Close Menu
Tr-Urdu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Tr-Urdu
    Subscribe
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    Tr-Urdu
    You are at:Home»ترکیہ»کھسیانا بھارت کھمبا نوچے، ترکیہ- پاکستان اتحاد پر بھارت کی نوحہ گری، بھارتی میڈیا میں پاک ترک اتحاد پر خوف کی لہر
    ترکیہ

    کھسیانا بھارت کھمبا نوچے، ترکیہ- پاکستان اتحاد پر بھارت کی نوحہ گری، بھارتی میڈیا میں پاک ترک اتحاد پر خوف کی لہر

    ڈاکٹر فرقان حمیدBy ڈاکٹر فرقان حمید19نومبر , 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔9 Mins Read
    کھسیانا بھارت کھمبا نوچے
    پوسٹ شئیر کریں
    Facebook Twitter LinkedIn Email

    خصوصی رپورٹ: ڈاکٹر فرقان حمید

    بھارتی میڈیا  اور بھارت سرکار پاک ترک اتحاد پر خوفزدہ

    دنیا بدل رہی ہے، طاقت کے محور تبدیل ہو رہے ہیں اور تاریخ کے صفحات ایک نئی سمت میں پلٹ رہے ہیں۔ اس تیز رفتار عالمی تبدیلی نے کچھ ملکوں کو اعتماد دیا ہے، کچھ کو تنہائی، اور کچھ کو وہ اضطراب جسے اردو محاورے میں ایک جملے میں بیان کیا جا سکتا ہے: کھسیانی بلی کھمبا نوچے۔
    بھارتی میڈیا اور اس کی سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کا حال آج کچھ ایسا ہی ہے۔

    بھارتی  میڈیا کی حالیہ تحریروں، رپورٹس اور تجزیاتی تبصروں  میں   ترکیہ اور پاکستان کے بڑھتے ہوئے تزویراتی تعلقات کی وجہ سے  دہلی میں غیر معمولی گھبراہٹ پیدا ہونے کے واضح اشارات ملتے ہیں۔

    India Today:

    Why Turkey’s New Alliance With Pakistan Could Spark Trouble For India

    یہ گھبراہٹ کیوں ہے؟
    کیونکہ پہلی بار بھارت کو ایک ایسے اتحاد کا سامنا ہے جو
    – نظریاتی بنیاد رکھتا ہے،
    – عسکری طور پر واقعی مضبوط ہے،
    – ٹیکنالوجی میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے،
    – اور جس کی عالمی مقبولیت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

    بھارت کی طرف سے لگائے گئے الزامات اور خدشات دراصل اس خوف کی علامت ہیں کہ ترکیہ -پاکستان تعاون اب ایک طاقتور حقیقت بن چکا ہے، اور بھارت، اپنے تمام دعوؤں کے باوجودعالمی سیاست میں بے حد تنہا ہو چکا ہے۔

    ترکیہ کی بڑھتی ہوئی عالمی طاقت، بھارت کی نیندیں حرام

    ترکیہ اب وہ ملک نہیں جو دہلی کی خواہش پر خاموش رہے یا علاقائی معاملات میں غیر جانبدار رہے۔بھارت جس ترکیہ پر الزام لگا رہا ہے، وہ مشرقِ وسطیٰ، یورپ، افریقہ اور وسط ایشیا میں اپنی سفارتکاری کے نتیجے میں  ان خطوں  کا قلبی مرکز بن چکا ہے۔  

    بھارت کا میڈیا لاکھ شور مچائے، مگر عالمی قیادت ترکیہ کے کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔
    امریکی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ ترکیہ کے دفاعی وژن اور صدر ایردوان کی قیادت کو قابلِ تعریف قرار دے چکے ہیں۔وہ واضح الفاظ میں کہہ چکے:

    Erdogan is a tough leader, a smart leader, and Turkiye is a rising power.

    یہ وہ تعریف ہے جس کا ایک لفظ بھی بھارت کو کبھی حاصل نہیں ہوا۔
    ٹرمپ نے ترکیہ کو

    One of the strongest and most important allies

    بھارت کو ان جملوں میں اپنے مستقبل تباہ ہونے کی  تصویر دکھائی دیتی ہے، اور شاید اسی لیے اس کے سیاسی اعصاب مزید تناؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔

    یہ بات دہلی کے لیے کسی سفارتی تھپڑ سے کم نہیں۔بھارت کو اس لیے بھی تکلیف ہے کہ امریکا، روس، خلیجی ممالک، افریقی ریاستیں حتیٰ کہ  چین، سب ترکیہ کے ساتھ مفادات کی بنیاد پر کام کرنا چاہتے ہیں۔
    جبکہ بھارت کی خارجہ پالیسی، خاص طور پر 7 مئی کے بعد، اسرائیل کے سہارے رہ گئی ہے اور اسی ایک جھکاؤ نے اسے عالمی طور پر تنہا کر دیا ہے۔

