Close Menu
Tr-Urdu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Tr-Urdu
    Subscribe
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    Tr-Urdu
    You are at:Home»پاکستان»پاکستان کا نام غزہ بین الاقوامی استحکام فورس (ISF) میں سب سے نمایاں
    پاکستان

    پاکستان کا نام غزہ بین الاقوامی استحکام فورس (ISF) میں سب سے نمایاں

    ڈاکٹر فرقان حمیدBy ڈاکٹر فرقان حمید16اکتوبر , 2025Updated:16اکتوبر , 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔6 Mins Read
    پاک فوج ہمیشہ زندہ باد
    پوسٹ شئیر کریں
    Facebook Twitter LinkedIn Email

     (ترکیہ کی پہلی  اور واحد  غیر جانبدار اُردو  نیوز ویب سائٹ ہے۔ اس ویب  سائٹ  میں ترکیہ کی بر سر اقتدار  اور اپوزیشن تمام  ہی  جماعتوں  اورقائم  اتحاد   سے متعلق  خبروں، تبصروں اور سروئیز  کو  بلا امتیاز  جگہ دی  جاتی ہے۔ ان تمام خبروں  اور سروئیز کے  ذرائع  ترک میڈیا اور ایجنسیاں ہی ہیں ۔اس  نیوز ویب سائٹ  کا ان خبروں اور تبصروں سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے)

    تحریر: ڈاکٹر فرقان حمید

    بین الاقوامی  استحکام فورس(ISF) اور غزہ

    غزہ کی تباہ حال سرزمین، جہاں دو برس سے زیادہ عرصے تک اسرائیلی بمباری نے زندگی کے ہر نشان کو مٹا ڈالا ہے، اب ایک نئے عالمی منصوبے کا مرکز بن چکی ہے۔ امریکی جریدے پولیٹیکو کے مطابق، پاکستان، انڈونیشیا اور آذربائیجان وہ ممالک ہیں جنہوں نے غزہ میں مجوزہ بین الاقوامی استحکام فورس (ISF) کے قیام میں سب سے زیادہ دلچسپی ظاہر کی ہے۔

    پاکستان آرمی

    یہ فورس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ 20 نکاتی امن منصوبے کا بنیادی جزو ہے۔ اس منصوبے کے مطابق امریکہ اپنے عرب، مسلم اور دیگر بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر غزہ میں ایک عارضی سیکورٹی ڈھانچہ قائم کرے گا، جس کا مقصد فلسطینی پولیس کو تربیت دینا اور مقامی امن و نظم کی بحالی میں مدد فراہم کرنا ہوگا۔

    امریکی دفاعی ذرائع کے مطابق، فی الحال مذاکرات جاری ہیں اور ابھی تک کسی ملک نے باقاعدہ طور پر فوجی دستے بھیجنے کا اعلان نہیں کیا۔ تاہم واشنگٹن کے پالیسی حلقوں میں یہی تین ممالک ، پاکستان، انڈونیشیا اور آذربائیجان ، “اہم امیدوار” سمجھے جا رہے ہیں۔

    پاکستان کا ممکنہ کردار ،   علامتی اہمیت یا عملی قیادت؟

    پاکستان آرمی

    غزہ میں قیامِ امن کے لیے مجوزہ بین الاقوامی استحکام فورس (ISF) میں پاکستان کا نام نمایاں طور پر سامنے آنا کوئی اتفاق نہیں۔ یہ کردار محض علامتی یکجہتی نہیں بلکہ عملی قیادت کی جھلک بھی لیے ہوئے ہے۔

    پاکستان کی فوج دنیا کی ان چند افواج میں سے ہے جو اقوامِ متحدہ کے امن مشنز میں دہائیوں سے سرگرم کردار ادا کر رہی ہیں۔ کانگو، صومالیہ، بوسنیا، دارفور اور سیرالیون جیسے مشکل علاقوں میں پاکستان کے امن دستوں نے جس پیشہ ورانہ مہارت، نظم و ضبط اور غیرجانبداری کا مظاہرہ کیا، اسے عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا۔

