرائیل کی جارحانہ پالیسیوں میں ترکیہ اس کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

    انقرہ کے نقطۂ نظر سے اسرائیلی حملے کو اہم بنانے والا ایک اور پہلو یہ ہے کہ حماس کے اعلیٰ حکام اکثر جن ممالک کا دورہ کرتے ہیں، ان میں ترکیہ  سر فہرست ہے اور صدر رجب طیب ایردوان بھی وقتاً فوقتاً حماس کے رہنماؤں سے ملاقات کرتے رہتے ہیں۔ترکیہ کا حماس کی جانب سے آخری دورہ یکم اگست کو کیا گیا تھا۔

    ایردوان کا جرات مندانہ اعلان: ’یہ حملہ امت پر ہے‘

    صدر رجب طیب ایردوان

    صدر رجب طیب ایردوان نے اس صورتحال پر ردِعمل دیتے ہوئے ایک بار پھر دنیا کو یاد دلایا کہ ترکیہ محض ایک ریاست نہیں بلکہ امت کی ترجمانی کرنے والی آواز ہے۔ قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمدالثانی سےگفتگو کرتے ہوئےایردوان نے دوٹوک الفاظ میں کہاکہ ’یہ حملہ صرف قطر پر نہیں بلکہ پوری امتِ مسلمہ پر حملہ ہے۔ جو ہاتھ آج دوحہ تک پہنچا ہے، وہ کل مکہ و مدینہ کی طرف بھی بڑھ سکتا ہے۔‘

    ایردوان کا یہ بیان محض سفارتی جملہ نہیں تھا۔ یہ دراصل امتِ مسلمہ کو جھنجھوڑنے والی للکار تھی۔ ان کے الفاظ میں وہی حوصلہ جھلکتا تھا جو کبھی صلاح الدین ایوبی نے صلیبیوں کے مقابلے میں دکھایا تھا۔ آج جب عرب دنیا خاموش ہے، جب مسلم حکمران اپنی سلامتی کے ضامن امریکا اور مغرب کو بنا بیٹھے ہیں، اس وقت صرف ایردوان ہیں جو اسرائیل کو کھلے عام للکارنے کی ہمت رکھتے ہیں۔

    ترکیہ کا فوری اور دوٹوک ردِعمل

    صدر ایردوان اور امیر قطر

    حملے کے چند ہی گھنٹوں بعد انقرہ نے باضابطہ بیان جاری کر کے اسرائیل کو “ریاستی دہشت گرد” قرار دیا۔ وزارتِ خارجہ نے واضح الفاظ میں کہاکہ’اسرائیل نے جنگ بندی مذاکرات کی میزبانی کرنے والے قطر کو نشانہ بنا کر ثابت کیا ہے کہ وہ نہ امن کا خواہاں ہے اور نہ مذاکرات کا۔ اس حملے نے اسرائیل کی توسیع پسندانہ پالیسی اور دہشت گردی کو ریاستی پالیسی کے طور پر اپنانے کے عزائم کو بے نقاب کر دیا ہے۔‘

    وزیر خارجہ حقان فیدان نے بھی سخت لہجہ اپناتے ہوئے کہاکہ  ’یہ حملہ ایک آزاد اور خودمختار ریاست کی حرمت کی پامالی ہے۔ ترکیہ قطر کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعلان کرتا ہے اور عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ اب مزید خاموشی کی گنجائش باقی نہیں رہی۔‘

    اسرائیل کی توسیع پسندی اور تاریخ کا تسلسل

    وزیر خارجہ حقان فیدان اور حماس وفد

    اگر ہم اسرائیل کے ماضی پر نظر ڈالیں تو ایک ہی بات بار بار سامنے آتی ہے: توسیع پسندی اور سرحدوں کی پامالی۔ فلسطین کے اندر غیر قانونی بستیاں ہوں یا شام میں فضائی حملے، لبنان پر یلغار ہو یا ایران کے سائنس دانوں کو نشانہ بنانا، اسرائیل نے ہمیشہ یہ پیغام دیا ہے کہ وہ قانون سے بالاتر ہے۔

    قطر پر حملہ اس تسلسل کی ایک نئی کڑی ہے۔ مگر اس بار فرق یہ ہے کہ اسرائیل کا اصل ہدف ترکیہ  تھا۔ اور یہ اسی بات کا ثبوت ہے کہ تل ابیب کے پالیسی ساز بخوبی جانتے ہیں کہ ترکیہ ہی وہ طاقت ہے جو اسرائیلی منصوبوں کو سب سے بڑی رکاوٹ بن سکتی ہے۔

    ترکیہ: عالمِ اسلام کی قیادت

    قطر پر حملہ

    صدر ایردوان کی قیادت میں ترکیہ محض ایک جغرافیائی ریاست نہیں رہا، بلکہ ایک ایسی قوت بن گیا ہے جسے امتِ مسلمہ کی ڈھال کہا جا سکتا ہے۔ چاہے فلسطین کا مسئلہ ہو یا شام کی خانہ جنگی، چاہے یمن کی تباہی ہو یا روہنگیا مسلمانوں کا کرب، ترکیہ ہمیشہ امت کے ساتھ کھڑا دکھائی دیتا ہے۔

