Close Menu
Tr-Urdu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Tr-Urdu
    Subscribe
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    Tr-Urdu
    You are at:Home»پاکستان»2025ء میں عالمی رہنما کیسے پاکستان اور پاکستانی قیادت کے گرویدہ بن گئے ؟
    پاکستان

    2025ء میں عالمی رہنما کیسے پاکستان اور پاکستانی قیادت کے گرویدہ بن گئے ؟

    ڈاکٹر فرقان حمیدBy ڈاکٹر فرقان حمید28دسمبر , 2025Updated:28دسمبر , 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔15 Mins Read
    عسلمی رہنما پاکستان کے گرویدہ
    پوسٹ شئیر کریں
    Facebook Twitter LinkedIn Email

    خصوصی تجزیہ: ڈاکٹر فرقان حمید

    عالمی سیاست میں کچھ لمحات محض وقتی واقعات نہیں ہوتے بلکہ وہ اقوام کی سمت، ساکھ اور مستقبل کا تعین کرتے ہیں۔ مئی 2025 کی پاک بھارت چار روزہ جنگ بھی ایسا ہی ایک فیصلہ کن لمحہ ثابت ہوئی جس نے نہ صرف جنوبی ایشیا کے عسکری توازن کو ازسرِنو واضح کیا بلکہ پاکستان کو ایک بار پھر عالمی توجہ کے مرکز میں لا کھڑا کیا۔ وہ پاکستان جو چند ماہ قبل تک عالمی منظرنامے میں نسبتاً غیر فعال اور دفاعی پوزیشن میں دکھائی دیتا تھا، اسی مختصر مگر فیصلہ کن جنگ کے بعد ایک پراعتماد، منظم اور باوقار ریاست کے طور پر ابھرا۔ آج عالمی میڈیا، سفارتی حلقے اور طاقت کے مراکز کھلے الفاظ میں اعتراف کر رہے ہیں کہ پاکستان نے نہ صرف جنگ جیتی بلکہ عالمی بیانیہ بھی اپنے حق میں موڑ لیا۔

    اس خصوصی تجزیہ میں  پاکستان کے بڑھتے ہوئے وقار، عالمی جرائد کی آراء، عالمِ عرب میں پاکستان کی نئی حیثیت، اور عسکری و سیاسی قیادت کے کلیدی کردار کو عالمی اخبارات کے معیار کے مطابق پیش کیا جا رہا ہے۔

    چار روزہ جنگ: عسکری برتری اور ریاستی اعتماد کا اظہار

    پاک بھارت چار روزہ جنگ نے یہ حقیقت ایک بار پھر آشکار کر دی کہ عسکری طاقت محض اسلحے کی تعداد کا نام نہیں بلکہ حکمتِ عملی، قیادت، نظم و ضبط اور فیصلہ سازی کی رفتار اصل قوت ہوتی ہے۔ پاکستانی افواج نے محدود وسائل کے باوجود جس پیشہ ورانہ مہارت، ضبط اور ہم آہنگی کا مظاہرہ کیا، اس نے نہ صرف دشمن کی عسکری مہم جوئی کو ناکام بنایا بلکہ خطے میں طاقت کا توازن بھی واضح کر دیا۔

    اس جنگ کے بعد عالمی دفاعی ماہرین نے پاکستان کی کمانڈ اینڈ کنٹرول صلاحیت، ڈیٹرینس اور مؤثر ردعمل کو کھلے دل سے سراہا۔ یہی وجہ ہے کہ 2025 کو عالمی میڈیا نے پاکستان کے لیے عسکری اعتماد کی بحالی اور اسٹریٹیجک واپسی کا سال قرار دیا۔

    عالمی میڈیا کا بدلتا ہوا بیانیہ: پاکستان ایک بار پھر مرکزِ توجہ

    امریکی، برطانوی اور یورپی جرائد میں شائع ہونے والے تجزیات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ پاکستان کے بارے میں عالمی رائے یکسر بدل چکی ہے۔ امریکی جریدے دی ڈپلومیٹ نے اعتراف کیا کہ 2025 میں پاکستان کئی برسوں بعد دوبارہ عالمی توجہ کا مرکز بن گیا اور یہ سال اس کے لیے اسٹریٹیجک کم بیک اور عسکری اعتماد کا سال ثابت ہوا۔

    اسی طرح فارن پالیسی نے اپنے تجزیے میں ٹرمپ کی نئی خارجہ پالیسی کے تناظر میں پاکستان کو واضح طور پر ‘وِنر’ (فاتح )اور بھارت کو’ لوزر’  (شکست خوردہ)  قرار دیا۔ جریدے کے مطابق واشنگٹن میں توازن پاکستان کے حق میں پلٹ چکا ہے اور پاکستان نے وہ اعتماد اور رسائی حاصل کی ہے جو کئی پرانے اتحادی بھی حاصل نہ کر سکے۔