    صدر رجب طیب ایردوان کی قیادت میں ترکیہ نے

    -نیٹو کے اندر نمایاں حیثیت حاصل کی،( نیٹو کے اندر دوسری بڑی عسکری قوت )
    -یورپ اور ایشیا دونوں میں فیصلہ ساز کردار اپنایا،
    – دفاعی صنعت میں انقلاب برپا کیا،
     -اور مسلم دنیا میں حقیقی لیڈر کی حیثیت اختیار کی۔

    آج Bayraktar TB2، Akıncı، Kızılelma، MILGEM، KAAN جیسے منصوبے عالمی طاقتوں کے اعصاب پر سوار ہیں۔
    بھارت کے لیے اصل مسئلہ یہی ہے:
    پاکستان کے پاس وہ ٹیکنالوجی پہنچ رہی ہے جس کے ذریعے پہلے صرف اسرائیل اور امریکا فائدہ اٹھاتے تھے۔

     پاکستان- ترکیہ اتحاد: وہ حقیقت جسے بھارت برداشت نہیں کر پا رہا

    پاکستان اور ترکیہ کا تعاون صرف جذباتی نہیں، عملی اور نتیجہ خیز ہے۔

    پاکستان کے لیے فائدے:

    -جدید ڈرون ٹیکنالوجی،
    – جہاز سازی (MILGEM)،
    -پاکستان کا KAANجیسے پروگراموں میں شمولیت،
    – مشترکہ تربیت اور عسکری مشقیں
    – ریسرچ اور ڈیفنس انٹیگریشن۔

    ترکیہ کے لیے فائدے:

    – جنوبی ایشیا میں حقیقی اسٹریٹجک پارٹنر،
    – دنیا کی چھٹی بڑی فوج کے ساتھ تعاون،
    – ٹیکنالوجی، انٹیلی جنس اور دفاعی منڈی تک براہ راست رسائی،
    – مسلم دنیا میں مزید اثر و رسوخ۔

    ترکیہ-پاکستان تعلقات: محض جغرافیہ نہیں، تہذیب کی رگوں میں بہتا رشتہ

    ترکیہ اور پاکستان کا رشتہ محض سیاسی مفاد کا نہیں، یہ صدیوں پر محیط تہذیبی، روحانی اور فکری رشتوں کا تسلسل ہے۔ خلافتِ عثمانیہ کے دفاع میں برصغیر کے مسلمانوں نے جو محبت، جو مالی و اخلاقی حمایت پیش کی، آج وہی قرض ترکیہ اپنی دوستی اور سفارتی شراکت کے ذریعے اتار رہا ہے۔

    بھارت اس تاریخی حقیقت کو چاہے جتنا بھی نظرانداز کرے، مگر یہ رشتہ کتابی نہیں، قلبی ہےاور قلبی رشتوں کو سفارتی پروپیگنڈا ڈگمگا نہیں سکتا۔

    بھارت کی  نوحہ گیری ، پاکستان-ترکیہ کی پیش قدمی

    بھارت نے بہت شور مچایا کہ ترکیہ نے امریکی ساختہ اپاچی ہیلی کاپٹروں کا راستہ روکا۔
    سوال یہ ہے:

    اگر یہ  معمولی غلط فہمی  تھی تو بھارت یہ موضوع بار بار کیوں اٹھا رہا ہے؟

    کیونکہ یہ ایک
    نفسیاتی شکست
    تھی، جسے بھارت ہضم نہیں کر پا رہا۔

    نیٹو رکن ترکیہ نے عالمی قوانین کے اندر رہتے ہوئے ایک ایسا پیغام دیا جس نے بھارت کی سفارتی کمزوری کو بے نقاب کر دیا۔بھارت کے پاس جواب کچھ نہیں تھا، سوائے شور مچانے کے۔

    ترکیہ اور پاکستان کے بڑھتے ہوئے تعلقات نے بھارت میں جو ذہنی ہیجان پیدا کیا ہے، اس کی جڑیں زمینی حقائق سے زیادہ بھارت کے اپنے خوف، اپنی ناکامیوں اور اپنی سفارتی تنہائی میں پیوست ہیں۔ جب ایک قوم ایک ہی جھوٹ سو بار دہراتی ہے تو وہ حقیقت بننے کے بجائے اس کے اپنے ذہن کی شکستگی کا آئینہ بن جاتا ہے، اور یہی کچھ ہم ان دنوں بھارتی بیانیے میں دیکھ رہے ہیں۔