    غزہ  تناظر میں پاکستان کی شمولیت نہایت اہم ہوگی

    پاکستان مسلح افواج

    غزہ کے  تناظر میں پاکستان کی شمولیت  دو پہلووں سے نہایت اہمیت کی حامل ہوگی۔

    اول، اسلامی دنیا کے اتحاد کی علامت کے طور پر، کیونکہ یہ فورس ترکیہ، آذربائیجان اور انڈونیشیا جیسے مسلم ممالک کے اشتراک سے تشکیل پا رہی ہے۔
    دوم، پاکستان کے لیے یہ ایک موقع ہے کہ وہ اپنی سفارتی و عسکری ساکھ کو مسلم دنیا میں ایک قائدانہ کردار کے طور پر مزید مستحکم کرے۔

    یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان طویل عرصے سے فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت کرتا آ رہا ہے۔ اگر اسلام آباد اس فورس کا حصہ بنتا ہے تو یہ نہ صرف ایک انسانی و اخلاقی فریضے کی ادائیگی ہوگی بلکہ اسلامی عسکری تعاون کے ایک نئے دور کا آغاز بھی بن سکتی ہے۔

    تاہم چیلنج یہ ہے کہ عالمی سیاست کے پیچیدہ منظرنامے میں پاکستان اپنے کردار کو کس حد تک عملی

     اور مؤثر بنا پاتا ہے۔

    اگر پاکستان اپنے تجربے، عسکری نظم و ضبط، اور اخلاقی وزن کے ساتھ میدان میں آتا ہے تو یہ فورس صرف غزہ ہی نہیں بلکہ پوری مسلم دنیا کے لیے امن و استحکام کا نیا باب رقم کر سکتی ہے۔

    پاکستان کی شمولیت کو کئی ماہرین اہم اور علامتی قرار دے رہے ہیں۔ پاکستان نہ صرف مسلم دنیا کی ایک بڑی فوجی قوت ہے بلکہ اقوامِ متحدہ کے امن مشنز میں اس کا طویل اور شاندار تجربہ بھی ہے۔
    اگر اسلام آباد اس فورس کا حصہ بنتا ہے تو یہ نہ صرف فلسطینی عوام کے ساتھ پاکستان کے دیرینہ تعلق اور یکجہتی کا مظہر ہوگا بلکہ مسلم دنیا کے اندر اجتماعی سلامتی کے نئے بیانیے کو بھی تقویت دے گا۔

    اسی طرح انڈونیشیا ، جو دنیا کی سب سے بڑی مسلم آبادی رکھنے والا ملک ہے ، اور آذربائیجان ، جو ترکیہ اور اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کے قریب اتحادی ہیں ، کی ممکنہ شرکت اس فورس کو ایک وسیع اسلامی رنگ دے گی۔

    ترکیہ، قطر اور مصر: امن معاہدے کے ضامن

    شرم الشیخ امن کانفرنس

    گزشتہ ہفتے قاہرہ میں صدر ٹرمپ کی میزبانی میں منعقد ہونے والے امن اجلاس میں ترکیہ، قطر اور مصر نے امریکی منصوبے کی حمایت کرتے ہوئے ایک امن دستاویز پر دستخط کیے۔
    یہ تینوں ممالک نہ صرف غزہ میں جاری جنگ بندی کے ضامن بنے ہیں بلکہ انہوں نے انسانی امداد، جنگ بندی کی نگرانی، اور تعمیرِ نو کے لیے مشترکہ تعاون پر بھی آمادگی ظاہر کی ہے۔

     صدر رجب طیب ایردوان نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ ترکیہ غزہ میں امن کی نگرانی کے لیے کسی

     بھی بین الاقوامی مشن کا حصہ بننے کو تیار ہے۔

    ترک وزارتِ دفاع نے بھی تصدیق کی کہ ترک فوج دنیا بھر میں قیامِ امن کی کارروائیوں میں اپنا کردار ادا کر چکی ہے اور ہر جگہ اپنی پیشہ ورانہ مہارت، غیرجانبداری اور انصاف پسندی کے باعث احترام حاصل کیا ہے۔

