Close Menu
Tr-Urdu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Tr-Urdu
    Subscribe
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    Tr-Urdu
    You are at:Home»پاکستان»فیلڈ مارشل عاصم منیر: پاکستان کی عسکری قیادت کا نیا باب ، متحدہ کمان، ملک میں آئینی استحکام اور مستقبل کی اونچی اڑان
    پاکستان

    فیلڈ مارشل عاصم منیر: پاکستان کی عسکری قیادت کا نیا باب ، متحدہ کمان، ملک میں آئینی استحکام اور مستقبل کی اونچی اڑان

    ڈاکٹر فرقان حمیدBy ڈاکٹر فرقان حمید4دسمبر , 2025Updated:4دسمبر , 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔10 Mins Read
    فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر ، آرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فورسز
    پوسٹ شئیر کریں
    Facebook Twitter LinkedIn Email

    خصوصی تحریر: ڈاکٹر فرقان حمید

    فیلڈ مارشل عاصم منیر: پاکستان کی عسکری قیادت کا نیا باب

    فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی بطور چیف آف ڈیفینس فورسز تقرری، پاکستان کی عسکری، سیاسی اور آئینی تاریخ کا فیصلہ کُن موڑثابت ہو رہا ہے۔

    پاکستان کی ریاستی تاریخ میں کبھی کبھار ایسے فیصلے سامنے آتے ہیں جو صرف عہدہ سازی نہیں بلکہ مستقبل کے قومی ڈھانچے، دفاعی حکمت عملی اور سیاسی نظام کی سمت کا تعین کرتے ہیں۔ ایوانِ صدر سے جاری حالیہ اعلامیہ بھی انہی فیصلوں میں ایک ہے، جس میں صدر آصف علی زرداری نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو پاکستان کے پہلے چیف آف ڈیفینس فورسز (CDF) کے طور پر تقرر کرنے کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔ اسی کے ساتھ انہیں چیف آف آرمی اسٹاف کے عہدے پر مزید پانچ سال کے لیے توسیع بھی ملی ہے، جس سے یہ عہدہ پاکستان کی دفاعی ہسٹری میں ایک نئی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔

    صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر

    ستائیسویں آئینی ترمیم کے بعد ملک کے عسکری اختیارات کا ایک نیا اور مربوط ماڈل سامنے آیا ہے، جس کا بنیادی مقصد تینوں افواج، بری، بحریہ  اور فضائیہ کو ایک ایسی متحدہ قیادت کے ماتحت لانا ہے جو نہ صرف خطے کی تیزی سے بدلتی ہوئی جیو اسٹریٹجک صورتحال کا مقابلہ کر سکے بلکہ پاکستان کی دفاعی پالیسیوں کو جدید دنیا کے تقاضوں سے بھی ہم آہنگ کرے۔

    اس ترمیم کے بعد فیلڈ مارشل عاصم منیر پاکستان کے طاقتور ترین عسکری قائد کے طور پر ابھرے ہیں، جن کے پاس نہ صرف عملی، اسٹریٹجک اور کمانڈ اختیار ہے بلکہ انہیں تاحیات اعزازی حیثیت بھی حاصل رہے گی جو برطانوی فوجی روایت کے مطابق سب سے اعلیٰ فوجی رُتبہ ہے۔

    فیصلہ کن موڑ

    صدر آصف زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر 

    پاکستان کی سیاسی و عسکری تاریخ ہمیشہ پیچیدہ رہی ہے۔ سول و ملٹری تعلقات کی اتار چڑھاؤ نے اکثر ریاستی ڈھانچے کو الجھایا، اور قومی پالیسیوں کی سمت میں بارہا تبدیلیاں آئیں۔ مگر آج پہلی بار ایسا ہوتا دکھائی دیتا ہے کہ سیاسی قیادت اور عسکری قیادت دونوں ایک ہی صفحے پر موجود ہیں۔

    وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے درمیان پائی جانے والی ہم آہنگی نہ صرف ایک نئی روایت ہے بلکہ پاکستان کے حکومتی اور دفاعی عمل میں استحکام کی علامت بھی بن رہی ہے۔

    یہ وہ پس منظر ہے جس میں یہ عظیم فیصلہ سامنے آیا، ایک ایسا فیصلہ جس میں نہ صرف دفاعی قیادت کو متحد کیا گیا ہے بلکہ ریاست کو ایک ایسے دور میں داخل ہونے کا موقع بھی ملا ہے جہاں فیصلہ سازی تیز، مربوط اور ایک سمت میں ہونے کی امید بڑھ گئی ہے۔

    پاکستان میں عسکری ڈھانچے کی تاریخی تبدیلی

    فیلڈر مارشل جنرل عاصم منیر

    پاکستان میں اب تک تینوں افواج کے پاس اپنی منفرد اور نسبتاً       آزاد کمان موجود رہی۔ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی (CJCSC) کا عہدہ بھی تھا مگر اس کے پاس براہِ راست کمانڈ کے اختیارات نہیں ہوتے تھے؛ یہ زیادہ تر کوآرڈی نیشن کا فورم تھا۔

    دنیا میں جدید دفاعی نظام دو ماڈلز پر استوار ہیں:

    1. یونیفائیڈ کمانڈ ماڈل، جیسے امریکہ میں Joint Chiefs کے تحت
    2. سپر کمانڈ ماڈل ، جیسے برطانیہ میں Chief of Defence Staff

    پاکستان نے طویل عرصے تک ایک روایتی ماڈل اپنائے رکھا، لیکن خطے کی تیزی سے بدلتی عسکری صورتحال، بھارت کا بڑھتا جارحانہ رویہ، پاک-چین،  خلیج دفاعی تعاون، اور پاکستان کی تکنیکی اپ گریڈیشن نے تقاضا کیا کہ ایک نیا ڈھانچہ ترتیب دیا جائے۔

    اسی تناظر میں ‘چیف آف ڈیفنس فورسز ‘(CDF)    ‘ کا عہدہ تخلیق کیا گیا،جو پاکستان میں پہلی بار ہے۔

    یہ نہ صرف اختیارات کو مربوط کرتا ہے بلکہ فیصلے کی رفتار، فورسز کی ہم آہنگی اور دفاعی پالیسی کے یکجہتی کو بھی مضبوط کرتا ہے۔

    یہ تبدیلی کسی بھی ملک کی عسکری تاریخ میں شاید کئی دہائیوں بعد آتی ہے، مگر پاکستان نے یہ فیصلہ ایک ایسے وقت کیا جب خطہ نئی صف بندی سے گزر رہا ہے۔

    ستائیسویں آئینی ترمیم: پاکستان کا نیا عسکری دستور

    پاکستان قومی اسمبلی

    اس آئینی ترمیم کے ذریعے:

    • چیف آف ڈیفنس فورسز کا نیا عہدہ تشکیل پایا
    • تینوں افواج کو متحدہ کمان کے ماڈل میں شامل کیا گیا
    • اس عہدے کی مدت پانچ سال مقرر کی گئی
    • فیلڈ مارشل کے اعزازی رُتبے کو آئینی شیلڈ دی گئی
    • CDF کو فوجداری کارروائی سے عمر بھر کی آئینی استثنیٰ حاصل ہوا
    • CDF کے تحت جوائنٹ آپریشنز اور اسٹریٹجک پالیسی اب مربوط اور منظم رہیں گی

    اس ترمیم کے پیش کرنے کے موقع پر وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے واضح الفاظ میں کہا تھا:

    ‘یہ فیصلہ پاکستان کی قوم، اس کی سلامتی اور اس کے مستقبل کے لیے ہے۔ ہم مشکل ترین وقت میں متحد ہوئے، جس میں جنرل عاصم منیر کی قیادت نے اہم کردار ادا کیا۔’

    یہ بیان نہ صرف سیاسی اعتماد کا مظہر ہے بلکہ قومی سطح پر عسکری فیصلوں کے عوامی قبولِ عام کو بھی ظاہر کرتا ہے۔

