Close Menu
Tr-Urdu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Tr-Urdu
    Subscribe
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    Tr-Urdu
    You are at:Home»دنیا»غزّہ جل رہا ہے اور عرب اسلامی رہنما قطر میں بانسری( طویل بھاشن دے رہے ہیں ) بجا رہے ہیں۔ فارسی مقولہ ہے ’آمدند، نشستند، گفتند و برخاستند ‘
    دنیا

    غزّہ جل رہا ہے اور عرب اسلامی رہنما قطر میں بانسری( طویل بھاشن دے رہے ہیں ) بجا رہے ہیں۔ فارسی مقولہ ہے ’آمدند، نشستند، گفتند و برخاستند ‘

    ڈاکٹر فرقان حمیدBy ڈاکٹر فرقان حمید16ستمبر , 2025Updated:16ستمبر , 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔10 Mins Read
    قطر-عرب اسلامی تنظیم کانفرنس
    پوسٹ شئیر کریں
    Facebook Twitter LinkedIn Email

    تحریر: ڈاکٹر فرقان حمید

    غزہ

    جب غزّہ کی گلیاں آگ اور خون سے سرخ ہیں، معصوم بچے ملبے کے نیچے دم توڑ رہے ہیں اور جب مائیں اپنے بے سہارا بچوں کے لیے بے تاب ہیں  اور آسمان بار بار خوں کے آنسو گرا رہا ہے ،تب بھی ہمارے رہنما طویل بھاشن دینے  اور  جذباتی نکتے اٹھانے کے سوا  عملی قدم اٹھانے  سے محروم ہیں۔

    روم جل رہا تھا تو نرو بانسری بجا رہا تھا

     تاریخ خود ایک عبرتِ گاہ ہے : جب روم جل رہا تھا تو نیرو بانسری بجا رہا تھا؛ آج وہی منظر ایک بار پھر دہرایا جا رہا ہے ۔  فرق صرف اتنا ہے کہ اب روم کی جگہ غزّہ ہے اور نیرو کی جگہ ہمارے اپنے اسلامی ممالک کے  رہنما ہیں جو (طویل بھاشن دینے )  بانسری بجانے کے سوا کچھ بھی  نہیں کر پا رہے ہیں ۔

    اس کالم میں صرف غزّہ کے دکھوں کا ذکر نہیں، بلکہ اُس المیے کا شجرۂ سبب کھولنے کی کوشش ہے جو عالمِ اسلام کو ایک خوفزدہ، نیم جاگتا، نیم مردہ ، اور اکثر مواقع پر خاموش مجموعہ بنا رہا ہے۔ یہ کالم ان رہنماؤں کے نام بھی ہے جو کانفرنس ہال میں شیر کی طرح رپورٹس پڑھ کر چلے جاتے ہیں، اور اُن غریبوں کے نام بھی ہے جن کی چیخیں کسی عظیم عالمی سسپنس میں گم ہو جاتی ہیں۔

    تاریخی رنگ، جدید المیہ

    روم کے زمانے کا وہ مشہور واقعہ محض روایت نہیں؛ یہ ایک علامت ہے جو رہنماؤں میں موجود بے حسی  کا اجاگر کرتی ہے۔ 21ویں صدی میں جب دنیا ٹیکنالوجی، اطلاعات اور بین الاقوامی روابط کے دور میں ہے، ہم نے دیکھا کہ تباہی کی تصویریں فوراً دنیا کے ہر گوشے میں پہنچ جاتی ہیں، مگر اسی رفتار کے ساتھ ہمارے جذباتی اظہار کا دورِ رس بھی محدود رہ جاتا ہے۔ دوحہ سمٹ جیسی کانفرنسیں، جو بظاہر  بہت اہم  حکمتِ عملی یا حکمتِ عملیاتی اتحاد کا آغاز بن سکتی تھی  صرف چند  صفحات کے اعلامیوں تک محدود  ہو کر رہ گئی ہے۔

