Close Menu
Tr-Urdu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Tr-Urdu
    Subscribe
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    Tr-Urdu
    You are at:Home»پاکستان»وزیراعظم شہباز شریف کی صدر ایردوان، صدر پوتن، صدربردی محمدوف ، صدر پزشکیان سے خوشگوار ، ملاقاتیں جس نے سفارتکاری پروپگینڈا کو ناکام بنادیا ، آر ٹی انڈیا، جاری کردہ پوسٹ ڈیلیٹ کرنے پر مجبور ، اصل حقائق جانیے
    پاکستان

    وزیراعظم شہباز شریف کی صدر ایردوان، صدر پوتن، صدربردی محمدوف ، صدر پزشکیان سے خوشگوار ، ملاقاتیں جس نے سفارتکاری پروپگینڈا کو ناکام بنادیا ، آر ٹی انڈیا، جاری کردہ پوسٹ ڈیلیٹ کرنے پر مجبور ، اصل حقائق جانیے

    ڈاکٹر فرقان حمیدBy ڈاکٹر فرقان حمید14دسمبر , 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔9 Mins Read
    وزیراعظم شہباز شریف کی صدر ایردوان، صدر پوتن، صدربردی محمدوف ، صدر پزشکیان سے خوشگوار ، ملاقاتیں
    پوسٹ شئیر کریں
    Facebook Twitter LinkedIn Email

    خصوصی تجزیہ: ڈاکٹر فرقان حمید 

    وزیراعظم شہباز شریف، پوتن اور ایردوان کی ملاقات

    بھارتی میڈیا کی ہمیشہ کی طرح سبکی

    بین الاقوامی سفارت کاری تصاویر کے زاویوں، کرسیوں کی ترتیب یا چند سیکنڈز کی ویڈیوز سے نہیں سمجھی جاتی، بلکہ اس کے اصول، ضابطے اور روایات صدیوں پر محیط تجربے اور ریاستی وقار پر مبنی ہوتے ہیں۔ بدقسمتی سے جنوبی ایشیا میں خاص طور پر بھارتی میڈیا نے عالمی سفارت کاری کو بھی داخلی سیاست اور پاکستان دشمن بیانیے کا ایندھن بنانے کی روایت اپنا لی ہے، جس کا تازہ ترین مظاہرہ ترکمانستان میں ہونے والے حالیہ بین الاقوامی اجلاس کے موقع پر دیکھنے میں آیا۔

    وزیراعظم پاکستان شہباز شریف، روسی صدر ولادیمیر پوتن اور ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان کی ملاقات کو جس انداز میں بھارتی میڈیا نے پیش کرنے کی کوشش کی، وہ نہ صرف صحافتی اصولوں کے منافی تھی بلکہ خود اس بیانیے کے خالقوں کے لیے باعثِ سبکی بھی بنی۔ ایک مختصر اور سیاق و سباق سے کاٹی گئی ویڈیو کو بنیاد بنا کر یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ پاکستان کے وزیراعظم کو دانستہ طور پر انتظار کروایا گیا، حالانکہ بعد میں یہی دعویٰ کرنے والے ادارے اپنی پوسٹ ڈیلیٹ کرنے پر مجبور ہو گئے۔تاہم یہ پروپیگنڈا نہ صرف ناکام ہوا بلکہ الٹا خود بھارت اور اس کے میڈیا کی سفارتی و صحافتی ساکھ پر سوالیہ نشان بن گیا۔

    ترکمانستان عالمی امن کانفرنس

    حقیقت یہ ہے کہ بین الاقوامی اجلاسوں میں مشترکہ ملاقاتیں، مرحلہ وار شمولیت اور سائڈ لائن رابطے ایک معمول کی بات ہیں۔ کسی رہنما کا پہلے کسی اور ملاقات میں مصروف ہونا اور بعد میں کسی مشترکہ نشست میں شامل ہونا نہ تو غیر معمولی ہے اور نہ ہی پروٹوکول کی خلاف ورزی۔ اس حقیقت کی تصدیق خود کریملن کے سرکاری بیان سے ہوتی ہے، جس میں واضح طور پر کہا گیا کہ ترکیہ اور روس کے صدور کی ملاقات میں بعد ازاں وزیراعظم پاکستان شہباز شریف بھی شامل ہوئے۔