    جنرل عاصم منیر ،  شخصیت، وژن اور ابھرتا ہوا طاقتور ترین کردار

    فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی شخصیت کے کئی پہلو انہیں پاکستان کا بے مثال عسکری قائد ثابت کرتے ہیں۔

    وہ حافظِ قرآن بھی ہیں اور یہ بات ان کی شخصیت کے اندر موجود روحانی مضبوطی اور داخلی نظم و ضبط کو ظاہر کرتی ہے۔وہ عسکری ذہانت کے حامل ہیں۔

    • DG ISI رہے
    • DG Military Intelligence رہے
    • مدینہ منورہ میں تعیناتی کے دوران کئی اسلامی ممالک کی عسکری قیادت سے رابطے رہے
    • کڈٹ کالج سے کیریئر کا آغاز
    • بہترین فیلڈ کمانڈر
    • سفارتی انگلش اور عربی دونوں زبانوں پر مکمل عبور

    بطور سربراہ پاک فوج ان کا انداز:

    • غیر ضروری بیانات سے گریز
    • ہر فیصلہ بند کمروں میں مگر مضبوط
    • سیاسی قیادت کو مکمل بریفنگ
    • میڈیا کی چمک سے دور مگر زمینی حقیقتوں سے آگاہ
    • دشمنوں کے بارے میں سخت واضح مؤقف

    بطور چیف آف ڈیفنس فورسز، اختیارات مزید مضبوط ،  مگر ذمہ داری اس سے بھی زیادہ

    اس عہدے میں:

    • تینوں افواج کی اسٹریٹجی
    • جوائنٹ آپریشنز
    • ایٹمی کمانڈ سسٹم میں مشاورت
    • سائبر اور اسپیس ڈیفنس
    • ریگولر فورسز + سپیشل فورسز کا انضمام
    • خطے میں اسٹریٹجک تعاون
    • پاکستان کی دفاعی سفارت کاری

    سب کچھ ایک ہی مرکزِ اختیار سے منسلک ہو جائے گا۔

    یہ وہ طاقت ہے جو ماضی میں نہ آرمی چیف کے پاس تھی اور نہ CJCSC کے پاس۔

    وزیراعظم شہباز شریف اور عسکری قیادت ،  نئی سیاسی روایت

    وزیراعظم شہباز شریف-فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر

    پاکستان کی سیاسی تاریخ میں سول حکومت اور فوج کئی بار آمنے سامنے آتی رہی ہیں، مگر اس وقت ایک نئی روایت جنم لے رہی ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے درمیان:

    • مکمل ہم آہنگی
    • ہر اہم غیر ملکی دورے پر مشترکہ شرکت
    • قومی پالیسیوں میں باہمی مشاورت
    • معیشت، سیکیورٹی، سفارت کاری، تینوں محاذوں پر یکساں سمت

    یہ پاکستان کے اندرونی استحکام کے لیے غیر معمولی مثبت تبدیلی ہے۔

    یہ پہلی بار ہے کہ وزیراعظم کے ہر بڑے دورے میں آرمی چیف/CDF ساتھ موجود ہوتے ہیں۔

    یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ ریاست کے دونوں بڑے ستون ایک ہی سمت میں پیش قدمی کر رہے ہیں۔

    مئی 2025 پاک-بھارت کشیدگی: طاقت کا نیا توازن

    افواجِ پاکستان

    مئی 2025 کی پاک- بھارت کشیدگی میں پاکستان نے جس نظم و ضبط، تیاری اور حکمت عملی کا مظاہرہ کیا، اس نے بین الاقوامی طاقتوں کو حیران کر دیا۔اس کشیدگی میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کردار فیصلہ کن تھا۔

    • انٹیلی جنس برتری
    • میسر اسپیس و سائبر ڈیفنس
    • سفارتی فورمز پر بروقت رابطے
    • امریکہ، چین اور خلیجی ممالک کو تعاون پر آمادہ رکھنا
    • بھارتی عزائم کا قبل از وقت اندازہ

