Close Menu
Tr-Urdu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Tr-Urdu
    Subscribe
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    Tr-Urdu
    You are at:Home»پاکستان»انقرہ میں پاکستانی ہونہار طلباء کے اعزاز میں رنگا رنگ ثقافتی شام ، تعلیمی رشتوں میں نئی روح پھونکنے والی تقریب
    پاکستان

    انقرہ میں پاکستانی ہونہار طلباء کے اعزاز میں رنگا رنگ ثقافتی شام ، تعلیمی رشتوں میں نئی روح پھونکنے والی تقریب

    ڈاکٹر فرقان حمیدBy ڈاکٹر فرقان حمید21اکتوبر , 2025Updated:22اکتوبر , 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔6 Mins Read
    انقرہ میں پاکستانی ہونہار طلباء
    پوسٹ شئیر کریں
    Facebook Twitter LinkedIn Email

    انقرہ میں پاکستانی ہونہار طلباء کے اعزاز میں رنگا رنگ ثقافتی شام

    انقرہ میں پاکستانی ہونہار طلباء

    ترکیہ کے دلکش دارالحکومت  انقرہ میں گزشتہ روز پاکستان کے سفارتخانے کی جانب سے ایک خوبصورت اور یادگار ثقافتی شام کا اہتمام کیا گیا، جو خاص طور پر اُن پاکستانی طلباء کے اعزاز میں منعقد کی گئی جو وزیراعظم پاکستان کے خصوصی اقدام کے تحت ترکیہ کے تعلیمی و ثقافتی دورے پر ہیں۔ یہ تقریب محض ایک رسمی اجتماع نہیں تھی بلکہ دو برادر ملکوں کے مابین علم، تہذیب اور دوستی کے ابدی رشتے کی ایک نئی جھلک تھی، جس نے حاضرین کے دلوں کو چھو لیا۔

    اس شام کا مقصد اُن طلباء کی حوصلہ افزائی کرنا تھا جنہوں نے اپنی علمی محنت اور نمایاں کارکردگی کے ذریعے نہ صرف اپنے والدین اور اساتذہ بلکہ اپنے وطنِ عزیز پاکستان کا نام بھی روشن کیا۔ ساتھ ہی اس تقریب نے پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تعلیمی و ثقافتی تعلقات کے اس خوبصورت سفر میں ایک نئی راہ متعین کی — ایک ایسا سفر جو باہمی سیکھنے، احترامِ ثقافت اور انسانی ربط کے جذبے سے عبارت ہے۔

    رنگ و نغمہ سے سجی شام ،  مشترکہ ورثے کا حسین امتزاج

    انقرہ میں پاکستانی ہونہار طلباء

    تقریب میں ترکیہ میں پاکستان کے سفیر ڈاکٹر یوسف جُنید نے صدارت کی، جبکہ ترکیہ کی وزارتِ قومی تعلیم کے ڈائریکٹر جنرل ایوب  تان یلدز، مختلف جامعات کے نمائندوں، اعلیٰ سرکاری حکام، سفارتکاروں، تعلیمی ماہرین اور معزز مہمانانِ گرامی نے شرکت کی۔
    پاکستان ایمبیسی انٹرنیشنل اسٹڈی گروپ (PEISG) کے طلباء نے رنگا رنگ ثقافتی پروگرام پیش کیا، جس میں پاکستان اور ترکیہ کے مشترکہ تاریخی و تہذیبی ورثے کو دلکش انداز میں اجاگر کیا گیا۔
    پاکستانی طلباء نے ملی نغمے، علاقائی رقص، مکالماتی خاکے اور ترانے پیش کر کے حاضرین سے خوب داد سمیٹی، جبکہ ترکیہ کے طلباء نے اپنے فنِ موسیقی اور روایتی رقص کے ذریعے تقریب کو یادگار بنا دیا۔

    اس موقع پر ماحول میں ایسا تاثر تھا جیسے انقرہ اور لاہور، استنبول اور اسلام آباد کی روحیں ایک ہی لَے میں ہم آہنگ ہو گئی ہوں ،  دونوں قوموں کی محبت، اخوت اور دوستی کا نغمہ فضا میں گونج رہا تھا۔

