Close Menu
Tr-Urdu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Tr-Urdu
    Subscribe
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    Tr-Urdu
    You are at:Home»پاکستان»ترک وزیر قومی تعلیم: پاک-ترک دوستی محض سیاسی یا سفارتی نہیں، بلکہ دو دلوں کا محبت، اخلاص اور ایمان پر مبنی روحانی رشتہ ہے
    پاکستان

    ترک وزیر قومی تعلیم: پاک-ترک دوستی محض سیاسی یا سفارتی نہیں، بلکہ دو دلوں کا محبت، اخلاص اور ایمان پر مبنی روحانی رشتہ ہے

    ڈاکٹر فرقان حمیدBy ڈاکٹر فرقان حمید23اکتوبر , 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔6 Mins Read
    ترک وزیر قومی تعلیم: پاک-ترک دوستی محض سیاسی یا سفارتی نہیں، بلکہ دو دلوں کا محبت، اخلاص اور ایمان پر مبنی روحانی رشتہ ہے
    پوسٹ شئیر کریں
    Facebook Twitter LinkedIn Email

    ہونہار پاکستانی طلباء کا ترک وزارتِ قومی تعلیم کا دورہ

    تعلیمی و ثقافتی ہم آہنگی کا نیا باب

    ترک وزارتِ قومی تعلیم

    انقرہ کے موسمِ  خزاں  کے  خوبصورت ماحول میں آج ایک نہایت پرمسرت موقع دیکھنے میں آیا، جب وزیراعظم پاکستان جناب محمد شہباز شریف کے خصوصی ہدایات  کے تحت ترکیہ کے دورے پر موجود ہونہار پاکستانی طلباء کے ایک وفد نے ترک وزارتِ قومی تعلیم (Ministry of National Education) کا دورہ کیا۔
    یہ دورہ بظاہر ایک تعلیمی سرگرمی ضرور تھی، مگر درحقیقت اس نے دونوں برادر ممالک کے درمیان دوستی، تعاون اور باہمی اعتماد کی ایک اور روشن علامت رقم کر دی۔
    وزیراعظم پاکستان کے اس اقدام کا بنیادی مقصد نہ صرف طلباء کی علمی کارکردگی کو سراہنا تھا بلکہ انہیں بین الاقوامی سطح پر ثقافتی، فکری اور تعلیمی تبادلے کا موقع فراہم کرنا بھی تھا تاکہ نئی نسل اس برادرانہ رشتے کو مزید گہرا اور پائیدار بنا سکے۔

    وفد کا  وزیرِ قومی تعلیم یوسف تکین کی جانب سے  پرتپاک استقبال

    یہ نوجوان دوستی کے سفیر ہیں

    ترک وزیر قومی تعلیم یوسف تیکین

    ترک وزارتِ قومی تعلیم پہنچنے پر پاکستانی طلباء کے وفد کا پُرجوش استقبال وزیرِ قومی تعلیم جناب یوسف تکین نے کیا۔
    انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کی دوستی محض سیاسی یا سفارتی نہیں، بلکہ یہ دو دلوں کے درمیان محبت، اخلاص اور ایمان پر مبنی ایک روحانی رشتہ ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ نوجوان نسل اس دوستی کے حقیقی وارث اور علمبردار ہیں۔
    جناب یوسف تکین نے طلباء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم، تہذیب اور اخلاق کے امتزاج سے ہی وہ اس برادرانہ رشتے کو نئی بلندیوں تک پہنچا سکتے ہیں۔
    انہوں نے طلباء پر زور دیا کہ وہ مشترکہ اقدار ۔ عزت، ایثار، وفا اور خدمت ،  کو اپنی شناخت بنائیں، تاکہ یہ تعلق محض الفاظ میں نہیں بلکہ عمل میں جھلکے۔