    یہی وہ لمحہ تھا جب پاکستان نے عملی میدان میں اپنی صلاحیت ثابت کی، اور یہی وجہ ہے کہ انہیں فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دی گئی۔

    سفارتی میدان میں عاصم منیر – ٹرمپ ملاقات اور عالمی اعتماد

    وزیراعظم شہباز شریف، صدر ٹرمپ اور جنرل عاصم منیر

    دنیا کا میڈیا اس بات پر حیران تھا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نجی پاکستان کے آرمی چیف کےاعزاز  میں لنچ رکھا اور صدر ٹرمپ اور پاکستان آرمی چیف کی ملاقات  کا جادو  سر چڑھ کر بولا  اور پھر جس نے امریکہ کی پاکستان سے متعلق  پالیسی میں  یکسر تبدیل دیکھی گئی  جس پر بھارت میں کہرام مچ گیا۔   کیونکہ امریکہ کا یہ انداز اسی لیے غیر معمولی تھا کہ:

    • امریکہ شاذ ہی کسی غیر امریکی عسکری شخصیت کے لیے ایسی الفاظ استعمال کرتا ہے
    • پاک- بھارت تناؤ میں ٹرمپ نے کھل کر پاکستان کا مؤقف سنا
    • انہوں نے جنگ روکوانے میں کردار ادا کیا
    • عالمی میڈیا نے اس ملاقات کو ‘ Strategic Shift ‘ قرار دیا جس سے پاکستان کی عالمی ساکھ میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔

    پاکستان کی مستقبل کی سمت ،  کیا واقعی ‘اونچی اڑان’ممکن ہے؟

    فوجی برتری

    فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایوان صدر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:

    ‘پاکستان یہاں سے اونچی اڑان بھرتے ہوئے دکھائی دے گا۔’

    یہ کوئی جذباتی نعرہ نہیں تھا بلکہ ایک اسٹریٹجک بیان تھا، جس میں کئی اشارے موجود ہیں:

    1. سیاسی استحکام میں اضافہ
    2. عسکری فیصلوں کی رفتار تیز
    3. دفاعی صنعت میں نئی سرمایہ کاری
    4. چین، خلیج، ترکیہ بلاک کی مضبوطی
    5. بھارت کی خطے میں تنہائی بڑھ رہی
    6. پاکستان کی معیشت کے لیے نئے مواقع

    اگر ریاست کے دونوں ستون اسی ہم آہنگی سے چلتے رہے تو پاکستان واقعی ایک نئے دور میں داخل ہو سکتا ہے۔

    تنقید اور حقیقت

    اگرچہ عاصم منیر کو بے پناہ اختیار ات ملے ہیں ، مگر تنقید موجود ہے:

    • کچھ حلقے یہ اختیارات ‘بہت زیادہ’  قرار دیتے ہیں
    • تاحیات استثنیٰ پر سوال اٹھایا جا رہا ہے
    • پارلیمنٹ کی عاجلانہ ترمیم پر بھی بحث جاری ہے
    • مستقبل میں کسی بھی غلط استعمال کے امکانات کو مکمل طور پر رد نہیں کیا جا سکتا

    مگر حقیقت یہ ہے کہ:

    • پاکستان انتہائی نازک دور سے گزر رہا تھا
    • بکھرا ہوا فوجی ڈھانچہ خطرناک ثابت ہو سکتا تھا
    • سیاسی قیادت کسی بھی بڑی اسٹریٹجک چیلنج کے سامنے کمزور پڑ سکتی تھی
    • بھارت کا جارحانہ رویہ ایک متحد عسکری ردعمل کا تقاضا کرتا تھا

