Close Menu
Tr-Urdu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Tr-Urdu
    Subscribe
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    Tr-Urdu
    You are at:Home»ترکیہ»غزہ کے لیے بین الاقوامی استحکام فورس(ISF): سفارت کاری، طاقت، تضادات۔ اسرائیل پر ترکیہ کا خوف طاری،اجلاس میں ترکیہ کو مدعو کرنے سے گریز
    ترکیہ

    غزہ کے لیے بین الاقوامی استحکام فورس(ISF): سفارت کاری، طاقت، تضادات۔ اسرائیل پر ترکیہ کا خوف طاری،اجلاس میں ترکیہ کو مدعو کرنے سے گریز

    ڈاکٹر فرقان حمیدBy ڈاکٹر فرقان حمید18دسمبر , 2025Updated:18دسمبر , 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔9 Mins Read
    غزہ ، بین الاقوامی استحکام فورس
    پوسٹ شئیر کریں
    Facebook Twitter LinkedIn Email

    خصوصی تجزیہ : ڈاکٹر فرقان حمید

    غزہ، طاقت کی سیاست اور نامکمل امن کا سوال

    غزہ ایک بار پھر عالمی طاقتوں کی توجہ کا مرکز ہے، مگر اس بار بمباری، میزائلوں اور جنگی بیانات کے بجائے سفارتی اجلاسوں، عسکری منصوبہ بندی اور ’’استحکام‘‘ کے نام پر نئی فورسز کے قیام کی بات ہو رہی ہے۔ سوال مگر وہی پرانا ہے:
    کیا غزہ کے لیے بننے والی کوئی بھی بین الاقوامی فورس واقعی امن اور استحکام لا سکتی ہے، یا یہ بھی طاقتور ریاستوں کے مفادات کی ایک اور توسیع ثابت ہو گی؟

    دوحہ فورم

    قطر میں امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کی میزبانی میں منعقد ہونے والی حالیہ کانفرنس نے اسی سوال کو ایک نئی جہت دے دی ہے۔ درجنوں ممالک کی شرکت، سینکڑوں سفارتی اور عسکری ذہنوں کی موجودگی، اور مستقبل کے لیے بڑے فیصلوں کے دعووں کے باوجود، یہ اجلاس اپنے اندر کئی گہرے تضادات، اختلافات اور سیاسی کشمکش سمیٹے ہوئے ہے۔ سب سے نمایاں اور حساس پہلو ترکیہ کی غیر موجودگی اور اس کے نتیجے میں پاکستان کے ممکنہ ردِعمل کا سوال ہے، جو اس پورے منصوبے کی سمت کا تعین کر سکتا ہے۔

    قطر کانفرنس: بظاہر اتفاق، درحقیقت اختلاف

    رائٹرز اور دیگر عالمی ذرائع کے مطابق قطر میں ہونے والی اس کانفرنس میں 45 سے زائد ممالک شریک ہوئے۔ ان میں مصر، قطر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، اٹلی، فرانس، برطانیہ، آذربائیجان، کینیڈا، جرمنی، نیدرلینڈز، جاپان، یونان، سعودی عرب، پولینڈ، ہنگری، کویت، مراکش، بحرین، بوسنیا، فن لینڈ، قازقستان، اسپین اور یمن شامل تھے، جبکہ یورپی یونین کے نمائندے بھی اجلاس میں موجود تھے۔

    بین الاقوامی استحکام فورس(ISF)

    کانفرنس کا بنیادی ایجنڈا غزہ کے لیے مجوزہ بین الاقوامی استحکام فورس (International Stabilization Force – ISF) کے خدوخال طے کرنا تھا۔ امریکی حکام کے مطابق فورس کے کمانڈ اسٹرکچر، دائرۂ اختیار، قانونی حیثیت اور آپریشنل حدود پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ شریک ممالک سے یہ بھی پوچھا گیا کہ آیا وہ اس فورس میں فوجی دستے، لاجسٹک سپورٹ یا مالی معاونت فراہم کرنے پر آمادہ ہیں۔

    مگر اس بظاہر ہم آہنگ اجلاس کے پس منظر میں سب سے بڑی حقیقت یہ تھی کہ ترکیہ کو مدعو نہیں کیا گیا۔