    سفیرِ پاکستان ڈاکٹر یوسف جنید کا اظہارِ تشکر

     یہ طلباء دونوں قوموں کے درمیان پُل بنیں گے

    سفیرِ پاکستان ڈاکٹر یوسف جنید

    اس موقع پر ترکیہ میں پاکستان کے سفیر جناب ڈاکٹر یوسف جنید نے وزارتِ قومی تعلیم اور ترک حکومت کا دلی شکریہ ادا کیا۔
    انہوں نے کہا کہ ترک حکومت نے جس محبت اور خلوص سے پاکستانی طلباء کا خیر مقدم کیا ہے، وہ دونوں قوموں کے تاریخی تعلقات کی جھلک ہے۔
    انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تعلقات جذبات سے بڑھ کر، ایک مشترکہ تاریخ، ثقافت، اور اسلامی اخوت پر مبنی ہیں۔ یہ طلباء مستقبل کے سفیر ہیں جو اپنی علمی روشنی سے ان تعلقات کو مزید مستحکم کریں گے۔
    سفیرِ پاکستان نے مزید کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کا یہ اقدام اس بات کا واضح اظہار ہے کہ پاکستان نوجوان نسل کی تربیت کو بین الاقوامی سطح پر بھی قومی ترقی کا لازمی حصہ سمجھتا ہے۔

    طلباء کے تاثرات

    یہ تجربہ زندگی بھر یاد رہے گا

    نمائندہ طلباء وفد انا فاروقی

    طلباء کے وفد کی نمائندگی کرتے ہوئے محترمہ انا فاروقی نے ترک حکومت اور وزارتِ قومی تعلیم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ دورہ ان کے لیے ایک خواب کی تعبیرثابت ہوا۔انہوں نے کہا کہ ہمیں ترکیہ کے تعلیمی نظام، اسکولوں، نصاب اور جدید تدریسی ماحول سے سیکھنے کا شاندار موقع ملا۔ سب سے بڑھ کر ترک عوام کی محبت، مہمان نوازی اور خلوص نے ہمارے دل جیت لیے۔
    ان کا کہنا تھا کہ یہ تجربہ نہ صرف علمی طور پر بلکہ جذباتی سطح پر بھی ناقابلِ فراموش ہے، کیونکہ اس نے پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات کو ان کے دلوں میں ایک نئی معنویت عطا کی ہے۔
    طلباء نے اس موقع پر ترکیہ کے خوبصورت شہر انقرہ، اس کے تاریخی ورثے، اور جدید تعلیمی اداروں کے بارے میں اپنے گہرے مشاہدات کا اظہار بھی کیا۔
    انہوں نے کہا کہ “ہم یہاں سے نہ صرف علم بلکہ محبت اور بھائی چارے کا تحفہ لے کر واپس جا رہے ہیں۔

    سفارتخانہ پاکستان کا دورہ

    عملی سفارتکاری کی جھلک

    پاکستانی طلباء سفارخانہ پاکستان میں

    بعد ازاں وفد نے انقرہ میں پاکستان کے سفارت خانے کا بھی دورہ کیا۔طلباء کو سفارت خانے کے مختلف شعبوں کا تعارف کرایا گیا اور بتایا گیا کہ ایک سفارتی مشن کس طرح دونوں ممالک کے درمیان سیاسی، تعلیمی، ثقافتی اور اقتصادی روابط کو مستحکم کرتا ہے۔سفارت خانے کے افسران نے طلباء کو بتایا کہ سفارتی خدمات محض رسمی نہیں بلکہ دو قوموں کے درمیان باہمی اعتماد اور دوستی کے ستون ہیں۔
    وفد کو یہ بھی بتایا گیا کہ ترکیہ میں پاکستان کے سفارت خانے نے ہمیشہ تعلیم، ثقافت، اور نوجوانوں کے باہمی روابط کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

