Close Menu
Tr-Urdu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Tr-Urdu
    Subscribe
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    Tr-Urdu
    You are at:Home»کالم اور مضامین»نیویارک میں تبدیلی آگئی، ظہران ممدانی کی تاریخی کامیابی، اُردو زبان بولنے والوں کی بھر پور حمایت ، ظہران ممدانی نے شہید ذوالفقار علی بھٹو کے نعرےروٹی کپڑا اور مکان کو کیش کروالیا
    کالم اور مضامین

    نیویارک میں تبدیلی آگئی، ظہران ممدانی کی تاریخی کامیابی، اُردو زبان بولنے والوں کی بھر پور حمایت ، ظہران ممدانی نے شہید ذوالفقار علی بھٹو کے نعرےروٹی کپڑا اور مکان کو کیش کروالیا

    ڈاکٹر فرقان حمیدBy ڈاکٹر فرقان حمید5نومبر , 2025Updated:5نومبر , 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔10 Mins Read
    تاریخی کامیابی
    پوسٹ شئیر کریں
    Facebook Twitter LinkedIn Email

    خصوصی رپورٹ: ڈاکٹر فرقان حمید

    ظہران  ممدانی کی تاریخی کامیابی

    ظہران ممدانی نیو یارک کے مئیر منتخب

    امریکا کی سیاسی تاریخ میں نومبر  2025 کا مہینہ ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ،  جب نیویارک، جو کبھی سرمایہ دارانہ سیاست اور اشرافیہ کے قبضے کی علامت سمجھا جاتا تھا، ایک ایسے شخص کے نام ہوا جس نے اپنے نظریے، عزم اور خلوص سے اس شہر کی روح بدل دی۔
    یہ کہانی ہے ظہران ممدانی کی ،  ایک 34 سالہ ڈیموکریٹک سوشلسٹ، ایک مسلمان،اردو زبان بولنے والے ،  ایک تارکِ وطن کا بیٹا، اور ایک ایسا شخص جس نے اس خوابوں کے شہر میں امید کی نئی شمع روشن کر دی۔

    امید کی مہم ،  برونکس سے سٹی ہال تک کا سفر

    ظہران ممدانی نیو یارک کے مئیر منتخب

    یہ سفر کسی فلمی کہانی سے کم نہیں۔ برونکس کے ایک عام محلے سے تعلق رکھنے والا یہ نوجوان جب پہلی بار میئرشپ کی دوڑ میں شامل ہوا تو شاید بہت کم لوگ تھے جو اسے سنجیدگی سے لے رہے تھے۔مگر ظہران نے سیاست کو محض طاقت یا دولت کا کھیل نہیں سمجھا۔ وہ اسے عوامی خدمت کا میدان مانتے ہیں۔ ان کی انتخابی مہم میں نہ کوئی بڑے کارپوریٹ اسپانسر تھے، نہ بڑے سرمایہ کار ،  ان کے سب سے بڑے ساتھی وہ عام لوگ تھے جو نیویارک کے مہنگے کرایوں، کم تنخواہوں اور بے یقینی کے موسم میں زندہ رہنے کے لیے  جدو جہد  کر رہے تھے۔

    روٹی، کپڑا اور مکان

    بھٹو کا نعرہ  روٹی کپڑا اور  مکان  ، ظہران کے لیے کام کرگیا

    ظہران ممدانی نیو یارک کے مئیر منتخب

    پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی اور چئیر مین شہید ذولافقار علی بھٹو نے 1971ء کے انتخابات میں  روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ لگا کر اور اپنے آپ کو سوشلسٹ ظاہر کرکے پاکستان جیسے قدامت پسند معاشرے میں جس طرح کا میابی حاصل کی تھی دنیا کی سپر پاور کے شہر نیو یارک میں یہی نعرہ مئیر کے امیدوار  ظہران ممدانی نے لگا کر اور اپنے آپ کو مسلمان سوشلسٹ قرار دے کر نیو یارک کے عوام کے ووٹ حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔

    آج اگر بھٹو زندہ ہوتے تو وہ دیکھتے ان کی پارٹی پاکستان میں تو اپنی  مقبولیت کھو چکی ہے اور صرف  سندھ تک محدود ہو گئی ہے لیکن ان کا نعرہ آج نیو یارک کی سرخوں اور گلیو گلیوں میں گونجتا رہا ہے۔

    ظہران کی مہم کے نعرے میں ایک سادہ مگر گہرا وعدہ تھا روٹی کپڑا اور مکان جس نے نیو یارک کے بے یارو مددگار باشندوں کو اپنے طرف کھینچ لیا۔ ظہران نے  اپنے حامیوں کو صرف ووٹر نہیں بلکہ ساتھی کارکن سمجھا۔ یمنی بوڈیگا مالکان، سینیگالی ٹیکسی ڈرائیورز، ازبک نرسیں، ایتھوپیائی خواتین، جنوبی ایشیائی طلبا،  سب اس جدوجہد کا حصہ بن گئے۔ان کی مہم کا مرکز برونکس اور جیکسن ہائٹس جیسے علاقے تھے، جہاں ہر گلی میں رنگ، زبان اور نسل کی مختلف کہانیاں بستی ہیں۔ یہی تنوع ظہران کی طاقت بنا۔

    ایک نوجوان، ایک نظریہ، ایک خواب

    ظہران ممدانی نیو یارک کے مئیر منتخب

    ظہران ممدانی نے امریکی سیاست میں بائیں بازو کے نظریے کو پھر سے زندہ کیا۔ وہ ڈیموکریٹک سوشلسٹ ہیں، یعنی وہ سیاست میں سرمایہ داروں کے بجائے محنت کشوں کی آواز سننا چاہتے ہیں۔
    ان کے سیاسی نظریات برنی سینڈرز اور الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز کے قریب ہیں،  مگر ان میں ایک خاص بات اور ہے: وہ اپنی نسل،  مذہب اپنی مادری زبان اردو  پر فخر کرتے ہیں۔
    انھوں نے اپنی انتخابی مہم میں اپنے مسلمان تشخص کو چھپایا نہیں، بلکہ فخر سے اپنایا۔ وہ مسجدوں میں گئے، کمیونٹی کے اجتماعات میں اردو اور عربی میں گفتگو کی، اور یہاں تک کہ بجٹ بحران پر ایک ویڈیو اردو زبان میں جاری کی ،  تاکہ جنوبی ایشیائی اور مسلم ووٹرز جان سکیں کہ ان کی آواز نیویارک کے سٹی ہال تک پہنچ رہی ہے۔

    سیاسی طوفان کے درمیان جیت کی کہانی

    یہ جیت آسان نہیں تھی۔ان کے مخالف، سابق گورنر اینڈریو کومو، ایک طاقتور اور پرانے سیاسی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ان کے پیچھے ڈونلڈ ٹرمپ جیسے قدامت پسند عناصر بھی تھے، جنہوں نے کھلے عام ممدانی کے خلاف مہم چلائی۔یہاں تک کہ ایلون مسک نے بھی سوشل میڈیا پر انہیں کمیونسٹ خطرہ قرار دیا۔
    مگر ظہران ڈٹے رہے۔ انھوں نے نفرت کا جواب مسکراہٹ سے دیا۔اور جب غیر سرکاری نتائج سامنے آئے تو ظہران نے 49.6 فیصد ووٹ لے کر نیویارک کے میئر کی کرسی جیت لی، جب کہ کومو 41.6 فیصد پر رہ گئے۔