    ترکیہ کی عدم شمولیت: اتفاق نہیں، حکمتِ عملی

    ترک مسلح افواج

    یورپی سفارتی ذرائع کے مطابق قطر اور ترکیہ دونوں نے وائٹ ہاؤس پر زور دیا تھا کہ انقرہ کو اس عمل میں شامل کیا جائے۔ حتیٰ کہ بعض عرب اور مسلم ممالک نے بھی ترکیہ کی شمولیت کو ضروری قرار دیا۔ اس کے باوجود، اسرائیل کی سخت مخالفت کے باعث ترکیہ کو اجلاس سے باہر رکھا گیا۔

    اس کی سب سے اہم وجہ شرم الشیخ  غزہ امن کانفرنس میں صدر ایردوان   کے طیارے نےاسرائیل کے وزیر اعظم بنیا مین نتَن یا ہو کو اس اجلاس میں مدعو  نہ کرنے کی شرط پر ہی لینڈ  کا تھا۔    

    صدر رجب طیب ایردوان

    علاوہ ازیں  ترکیہ کو اس اجلاس میں مدعو نہ کرنے کا  فیصلہ محض ایک سفارتی غلطی نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی حکمتِ عملی کا حصہ دکھائی دیتا ہے۔ اسرائیل طویل عرصے سے ترکیہ کو نہ صرف ایک علاقائی حریف بلکہ ایک نظریاتی چیلنج کے طور پر دیکھتا ہے۔ صدر رجب طیب ایردوان کی جانب سے غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کو ‘نسل کشی’  قرار دینا، حماس کو ایک مزاحمتی تحریک کہنا، اور فلسطینی کاز کی کھل کر حمایت کرنا تل ابیب کے لیے ناقابلِ قبول ہے اور اسی وجہ سے اسرائیل کے وزیراعظم نتن یا ہو نے  امریکہ سے درخواست کرتے ہوئے  ترکیہ کو اس اجلاس سے باہر رکھنے کی کوشش کی ہے۔

    اسرائیلی دفاعی حکام کھلے الفاظ میں کہہ چکے ہیں کہ وہ غزہ میں ترک فوج کی موجودگی کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔ ان کے نزدیک ترکیہ کا کردار اگر ہو بھی تو صرف سفارتی حد تک ہونا چاہیے، زمینی سطح پر نہیں۔

    امریکہ کی مجبوری اور تضاد

    صدر ایردوان-صدر ٹرمپ

    امریکہ اس معاملے میں ایک نازک توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایک طرف واشنگٹن جانتا ہے کہ ترکیہ خطے میں ایک اہم فوجی، سیاسی اور سفارتی طاقت ہے، جو نیٹو کا رکن ہونے کے ساتھ ساتھ مسلم دنیا میں بھی اثر و رسوخ رکھتا ہے۔ دوسری طرف اسرائیل کی ناراضی مول لینا امریکی قیادت کے لیے سیاسی طور پر آسان نہیں۔

    نتیجتاً، امریکہ نے ایک درمیانی راستہ اختیار کرتے ہوئے ترکیہ کو کانفرنس سے باہر رکھا، مگر اس فیصلے نے فورس کی ساکھ، قبولیت اور مؤثریت پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

    پاکستان کی شمولیت: وزن، وقار اور شرط

    اسی کانفرنس میں پاکستانی نمائندے کی شرکت نے ایک اور اہم پہلو کو جنم دیا۔ پاکستان نہ صرف ایک ایٹمی طاقت ہے بلکہ اقوامِ متحدہ کے امن مشنز میں طویل اور مؤثر کردار کا حامل ملک بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ پاکستان کو اس فورس میں ایک مرکزی کردار دینے کا خواہاں دکھائی دیتا ہے۔

    صدر ٹرمپ-فیلڈ مارشل عاصم منیر

    اطلاعات کے مطابق امریکی صدر کے آئندہ دنوں پاکستان کے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کو امریکہ مدعو کرنے کی توقع کی جا رہی ہے تاہم ابھی تک اس سلسلے میں وزارتِ خارجہ نے اس دورے کی تصدیق نہیں کی ہے۔ تاہم  بھارت کے خلاف حالیہ جنگ میں کامیابی کے بعد امریکی صدر کھل کر جنرل عاصم منیر کی تعریف کر چکے ہیں، حتیٰ کہ ایک خصوصی لنچ ملاقات میں تین گھنٹے طویل مذاکرات بھی ہو چکے ہیں۔