    اس لیے یہ فیصلہ حالات کے مطابق ایک جرات مندانہ ریاستی قدم سمجھا جا رہا ہے۔

    کیا پاکستان کی نئی عسکری قیادت ایک نئے دور کا آغاز ہے؟

    پاک فضائیہ بمقابلہ بھارتی فضائیہ

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اب پاکستان کی سب سے مضبوط، سب سے بااختیار اور سب سے معتبر عسکری شخصیت ہیں۔
    ان کے پاس طاقت بھی ہے، اختیار بھی، اور عوامی و سیاسی اعتماد بھی۔

    ان کی قیادت میں:

    • دفاعی ڈھانچہ مربوط ہوا
    • سیاسی نظام نسبتاً مستحکم ہوا
    • سفارتی اعتماد میں اضافہ ہوا
    • پاک- بھارت توازن تبدیل ہو کر پاکستان کے حق میں ہوا
    • اتحادِ ریاست مضبوط ہوا

    پاکستان واقعی اس موڑ پر کھڑا ہے جہاں سے اسے ‘اونچی اڑان’ بھرنی ہے اور شاید پہلی بار ایسا ممکن بھی دکھائی دے رہا ہے۔

    یہ فیصلہ اب تاریخ پر چھور دیا گیا ہے کہ  یہ پاکستان کے مضبوط مستقبل کا نقطہ آغاز تھا یا ایک نیا تجربہ۔
    تاہم آج کے حالات یہ بتا رہے ہیں کہ ریاست ایک ایسے دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں فیصلہ سازی، قیادت اور اسٹریٹجک سمت ایک واضح رُخ میں استوار ہو رہے ہیں۔

    اور یہی وہ عنصر ہے جو ایک قوم کی تقدیر بدل سکتا ہے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleترک بغیر پائلٹ جنگی طیارہ قزل ایلما ، آسمانوں کا بے تاج بادشا ، ترکیہ گیم چینجر بن کر دفاعی نظام میں انقلاب برپا کررہا ہے
    Next Article وزیراعظم شہباز شریف کی صدر ایردوان، صدر پوتن، صدربردی محمدوف ، صدر پزشکیان سے خوشگوار ، ملاقاتیں جس نے سفارتکاری پروپگینڈا کو ناکام بنادیا ، آر ٹی انڈیا، جاری کردہ پوسٹ ڈیلیٹ کرنے پر مجبور ، اصل حقائق جانیے
    ڈاکٹر فرقان حمید

    Related Posts

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026

    ترکیہ اسکالرشپس: دنیا کی جامع ترین ( fully funded)اسکالرشپس، آن لائن درخواستوں کا طوفان، ویب سائٹ کو کریش کے خدشات

    16جنوری , 2026

    دنیا کے تواز ن کا پانسہ پلٹنے والے نئےدفاعی ستون، جلد ہی پاک-ترک -سعودی ا سلامی اتحادقائم کیے جانے کی توقع

    15جنوری , 2026

    Comments are closed.

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    ٹیگز
    #اسرائیل #حقان فیدان #حماس #سیاحت #غزہ #فلسطین آئی ٹی استنبول اسلام آباد افراطِ زر الیکشن 2024 انتخابات انقرہ اپوزیشن ایردوان بھونچال بیسٹ ماڈل آف ترکیہ ترقی ترک صدی ترک میڈیا ترکیہ تعلیم حزبِ اختلاف دنیا دہماکہ دی اکانومسٹ روس سلائِڈر سلائیڈر--- شہباز شریف صدر ایردوان صدر ایردوان، وزیراعظم شہباز شریف، پاکستان، ترکیہ عدلیہ عمران خان فیچرڈ قاتلانہ حملہ لانگ مارچ مغربی میڈیا ملت اتحاد وزیراعظم وزیراعظم شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف، صدر ایردوان، پاکستان، امداد پاکستان پاک فوج یورپ
    • Facebook
    • Twitter
    • Instagram
    اہم خبریں

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    ترکیہ اسکالرشپس: دنیا کی جامع ترین ( fully funded)اسکالرشپس، آن لائن درخواستوں کا طوفان، ویب سائٹ کو کریش کے خدشات

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    مقبول پوسٹس

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026
    Tr-Urdu All Rights Reserved © 2022
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.