    انتخابی کامیابی نہیں ،  امریکی سیاست میں ایک نیا باب

    ظہران  ممدانی نیو یارک کے مئیر منتخب

    ایک ایسا باب جس میں ایک افریقی نژاد مسلماناردو زبان  بولنے والے  نوجوان نے ثابت کیا کہ حوصلہ، کردار، اور وژن کے سامنے نظام کی دیواریں بھی کمزور پڑ جاتی ہیں۔ظہران کا عوام سے پہلا خطاب ، ہم نے سیاسی خاندانوں کو شکست دی ہے۔ کامیابی کی رات، جب ظہران اسٹیج پر آئے، تو مجمعے میں ہزاروں چہرے چمک رہے تھے۔انھوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ میرے دوستو، ہم نے ایک سیاسی خاندان کو شکست دے دی ہے۔انھوں نے اپنے مخالف کومو کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں اینڈریو کومو کے لیے ان کی ذاتی زندگی میں صرف بہترین کا خواہشمند ہوں ،  مگر آج رات آخری بار ان کا نام لے رہا ہوں۔

    ان کا لہجہ پُراعتماد مگر عاجزانہ تھا۔ انھوں نے کہاکہ آج ہم نے ثابت کیا ہے کہ امید اب بھی زندہ ہے۔ نیویارک والوں نے تبدیلی کے لیے ووٹ دیا ہے۔ ہم ایک ایسا شہر بنائیں گے جہاں سب کو جینے کا حق، سہولت، اور عزت ملے۔

    انھوں نے اپنے رضاکاروں کا شکریہ ادا کیا ،  وہ ایک لاکھ سے زائد رضاکار جنھوں نے ان کی مہم کو عوامی تحریک میں بدل دیا۔

    نتَن یا ہو کے لیے نیو یارک کے دروازے بند

    اسرائیلی وزیراعظم نتَن یا ہو

    یاد رہےنیو یارک کا مئیر منتخب ہونے سے قبل وہ کئی ایک بار بیان دے  چکے  ہیں کہ کہ وہ مئیر منتخب ہونے کی صورت میں شہر کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایات جاری کریں گے کہ وہ    اسرائیل کے وزیر اعظم بنیا مین نتَن یا ہو  جن کے بارے میں انٹر نیشنل کریمینل کورٹ کی جانب سے نتَن یا ہو کے لیے  جاری کردہ وارنٹ گرفتاریپر رمل درآمد کروائیں گے۔ممدانی  کئی باروزیراعظم نتنَن یا ہو  کی جانب سے غزہ  میں جاری کاروائیوں کی شدید مذمت کرچکے ہیں اور انہیں  اقوامِ متحدہ کے تعریف کے تحت جنگی جرائم کا مرتکب ٹھہرا چکے ہیں۔

    سیاسی پس منظر اور خاندانی جڑیں

    ظہران کا پورا نام ظہران کوامے ممدانی ہے۔وہ 1991 میں یوگنڈا کے دارالحکومت کمپالا میں پیدا ہوئے۔
    ان کے والد، پروفیسر محمود ممدانی، عالمی شہرت یافتہ دانشور اور سیاست کے ماہر ہیں۔ان کی والدہ میرا نائر بالی وڈ اور ہالی وڈ کی معروف فلم ساز ہیں ،  جن کی فلمیں Monsoon Wedding اور The Namesake دنیا بھر میں دیکھی گئیں۔

    ظہران کا بچپن کیپ ٹاؤن اور برونکس کے درمیان گزرا ،  ایک ایسا امتزاج جس نے ان کے اندر عالمی سوچ اور سماجی شعور پیدا کیا اور وہ  فلسطین کے حقوق کے لیے سرگرم رہے۔

    مہم کا مرکز: انسان، نہیں ادارے

    ظہران نے اپنی سیاسی مہم میں واضح کہا کہ ان کا وژن نیویارک کو ایک ایسا شہر بنانا ہے جہاں دولت چند ہاتھوں میں نہیں بلکہ سب کے درمیان گردش کرے۔
    ان کے وعدوں میں مفت بسیں، رہائش کی منصفانہ پالیسی، اور محنت کش طبقے کے لیے ٹیکس ریلیف شامل تھے۔ناقدین نے ان کے منصوبوں کو مالی طور پر غیر حقیقی کہا، مگر عوام نے انھیں امید کی آواز سمجھا۔
    ان کی سوشلسٹ پالیسیوں نے خاص طور پر نوجوان نسل کو متاثر کیا ،  وہ نسل جو سرمایہ دارانہ نظام کی ناہمواریوں سے بیزار ہے۔