    یہ بھی قابلِ غور ہے کہ اگر واقعی کوئی سفارتی بے توقیری یا غیر معمولی واقعہ پیش آیا ہوتا تو نہ صرف روسی یا ترک میڈیا اس پر ضرور بات کرتا بلکہ کریملن کو وضاحت بھی دینا پڑتی۔ اس کے برعکس، روسی ذرائع ابلاغ نے اس ملاقات کو معمول کے سفارتی عمل کے طور پر رپورٹ کیا اور اسے علاقائی سلامتی اور ثالثی کردار جیسے سنجیدہ موضوعات سے جوڑا۔

    صدر پوتن -وزیراعظم شہباز شریف

    ترکیہ اور پاکستان کے تعلقات کسی ایک اجلاس یا ملاقات کے محتاج نہیں۔ صدر رجب طیب ایردوان اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان تعلقات برسوں پر محیط اعتماد، تعاون اور باہمی احترام پر قائم ہیں۔ خود ترک صدر کی جانب سے وزیراعظم پاکستان سے ملاقات کو مثبت اور تعمیری قرار دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ اس نشست کو عالمی قیادت نے سنجیدگی سے لیا۔

    افسوسناک پہلو یہ ہے کہ بھارتی میڈیا کے اس گمراہ کن بیانیے کو پاکستان کے اندر بھی بعض حلقوں نے بغیر تحقیق آگے بڑھایا۔ یہ طرزِ عمل نہ تنقید کہلاتا ہے اور نہ صحافت، بلکہ یہ قومی وقار کے حوالے سے غیر ذمہ دارانہ رویے کی عکاسی کرتا ہے۔ اختلافِ رائے جمہوری حق ہے، مگر ریاستی عزت کو کمزور کرنے والی غلط معلومات کا پرچار کسی طور قابلِ دفاع نہیں۔

    اس واقعے سے ایک بار پھر یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ پاکستان کو عالمی سیاست میں نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔ روس، ترکیہ اور دیگر اہم ممالک پاکستان کو خطے کے ایک سنجیدہ، ذمہ دار اور اثر رکھنے والے فریق کے طور پر دیکھتے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کی عالمی سطح پر موجودگی اور مصروف سفارتی سرگرمیاں اسی حقیقت کا اظہار ہیں۔

    صدر بردی مہمدوف- وزیراعظم شہباز شریف

    آخرکار، اس معاملے میں سبکی پاکستان کی نہیں بلکہ اس پروپیگنڈے کی ہوئی جو چند گھنٹوں میں ہی دم توڑ گیا۔ یہ واقعہ اس امر کی یاد دہانی ہے کہ سچ وقتی شور میں دب تو سکتا ہے، مگر مٹایا نہیں جا سکتا۔ پاکستان کی سفارتی وقار اپنی جگہ قائم ہے اور عالمی قیادت کے ساتھ اس کے رابطے کسی ایک ویڈیو یا من گھڑت دعوے سے متأثر نہیں ہوتے۔

    واقعہ کیا ہے؟ حقائق کو سمجھنا ضروری ہے

    صدر رجب طیب ایردوان-وزیراعظم شہباز شریف

    سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ واقعہ حقیقت میں کیا ہے، کیونکہ آدھے سچ اور من گھڑت کہانیوں پر قائم بیانیے ہمیشہ کمزور بنیادوں پر کھڑے ہوتے ہیں۔

    ترکمانستان میں ہونے والے اجلاس کے دوران:

    • روسی صدر ولادیمیر پوتن اور ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان کے درمیان ایک اہم ملاقات ہوئی
    • اس ملاقات میں دوطرفہ تعلقات، تجارت، توانائی، علاقائی سیاست، یوکرین جنگ اور بیرونی دباؤ جیسے موضوعات زیرِ بحث آئے
    • اسی ملاقات میں بعد ازاں وزیراعظم پاکستان شہباز شریف بھی شامل ہوئے

    یہ کوئی خفیہ بات نہیں، کیونکہ:

    • کریملن کے سرکاری بیان میں اس کا واضح ذکر موجود ہے
    • روسی اخبار MK.ru نے بھی اسی بات کی تصدیق کی
    • پاکستان کے وزیراعظم آفس نے بھی مصافحہ اور گفتگو کی ویڈیو جاری کی

    آر ٹی انڈیا کی ویڈیو: صحافت یا پروپیگنڈا؟

    اصل تنازع اس وقت کھڑا کیا گیا جب آر ٹی انڈیا نے ایک 14 سیکنڈ کی مختصر ویڈیو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کی۔ (آر ٹی انڈیا، روس کے سرکاری مالی تعاون سے چلنے والے عالمی میڈیا نیٹ ورک آر ٹی کی تازہ ترین شاخ ہے۔ صدر پیوٹن نے گزشتہ ہفتے نئی دہلی کے دورے کے دوران آر ٹی انڈیا نیوز چینل کا افتتاح کیا تھا۔)

     اس ویڈیو میں:

    • وزیراعظم شہباز شریف پاکستانی پرچم کے ساتھ رکھی گئی کرسی پر بیٹھے نظر آتے ہیں
    • روسی پرچم کے ساتھ رکھی گئی کرسی اس لمحے خالی ہوتی ہے
    • نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ بھی موجود ہوتے ہیں

    اسی ویڈیو کو بنیاد بنا کر دعویٰ کیا گیا کہ:

    وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کو روسی صدر پوتن نے 40 منٹ تک انتظار کروایا۔

    یہ دعویٰ نہ تو کسی مستند ذریعے سے ثابت کیا گیا، نہ ہی کسی سرکاری بیان سے اس کی تائید ہوئی۔

    جمعے کی رات جاری وضاحتی بیان میں آر ٹی انڈیا نے کہا کہ ہم نے ترکمانستان میں منعقدہ پیس اینڈ ٹرسٹ فورم کے دوران پاکستانی وزیرِاعظم کے ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کے انتظار سے متعلق ایک پوسٹ ڈیلیٹ کر دی ہے۔ یہ پوسٹ واقعات کی غلط تشریح ہو سکتی تھی۔

    جبکہ ٹائمز آف انڈیا اور ہندوستان ٹائمز کے مطابق، پوسٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ وزیرِاعظم دس منٹ بعد وہاں سے روانہ ہو گئے۔

    دوسری جانب، روسی خبر رساں ادارے ریا نووستی نے رپورٹ کیا ہے کہ وزیرِاعظم شہباز شریف بعد میں صدر اردوان اور صدر پیوٹن کے درمیان ہونے والی ملاقات میں شامل ہوئے، جو بند کمرے میں 40 منٹ تک جاری رہی۔

    پوسٹ ڈیلیٹ ہونا: اصل کہانی  کا آغاز 

    اگر یہ دعویٰ درست ہوتا، تو:

    • آر ٹی انڈیا پوسٹ ڈیلیٹ نہ کرتا
    • کریملن اس کی تردید یا وضاحت دیتا
    • روسی یا ترکی میڈیا میں اس کا ذکر ضرور ہوتا

    مگر حقیقت یہ ہے کہ:

    • آر ٹی انڈیا نے اپنی پوسٹ ڈیلیٹ کر دی
    • آر ٹی انڈیا

    • بعد ازاں خود اس بات کی تصدیق بھی کی کہ پوسٹ ہٹا لی گئی ہے
    • بھارتی سوشل میڈیا صارفین خود سوال اٹھانے لگے کہ پوسٹ کیوں ڈیلیٹ کی گئی؟

