Close Menu
Tr-Urdu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Tr-Urdu
    Subscribe
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    Tr-Urdu
    You are at:Home»پاکستان»25 اکتوبر استنبول میں پاکستان- افغانستان تکنیکی مذاکرات کی تیاریوں کا آغاز، دہشت گردی کا مکمل قلع قمع کرنے پر غور
    پاکستان

    25 اکتوبر استنبول میں پاکستان- افغانستان تکنیکی مذاکرات کی تیاریوں کا آغاز، دہشت گردی کا مکمل قلع قمع کرنے پر غور

    ڈاکٹر فرقان حمیدBy ڈاکٹر فرقان حمید20اکتوبر , 2025Updated:20اکتوبر , 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔9 Mins Read
    پاکستان-افغانستان، قطر اور ترکیہ مذاکرات
    پوسٹ شئیر کریں
    Facebook Twitter LinkedIn Email

    تحریر ڈاکٹر فرقان حمید

    پاکستان -افغانستان کشیدگی

    جنوبی ایشیا کی تاریخ میں افغانستان اور پاکستان کے درمیان تعلقات ہمیشہ سے نازک اور پیچیدہ رہے ہیں۔ سرحدی تنازعات، دہشت گردی، سرحد پار حملے اور سیاسی بد اعتمادی نے دونوں ممالک کے درمیان ایسی خلیج پیدا کی جو کئی دہائیوں پر محیط ہو چکی ہے۔ تاہم، ان تمام تلخیوں کے درمیان ایک ملک ہمیشہ امید کی کرن بن کر ابھرا  ہے اور وہ ہے ‘ترکیہ’
    ترکیہ نے نہ صرف اپنے تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتوں کے باعث دونوں ممالک میں احترام اور اعتماد کا ماحول پیدا کیا بلکہ عملی طور پر مصالحت اور امن کے قیام کے لیے وہ کردار ادا کیا جو کسی اور ملک کے حصے میں نہیں آیا۔

    دوحہ سے انقرہ تک: برادر ملکوں کی مشترکہ سفارت کاری کا نیا باب

    جنوبی ایشیا کی تاریخ میں افغانستان اور پاکستان کے درمیان تعلقات ہمیشہ سے نازک اور پیچیدہ رہے ہیں۔ سرحدی تنازعات، دہشت گردی، سرحد پار حملے اور سیاسی بد اعتمادی نے دونوں ممالک کے درمیان ایسی خلیج پیدا کی جو کئی دہائیوں پر محیط ہو چکی ہے۔ تاہم، ان تمام تلخیوں کے درمیان ایک ملک ہمیشہ امید کی کرن بن کر ابھرا  ہے اور وہ ہے ‘ ترکیہ’ 
    ترکیہ نے نہ صرف اپنے تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتوں کے باعث دونوں ممالک میں احترام اور اعتماد کا ماحول پیدا کیا بلکہ عملی طور پر مصالحت اور امن کے قیام کے لیے وہ کردار ادا کیا جو کسی اور ملک کے حصے میں نہیں آیا۔پاکستان، افغانستان اور ترکیہ کے تعلقات ہمیشہ اسلامی اخوت، جغرافیائی حقیقت اور تاریخی رشتوں سے جڑے رہے ہیں۔ لیکن ان رشتوں میں وقتاً فوقتاً سیاسی سردمہری، بداعتمادی اور دہشت گردی نے ایسی دیواریں کھڑی کیں جنہیں گرانے کے لیے صرف طاقت نہیں، بلکہ اعتماد اور حکمت درکار تھی۔
    ترکیہ نے ایک بار پھر یہ کردار ادا کر کے نہ صرف اپنی سفارتی بصیرت کا ثبوت دیا بلکہ پاکستان کے وقار میں اضافہ کیا۔ حالیہ ہفتوں میں قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہونے والے پاکستان – افغانستان مذاکرات دراصل ترکیہ اور قطر کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہیں ،  یہ  ایک ایسی کاوش ہے  جس نے  خطے میں امن کی نئی مثلث تشکیل دی ہے۔

    کرزائی دور سے ترکیہ کی ثالثی: نیک نیتی مگر ناکامی کی تلخ یادیں

    ترکیہ کا مصالحتی کردار آج کا نہیں۔یہ سلسلہ 2007 کے انقرہ اجلاس سے شروع ہوتا ہے، جب ترکیہ نے پہلی بار پاکستان اور افغانستان کو ایک میز پر بٹھایا۔ اس وقت افغانستان کے صدر حامد کرزائی اور پاکستان کے صدر پرویز مشرف تھے۔
    اجلاس کا مقصد دہشت گردی کے خاتمے اور سرحدی تعاون کو فروغ دینا تھا، مگر امریکی اثرورسوخ، بھارت کی مداخلت، اور باہمی شکوک نے مذاکرات کو نتیجہ خیز نہ ہونے دیا۔