    صدر ٹرمپ

    امریکہ نے اس منصوبے کے تحت 200 فوجی اسرائیل میں تعینات کیے ہیں جو جنگ بندی کے نفاذ اور رابطہ کاری کے امور دیکھ رہے ہیں، تاہم واشنگٹن نے زور دیا ہے کہ کوئی امریکی فوجی غزہ

     میں داخل نہیں ہوگا۔

    ذرائع کے مطابق مصر، قطر اور متحدہ عرب امارات کے اہلکار بھی اسرائیل کے شمال میں قائم ہونے والے سول-ملٹری رابطہ مرکز میں امریکی سینٹرل کمان (CENTCOM) کے تحت شریک ہوں گے۔

    دلچسپ امر یہ ہے کہ انڈونیشیا اور آذربائیجان سینٹ کام کے دائرہ کار میں شامل نہیں، جس کے باعث ان کے ساتھ ہم آہنگی میں تکنیکی پیچیدگیاں پیدا ہوسکتی ہیں۔

    ایک مشکل مگر اہم موڑ

    پاکستان آرم فورسز

    غزہ میں قیامِ امن کا سفر ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں تباہی کی جس سطح پر یہ خطہ پہنچ چکا ہے، وہاں بین الاقوامی فورس کا قیام ایک غیرمعمولی چیلنج ثابت ہوگا۔
    تاہم اگر ترکیہ، پاکستان، آذربائیجان اور انڈونیشیا جیسے ممالک عملی کردار ادا کرتے ہیں تو نہ صرف غزہ میں استحکام کی امید پیدا ہوسکتی ہے بلکہ مسلم دنیا کے مابین نئے سفارتی اور عسکری اتحاد کی بنیاد بھی پڑ سکتی ہے۔

    غزہ کے ملبے تلے دبی ہوئی انسانیت کو اگر کوئی نئی صبح دکھائی دے سکتی ہے تو وہ اسی وقت ممکن ہوگی جب عالمی ضمیر ،  خاص طور پر مسلم اقوام ، محض تماشائی بننے کے بجائے عملی کردار ادا کریں۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleمہمت بوزداع فلم پروڈکشن کی ڈرامہ سیریز قرولوش اورحان میں مرکزی کردار مرت یازی جی اولو ادا کریں گے
    Next Article پاکستان اب مزید دہشت گردی قبول نہیں کرسکتا،قومی سلامتی، ریاستی وقار اور نئی حکمتِ عملی
    ڈاکٹر فرقان حمید

    Related Posts

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026

    ترکیہ اسکالرشپس: دنیا کی جامع ترین ( fully funded)اسکالرشپس، آن لائن درخواستوں کا طوفان، ویب سائٹ کو کریش کے خدشات

    16جنوری , 2026

    دنیا کے تواز ن کا پانسہ پلٹنے والے نئےدفاعی ستون، جلد ہی پاک-ترک -سعودی ا سلامی اتحادقائم کیے جانے کی توقع

    15جنوری , 2026

    Comments are closed.

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    ٹیگز
    #اسرائیل #حقان فیدان #حماس #سیاحت #غزہ #فلسطین آئی ٹی استنبول اسلام آباد افراطِ زر الیکشن 2024 انتخابات انقرہ اپوزیشن ایردوان بھونچال بیسٹ ماڈل آف ترکیہ ترقی ترک صدی ترک میڈیا ترکیہ تعلیم حزبِ اختلاف دنیا دہماکہ دی اکانومسٹ روس سلائِڈر سلائیڈر--- شہباز شریف صدر ایردوان صدر ایردوان، وزیراعظم شہباز شریف، پاکستان، ترکیہ عدلیہ عمران خان فیچرڈ قاتلانہ حملہ لانگ مارچ مغربی میڈیا ملت اتحاد وزیراعظم وزیراعظم شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف، صدر ایردوان، پاکستان، امداد پاکستان پاک فوج یورپ
    • Facebook
    • Twitter
    • Instagram
    اہم خبریں

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    ترکیہ اسکالرشپس: دنیا کی جامع ترین ( fully funded)اسکالرشپس، آن لائن درخواستوں کا طوفان، ویب سائٹ کو کریش کے خدشات

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    مقبول پوسٹس

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026
    Tr-Urdu All Rights Reserved © 2022
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.