    برطانوی جریدے فنانشل ٹائمز اور عالمی مالیاتی اداروں کے تجزیات نے بھی اس حقیقت کو تسلیم کیا کہ پاکستان کی عسکری اور اسٹریٹیجک قیادت نے ملک کو طویل عرصے کی بے یقینی سے نکال کر ایک واضح سمت دی ہے۔

    عسکری قیادت کا وژن: ریاستی رٹ اور انتہا پسندی کے خلاف فیصلہ کن پیغام

    2025 میں پاکستانی عسکری قیادت کی جانب سے دیا گیا وہ تاریخی اور دو ٹوک پیغام کہ ‘جہاد کے اعلان کا اختیار صرف ریاست کے پاس ہے’، عالمی سطح پر نہایت مثبت انداز میں لیا گیا۔ اس مؤقف کو عالمی جرائد نے انتہا پسندی کے خلاف ایک سنگِ میل قرار دیا جس نے پاکستان کی ریاستی ساکھ کو مضبوط کیا۔

    فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی قیادت میں عسکری اسٹیبلشمنٹ نے واضح کر دیا کہ پاکستان ایک منظم ریاست ہے جہاں طاقت کا استعمال صرف آئینی اور ریاستی دائرے میں ہوگا۔ اسی وژن نے ریاستی نظم و ضبط، داخلی استحکام اور عالمی اعتماد کی بحالی میں کلیدی کردار ادا کیا۔

    واشنگٹن میں پاکستان  نے  سفارتی بساط پلٹ دی

    چار روزہ جنگ کے بعد پاکستان کی سب سے بڑی سفارتی کامیابی واشنگٹن میں توازن کی تبدیلی ہے۔ امریکی تجزیوں کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی میں پاکستان کو ایک بار پھر قابلِ اعتماد اور کارآمد شراکت دار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

    فارن پالیسی کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کردار پاک امریکا تعلقات کی پیش رفت میں مرکزی ستون کی حیثیت اختیار کر گیا ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان کی آواز واشنگٹن میں ایک بار پھر وزن دار بن گئی۔ اس کے برعکس بھارت کو تجارتی دباؤ، ٹیرف تنازعات اور سرد مہری کا سامنا ہے، جس نے اسے سفارتی طور پر دفاعی پوزیشن پر دھکیل دیا ہے۔

    عالمِ عرب میں پاکستان کا بڑھتا ہوا وقار

    چار روزہ جنگ کے بعد پاکستان کے لیے سب سے نمایاں اور معنی خیز پیش رفت عالمِ عرب میں اس کی عزت و وقار میں غیر معمولی اضافہ ہے۔ سعودی عرب،  لیبیا،مصر ،متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ریاستوں نے جس گرمجوشی، اعتماد اور اسٹریٹیجک سنجیدگی کے ساتھ پاکستان سے تعلقات کو آگے بڑھایا، وہ اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان اب ایک محض دوست ملک نہیں بلکہ ایک اسٹریٹیجک شراکت دار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

    سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون کے معاہدے، مشترکہ عسکری تربیت، انٹیلیجنس شیئرنگ اور خطے کے امن و استحکام سے متعلق ہم آہنگی نے پاکستان کو عرب دنیا میں ایک مرکزی حیثیت دے دی ہے۔ ولی عہد محمد بن سلمان کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا شاندار، پروٹوکول سے بھرپور اور غیر معمولی استقبال محض سفارتی روایت نہیں تھا بلکہ یہ ایک سیاسی و عسکری پیغام تھا کہ پاکستان سعودی قیادت کے لیے ایک قابلِ اعتماد ستون بن چکا ہے۔یہ محض سفارتی گرمجوشی نہیں بلکہ ایک گہری اسٹریٹیجک ہم آہنگی کا اظہار تھا، جس میں دفاع، سلامتی اور خطے کے مستقبل سے متعلق مشترکہ مفادات نمایاں تھے۔

    متحدہ عرب امارات: وقار کی نئی مثال

    اسی تسلسل میں متحدہ عرب امارات کے امیر کا دورۂ پاکستان نہایت اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ دورہ اس امر کا اعلان تھا کہ خلیجی ریاستیں پاکستان کو صرف ایک جغرافیائی ریاست نہیں بلکہ ایک علاقائی طاقت اور اسٹریٹیجک اینکر کے طور پر دیکھ رہی ہیں۔ سرمایہ کاری، دفاع، توانائی اور سیکیورٹی کے شعبوں میں بڑھتا ہوا تعاون پاکستان کے عالمی کردار کو مزید مستحکم کر رہا ہے۔

