Close Menu
Tr-Urdu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Tr-Urdu
    Subscribe
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    Tr-Urdu
    You are at:Home»ترکیہ»غزہ میں سو فیصد نسل کشی جاری ہے اور اس کا اصلی مجرم نتَن یا ہو ہے ، حماس ایک دہشت گرد تنظیم نہیں بلکہ فلسطین کی آزادی کی مزاحمتی تحریک ہے ترکیہ کو یورپی یونین کی رکنیت سے محروم رکھنا غیر منصفانہ ہے : ایردوان
    ترکیہ

    غزہ میں سو فیصد نسل کشی جاری ہے اور اس کا اصلی مجرم نتَن یا ہو ہے ، حماس ایک دہشت گرد تنظیم نہیں بلکہ فلسطین کی آزادی کی مزاحمتی تحریک ہے

    ترکیہ کو یورپی یونین کی رکنیت سے محروم رکھنا غیر منصفانہ ہے : ایردوان

    ڈاکٹر فرقان حمیدBy ڈاکٹر فرقان حمید23ستمبر , 2025Updated:23ستمبر , 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read
    ایردوان کی للکار
    پوسٹ شئیر کریں
    Facebook Twitter LinkedIn Email

    غزہ کی نسل کشی کا ذمہ دار  نیتن یاہو ہے

    صدر ایردوان کا فوکس ٹی وی کو انٹرویو

    صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ غزہ میں جاری انسانی المیہ کسی اور نام سے نہیں بلکہ  اسے  نسل کشی ہےسے تعبیر کیا جانا چاہیے اور اس کا اصل مجرم اسرائیلی وزیرِاعظم بن یامین نیتن یاہو ہے جس نے انتہائی بے رحمی کے ساتھ ہزاروں نہیں بلکہ دسیوں ہزار معصوموں کو خاک و خون میں نہلا دیا۔ ایردوان نے واضح کیا کہ ‘ترکیہ اس نسل کشی کے سراسر خلاف ہے اور اس کی مزاحمت جاری رکھے گا۔’

    صدر رجب طیب ایردوان

    نیویارک میں منعقد ہونے والے اقوامِ متحدہ کی 80 ویں جنرل اسمبلی اجلاس کے سلسلے میں موجود صدر ایردوان نے امریکی چینل فوکس نیوز کو خصوصی انٹرویو دیا۔ پروگرام کے میزبان بریٹ بائیر کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے ایردوان نے ترکیہ کی خارجہ پالیسی، بالخصوص غزہ کی صورتحال اور روس۔یوکرین جنگ پر کھل کر اظہارِ خیال کیا۔

    غزہ کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر صدر ایردوان نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ‘اس کی کوئی اور توجیہ ممکن نہیں۔ یہ سو فیصد نسل کشی ہے اور اس کا ذمہ دار نیتن یاہو ہے۔ نیتن یاہو نے نہایت سنگ دلی سے اس قتلِ عام میں ہزاروں بے گناہوں کو شہید کیا ہے۔’

    انہوں نے بتایا کہ غزہ میں اب تک ایک لاکھ پچیس ہزار سے زائد افراد زخمی ہو چکے ہیں جن میں سے ایک بڑی تعداد کو علاج کی غرض سے ترکیہ لایا گیا ہے۔

    انٹرویو کے دوران جب ان سے حماس کے قبضے میں موجود اسرائیلی قیدیوں کے بارے میں پوچھا گیا تو صدر ایردوان نے کہاکہ’ یہ معاملہ صرف حماس کے کھاتے میں ڈال دینا درست نہیں۔ دوسری طرف نیتن یاہو کے مظالم کو ہم کس طرح نظرانداز کر سکتے ہیں؟’

    ایردوان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ‘کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ حماس عسکری طاقت میں اسرائیل سے زیادہ ہے؟ ہرگز نہیں۔ اسرائیل کے پاس جدید ترین ہتھیار ہیں جنہیں وہ بچوں، عورتوں، بوڑھوں اور جوانوں سب کے خلاف سفاکی سے استعمال کرتا ہے۔’

    غزہ میں انسانی بحران کے خاتمے سے متعلق سوال پر صدر ایردوان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دعوے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ‘صدر  ٹرمپ نے کہا تھا کہ ‘میں روس۔یوکرین جنگ ختم کر دوں گا’ ۔ کیا ختم ہوئی؟ آج بھی جاری ہے۔ اسی طرح اس نے غزہ جنگ کے بارے میں بھی یہی کہا تھا، لیکن حقیقت سب کے سامنے ہے۔’