    مسلم تشخص اور اردو  زبان سے محبت

     

    ظہران نے بارہا کہا کہ ان کی شناخت ان کی سیاست کا حصہ ہے۔وہ نہ صرف مسجدوں میں جاتے ہیں بلکہ کمیونٹی تقریبات میں اردو میں خطاب بھی کرتے ہیں۔انہوں نے کہا تھا کہ میں اردو بولتا ہوں کیونکہ یہ میری ماں کی، میرے نانا کی اور لاکھوں تارکینِ وطن کی زبان ہے۔ ان کے نزدیک اردو صرف زبان نہیں بلکہ ایک ثقافتی پل ہے،  جو جنوبی ایشیا کے مسلمانوں، ہندوؤں، بنگالیوں اور نیپالیوں کو ایک دوسرے سے جوڑتی ہے۔ان کے مہم کے نعرے، پوسٹرز، اور حتیٰ کہ کچھ ویڈیوز میں اردو جملے شامل تھے، جو جنوبی ایشیائی ووٹروں کے دلوں تک پہنچے۔

    راما دواجی ، ظہران کی شریکِ زندگی اور ساتھی

    راما دواجی ، ظہران کی شریکِ زندگی اور ساتھی

    ظہران کی زندگی کا دوسرا خوبصورت باب ان کی شریکِ حیات راما دواجی ہیں۔28 سالہ راما شامی نژاد امریکی فنکارہ اور اینیمیٹر ہیں۔ وہ مشرقِ وسطیٰ کے مسائل پر کام کرتی ہیں، اور اپنے فن کے ذریعے شناخت، جنگ، اور عورت کی طاقت جیسے موضوعات کو اجاگر کرتی ہیں۔مئی 2024 میں ان دونوں کی شادی ہوئی۔ الیکشن جیتنے کے بعد جب ظہران نے تقریر کی تو انھوں نے راما کو عربی میں پکاراحیاتی ،  میری زندگی!پھر مسکرا کر کہا کہ اس لمحے اور ہر لمحے میں میں تمہیں اپنے ساتھ دیکھنا چاہتا ہوں۔

    یہ لمحہ نیویارک کے سیاسی منظرنامے میں ایک تازہ ہوا کا جھونکا تھا ،  جہاں پہلی بار ایک مسلمان رہنما نے اپنے عقیدے، محبت، اور زندگی کے جذبات کو فخر کے ساتھ عوام کے سامنے پیش کیا۔

    تنقید، دباؤ اور استقامت

    ان کی فلسطینیوں کے لیے حمایت اور اسرائیل کو یہودی ریاست  کے طور پر تسلیم نہ کرنے کے مؤقف نے کچھ حلقوں کو ناراض کیا۔مگر ظہران نے واضح کہا کہ میں ہر مذہب، نسل اور قوم کے لیے برابری پر یقین رکھتا ہوں۔ میں کسی سے نفرت نہیں کرتا، مگر میں انصاف سے پیچھے نہیں ہٹ سکتا۔یہ وہی جملہ تھا جس نے انھیں لاکھوں دلوں میں جگہ دی۔

    ٹرمپ کو جواب ، ہم سب ایک ہیں

    جب ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر نیویارک کے شہری کسی کمیونسٹ کو منتخب کریں گے تو وفاقی فنڈز روک دیے جائیں گے، تو ظہران کا جواب ایک مسکراہٹ کے ساتھ آیا، میں سکینڈینیوین سیاستدانوں جیسا ہوں ، بس رنگ تھوڑا سانولا ہے!پھر انھوں نے اعلان کیا کہ اگر آپ ہم میں سے کسی ایک تک پہنچنا چاہتے ہیں، تو آپ کو ہم سب سے گزرنا پڑے گا۔(یہ دراصل پاکستان کی پنجابی فلموں کو مشہور  ڈائیلاگ بھی رہا ہے ) یہ جملہ نیویارک کی گلیوں میں نعرہ بن گیا۔