    امیرِ امارات کی جانب سے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو دیا گیا احترام دراصل پاکستان کی عسکری صلاحیت، ریاستی وقار اور اسٹریٹیجک اہمیت کا اعتراف تھا۔

    دفاعی صنعت اور اسٹریٹیجک خود اعتمادی

    جنگ کے بعد پاکستان کے دفاعی سازوسامان کی عالمی سطح پر مانگ میں اضافہ ہوا۔ چین کی جانب سے پاکستانی ہتھیاروں اور دفاعی نظام کی عملی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار، مشرقِ وسطیٰ میں دفاعی تعاون، اور علاقائی معاہدوں نے پاکستان کی دفاعی صنعت کو نئی توانائی بخشی۔ گذشتہ ہفتے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور لیبین نیشنل آرمی کے ڈپٹی کمانڈر انچیف صدام خلیفہ حفتر کے درمیان بن غازی میں چار ارب ڈالر مالیت کے دفاعی معاہدے  پر دستخط کیے گئے

    یہ تمام پیش رفت اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان محض ایک دفاعی صارف نہیں بلکہ ایک ذمہ دار اور قابلِ اعتماد دفاعی شراکت دار بن چکا ہے۔

    سیاسی قیادت کا کردار: شہباز شریف کی سفارت کاری

    وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف کا کردار اس پورے اسٹریٹجک منظرنامے میں ایک متوازن، سنجیدہ اور حقیقت پسندانہ سیاسی قیادت کے طور پر ابھر کر سامنے آیا۔ عالمی بحران کے اس نازک مرحلے پر انہوں نے نہ جذباتی بیانیہ اختیار کیا اور نہ ہی غیر ذمہ دارانہ سفارتی زبان استعمال کی، بلکہ ریاستی مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے ایسی سفارت کاری کی جو پاکستان کے لیے عالمی اعتماد کی بحالی کا ذریعہ بنی۔

    سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، امریکا اور دیگر اہم عالمی دارالحکومتوں میں پاکستان کے حوالے سے جو مثبت فضا بنی، اس میں وزیراعظم کی سیاسی بصیرت، اقتصادی ترجیحات اور خارجہ پالیسی میں توازن کا نمایاں کردار رہا۔ انہوں نے عالمی قیادت کو یہ پیغام دیا کہ پاکستان محاذ آرائی نہیں بلکہ ذمہ دارانہ طاقت (Responsible Power) کے طور پر آگے بڑھنا چاہتا ہے۔

    سیاسی قیادت اور عسکری قیادت کے درمیان ہم آہنگی نے ریاستی بیانیے کو غیر معمولی قوت بخشی۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی میڈیا میں پاکستان کو ایک منظم، متحد اور فیصلہ کن ریاست کے طور پر پیش کیا گیا، جہاں ادارے ایک دوسرے کے مدمقابل نہیں بلکہ قومی مقصد کے لیے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔

    فیلڈ مارشل عاصم منیر: جنگی حکمتِ عملی، قیادت اور عالمی اعتراف

    اس پورے منظرنامے میں پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کردار ایک مرکزی ستون کی حیثیت رکھتا ہے، جسے نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔ ان کی جنگی حکمتِ عملی، فیصلہ سازی میں توازن، دشمن کے عزائم کو بروقت بھانپنے کی صلاحیت اور محدود مگر مؤثر ردعمل نے پاکستان کو نہ صرف عسکری کامیابی دلائی بلکہ عالمی سطح پر ایک ذمہ دار ایٹمی طاقت کے طور پر بھی منوایا۔

    یہی وجہ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت عالمی عسکری و سیاسی حلقے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، قیادت اور اسٹریٹیجک وژن کی کھل کر تعریف کرتے نظر آئے۔ دنیا نے دیکھا کہ پاکستان نے طاقت کے استعمال میں ضبط، حکمت اور اخلاقی برتری کو ملحوظ رکھا، اور یہی پہلو عالمی احترام کا باعث بنا۔

    فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جنگ کے دوران یہ ثابت کیا کہ جدید جنگیں شور و غوغا نہیں بلکہ خاموش، درست اور فیصلہ کن اقدامات سے جیتی جاتی ہیں۔ ان کی قیادت میں پاک افواج نے نہ صرف بھارتی عسکری مہم جوئی کو ناکام بنایا بلکہ یہ پیغام بھی دیا کہ پاکستان کی ڈیٹرینس محض نظری نہیں بلکہ عملی اور مؤثر ہے۔