    ایردوان کی للکار اس بات کا اعلان ہے کہ اگر اسرائیل نے ترکیہ کو للکارا تو وہ محض ایک ریاست کو نہیں بلکہ پوری امت کو للکارے گا۔ اور اس امت کی قیادت ترکیہ اپنے کندھوں پر اٹھانے کے لیے تیار ہے۔

    نیٹو کی رکاوٹ اور مستقبل  کے خدشات

    ترک فوجی قطر میں

    اسرائیلی میڈیا کی رپورٹس میں واضح کہا گیا ہے کہ نیتن یاہو نے ترکیہ  پر حملے کا منصوبہ اس لیے مؤخر کیا کہ ترکیہ نیٹو کا حصہ ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر کل اسرائیل ترکیہ میں موجود حماس رہنماؤں کو نشانہ بنانے کی جرات کرتا ہے تو کیا نیٹو واقعی حرکت میں آئے گا یا ایک بار پھر خاموش تماشائی بن کر رہ جائے گا؟ تاریخ بتاتی ہے کہ مغربی اتحاد نے کبھی مسلم ممالک کے حق میں کھڑے ہونے کی ہمت نہیں دکھائی۔ اس لیے ترکیہ جانتا ہے کہ اسے اپنی حفاظت خود کرنی ہے۔

    خطے کا نیا اور خطرناک موڑ

    ایران، شام، یمن اور اب قطر… اسرائیلی جارحیت کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتا جا رہا ہے۔ اس تناظر میں ترکیہ کے لیے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا کل وہ براہِ راست اسرائیلی جارحیت کا ہدف بنے گا؟ یہی خدشہ انقرہ کو مجبور کر رہا ہے کہ وہ عسکری اور انٹیلیجنس سطح پر اپنی تیاریاں بڑھائے۔

    ایردوان کی للکار، امت کا امتحان

    ایردوان کی للکار

    آج کا سب سے بڑا سوال یہ نہیں کہ اسرائیل کا اگلا ہدف کون سا ملک ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ امت کب جاگے گی؟
    صدر ایردوان نے ایک بار پھر امت کو جگانے کی کوشش کی ہے۔ ان کی للکار اس بات کا اعلان ہے کہ اگر باقی دنیا خاموش بھی رہی، تو ترکیہ اسرائیل کے خلاف ڈٹ کر کھڑا ہوگا۔ مگر کیا ایردوان کی یہ تنہا للکار کافی ہوگی؟ یا امتِ مسلمہ اپنی صفوں کو جوڑ کر ایک نئی تاریخ رقم کرے گی؟

    وقت کا تقاضا یہی ہے کہ مسلمان اپنے اختلافات بھلا کر ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہوں۔ اگر آج بھی غفلت برتی گئی تو اسرائیل کا ہاتھ قطر سے آگے بڑھتے ہوئے شاید کل ترکیہ اور پھر حرمین تک جا پہنچے۔

    ایردوان نے اپنا فرض ادا کر دیا ہے۔ اب باری امت کی ہے کہ وہ فیصلہ کرے: خاموش تماشائی رہنا ہے یا صفِ جنگ میں کھڑے ہو کر اپنی تقدیر خود رقم کرنی ہے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Article

    قطر کی اسرائیل اور امریکہ نواز خوشامد نہ پالیسی بھی قطر کو اسرائیلی حملے سے نہ بچاسکی، اب اگلی باری کس ملک کی ہے؟عرب ممالک میں بھگڈرمچ گئی

    اسلامی ممالک میں نیٹو طرز عسکری اتحاد قائم کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں

    Next Article

    نسل کشی میں ملوث اسرائیل پر فوری طور پر پابندیاں عائد کرنے کی ضرورت ہے، غزہ میں جاری قتلِ عام نے اسرائیل کی درندگی کو بے نقاب کر دیا ہے

    قطر جیسے ثالث کو نشانہ بنا کر غنڈہ گردی کے تمام حدود پار: صدر ایردوان

    ڈاکٹر فرقان حمید

    Related Posts

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    21جنوری , 2026

    Comments are closed.

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    ٹیگز
    #اسرائیل #حقان فیدان #حماس #سیاحت #غزہ #فلسطین آئی ٹی استنبول اسلام آباد افراطِ زر الیکشن 2024 انتخابات انقرہ اپوزیشن ایردوان بھونچال بیسٹ ماڈل آف ترکیہ ترقی ترک صدی ترک میڈیا ترکیہ تعلیم حزبِ اختلاف دنیا دہماکہ دی اکانومسٹ روس سلائِڈر سلائیڈر--- شہباز شریف صدر ایردوان صدر ایردوان، وزیراعظم شہباز شریف، پاکستان، ترکیہ عدلیہ عمران خان فیچرڈ قاتلانہ حملہ لانگ مارچ مغربی میڈیا ملت اتحاد وزیراعظم وزیراعظم شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف، صدر ایردوان، پاکستان، امداد پاکستان پاک فوج یورپ
    • Facebook
    • Twitter
    • Instagram
    اہم خبریں

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    ترکیہ اسکالرشپس: دنیا کی جامع ترین ( fully funded)اسکالرشپس، آن لائن درخواستوں کا طوفان، ویب سائٹ کو کریش کے خدشات

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    مقبول پوسٹس

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026
    Tr-Urdu All Rights Reserved © 2022
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.