    بھارت کا مسئلہ یہ نہیں کہ ترکیہ پاکستان کو ٹیکنالوجی دے رہا ہے۔بھارت کا مسئلہ یہ نہیں کہ ترکیہ کشمیر پر کھل کر بولتا ہے۔بھارت کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ:

    ترکیہ اور پاکستان، دو ایسے  ممالک  جو ایک پلیٹ فارم پر آ چکے ہیں، یک جان دو  قالب  بن چکے ہیں  جنہوں نے خطے میں طاقت کا نیا توازن بنا دیا ہے۔بھارت  جتنی بھی  نوحہ گیری ، جتنا  بھی پروپیگنڈا  کرلے، حقیقت یہی ہے کہ:

    • ترکیہ ایک ابھرتی ہوئی سفارتی اور عسکری طاقت ہے
    • پاکستان خطے کا فیصلہ کن  کھلاڑی  بن چکا ہے
    • اور بھارت اپنی ہی غلطیوں، تکبر اور مہم جوئی کے بوجھ تلے تنہائی میں ڈوب رہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس کے تجزیاتی ادارے اب ایسی تحریریں لکھنے پر مجبور ہیں جن کا لبِ لباب صرف ایک ہے:
    • کھسیانی بلی کھمبا نوچے

    بھارت کا خوف: ڈرون نہیں، اتحاد کا

    بھارتی ذرائع ابلاغ ترکیہ کے ڈرونز، دفاعی معاہدوں اور تربیتی پروگراموں کا شور تو بہت کرتے ہیں، مگر اصل خوف وہ نہیں ہے۔اصل خوف یہ ہے کہ:

    • ایک طرف پاکستان عسکری و سفارتی طور پر پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط کھڑا ہے؛
    • دوسری طرف ترکیہ صدر رجب طیب ایردوان کی قیادت میں عالمی مسلم سیاست کا محور بنتا جا رہا ہے؛
    • اور تیسری طرف بھارت 7 مئی کے واقعات کے بعد دنیا میں اسرائیل کے سوا تنہا ہوچکا ہے۔

    بھارت کو اصل خطرہ اس ابھرتے ہوئے اسلامی سیاسی محور سے ہے، جس کی قیادت ترکیہ و پاکستان کر رہے ہیں۔
    یہی وجہ ہے کہ معمولی واقعات کو بھی بھارت پوری دنیا کے سامنے ایسے پیش کر رہا ہے جیسے قیامت برپا ہوگئی ہو۔

    پاکستان: خطے کا فیصلہ کن کھلاڑی

    پاکستان نے حالیہ برسوں میں جس سفارتی، عسکری اور سیاسی اعتماد کے ساتھ ابھر کر سامنے آیا ہے، اس نے بھارت کے بنائے ہوئے تمام بیانیے کوٹھکرا کر رکھ دیا ہے۔
    7 مئی کے واقعات کے بعد پاکستان جس سرعت، حکمت اور عسکری مہارت کے ساتھ آگے بڑھا، وہ بھارتی اعصاب پر بجلی بن کر گرا۔بھارتی میڈیا کے زخم آج بھی ہرے ہیں۔

    بھارت کی سفارتی تنہائی: ایک تلخ حقیقت

    بھارت آج اسرائیل کے سوا دنیا میں کہیں کھڑا نہیں۔خلیجی ممالک، ترکیہ، ایران، پاکستان، حتیٰ کہ افریقی ریاستیں بھی بھارت کے متکبرانہ رویے اور علاقائی مہم جوئی سے تنگ آ چکی ہیں۔دنیا بدل چکی ہے، مگر بھارتی بیانیہ اب بھی سرد جنگ کے زمانے میں اٹکا ہوا ہے۔

    ترکیہ پر سیاسی اسلام کا الزام: ایک گھسا پٹا بھارتی ڈرامہ

    بھارت ہر اس ملک کو سیاسی اسلام کا حامی قرار دیتا ہے جو:

    – کشمیر پر بات کرے،
    – مسلمانوں کے حقوق کی آواز اٹھائے،
    -یا پاکستان کا ساتھ دے۔

    بھارت کے لیے ترکیہ کا سب سے بڑا جرم یہ ہے کہ ایردوان نے عالمی فورمز پر کشمیر کے مظلوموں کی بات کی۔
    وہی بات جو آج دنیا کے بیشتر لیڈرز کھل کر کرنے لگے ہیں۔