    امریکی حلقوں میں یہ سوال زیرِ بحث ہے کہ آیا غزہ استحکام فورس کی قیادت پاکستان کے سپرد کی جا سکتی ہے یا نہیں۔

    پاکستان کی سرخ لکیر: ترکیہ کے بغیر ممکن نہیں 

    پاکستان – ترکیہ

    یہاں پاکستان کا مؤقف فیصلہ کن اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق اگر ترکیہ کو بین الاقوامی استحکام فورس میں شامل نہیں کیا جاتا تو پاکستان اور قطر دونوں اس فورس میں عملی شمولیت سے گریز کر سکتے ہیں۔

    پاکستان کے لیے یہ محض ایک سفارتی مسئلہ نہیں بلکہ اصولی، اخلاقی اور اسٹریٹجک معاملہ ہے۔ پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات محض ریاستی مفادات تک محدود نہیں بلکہ تاریخی، عسکری، ثقافتی اور عوامی سطح پر گہرے ہیں۔ پاکستان یہ نہیں چاہے گا کہ وہ ایک ایسی فورس کی قیادت کرے جس میں اس کا قریبی ترین برادر ملک دانستہ طور پر باہر رکھا گیا ہو۔

    اسلام آباد میں یہ سوچ واضح ہے کہ اگر ذمہ داری پاکستان کے کندھوں پر ڈالی جاتی ہے تو ترکیہ کی شمولیت ناگزیر ہو گی۔

    فورس کا مینڈیٹ: سب سے بڑا سوالیہ نشان

    بین الاقوامی استحکام فورس کے مستقبل پر سب سے بڑا سوال اس کے مینڈیٹ کا ہے۔ ابھی تک اس بات پر کوئی اتفاق رائے موجود نہیں کہ آیا یہ فورس:

    • صرف سیکیورٹی اور انسانی امداد تک محدود ہو گی،
    • یا حماس کو غیر مسلح کرنے میں بھی کردار ادا کرے گی۔
    • غزہ کے لیے بین الاقوامی استحکام فورس(ISF)

    امریکہ چاہتا ہے کہ فورس غزہ کے ان علاقوں میں بھی کام کرے جو اب بھی حماس کے زیرِ اثر ہیں، جبکہ کئی ممالک اس پر شدید تحفظات رکھتے ہیں۔ بعض ممالک نے واضح کر دیا ہے کہ ان کے فوجی صرف ان علاقوں میں تعینات ہوں گے جو اسرائیلی کنٹرول میں ہیں۔

    حماس نے بھی دو ٹوک مؤقف اختیار کیا ہے کہ فلسطینی ریاست کے قیام کے بغیر ہتھیار ڈالنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اگرچہ بعض رپورٹس میں مرحلہ وار بھاری ہتھیار ختم کرنے کی مشروط آمادگی کا ذکر کیا گیا ہے۔

    جنگ بندی کا اگلا مرحلہ اور امریکہ، اسرائیل اختلاف

    صدر ٹرمپ-وزیراعظم نتن یا ہو

    یہ کانفرنس ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان جنگ بندی کے اگلے مرحلے پر کھلے اختلافات سامنے آ رہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ امریکہ اس بات کا جائزہ لے رہا ہے کہ آیا اسرائیل نے حالیہ فضائی حملوں سے جنگ بندی کی خلاف ورزی تو نہیں کی۔

    اسرائیل کو خدشہ ہے کہ امریکہ، حماس کی مکمل غیر  مسلح کرنے  سے قبل ہی، جنگ بندی کے دوسرے مرحلے پر زور دے سکتا ہے، جو تل ابیب کے لیے ناقابلِ قبول ہے۔

    اسرائیل پر ترکیہ کا خوف 

    صدر رجب طیب ایردوان

    حقیقت یہ ہے کہ اس وقت اسرائیل پر ترکیہ کا خوف طاری ہے اوروہ ترکیہ کی شمولیت کو متنازع بنا رہا ہے جبکہ  دیگر  ممالک کے نکتہ نظر سے ترکیہ   سب سے مؤثر فریق  ہے۔ حماس کے ساتھ رابطے، قطر کے ساتھ قریبی تعلقات، اور فلسطینی عوام میں پذیرائی کی وجہ سے ترکیہ کسی بھی ممکنہ انتظام کا اہم ستون بن سکتا ہے۔