    غزہ

    یہاں اصل سوال اٹھتا ہے: کیا صرف مذمت، بیانات اور فکری بیانات قوموں اور انسانوں کی جانیں بچا سکتے ہیں؟ کیا یہ بیانات اُن معصوموں کا خون روک سکتے ہیں جو سرِ بازار، سرِ راہ یا اپنے گھروں میں مارے جا رہے ہیں؟ سچ یہی ہے کہ مذمت صرف دل کی تسکین ہوتی ہے یا اپنے آپ کو فریب  دینے کا  دوسرا نام ہے۔ حقیقت اور عملی اقدام سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔  

    دوحہ کانفرنس میں صرف مذمت کیوں ؟

    دوحہ عرب -اسلامی تنظیم کانفرنس

    دوحہ سمٹ کے حوالے سے مبصرین درست کہتے ہیں کہ یہ موقع ایک مشترکہ بیانیے اور عملی حکمتِ عملی کے لیے تاریخی موقع تھا۔ایک مشہور فارسی زبان کا مقولہ ہے ‘آمدند، نشستند، گفتند و برخاستند ‘ ( جس کا ترجمہ ہے  وہ آئے، بیٹھے، گفتگو کی اور چلے گئے)  قطر میں بھی یہی سب کچھ ہوا ہے ۔

    کوئی ان رہنماؤں سے پوچھے  کیا   اس اہم کانفرنس کا نتیجہ صرف کاغذی مذمت  تھا  یا کوئی حقیقی لائحہ عمل اختیار کرنا بھی ؟

    مذاکراتی کمرے ہی وہ جگہ ہیں جہاں بڑے فیصلے  کیےجاتے ہیں ، مگر وہ فیصلے صرف اس وقت مؤثر ثابت ہوتے ہیں جب ان کے نفاذ کے لیے ٹھوس اقدامات، مشترکہ معاشی اور سیاسی دباؤ، اور لازمی سفارتی و عسکری کنونشنز تیار کیے جائیں۔ دوحہ میں اگر واقعی کوئی رُوحِ عملی پیدا ہو سکتی تھی تو آج دنیا کا منظر مختلف ہوتا۔ مگر افسوس، کانفرنس کے بعد صورتِ حال میں معمولی سی تبدیلی بھی دکھائی نہیں دیتی۔

    عرب رہنما  صرف دولت کے گھمنڈ میں  ہی مبتلا ہیں

    عرب رہنما

    عرب دنیا کی ستم ظریف حقیقت یہ ہے کہ دولت نے عوام کو ایک ایسے غول میں بدل دیا ہے جو اپنے ماضیِ رفتہ  اور بڑے نظریات سے  بہت دور  اور فاصلے پر  ہے۔  تیل و دولت نے بعض جگہوں پر قوموں کی سیاست میں بڑا جھکاؤ پیدا کیا: ریاستیں بیرونی سکیورٹی کی ضمانت امریکی اتحادی نظام پر چھوڑ چکی ہیں، مگر جب بحرِ آزمائش اٹھی تو پوشیدہ مفادات کھل کر سامنے آگئے۔

    یہی نہیں ،  بعض عرب ریاستوں نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات معمول پر لا کر ایک ایسا راستہ اختیار کیا جو فلسطینی مسئلے کو پسِ پشت چھوڑنے کی علامت بن گیا۔ ابراہیم معاہدہ جیسی مثالیں اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہیں کہ چند حکمران اپنے معاشی مفادات اور داخلی استحکام کو ترجیح دینے لگے ہیں، جس کا خمیازہ مظلوم عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔

    عالمی برادری کی منافقت

    یورپ بھر میں غزہ کے حق میں مظاہرے

    مغربی  ممالک  میں یا یورپ کے بڑے شہروں میں ہونے والے مظاہرے ،  جہاں لاکھوں افراد اسرائیل کی پالیسیوں کے خلاف نہ صرف لاکھوں کی تعداد میں مظاہروں میں شرکت کرتے ہیں اس سے پتہ چلتا ہے کہ  مغربی  مالک یا یورپ کے عوام دل سے فلسطین کے ساتھ ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہی عوامی رائے ان کی حکومتوں کے سفارتی فیصلوں میں جھلکتی ہے؟ اکثر اوقات جواب منفی ہوتا ہے۔ برسرِ اقتدار طبقات کے مفادات، دفاعی اور اقتصادی شراکت داری، اور عالمی سیاسی نقشے نے متعدد حکومتوں کو ایسے فیصلوں پر مجبور کر دیا ہے جو انسانی حقائق سے متصادم معلوم ہوتے ہیں۔

    یہ منافقت اس وقت تک برقرار رہتی ہے جب تک کہ کسی ملک کو براہِ راست خطرہ محسوس نہ ہو۔ مگر فلسطین کی سر مین  ہر مسلمان کے دل  میں گھر کیے ہوئے ہے ۔  یہ وہ معاملہ ہے جو جغرافیے سے بڑھ کر ایک تہذیبی، تاریخی اور اخلاقی ستون ہے۔ اس ستون کا کمزور پڑ جانا عالمِ اسلام کے ضمیر کو بھی سُن کر دے گا۔

    پاکستان: ایک تاریخی وقار

    دلیر اور با وقار پاکستان

    میں ذکر کرنا چاہوں گا پاکستان کا(اپنے پاکستانی ہونے پر ہمیشہ فخر ہے )   وہ ملک جو تاریخی طور پر مسلم اُمہ میں اپنی ایک حیثیت رکھتا ہے۔ پاکستان نے بین الاقوامی سطح پر بعض مواقع پر واضح موقف اختیار کیا جس نے دکھایا کہ جب قومی یا مذہبی عزم ہو تو ممالک دوری کے باوجود بھی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔ یہ حقیقت کہ پاکستان نے ماضی میں بعض عسکری واقعات میں غیر ممالک کی مدد سے ثابت کیا۔ 1967 کی عرب اسرائیل جنگ میں پاکستانی پائلٹوں نے  اردن میں اسرائیل کے جنگی طیارے گراکر اور پھر عراق میں  اسرائیل کے جنگی طیارے گراکر ثابت کیا کہ وہ کسی اسلامی مملکت کے دفاع میں کس قدر  سنجیدہ ہے، ایک حقیقت ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

    مگر پاکستان کا کردار تبھی بہتر ہوگا جب وہ عالمی سفارتی محاذ پر دوسروں کے ساتھ اتحاد قائم کرے، خود کو صرف نعرہ اور زبانی حمایت تک محدود نہ رکھے۔ پاکستان کو چاہئے کہ وہ عالمِ اسلام کے اندر ایک متحرک اور منطقی لائحہ عمل کے لیے سرپرستی کرے ،  چاہے وہ اقتصادی پابندیاں ہوں، فوجی و سماجی امدادی منصوبے ہوں یا بین الاقوامی عدالتی سطح پر مقدمات کی حمایت ہو۔

    عملی حکمتِ عملی: کیا کیا جائے؟

    اب سب سے اہم نکتہ: عملی اقدامات۔ کالم کا مقصد صرف ملامت کرنا نہیں، بلکہ ایک واضح، قابلِ عمل فریم ورک تجویز کرنا ہے جسے اسلامی رہنما اپنانے میں تذبذب نہ کریں۔ ذیل میں چند تجاویز پیشِ خدمت ہیں:

    1. مشترکہ سیاسی بیانیہ اور سخت اقتصادی سزائیں: چند ایک اسلامی ممالک مل کر اسرائیل کے خلاف اقتصادی، تجارتی اور سفارتی پابندیاں عائد کریں۔ بین الاقوامی NGO سطح پر تحقیقاتی ٹیمیں بھیج کر جرائمِ جنگ کی شق کو مضبوط کیا جائے اور مجرموں کے خلاف عالمی عدالتِ انصاف میں مقدمات چلائے جائیں۔
    2. سخت سفارتی اتحاد: عرب لیگ، او آئی سی اور دیگر اسلامی فورمز کو صرف بیانات کا ادارہ سمجھنے کی بجائے ایک فعال پلیٹ فارم بنایا جائے جہاں مشترکہ سفارتی اقدامات منظور کیے جائیں، سفارتی نمائندوں کی واپسی، قونصل خانوں کی بندش اور سفارتی تعلقات میں تنبیہی پالیسیاں قابلِ عمل ہو سکتی ہیں۔
    3. اقتصادی بائیکاٹ اور توانائی کا ہتھیار: عرب ممالک کے پاس توانائی کا بہت بڑا ہتھیار ہے؛( اسے سعودی عرب کے شاہ فیصل مرحوم استعمال بھی کرچکے ہیں ) اسے سیاسی دباؤ کے طور پر استعمال کیا جائے۔ مضبوط، مشترکہ اقتصادی بائیکاٹ اسرائیل اور اس کے حامیوں کے خلاف واضح پیغام ہوگا۔
    4. دفاعی شراکت داری اور تعاون: پاکستان، ترکیہ اور دیگر بااثر مسلم ممالک کو ایک دفاعی پیکج یا معلوماتی شراکت داری پر غور کرنا چاہیے جو محض شعاری اتحاد نہ ہو بلکہ حقیقی مشترکہ دفاعی مشقیں، بارڈر سکیورٹی تعاون اور اسلحہ سازی کے شعبوں میں اشتراک شامل ہو۔
    5. عوامی ہم آہنگی اور میڈیا جنگ: فلسطین کے حق میں عالمی سطح پر حکمتِ عملی بنیاد پر مہم چلائی جائے، سوشل میڈیا، فلم، ادب اور تحقیق کے ذریعے عالمی سطح پر حقیقت کو واضح کیا جائے اور جھوٹے بیانیوں کا مقابلہ کیا جائے۔
    6. انسانی امداد کا منظم نظام: فوری اور دیرپا بنیادوں پر امدادی لشکر تیار کیا جائے ، خوراک، ادویات، عارضی رہائش اور بچوں کے لیے نفسیاتی مدد فراہم کرنے والا منظّم نظام ہونا چاہیے۔
    7. قانونی و اخلاقی دباؤ: بین الاقوامی عدالتوں میں مقدمات کے ساتھ ساتھ، دنیا کے انسانی حقوق کے اداروں اور عوامی دباؤ کے ذریعے اسرائیل کے اقدامات کو بین الاقوامی بدنامی کا شکار کیا جائے۔

    غیرت  اور دلیری کی ضرورت

    یہ تمام پالیسیاں  صرف اس وقت ہی قابلِ عمل  ہوسکتی ہیں  جب عوام، نوجوان اور رہنما اپنی غیرتِ اسلامی کو جگائیں گے۔ غیرت کا مطلب جارحیت یا انتقام نہیں بلکہ قومی و اخلاقی موقف اور انصاف کا تقاضا ہے۔ دلیری کی واپسی کا آغاز شہریوں کے شعور سے، جامعات اور مساجد میں بات چیت سے، اور میڈیا میں مستقل حقائق کی نشاندہی سے ہوگا۔

    غزّہ کے خون میں نہ صرف فلسطین بلکہ پوری امت کی عزّت کھو رہی ہے۔ اگر ہم نے آج خاموشی اختیار کی تو کل ہماری آنے والی نسلیں ہمیں قصّہ عبرت کے طور پر یاد رکھیں گی۔

    بانسری بجانے ( بھاشن دینے ) کی بجائے عملی قدم

    آج روم نہیں، غزّہ جل رہا ہے۔ اس بار بانسری بجانے والوں کی فہرست میں وہ چہرے شامل ہیں جو ہمارے اپنے رہنما ہیں ۔   وہ  رہنما  جو کانفرنس ہال میں بیٹھ کر لمبے لمبے بھاشن دیتے ہیں  اور پھر اپنی مصروفیات میں مگن ہو جاتے ہیں۔ تاریخ اُنہیں معاف نہیں کرتی جو ظلم کے سامنے عملی قدم اٹھانے سے  اور دلیری سے گریز کرتے ہیں ۔

    ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے رہنماؤں سے مطالبہ کریں کہ وہ صرف بیانات تک محدود نہ رہیں۔ عالمِ اسلام کا وقت رعا‌یت اور آرام کا نہیں، عمل اور ذمہ داری کا ہے۔اگراسلامی  قیادت نے دلیری، بصیرت اور عملی حکمتِ عملی کا مظاہرہ کیا تو نہ صرف فلسطین کے مظلوموں کو سہارا ملے گا بلکہ عالمِ اسلام کی عزّت و وقار بھی بحال ہو گی۔ غزّہ کے بچوں کی آنکھوں میں رہنے والی وہ تصویر جو ہم آج دیکھ رہے ہیں، کل تاریخ میں ہمیں یا ہمارے جوابدہ سیاسی قیادت کو ضرور یاد رکھے گی۔

    اب وقت کا تقاضا یہی ہے: بولیں، مطالبہ کریں، اور رہنماؤں سے عملی اقدامات کرنے  کا مطالبہ کریں  ۔ بانسری بجانے  کا زمانہ گزر گیا  ہے  اب  وقتِ عمل ہے ۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Article

    نسل کشی میں ملوث اسرائیل پر فوری طور پر پابندیاں عائد کرنے کی ضرورت ہے، غزہ میں جاری قتلِ عام نے اسرائیل کی درندگی کو بے نقاب کر دیا ہے

    قطر جیسے ثالث کو نشانہ بنا کر غنڈہ گردی کے تمام حدود پار: صدر ایردوان

    Next Article

    صدرایردوان کاوزیراعظم نتَن یا ہو کو منہ توڑ جواب، القدس کو نامحرم ہاتھوں کی نجاست سے آلودہ کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی

    آزاد فلسطینی ریاست کے لیے ہماری جدوجہد آخری دم تک جاری رہے گی

    ڈاکٹر فرقان حمید

    Related Posts

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026

    ترکیہ اسکالرشپس: دنیا کی جامع ترین ( fully funded)اسکالرشپس، آن لائن درخواستوں کا طوفان، ویب سائٹ کو کریش کے خدشات

    16جنوری , 2026

    دنیا کے تواز ن کا پانسہ پلٹنے والے نئےدفاعی ستون، جلد ہی پاک-ترک -سعودی ا سلامی اتحادقائم کیے جانے کی توقع

    15جنوری , 2026

    Comments are closed.

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    ٹیگز
    #اسرائیل #حقان فیدان #حماس #سیاحت #غزہ #فلسطین آئی ٹی استنبول اسلام آباد افراطِ زر الیکشن 2024 انتخابات انقرہ اپوزیشن ایردوان بھونچال بیسٹ ماڈل آف ترکیہ ترقی ترک صدی ترک میڈیا ترکیہ تعلیم حزبِ اختلاف دنیا دہماکہ دی اکانومسٹ روس سلائِڈر سلائیڈر--- شہباز شریف صدر ایردوان صدر ایردوان، وزیراعظم شہباز شریف، پاکستان، ترکیہ عدلیہ عمران خان فیچرڈ قاتلانہ حملہ لانگ مارچ مغربی میڈیا ملت اتحاد وزیراعظم وزیراعظم شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف، صدر ایردوان، پاکستان، امداد پاکستان پاک فوج یورپ
    • Facebook
    • Twitter
    • Instagram
    اہم خبریں

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    ترکیہ اسکالرشپس: دنیا کی جامع ترین ( fully funded)اسکالرشپس، آن لائن درخواستوں کا طوفان، ویب سائٹ کو کریش کے خدشات

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    مقبول پوسٹس

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026
    Tr-Urdu All Rights Reserved © 2022
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.