    تاریخ رقم کرنے والا لمحہ

    راما دواجی ، ظہران کی شریکِ زندگی اور ساتھی

    1892 کے بعد ظہران ممدانی نیویارک کے سب سے کم عمر میئر بنے ،  اور ساتھ ہی پہلے مسلمان اور پہلے افریقی نژاد  اور اردو زبان بولنے والے میئر بھی۔
    یہ صرف ان کی کامیابی نہیں، بلکہ دنیا بھر کے اُن نوجوانوں کی جیت ہے جو یقین رکھتے ہیں کہ خواب حقیقت بن سکتے ہیں۔

    امریکہ اور پھر دنیا میں  امید کا نیا سورج

    ظہران ممدانی کی کہانی ایک فرد کی جیت سے زیادہ ایک نظریے کی فتح ہے۔یہ اس یقین کی گواہی ہے کہ جب حوصلہ، ایمانداری اور وژن ساتھ ہوں تو کوئی نظام، کوئی دیوار اور کوئی مخالفت انسان کو روک نہیں سکتی۔

    ممکن ہے آج دنیا کے کسی کونے میں کوئی نوجوان، جو غربت یا ناانصافی کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے، ظہران کی کہانی پڑھ کر یہ سوچےاگر وہ کر سکتا ہے ،  تو میں کیوں نہیں؟یہی وہ جذبہ ہے جو دنیا کو بدل دیتا ہے۔
    اور شاید یہی ظہران ممدانی کا اصل پیغام ہےکہ امید اب بھی زندہ ہے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleترک وزارتِ خارجہ: افغانستان اور پاکستان جنگ بندی جاری رکھنے اور استنبول میں 6 نومبر سے امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنےپر متفق
    Next Article انقرہ میں سفارتخانہ پاکستان اور پاکستان ایمبیسی انٹرنیشنل اسٹڈی گروپ کے اشتراک سے ہونہار پاکستانی طلبہ کے اعزاز میں ثقافتی تقریب
    ڈاکٹر فرقان حمید

    Related Posts

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026

    ترکیہ اسکالرشپس: دنیا کی جامع ترین ( fully funded)اسکالرشپس، آن لائن درخواستوں کا طوفان، ویب سائٹ کو کریش کے خدشات

    16جنوری , 2026

    دنیا کے تواز ن کا پانسہ پلٹنے والے نئےدفاعی ستون، جلد ہی پاک-ترک -سعودی ا سلامی اتحادقائم کیے جانے کی توقع

    15جنوری , 2026

    Comments are closed.

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    ٹیگز
    #اسرائیل #حقان فیدان #حماس #سیاحت #غزہ #فلسطین آئی ٹی استنبول اسلام آباد افراطِ زر الیکشن 2024 انتخابات انقرہ اپوزیشن ایردوان بھونچال بیسٹ ماڈل آف ترکیہ ترقی ترک صدی ترک میڈیا ترکیہ تعلیم حزبِ اختلاف دنیا دہماکہ دی اکانومسٹ روس سلائِڈر سلائیڈر--- شہباز شریف صدر ایردوان صدر ایردوان، وزیراعظم شہباز شریف، پاکستان، ترکیہ عدلیہ عمران خان فیچرڈ قاتلانہ حملہ لانگ مارچ مغربی میڈیا ملت اتحاد وزیراعظم وزیراعظم شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف، صدر ایردوان، پاکستان، امداد پاکستان پاک فوج یورپ
    • Facebook
    • Twitter
    • Instagram
    اہم خبریں

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    ترکیہ اسکالرشپس: دنیا کی جامع ترین ( fully funded)اسکالرشپس، آن لائن درخواستوں کا طوفان، ویب سائٹ کو کریش کے خدشات

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    مقبول پوسٹس

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026
    Tr-Urdu All Rights Reserved © 2022
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.