    پاکستان کو ٹیکنالوجی دینا ، خطرہ نہیں، بھارت کی ناکامی ہے

    بھارت کی ڈرون ٹیکنالوجی، انٹیلی جنس، سرحدی نگرانی اور جنگی تیاریوں میں بڑی کمزوریاں حال ہی میں سامنے آئی ہیں۔
    ترکیہ کے ڈرونز نے آرمینیا، لیبیا، شام، آذربائیجان، افریقی براعظم اور یوکرین میں اپنی کارکردگی ثابت کی ہے۔

    بھارت کو خوف ہے کہ پاکستان اس ٹیکنالوجی کے ساتھ خطے میں اپنی برتری قائم کر لے گا اور حقیقت یہی ہے کہ یہ عمل جاری ہے۔

    بھارت کے الزامات: سوال زیادہ، ثبوت کم

    بھارت ہر بات پر الزام تو لگا دیتا ہے لیکن کبھی:

    -ٹھوس شواہد نہیں دیتا،
    -کوئی سفارتی  دستاویز سامنے نہیں لاتا،
    -کوئی بین الاقوامی ادارے سے تصدیق نہیں کرواتا۔

    پھر الزام تراشی کو تجزیہ بنا کر پیش کر دیتا ہے، یہی بھارتی میڈیا کا وتیرہ ہے۔

    ترکیہ اور پاکستان: مستقبل کا محور

    یہ حقیقت اب عالمی طور پر تسلیم کی جا رہی ہے کہ:

    – ترکیہ مشرقِ وسطیٰ، یورپ اور ایشیا کے سنگم پر نئی عالمی طاقت بن چکا ہے
    – پاکستان جنوبی ایشیا کی فیصلہ کن دفاعی قوت ہے
    – دونوں کا اتحاد خطے کے توازن کو کئی دہائیوں تک متاثر کرے گا

    بھارت اس اتحادی حقیقت سے سب سے زیادہ خوفزدہ ہے۔

    بھارتی میڈیا میں خوف کی فضاء 

    بھارتی میڈیا میں محسوس ہونے والا واضح پیغام

    ہم ترکیہ اور پاکستان کے اتحاد سے ڈرے ہوئے ہیں۔

    اور یہ خوف بے بنیاد نہیں، کیونکہ:

    – ترکیہ کا عالمی قد بڑھ رہا ہے

    – پاکستان اپنی دفاعی صلاحیت بڑھا رہا ہے
    –   دونوں ممالک باہمی احترام اور اعتماد کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں
    –  دنیا میں بھارت کی ساکھ بدترین سطح پر جا پہنچی ہے

    بھارت اب  دنیا میں میڈیا کے ذریعے جتنا مرضی پراپگینڈا کرلے لیکن دنیا اس حقیقت کو سمجھ چکی ہے کہ ترکیہ پاکستان کا اسٹریٹجک اتحاد وقت کے ساتھ ساتھ مضبوط سے مضبوط تر ہوتا جا رہا ہے اور یہی خوف بھارت کو  اندر سے ختم کیے جا رہا ہے۔  

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleترکیہ میں جلد ہی مہنگائی پر قابو پا لیا جائے گا اور افرطِ زر کی شرح سنگل ڈیجٹ تک لے جانے کا ہدف
    Next Article امریکی کانگریس کا تاریخی اعتراف: پاکستان کی فیصلہ کن فوجی برتری ، افواجِ پاکستان نے بھارت کو زناٹے دار تھپڑ رسید کیا: وزیراعظم پاکستان
    ڈاکٹر فرقان حمید

    Related Posts

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    21جنوری , 2026

    Comments are closed.

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    ٹیگز
    #اسرائیل #حقان فیدان #حماس #سیاحت #غزہ #فلسطین آئی ٹی استنبول اسلام آباد افراطِ زر الیکشن 2024 انتخابات انقرہ اپوزیشن ایردوان بھونچال بیسٹ ماڈل آف ترکیہ ترقی ترک صدی ترک میڈیا ترکیہ تعلیم حزبِ اختلاف دنیا دہماکہ دی اکانومسٹ روس سلائِڈر سلائیڈر--- شہباز شریف صدر ایردوان صدر ایردوان، وزیراعظم شہباز شریف، پاکستان، ترکیہ عدلیہ عمران خان فیچرڈ قاتلانہ حملہ لانگ مارچ مغربی میڈیا ملت اتحاد وزیراعظم وزیراعظم شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف، صدر ایردوان، پاکستان، امداد پاکستان پاک فوج یورپ
    • Facebook
    • Twitter
    • Instagram
    اہم خبریں

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    ترکیہ اسکالرشپس: دنیا کی جامع ترین ( fully funded)اسکالرشپس، آن لائن درخواستوں کا طوفان، ویب سائٹ کو کریش کے خدشات

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    مقبول پوسٹس

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026
    Tr-Urdu All Rights Reserved © 2022
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.