    حماس کے بارے میں صدر ایردوان نے اپنا پرانا مؤقف دہراتے ہوئے کہاکہ ‘بیس برس قبل جب میں یہاں آیا تھا تو مجھ سے یہی سوال پوچھا گیا تھا اور میں نے تب بھی یہی کہا تھا کہ میں حماس کو دہشت گرد تنظیم نہیں بلکہ ایک مزاحمتی تحریک سمجھتا ہوں۔’

    ایف-35 معاملہ اور امریکا سے تعلقات

    ایف-35 طیارے

    صدر ایردوان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے جمعرات کو ہونے والی ملاقات کے حوالے سے کہا کہ اس ملاقات میں ایف-35 طیاروں کے معاملے سمیت دیگر دفاعی موضوعات پر بھی بات چیت ہوگی۔

    انہوں نے یاد دلایا کہ ترکیہ ایف-35 پروگرام کا باضابطہ شراکت دار اور پیداواری ملک رہا ہے اور اس مقصد کے لیے 1.4 ارب ڈالر کی خطیر رقم بھی ادا کر چکا ہے، لیکن اس کے باوجود ترکیہ کو طیارے فراہم نہیں کیے گئے۔ ایردوان کے بقول یہ رویہ ‘اسٹریٹجک شراکت داری کے منافی اور سراسر غلط ہے۔’

    انہوں نے کہا کہ ‘ ہم اس مسئلے کو دوبارہ اٹھائیں گے اور امید کرتے ہیں کہ اس کا کوئی مثبت حل نکلے۔ اس ملاقات میں ایف-16 طیاروں سے متعلق پیش رفت بھی ایجنڈے میں شامل ہے۔’

    صدر ایردوان نے مزید کہا کہ ترکیہ اور امریکا کے درمیان تجارت، خصوصاً دفاعی صنعت کے میدان میں، مستقبل میں کہیں زیادہ فروغ پائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی اور صنعت کے دیگر شعبوں میں بھی تعاون میں اضافہ متوقع ہے۔

    یورپی یونین پر تنقید

    ترکیہ-یورپی یونین

    ایردوان نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ترکیہ، جو ایک طاقتور نیٹو رکن ملک ہے، گزشتہ پچاس برسوں سے زائد عرصے سے یورپی یونین کے دروازے پر دستک دے رہا ہے لیکن اب تک اسے رکنیت سے محروم رکھا گیا ہے۔ ان کے مطابق یہ طرزِ عمل سراسر ‘غیرمنصفانہ’ ہے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleصدر رجب طیب ایردوان کا دورہ امریکہ ، اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اہم خطاب اور 25 ستمبر کو وائٹ ہاؤس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اہم ملاقات
    Next Article

    صدر ایردوان کااقوام متحدہ میں تاریخی خطاب ، غزہ میں انسانیت مر رہی ہے، معصوم بچوں کی خون آلود اور اعضا سے محروم تصاویر لہرا کر دنیا کو جھنجھوڑڈالا

    مسئلہ کشمیر کو منصفانہ طریقے سے حل کے بغیر جنوبی ایشیا میں امن ممکن نہیں

    ڈاکٹر فرقان حمید

    Related Posts

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    21جنوری , 2026

    Comments are closed.

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    ٹیگز
    #اسرائیل #حقان فیدان #حماس #سیاحت #غزہ #فلسطین آئی ٹی استنبول اسلام آباد افراطِ زر الیکشن 2024 انتخابات انقرہ اپوزیشن ایردوان بھونچال بیسٹ ماڈل آف ترکیہ ترقی ترک صدی ترک میڈیا ترکیہ تعلیم حزبِ اختلاف دنیا دہماکہ دی اکانومسٹ روس سلائِڈر سلائیڈر--- شہباز شریف صدر ایردوان صدر ایردوان، وزیراعظم شہباز شریف، پاکستان، ترکیہ عدلیہ عمران خان فیچرڈ قاتلانہ حملہ لانگ مارچ مغربی میڈیا ملت اتحاد وزیراعظم وزیراعظم شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف، صدر ایردوان، پاکستان، امداد پاکستان پاک فوج یورپ
    • Facebook
    • Twitter
    • Instagram
    اہم خبریں

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    ترکیہ اسکالرشپس: دنیا کی جامع ترین ( fully funded)اسکالرشپس، آن لائن درخواستوں کا طوفان، ویب سائٹ کو کریش کے خدشات

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    مقبول پوسٹس

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026
    Tr-Urdu All Rights Reserved © 2022
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.