    ترکیہ میں پاکستانی طلباء کی خوشی اور فخر

    ہم اپنے ملک کی نمائندگی پر نازاں ہیں

    ہونہار پاکستانی طلباء

    طلباء کے چہروں پر خوشی اور جوش دیدنی تھا۔انہوں نے کہا کہ انہیں نہ صرف ترک وزارتِ تعلیم سے سیکھنے کا موقع ملا بلکہ ترکیہ کے لوگوں سے مل کر یہ احساس ہوا کہ پاکستان اور ترکیہ کا رشتہ محض الفاظ کا نہیں بلکہ دلوں کا ہے۔
    طلباء نے ترک ثقافت، ادب، موسیقی اور مہمان نوازی سے اپنے گہرے تأثرات بیان کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنے ترک بھائیوں کے درمیان گھر جیسا احساس ہوا۔
    ایک طالبعلم نے کہا کہ “ہمیں یہ محسوس ہوا جیسے ہم کسی غیر ملک میں نہیں بلکہ اپنے ہی گھر کے دوسرے حصے میں موجود ہیں۔”
    یہ جذبات اس بات کا مظہر ہیں کہ پاکستانی نوجوان واقعی پاکستان اور ترکیہ کے درمیان محبت اور اخوت کے نئے سفیر بن چکے ہیں۔

    نئی نسل کے ذریعے دوستی کا نیا دور

    تحائف کا تبادلہ

    یہ پورا دورہ اس امر کی علامت ہے کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تعلقات اب ایک نئی نسل کی بنیادوں پر استوار ہو رہے ہیں — ایسی نسل جو علم، ادب، ثقافت، اور باہمی احترام کے ذریعے اس بھائی چارے کو نئی وسعت دے گی۔
    وزیراعظم شہباز شریف کا یہ اقدام نہ صرف تعلیمی کامیابیوں کو سراہنے کا ذریعہ ہے بلکہ ایک نئی فکری اور تہذیبی تحریک کی صورت میں سامنے آیا ہے، جو مستقبل میں دونوں برادر ممالک کے تعلقات کو مزید مستحکم کرے گا۔
    یہ دورہ بلاشبہ پاکستان اور ترکیہ کی دوستی کے سنہرے باب میں ایک نیا اور روشن اضافہ ہے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleترکیہ میں پاکستانی ہونہار طلباء کی علمی پرواز ، مزارِ اتاترک سے صدارتی قومی کتب خانے تک ایک تاریخی دن
    Next Article دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ٹھوس اقدامات نہ کیے تو پاکستان اپنی سرزمین کے دفاع کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے
    ڈاکٹر فرقان حمید

    Related Posts

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026

    ترکیہ اسکالرشپس: دنیا کی جامع ترین ( fully funded)اسکالرشپس، آن لائن درخواستوں کا طوفان، ویب سائٹ کو کریش کے خدشات

    16جنوری , 2026

    دنیا کے تواز ن کا پانسہ پلٹنے والے نئےدفاعی ستون، جلد ہی پاک-ترک -سعودی ا سلامی اتحادقائم کیے جانے کی توقع

    15جنوری , 2026

    Comments are closed.

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    ٹیگز
    #اسرائیل #حقان فیدان #حماس #سیاحت #غزہ #فلسطین آئی ٹی استنبول اسلام آباد افراطِ زر الیکشن 2024 انتخابات انقرہ اپوزیشن ایردوان بھونچال بیسٹ ماڈل آف ترکیہ ترقی ترک صدی ترک میڈیا ترکیہ تعلیم حزبِ اختلاف دنیا دہماکہ دی اکانومسٹ روس سلائِڈر سلائیڈر--- شہباز شریف صدر ایردوان صدر ایردوان، وزیراعظم شہباز شریف، پاکستان، ترکیہ عدلیہ عمران خان فیچرڈ قاتلانہ حملہ لانگ مارچ مغربی میڈیا ملت اتحاد وزیراعظم وزیراعظم شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف، صدر ایردوان، پاکستان، امداد پاکستان پاک فوج یورپ
    • Facebook
    • Twitter
    • Instagram
    اہم خبریں

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    ترکیہ اسکالرشپس: دنیا کی جامع ترین ( fully funded)اسکالرشپس، آن لائن درخواستوں کا طوفان، ویب سائٹ کو کریش کے خدشات

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    مقبول پوسٹس

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026
    Tr-Urdu All Rights Reserved © 2022
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.