Close Menu
Tr-Urdu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Tr-Urdu
    Subscribe
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    Tr-Urdu
    You are at:Home»پاکستان»اسرائیل، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ پروپیگنڈا، اپنے ہی گلے پڑگیا ، بہتان اور عالمی سیاست کی خطرناک بساط
    پاکستان

    اسرائیل، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ پروپیگنڈا، اپنے ہی گلے پڑگیا ، بہتان اور عالمی سیاست کی خطرناک بساط

    ڈاکٹر فرقان حمیدBy ڈاکٹر فرقان حمید15دسمبر , 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔6 Mins Read
    سڈنی حملہ اوراسرائیل، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ پروپگینڈا
    پوسٹ شئیر کریں
    Facebook Twitter LinkedIn Email

    خصوصی تحریر: ڈاکٹر فرقان حمید 

    اسرائیل، بھارت  اور افغانستان کا   مشترکہ پروپیگنڈا

    انڈیا

    دنیا ایک بار پھر اس تلخ حقیقت کا سامنا کر رہی ہے کہ دہشت گردی جیسے سنگین اور المناک واقعات کو بعض ریاستیں اور طاقتور لابیاں اپنے سیاسی مقاصد، جیو اسٹریٹجک مفادات اور دشمن ملکوں کو بدنام کرنے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ سڈنی میں ہونے والا حالیہ دہشت گرد حملہ بھی اسی خطرناک روش کا ایک اور ثبوت بن کر سامنے آیا ہے، جہاں حقائق سامنے آنے سے قبل ہی ایک منظم، مربوط اور سوچے سمجھے پروپیگنڈا کے تحت پاکستان کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کی کوشش کی گئی۔

    یہ کوئی پہلا موقع نہیں کہ پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کرنے کی کوشش کی گئی ہو۔ مگر اس بار جو پہلو سب سے زیادہ تشویشناک ہے وہ اسرائیل، بھارت اور افغانستان پر مشتمل ایک نئے اور غیر اعلانیہ گٹھ جوڑ کا ابھر کر سامنے آنا ہے، جس کا مقصد محض اور محض پاکستان کو دہشت گردی سے جوڑ کر عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرنا، پاکستان کی سفارتی ساکھ کو نقصان پہنچانا اور اسے بین الاقوامی تنہائی کی طرف دھکیلنا ہے۔

    سڈنی حملہ: المیہ، مگر اس سے بڑا جرم جھوٹ

    سڈنی کے ساحل پر ہونے والا دہشت گرد حملہ نہ صرف آسٹریلیا بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک صدمہ تھا۔ قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع، خوف و ہراس کی فضا اور سیکیورٹی خدشات، یہ سب کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے ناقابلِ قبول ہیں۔ مگر اس واقعے کے فوراً بعد جو سب سے بڑا جرم ہوا، وہ تحقیقات سے قبل الزام تراشی اور سیاسی بنیادوں پر پروپیگنڈا تھا۔

    حملے کے چند گھنٹوں کے اندر اندر اسرائیلی اخبار یروشلم پوسٹ نے بغیر کسی مستند ثبوت کے حملہ آوروں کو پاکستانی قرار دے دیا۔ یہ خبر نہ صرف شائع کی گئی بلکہ دانستہ طور پر دنیا بھر میں پھیلائی گئی۔ اس کے بعد بھارتی میڈیا، بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور پھر افسوسناک طور پر افغانستان کے بعض میڈیا حلقے بھی اسی جھوٹے بیانیے کا حصہ بنتے چلے گئے۔

    یہ سوال انتہائی اہم ہے کہ:

    • تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے پاکستان کا نام کیوں لیا گیا؟
    • آسٹریلوی حکام کی بریفنگز میں پاکستان کا ذکر کیوں نہیں تھا؟
    • اگر ثبوت موجود تھے تو وہ کہاں ہیں؟

    حقیقت کا پردہ فاش: حملہ آور بھارتی نکلا

    سڈنی حملہ

    وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ، جیسے جیسے حقائق سامنے آنا شروع ہوئے، جھوٹ کا محل زمین بوس ہونے لگا۔ آسٹریلوی حکام اور آزاد ذرائع سے موصول ہونے والی معلومات نے واضح کر دیا کہ:

    • حملے میں ملوث شخص ساجد اکرم کا تعلق بھارت سے تھا۔
    • اس کا بیٹا نوید اکرم آسٹریلیا میں ہی پیدا ہوا۔
    • ساجد اکرم 1998 میں اسٹوڈنٹ ویزے پر آسٹریلیا آیا تھا۔
    • 2001 میں ایک آسٹریلوی خاتون سے شادی کے بعد اسے پارٹنر ویزا ملا۔
    • اس دہشت گرد کا  پاکستان سے  کبھی بھی کوئی تعلق نہیں رہا

    آسٹریلیا میں موجود پاکستانی حکام اور کمیونٹی نے بھی واضح طور پر کہا کہ ان کے پاس ایسی کوئی معلومات نہیں جن سے یہ ثابت ہو کہ ساجد اکرم یا نوید اکرم پاکستانی تھے۔

    اس کے باوجود سوال یہ ہے کہ:
    جھوٹ کیوں پھیلایا گیا؟
    اور سب سے پہلے یہ جھوٹ کس نے پھیلایا؟

    اسرائیل کا کردار: صحافت یا سیاسی ایجنڈا؟

    یروشلم پوسٹ کا کردار اس پورے معاملے میں نہایت تشویشناک ہے۔ یہ محض ایک صحافتی غلطی نہیں بلکہ ایک دانستہ سیاسی بیانیہ معلوم ہوتا ہے۔ اسرائیل ماضی میں بھی پاکستان کے خلاف منفی پروپیگنڈا میں پیش پیش رہا ہے، خاص طور پر:

    • پاکستان کی ایٹمی صلاحیت
    • فلسطین پر پاکستان کا دوٹوک مؤقف
    • اسرائیلی جارحیت کی عالمی سطح پر مخالفت

    پاکستان چونکہ اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا اور فلسطینی کاز کا کھل کر دفاع کرتا ہے، اس لیے اسرائیل کے لیے پاکستان ایک نظریاتی اور سیاسی رکاوٹ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر موقع پر پاکستان کو دہشت گردی سے جوڑنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

    بھارت: شکستوں کا مداوا پروپیگنڈا

    سڈنی دہشت گردی

    بھارت کا کردار اس پورے معاملے میں سب سے زیادہ نمایاں اور پرانا ہے۔ پاکستان کے ہاتھوں سفارتی، عسکری اور اخلاقی سطح پر بارہا ناکامی کے بعد بھارت نے پاکستان کے  خلاف  پروپیگنڈا کو ہتھیار بنا لیا ہے۔

    • کشمیر میں ریاستی دہشت گردی
    • اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں پر مظالم
    • خالصتان تحریک
    • مودی سرکار کی اندرونی ناکامیاں

    ان تمام مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے پاکستان کو دہشت گردی سے جوڑنا بھارت کی پرانی پالیسی ہے۔ سڈنی حملہ اس کے لیے ایک نیا موقع تھا، جسے اس نے اسرائیلی میڈیا کے ذریعے عالمی سطح پر اچھالنے کی کوشش کی۔

    گٹھ جوڑ میں نیا نام افغانستان  : افسوسناک مگر حقیقت

    سب سے افسوسناک پہلو افغانستان کا اس گٹھ جوڑ کا حصہ بننا ہے۔ وہ ملک جس کے لاکھوں شہریوں کو پاکستان نے دہائیوں تک پناہ دی، تعلیم دی، علاج فراہم کیا، آج اسی پاکستان کے خلاف جھوٹے الزامات کا حصہ بنتا نظر آ رہا ہے۔

    افغان میڈیا کے بعض حلقوں کی جانب سے بغیر تحقیق بھارتی اور اسرائیلی بیانیے کو آگے بڑھانا نہ صرف غیر ذمہ دارانہ ہے بلکہ خطے کے امن کے لیے خطرناک بھی ہے۔

    اسرائیل، بھارت اور افغانستان پر مشتمل یہ نیا گٹھ جوڑ دراصل:

    • پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنا چاہتا ہے
    • پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف قربانیوں کو مشکوک بنانا چاہتا ہے
    • پاکستان کی معاشی بحالی کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے
    • پاکستان کے سفارتی تعلقات کو کمزور کرنا چاہتا ہے

    یہ ایک اطلاعاتی جنگ (Information Warfare) ہے، جس میں سچ کو مسخ کر کے پیش کیا جا رہا ہے۔

    پاکستان کا مؤقف: حقائق، قربانیاں اور سچ

    پاکستان وہ ملک ہے جس نے:

    • دہشت گردی کے خلاف 80 ہزار سے زائد جانوں کی قربانی دی
    • 150 ارب ڈالر سے زائد کا معاشی نقصان اٹھایا
    • دنیا کے لیے فرنٹ لائن اسٹیٹ کا کردار ادا کیا

    پاکستان کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں، بلکہ وہ خود اس کا سب سے بڑا شکار رہا ہے۔

    دنیا کو اب اچھے اور بُر ے کا فیصلہ کرنا ہوگا

    اب عالمی برادری کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ:

    • وہ جھوٹے پروپیگنڈے کا ساتھ دے گی؟
    • یا حقائق، شواہد اور سچ کو اہمیت دے گی؟

    سڈنی حملہ ایک امتحان ہے،صرف پاکستان کے لیے نہیں بلکہ عالمی صحافت، عالمی سیاست اور انسانی ضمیر کے لیے۔

    اگر آج جھوٹ کے خلاف آواز نہ اٹھائی گئی تو کل کوئی اور ملک، کوئی اور قوم اسی پروپیگنڈا کا شکار ہو سکتی ہے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleوزیراعظم شہباز شریف کی صدر ایردوان، صدر پوتن، صدربردی محمدوف ، صدر پزشکیان سے خوشگوار ، ملاقاتیں جس نے سفارتکاری پروپگینڈا کو ناکام بنادیا ، آر ٹی انڈیا، جاری کردہ پوسٹ ڈیلیٹ کرنے پر مجبور ، اصل حقائق جانیے
    Next Article انقرہ میں اے پی ایس پشاور کے شہداء کی یاد میں پُر وقار تعزیتی تقریب،پاکستان اور ترکیہ کی دہشت گردی کے خلاف مشترکہ جدوجہد کا اعادہ
    ڈاکٹر فرقان حمید

    Related Posts

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026

    ترکیہ اسکالرشپس: دنیا کی جامع ترین ( fully funded)اسکالرشپس، آن لائن درخواستوں کا طوفان، ویب سائٹ کو کریش کے خدشات

    16جنوری , 2026

    دنیا کے تواز ن کا پانسہ پلٹنے والے نئےدفاعی ستون، جلد ہی پاک-ترک -سعودی ا سلامی اتحادقائم کیے جانے کی توقع

    15جنوری , 2026

    Comments are closed.

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    ٹیگز
    #اسرائیل #حقان فیدان #حماس #سیاحت #غزہ #فلسطین آئی ٹی استنبول اسلام آباد افراطِ زر الیکشن 2024 انتخابات انقرہ اپوزیشن ایردوان بھونچال بیسٹ ماڈل آف ترکیہ ترقی ترک صدی ترک میڈیا ترکیہ تعلیم حزبِ اختلاف دنیا دہماکہ دی اکانومسٹ روس سلائِڈر سلائیڈر--- شہباز شریف صدر ایردوان صدر ایردوان، وزیراعظم شہباز شریف، پاکستان، ترکیہ عدلیہ عمران خان فیچرڈ قاتلانہ حملہ لانگ مارچ مغربی میڈیا ملت اتحاد وزیراعظم وزیراعظم شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف، صدر ایردوان، پاکستان، امداد پاکستان پاک فوج یورپ
    • Facebook
    • Twitter
    • Instagram
    اہم خبریں

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    ترکیہ اسکالرشپس: دنیا کی جامع ترین ( fully funded)اسکالرشپس، آن لائن درخواستوں کا طوفان، ویب سائٹ کو کریش کے خدشات

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    مقبول پوسٹس

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026
    Tr-Urdu All Rights Reserved © 2022
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.