    بعد ازاں 2011 میں استنبول پروسیس شروع ہوا، جسے ‘قلبِ ایشیا‘  کا فریم ورک کہا گیا۔ اس میں ترکیہ نے علاقائی ملکوں کو شامل کر کے افغانستان میں امن اور تعمیرِ نو کے لیے پلیٹ فارم مہیا کیا۔ مگر اس وقت بھی طاقت کا محور واشنگٹن اور نیٹو کے ہاتھ میں تھا، اور ترکیہ کے مصالحتی عزائم عالمی سیاسی کھیل میں دب کر رہ گئے۔
    یہ مذاکرات نیک نیتی پر مبنی تھے مگر امریکی ترجیحات اور افغان اندرونی تقسیم نے ان کے ثمرات زائل کر دیے۔

    طالبان کے دور میں ترکیہ کی واپسی: توازن، اعتماد اور اثرورسوخ

    2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد خطے کی صورتحال یکسر تبدیل ہوئی۔
    پاکستان، جو کبھی طالبان کا قریبی اتحادی سمجھا جاتا تھا، اچانک سرحد پار حملوں اور دہشت گردی کا نشانہ بننے لگا۔
    افغان سرزمین پر موجود تحریکِ طالبان پاکستان (TTP) نے پاکستانی علاقوں میں دہشت گرد کاروائیاں تیز کر دیں، جس سے دونوں ممالک کے تعلقات خطرناک حد تک کشیدہ ہو گئے۔

    ایسے حالات میں ترکیہ نے ایک بار پھر ثالثی کی سفارت کاری شروع کی۔
    صدر رجب طیب ایردوان نے افغانستان کے ساتھ سفارتی روابط بحال رکھے، طالبان حکومت کے ساتھ براہ راست مذاکرات کیے اور پاکستان کو اس بات پر قائل کیا کہ سفارتی حل ہی پائیدار امن کی ضمانت ہے۔
    ترکیہ کا مؤقف واضح تھا:

    افغان سرزمین کسی ہمسایہ ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے، اور برادر اسلامی ممالک کے درمیان دشمنی امت کے مفاد کے خلاف ہے۔

    یہی وہ مؤقف تھا جسے پاکستان نے بھرپور انداز میں اپنایا۔ اس طرح دونوں ممالک کی سوچ میں ہم آہنگی پیدا ہوئی اور قطر میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کی راہ ہموار ہوئی۔

    قطر کا کردار: دوحہ مذاکرات میں امن کی بنیاد

    گزشتہ ہفتے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہونے والے پاکستان۔افغانستان مذاکرات نے خطے میں سفارتی سرگرمیوں کو ایک نیا رخ دیا۔
    قطر، جو پہلے ہی طالبان اور امریکہ کے درمیان 2020 کے امن معاہدے کا میزبان رہ چکا ہے، اس بار ترکیہ کے ساتھ مل کر پاکستان اور افغانستان کے درمیان براہِ راست بات چیت کا بندوبست کیا۔

    دوحہ اجلاس میں جن اہم نکات پر اتفاق ہوا، ان میں شامل ہیں:

    • فوری فائر بندی اور سرحدی جھڑپوں کا خاتمہ،
    • ایک دوسرے کی ارضی سالمیت کا احترام،
    • دہشت گرد گروہوں کو کسی قسم کی مدد یا پناہ نہ دینا،
    • مشترکہ عملدرآمدی کمیشن کا قیام،
    • اور مستقبل کے مذاکرات کے لیے انقرہ اور اسلام آباد کو متبادل میزبان کے طور پر تجویز کرنا۔

    قطر اور ترکیہ نے مشترکہ طور پر یقین دہانی کرائی کہ وہ معاہدے کے ضامن کے طور پر کام کریں گے اور اگر کسی فریق نے معاہدے کی خلاف ورزی کی تو فوری طور پر مصالحتی مداخلت کریں گے۔
    یہ پیش رفت صرف علاقائی نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی سراہا گیا ، کیونکہ پہلی بار طالبان حکومت کو ایک باقاعدہ سفارتی معاہدے کا فریق تسلیم کیا گیا۔

    پاکستان کا بلند ہوتا وقار اور عالمی سطح پر نئی اہمیت

    دوحہ مذاکرات کا سب سے نمایاں پہلو یہ ہے کہ اس میں پاکستان کو ایک ذمہ دار، امن دوست اور سفارتی طاقت کے طور پر تسلیم کیا گیا۔
    یہ وہ پاکستان ہے جو کبھی دہشت گردی کے شکار ملک کے طور پر جانا جاتا تھا، مگر اب امن کے ضامن کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔

    امریکہ، جو ماضی میں اکثر پاکستان پر دباؤ ڈالتا رہا، اب کھلے عام پاکستان کے استحکام اور امن کردار کو سراہ رہا ہے۔ امریکی محکمۂ خارجہ کے ترجمان نے حالیہ بیان میں کہا کہ:

    ہم خطے میں پاکستان کی قیادت میں ہونے والی امن کوششوں کی حمایت کرتے ہیں۔

    یہ الفاظ پاکستان کے لیے بین الاقوامی سطح پر وقار میں اضافے کی علامت ہیں۔
    پاکستان کے وزیرِ اعظم اور عسکری قیادت نے حالیہ مہینوں میں جس تدبر، صبر اور حکمتِ عملی کا مظاہرہ کیا، اس نے دنیا کو باور کرایا کہ پاکستان اب صرف دفاعی قوت نہیں بلکہ سفارتی قیادت کا بھی حامل ملک ہے۔

    ترکیہ اور قطر کی مشترکہ سفارت کاری: اسلامی اتحاد کی عملی مثال

    ترکیہ اور قطر نے گزشتہ ایک دہائی میں عالمی سطح پر جس انداز میں مشترکہ سفارت کاری کو فروغ دیا ہے، وہ مسلم دنیا میں تعاون، اعتماد اور شراکت کی نئی مثال ہے۔
    ترکیہ کی تجربہ کار قیادت اور قطر کی غیر جانبدار سفارتی ساکھ نے دونوں کو ایسا کردار بخشا ہے جسے مغرب بھی تسلیم کرتا ہے۔

    افغانستان کے معاملے میں دونوں ممالک نے مغربی طاقتوں سے الگ، اسلامی نقطہ نظر سے مصالحت کو فروغ دیا ،  جس میں طاقت نہیں بلکہ گفت و شنید، دباؤ نہیں بلکہ احترامِ خودمختاری پر زور دیا گیا۔
    یہی وہ پہلو ہے جو افغانستان کے مذہبی حلقوں میں بھی ترکیہ اور قطر کے لیے نرم گوشہ پیدا کرتا ہے۔

    کامیابی کے امکانات: کیا اس بار امن پائیدار ہوگا؟

    سوال یہ ہے کہ کیا یہ معاہدہ ماضی کے ناکام تجربات کی طرح ختم ہو جائے گا یا واقعی خطے میں امن کی نئی بنیاد رکھ سکے گا؟
    اس بار حالات مختلف ہیں۔

    1. ترکیہ اور قطر دونوں کا مشترکہ اثرورسوخ طالبان پر زیادہ گہرا ہے ، قطر طالبان کا طویل مدتی میزبان رہا ہے اور ترکیہ کا مذہبی و سیاسی احترام ان کے لیے مسلم دنیا میں اہمیت رکھتا ہے۔
    2. پاکستان کی عسکری و سفارتی قوت پہلے سے کہیں زیادہ منظم ہے۔
    3. امریکہ اور چین دونوں اب خطے میں استحکام چاہتے ہیں کیونکہ بدامنی کا براہِ راست اثر وسطی ایشیا اور عالمی تجارت پر پڑ رہا ہے۔

    یہ تمام عوامل اس امکان کو بڑھاتے ہیں کہ اس بار ترکیہ کی ثالثی اور قطر کی میزبانی میں ہونے والا یہ عمل پائیدار امن کی بنیاد ثابت ہو سکتا ہے۔

    ترکیہ کا کردار: ثالث سے زیادہ ایک ضامن اور رہنما

    ترکیہ نے ہمیشہ امتِ مسلمہ میں قیادت کا کردار ادا کیا ہے۔
    صدر رجب طیب ایردوان نے دنیا کے ہر فورم پر یہ واضح کیا کہ ترکیہ طاقت کے توازن میں نہیں بلکہ عدل اور امن کے توازن میں یقین رکھتا ہے۔
    افغانستان اور پاکستان کے درمیان جاری یہ مصالحتی عمل اسی سوچ کا مظہر ہے۔

    ترکیہ نہ صرف سیاسی سطح پر بلکہ انسانی بنیادوں پر بھی دونوں ممالک کے ساتھ کھڑا ہے۔
    افغانستان میں ترک ہلالِ احمر کے ذریعے امدادی سرگرمیاں، پاکستان میں قدرتی آفات کے دوران ترکی امداد، اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون — یہ سب ترکیہ کے اخوت پر مبنی تعلقات کا ثبوت ہیں۔

    خطہ،  امن، ترقی اور باہمی انحصار سے ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا

    اگر پاکستان، افغانستان، ترکیہ اور قطر اس سہ فریقی فریم ورک کو مستقل شکل دیتے ہیں تو خطہ صرف دہشت گردی سے نجات ہی نہیں بلکہ اقتصادی ترقی کے نئے دور میں داخل ہو سکتا ہے۔