    سفیرِ پاکستان کا وژن اور نوجوان نسل سے امیدیں

    سفیرِ پاکستان ڈاکٹر یوسف جنید

    اپنے پر اثر خطاب میں سفیرِ پاکستان ڈاکٹر یوسف جُنید نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کا یہ اقدام اُن کے اُس وژن کا مظہر ہے جس کے تحت وہ نوجوان نسل کو بین الاقوامی سطح پر سیکھنے، سمجھنے اور قیادت کرنے کے مواقع فراہم کرنا چاہتے ہیں۔
    انہوں نے کہا کہ یہ طلباء پاکستان کے روشن مستقبل کے سفیر ہیں، جو ترکیہ کے علمی و ثقافتی تجربات سے استفادہ حاصل کر کے وطن واپسی پر ایک بہتر معاشرہ تشکیل دینے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔انہوں نے کہا کہ یہ نوجوان وہ قیمتی سرمایہ ہیں جن پر پاکستان کا کل تعمیر ہوگا۔ ان کا یہ سفر علم اور دوستی کی ایک ایسی داستان ہے جو دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنیاد فراہم کرے گی۔

    انہوں نے طلباء کو مبارک باد دیتے ہوئے تلقین کی کہ وہ ترکیہ کے اعلیٰ تعلیمی اداروں، تحقیقی مراکز اور ثقافتی اداروں سے زیادہ سے زیادہ سیکھنے کی کوشش کریں، کیونکہ یہی تجربات مستقبل میں اُن کے لیے قیادت اور خدمتِ وطن کی راہیں روشن کریں گے۔

    ترکیہ کی وزارتِ تعلیم کی جانب سے تعاون اور خیرمقدمی کلمات

    ترکیہ کی وزارتِ قومی تعلیم کے ڈائریکٹر جنرل ایوپ تان یلدز

    اس موقع پر ترکیہ کی وزارتِ قومی تعلیم کے ڈائریکٹر جنرل ایوپ تان یلدز نے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی طلباء کو ترکیہ میں خوش آمدید کہا۔
    انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام نہ صرف پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تعلیمی تعلقات کو وسعت دے گا بلکہ دونوں ممالک کے نوجوانوں کے درمیان دیرپا  دوستی  کی بنیاد بھی رکھے گا۔
    انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ دو ایسی اقوام ہیں جن کے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں۔ یہ طلباء دونوں ملکوں کے درمیان پل کا کام کریں گے اور اُن تعلقات کو نئی نسل تک منتقل کریں گے جن کی جڑیں اخوت اور ایمان میں پیوست ہیں۔

    ایوب  تان یلدز نے اس موقع پر ترکیہ کی وزارتِ تعلیم کی جانب سے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ وہ پاکستان کے ساتھ اساتذہ کی تربیت، نصاب کی تیاری، اور مشترکہ تحقیقی منصوبوں میں تعاون کو مزید فروغ دے گی۔

    تعلیمی اور ثقافتی تعاون ،  ایک مشترکہ عہد

    سفیرِ پاکستان ڈاکٹر یوسف جُنید نے اپنے اختتامی خطاب میں ترکیہ کی وزارتِ قومی تعلیم کے تعاون پر گہرے  تشکر کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستان اس شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
    انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان طلباء و اساتذہ کے تبادلوں کے پروگرام، علمی سیمینارز، اور مشترکہ تحقیقی منصوبے نہ صرف دونوں ملکوں کے تعلیمی معیار کو بہتر بنائیں گے بلکہ ترک و پاکستانی نوجوانوں کو عالمی برادری میں نمایاں مقام دلائیں گے۔

    انہوں نے پاکستان ایمبیسی انٹرنیشنل اسٹڈی گروپ (PEISG) کی خدمات کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا، جو کئی برسوں سے دونوں برادر ممالک کے درمیان معیاری تعلیم اور ثقافتی ہم آہنگی کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔

    ایک قوم، دو ریاستیں،  محبت و اخوت کا رشتہ

    تقریب کے اختتام پر اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے سفیرِ پاکستان نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات محض سفارتی حدود تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک روحانی و تاریخی بندھن ہیں۔
    انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تعلقات ایک قوم، دو ریاستوں کے اصول پر استوار ہیں — ایک ایسا رشتہ جو اخلاص، اعتماد اور باہمی محبت سے جڑا ہوا ہے۔

    پاکستان ایمبیسی انٹرنیشنل اسٹڈی گروپ (PEISG) ہال

    انہوں نے طلباء کو ایک بار پھر ان کی کامیابیوں پر مبارک باد پیش کرتے ہوئے اُن کے روشن مستقبل کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور امید ظاہر کی کہ وہ وطن واپس جا کر علم و عمل کے چراغ جلائیں گے۔

    ترکیہ کا علمی و تہذیبی سفر ،  پاکستانی طلباء کے لیے یادگار تجربہ

    انقرہ میں پاکستانی ہونہار طلباء

    یہ طلباء، جن کی تعداد 70 ہے، ترکیہ پہنچنے والے اس تعلیمی پروگرام کے پہلے گروپ کا حصہ ہیں۔
    مجموعی طور پر 149 طلباء اس سکیم میں شامل ہیں، جو مختلف مراحل میں ترکیہ کے مختلف شہروں کا دورہ کریں گے۔
    طلباء نے اس سے قبل استنبول میں تین روزہ قیام کے دوران تاریخی مساجد، میوزیمز، جامعات، ٹیکنالوجی پارکس اور ثقافتی مراکز کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ترکیہ کی عظیم علمی و تہذیبی روایت کو قریب سے دیکھا اور براہِ راست استفادہ حاصل کیا۔

    انقرہ میں ہونے والی یہ تقریب دراصل اُس طویل سفر کا ایک اہم سنگِ میل تھی جو پاکستان اور ترکیہ کے درمیان علم، محبت، اور تعاون کے نئے باب رقم کر رہا ہے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Article25 اکتوبر استنبول میں پاکستان- افغانستان تکنیکی مذاکرات کی تیاریوں کا آغاز، دہشت گردی کا مکمل قلع قمع کرنے پر غور
    Next Article ترکیہ میں پاکستانی ہونہار طلباء کی علمی پرواز ، مزارِ اتاترک سے صدارتی قومی کتب خانے تک ایک تاریخی دن
    ڈاکٹر فرقان حمید

    Related Posts

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026

    ترکیہ اسکالرشپس: دنیا کی جامع ترین ( fully funded)اسکالرشپس، آن لائن درخواستوں کا طوفان، ویب سائٹ کو کریش کے خدشات

    16جنوری , 2026

    دنیا کے تواز ن کا پانسہ پلٹنے والے نئےدفاعی ستون، جلد ہی پاک-ترک -سعودی ا سلامی اتحادقائم کیے جانے کی توقع

    15جنوری , 2026

    Comments are closed.

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    ٹیگز
    #اسرائیل #حقان فیدان #حماس #سیاحت #غزہ #فلسطین آئی ٹی استنبول اسلام آباد افراطِ زر الیکشن 2024 انتخابات انقرہ اپوزیشن ایردوان بھونچال بیسٹ ماڈل آف ترکیہ ترقی ترک صدی ترک میڈیا ترکیہ تعلیم حزبِ اختلاف دنیا دہماکہ دی اکانومسٹ روس سلائِڈر سلائیڈر--- شہباز شریف صدر ایردوان صدر ایردوان، وزیراعظم شہباز شریف، پاکستان، ترکیہ عدلیہ عمران خان فیچرڈ قاتلانہ حملہ لانگ مارچ مغربی میڈیا ملت اتحاد وزیراعظم وزیراعظم شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف، صدر ایردوان، پاکستان، امداد پاکستان پاک فوج یورپ
    • Facebook
    • Twitter
    • Instagram
    اہم خبریں

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    ترکیہ اسکالرشپس: دنیا کی جامع ترین ( fully funded)اسکالرشپس، آن لائن درخواستوں کا طوفان، ویب سائٹ کو کریش کے خدشات

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    مقبول پوسٹس

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026
    Tr-Urdu All Rights Reserved © 2022
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.