    یہ عمل بذاتِ خود اس بات کا اعتراف تھا کہ خبر یا تو غلط تھی یا گمراہ کن۔

    سفارتی پروٹوکول: جسے بھارتی میڈیا سمجھنے سے قاصر ہے

    بین الاقوامی سفارت کاری میں:

    • مشترکہ ملاقاتوں میں رہنماؤں کی مرحلہ وار شمولیت ایک معمول ہے
    • بعض اوقات ایک رہنما پہلے کسی اور رہنما سے بات کر رہا ہوتا ہے
    • بعد میں تیسرا یا چوتھا رہنما اسی نشست میں شامل ہوتا ہے

    یہ عمل:

    • نہ تو بے توقیری کہلاتا ہے
    • نہ انتظار کروانا
    • نہ پروٹوکول کی خلاف ورزی

    بلکہ یہ:

    • کثیرالجہتی سفارت کاری (Multilateral Diplomacy) کا حصہ ہے

    بھارتی میڈیا نے یا تو جان بوجھ کر اس حقیقت کو نظر انداز کیا یا پھر دانستہ طور پر اسے توڑ مروڑ کر پیش کیا۔

    کریملن کا بیان: سب سے مضبوط ثبوت

    کریملن کے جاری کردہ بیان کی آخری سطر خاص طور پر قابلِ غور ہے:

    پاکستانی وزیرِ اعظم شہباز شریف بھی بعد میں اس ملاقات میں شامل ہوگئے۔

    یہ ایک سرکاری، ریاستی اور سفارتی دستاویز ہے، جسے نظر انداز کرنا یا اس کے برعکس کہانی گھڑنا محض صحافتی بددیانتی ہی نہیں بلکہ سفارتی آداب کی توہین بھی ہے۔

    صدر ایردوان اور وزیراعظم شہباز شریف: تعلقات کی نوعیت

    ترکیہ اور پاکستان کے تعلقات محض ریاستی نہیں بلکہ:

    • تاریخی
    • تہذیبی
    • دفاعی
    • عوامی

    بھی ہیں۔

    صدر رجب طیب ایردوان نے خود:

    • وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کو انتہائی مثبت
    • اور دوطرفہ تعلقات کے لیے مفید قرار دیا

    یہی وجہ ہے کہ:

    • وزیراعظم شہباز شریف کی اس نشست میں شمولیت فطری اور متوقع تھی
    • کسی بھی سطح پر انہیں غیر متعلق یا غیر مدعو نہیں سمجھا گیا

    بھارتی میڈیا کا اصل مسئلہ کیا ہے؟

    وزیراعظم شہباز شریف

    بھارتی میڈیا کا مسئلہ پاکستان نہیں، بلکہ:

    • پاکستان کا عالمی سطح پر موجود رہنا
    • عالمی رہنماؤں کے ساتھ پاکستان کے وزیراعظم کا بیٹھنا
    • پاکستان کا سفارتی بیانیے میں شامل ہونا

    ہے۔

    بھارت یہ برداشت نہیں کر پا رہا کہ:

    • پاکستان آج بھی روس اور ترکیہ جیسے ممالک کے ساتھ براہِ راست سفارتی رابطوں میں ہے
    • پاکستان خطے کے سکیورٹی معاملات میں ایک سنجیدہ فریق سمجھا جاتا ہے
    • پاکستان کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں رہا

    اندرونی عناصر کا کردار: ایک افسوسناک پہلو

    صدر پزشکیان -وزیراعظم شہباز شریف

    افسوسناک امر یہ ہے کہ:

    • پاکستان کے اندر بھی چند آوازیں بھارتی میڈیا کے بیانیے کو بغیر تحقیق آگے بڑھاتی رہیں
    • انہی عناصر نے اس خبر کو ‘سفارتی سبکی’  کا رنگ دینے کی کوشش کی
    • حالانکہ بعد میں خود خبر دینے والے ادارے نے پوسٹ ڈیلیٹ کر دی

    یہ رویہ نہ اختلافِ رائے ہے، نہ صحافت، بلکہ:

    • قومی مفاد سے غفلت
    • اور ریاستی وقار سے لاپروائی ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا بیانیہ: اعتماد اور وقار

    وزیراعظم شہباز شریف نے ایکس پر لکھاکہ ترکمانستان میں مختلف عالمی رہنماؤں سے تعمیری ملاقاتیں ہوئیں۔ عمومی گرمجوشی دیکھی گئی اور میں نے یہ دن صدر ایردوان، صدر پوتن اور دیگر عالمی رہنماؤں کے ہمراہ گزارا۔

    صدر بردی مہمدوف-وزیراعظم شہباز شریف

    یہ بیان:

    • اعتماد کی عکاسی کرتا ہے
    • کسی دفاعی یا معذرت خواہانہ انداز سے خالی ہے
    • ایک پختہ اسٹیٹس مین کے طرزِ بیان کی مثال ہے

    آر ٹی انڈیا نے پوسٹ ڈیلیٹ کردی مگر بھارت کا پرو گینڈا جاری

    اس پورے معاملے کا اگر غیرجانبدار تجزیہ کیا جائے تو نتیجہ واضح ہے:

    • بھارتی میڈیا کا بیانیہ زمین بوس ہوا
    • آر ٹی انڈیا کو اپنی پوسٹ ڈیلیٹ کرنا پڑی
    • کریملن اور روسی میڈیا نے حقیقت بیان کر دی
    • وزیراعظم پاکستان کی عالمی وقعت پر کوئی آنچ نہ آئی

    بلکہ اس واقعے نے یہ ثابت کر دیا کہ پاکستان آج بھی عالمی سیاست میں ایک سنجیدہ، باوقار اور اہم ریاست ہےاور اس کے وزیراعظم کو عالمی رہنما نظر انداز نہیں کر سکتے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleفیلڈ مارشل عاصم منیر: پاکستان کی عسکری قیادت کا نیا باب ، متحدہ کمان، ملک میں آئینی استحکام اور مستقبل کی اونچی اڑان
    Next Article اسرائیل، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ پروپیگنڈا، اپنے ہی گلے پڑگیا ، بہتان اور عالمی سیاست کی خطرناک بساط
    ڈاکٹر فرقان حمید

    Related Posts

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026

    ترکیہ اسکالرشپس: دنیا کی جامع ترین ( fully funded)اسکالرشپس، آن لائن درخواستوں کا طوفان، ویب سائٹ کو کریش کے خدشات

    16جنوری , 2026

    دنیا کے تواز ن کا پانسہ پلٹنے والے نئےدفاعی ستون، جلد ہی پاک-ترک -سعودی ا سلامی اتحادقائم کیے جانے کی توقع

    15جنوری , 2026

    Comments are closed.

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    ٹیگز
    #اسرائیل #حقان فیدان #حماس #سیاحت #غزہ #فلسطین آئی ٹی استنبول اسلام آباد افراطِ زر الیکشن 2024 انتخابات انقرہ اپوزیشن ایردوان بھونچال بیسٹ ماڈل آف ترکیہ ترقی ترک صدی ترک میڈیا ترکیہ تعلیم حزبِ اختلاف دنیا دہماکہ دی اکانومسٹ روس سلائِڈر سلائیڈر--- شہباز شریف صدر ایردوان صدر ایردوان، وزیراعظم شہباز شریف، پاکستان، ترکیہ عدلیہ عمران خان فیچرڈ قاتلانہ حملہ لانگ مارچ مغربی میڈیا ملت اتحاد وزیراعظم وزیراعظم شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف، صدر ایردوان، پاکستان، امداد پاکستان پاک فوج یورپ
    • Facebook
    • Twitter
    • Instagram
    اہم خبریں

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    ترکیہ اسکالرشپس: دنیا کی جامع ترین ( fully funded)اسکالرشپس، آن لائن درخواستوں کا طوفان، ویب سائٹ کو کریش کے خدشات

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    مقبول پوسٹس

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026
    Tr-Urdu All Rights Reserved © 2022
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.