    • مشترکہ سرحدی کمیشن دہشت گردی اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کام کر سکتا ہے۔
    • استنبول۔کابل۔اسلام آباد تجارتی راہداری کے قیام سے وسطی ایشیا کے ساتھ تجارت کو نئی جہت مل سکتی ہے۔
    • اور سب سے بڑھ کر، عوامی سطح پر تعلیم، اسکالرشپ اور مذہبی ہم آہنگی کے پروگرام برادر ممالک کے درمیان حقیقی اعتماد پیدا کر سکتے ہیں۔

    ترکیہ کی قیادت میں امید کی نئی صبح

    افغانستان اور پاکستان کے درمیان جاری دشمنی صرف دو ممالک کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام سے جڑی ہے۔
    ترکیہ اور قطر نے ثابت کیا ہے کہ اگر نیت صاف ہو، مقصد مشترک ہو اور قیادت دوراندیش ہو تو امن ناممکن نہیں۔
    دوحہ مذاکرات میں ترکیہ کی موجودگی اور پاکستان کا مثبت رویہ اس بات کا ثبوت ہے کہ امتِ مسلمہ اپنے مسائل خود حل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

    اب یہ وقت ہے کہ ان کوششوں کو عارضی سفارتی کامیابی سے بڑھا کر پائیدار امن کے معاہدے میں ڈھالا جائے۔
    اگر یہ عمل کامیاب ہوتا ہے تو ترکیہ، قطر اور پاکستان نہ صرف خطے بلکہ پوری مسلم دنیا کے لیے امن، اتحاد اور خودمختاری کی علامت بن جائیں گے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleترکیہ اور قطر کی ثالثی میں مذاکرات کے بعد پاکستان اور افغانستان نے جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط کردیے
    Next Article انقرہ میں پاکستانی ہونہار طلباء کے اعزاز میں رنگا رنگ ثقافتی شام ، تعلیمی رشتوں میں نئی روح پھونکنے والی تقریب
    ڈاکٹر فرقان حمید

    Related Posts

    اسرائیل اور امریکہ کا ایران کے بعد اگلا ہدف کیا پاکستان اور ترکیہ ہیں؟ سفارتی توازن کی باریک لکیر اور عوام کو لاحق خدشات

    4مارچ , 2026

    صدر ایردوان کا ایسا قدم جو آج تک کوئی ترک رہنما نہ اٹھا سکا

    11فروری , 2026

    لاہور میں ڈی۔8 کمشنرز کا دوسرا غیر رسمی ریٹریٹ منعقد، 12ویں ڈی۔8 سربراہی اجلاس کی تیاریوں پر غور

    10فروری , 2026

    Comments are closed.

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    ٹیگز
    #اسرائیل #حقان فیدان #حماس #سیاحت #غزہ #فلسطین آئی ٹی استنبول اسلام آباد افراطِ زر الیکشن 2024 انتخابات انقرہ اپوزیشن ایردوان بھونچال بیسٹ ماڈل آف ترکیہ ترقی ترک صدی ترک میڈیا ترکیہ تعلیم حزبِ اختلاف دنیا دہماکہ دی اکانومسٹ روس سلائِڈر سلائیڈر--- شہباز شریف صدر ایردوان صدر ایردوان، وزیراعظم شہباز شریف، پاکستان، ترکیہ عدلیہ عمران خان فیچرڈ قاتلانہ حملہ لانگ مارچ مغربی میڈیا ملت اتحاد وزیراعظم وزیراعظم شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف، صدر ایردوان، پاکستان، امداد پاکستان پاک فوج یورپ
    • Facebook
    • Twitter
    • Instagram
    اہم خبریں

    سیکریٹری جنرل ڈی۔8 سہیل محمود کا موسیاد کے عالمی کاروباری کردار کو خرا جِ تحسین

    اسرائیل اور امریکہ کا ایران کے بعد اگلا ہدف کیا پاکستان اور ترکیہ ہیں؟ سفارتی توازن کی باریک لکیر اور عوام کو لاحق خدشات

    انقرہ میں ڈی۔8 کے سیکرٹری جنرل سہیل محمود کی نائب صدر ، وزیر خارجہ اور دیگر اعلیٰ حکام سے مذاکرات

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل کی جانب سے وزیراعظم طارق رحمان کو منصب سنبھالنے پر مبارکباد

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    مقبول پوسٹس

    سیکریٹری جنرل ڈی۔8 سہیل محمود کا موسیاد کے عالمی کاروباری کردار کو خرا جِ تحسین

    6مارچ , 2026

    اسرائیل اور امریکہ کا ایران کے بعد اگلا ہدف کیا پاکستان اور ترکیہ ہیں؟ سفارتی توازن کی باریک لکیر اور عوام کو لاحق خدشات

    4مارچ , 2026
    Tr-Urdu All Rights Reserved © 2022
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.