    اسرائیل کی جانب سے ترک ٹروپس کی مخالفت دراصل اس خوف کی عکاس ہے کہ ترکیہ کی موجودگی غزہ میں طاقت کا توازن بدل سکتی ہے۔

    تعیناتی کا مستقبل: غیر یقینی افق

    اگرچہ امریکی حکام فورس کی جلد تعیناتی کے دعوے کر رہے ہیں، مگر زمینی حقائق، سیاسی اختلافات اور ممالک کی ہچکچاہٹ اس منصوبے کو غیر یقینی بنا رہی ہے۔ انڈونیشیا، آذربائیجان اور دیگر ممالک واضح کر چکے ہیں کہ مکمل معلومات اور واضح دائرۂ کار کے بغیر حتمی فیصلہ ممکن نہیں۔

    فیصلہ کن موڑ پر عالمی سیاست

    غزہ

    غزہ کے لیے بین الاقوامی استحکام فورس محض ایک عسکری منصوبہ نہیں بلکہ عالمی سیاست کا امتحان ہے۔ اسرائیل کا ترکیہ اور بالواسطہ پاکستان جیسے ممالک کے کردار پر اعتراض، امریکہ کی تذبذب کا شکار حکمتِ عملی، اور مسلم دنیا کی تقسیم اس فورس کے مستقبل کو پیچیدہ بنا رہی ہے۔

    آنے والے دنوں میں امریکی صدر اور پاکستان کے فیلڈ مارشل کے درمیان متوقع ملاقات شاید اس منصوبے کی سمت کا تعین کرے۔ مگر ایک بات واضح ہے:
    اگر ترکیہ کو باہر رکھا گیا تو پاکستان کی شمولیت بھی سوالیہ نشان بن سکتی ہے، اور بغیر پاکستان و ترکیہ کے کوئی بھی استحکام فورس نہ مکمل ہو گی، نہ معتبر، نہ مؤثر۔

    غزہ کا مسئلہ طاقت کے توازن سے نہیں، انصاف کے قیام سے حل ہو گا اور یہی وہ حقیقت ہے جسے عالمی طاقتیں اب بھی نظرانداز کر رہی ہیں۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleانقرہ میں اے پی ایس پشاور کے شہداء کی یاد میں پُر وقار تعزیتی تقریب،پاکستان اور ترکیہ کی دہشت گردی کے خلاف مشترکہ جدوجہد کا اعادہ
    Next Article صدر ایردوان : پاکستان ہمارا سچا اور کھرا اتحادی ملک ہے، پاک ترک دوستی تا قیامت تک جاری رہے گی
    ڈاکٹر فرقان حمید

    Related Posts

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    21جنوری , 2026

    Comments are closed.

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    ٹیگز
    #اسرائیل #حقان فیدان #حماس #سیاحت #غزہ #فلسطین آئی ٹی استنبول اسلام آباد افراطِ زر الیکشن 2024 انتخابات انقرہ اپوزیشن ایردوان بھونچال بیسٹ ماڈل آف ترکیہ ترقی ترک صدی ترک میڈیا ترکیہ تعلیم حزبِ اختلاف دنیا دہماکہ دی اکانومسٹ روس سلائِڈر سلائیڈر--- شہباز شریف صدر ایردوان صدر ایردوان، وزیراعظم شہباز شریف، پاکستان، ترکیہ عدلیہ عمران خان فیچرڈ قاتلانہ حملہ لانگ مارچ مغربی میڈیا ملت اتحاد وزیراعظم وزیراعظم شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف، صدر ایردوان، پاکستان، امداد پاکستان پاک فوج یورپ
    • Facebook
    • Twitter
    • Instagram
    اہم خبریں

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    ترکیہ اسکالرشپس: دنیا کی جامع ترین ( fully funded)اسکالرشپس، آن لائن درخواستوں کا طوفان، ویب سائٹ کو کریش کے خدشات

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    مقبول پوسٹس

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026
    Tr-Urdu All Rights Reserved © 2022
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.