    یہی وجہ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کھلے الفاظ میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی پیشہ ورانہ صلاحیت، نظم و ضبط اور اسٹریٹجک سوچ کی تعریف کرتے نظر آئے۔ عالمی سفارتی حلقوں میں یہ بات غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے کہ ایک امریکی صدر کسی مسلمان ملک کے عسکری سربراہ کو ڈنر پر مدعوکرے اور ان کی حکمتِ عملی کو سرا ہیں  ۔ یہ تعریف دراصل پاکستان کی عسکری قیادت، اس کی پیشہ ورانہ تربیت اور عالمی نظام میں اس کے بڑھتے ہوئے کردار کا اعتراف ہے۔

    عالمی جرائد نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو بدلتے ہوئے عالمی نظام میں ایک مؤثر اسٹریٹجک رہنما قرار دیا۔ ان کا وہ دو ٹوک مؤقف کہ جہاد کے اعلان کا اختیار صرف ریاست کے پاس ہے، عالمی سطح پر نہایت مثبت انداز میں لیا گیا اور اسے انتہا پسندی کے خلاف پاکستان کی ریاستی پالیسی کا واضح اظہار قرار دیا گیا۔

    ان کی قیادت میں پاکستان نے یہ ثابت کیا کہ وہ داخلی سلامتی، سرحدی دفاع اور علاقائی استحکام تینوں محاذوں پر ایک واضح وژن رکھتا ہے۔ یہی وژن تھا جس نے عالمی میڈیا، دفاعی تجزیہ کاروں اور طاقت کے مراکز کو یہ کہنے پر مجبور کیا کہ آج دنیا صرف پاکستان  ہی کو نہیں  بلکہ پاکستان کی قیادت کو سیلوٹ کر رہی ہے۔وہ محض جذباتی ردعمل نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی عسکری برتری کا اعتراف ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں افواجِ پاکستان نے یہ ثابت کر دیا کہ وہ نہ صرف اپنے سے طاقتور  حریف سے جنگ جیتنے کی صلاحیت رکھتی ہیں بلکہ امن کو طاقت کے ساتھ جوڑنے کا ہنر بھی جانتی ہیں۔

    پاکستان کا نیا عالمی مقام

    آج دنیا واقعی پاکستان کو سیلوٹ کر رہی ہے۔ چار روزہ جنگ کے بعد پاکستان نے نہ صرف عسکری میدان میں برتری ثابت کی بلکہ سفارتی، اسٹریٹیجک اور اخلاقی محاذ پر بھی خود کو منوا لیا۔ عالمی جرائد کی مثبت کوریج، واشنگٹن میں بڑھتا ہوا اعتماد، عالمِ عرب میں غیر معمولی پذیرائی، اور دفاعی شراکت داریوں کا فروغ، یہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان ایک نئے عالمی کردار میں داخل ہو چکا ہے۔

    فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی قیادت، وزیراعظم شہباز شریف کی سفارت کاری، اور ریاستی اداروں کی ہم آہنگی نے پاکستان کو اس مقام تک پہنچایا ہے جہاں وہ نہ صرف اپنے مفادات کا دفاع کر سکتا ہے بلکہ عالمی سیاست میں ایک باوقار اور مؤثر آواز کے طور پر بھی ابھر چکا ہے۔ یہی پاکستان کی اصل کامیابی ہے، اور یہی وہ حقیقت ہے جس پر آج دنیا سرِ تسلیم خم کر رہی ہے۔

    عالمی طاقتوں کی نظر میں پاکستان: اعتماد، توازن اور وقار

    چار روزہ جنگ کے بعد عالمی طاقتوں کی نظر میں پاکستان کی حیثیت یکسر تبدیل ہوئی۔ امریکا، چین، ترکیہ، مشرقِ وسطیٰ اور یورپ میں یہ احساس مضبوط ہوا کہ پاکستان اب ایک غیر فعال ریاست نہیں بلکہ ایک متوازن، ذمہ دار اور مؤثر طاقت کے طور پر ابھر چکا ہے۔ واشنگٹن میں توازن کا پاکستان کے حق میں پلٹنا اسی بدلتی ہوئی حقیقت کا مظہر ہے۔

    دفاعی خود اعتمادی اور عالمی منڈی میں پاکستان

    جنگ کے بعد پاکستان کی دفاعی صنعت میں آنے والی خود اعتمادی نے عالمی منڈی میں اس کی ساکھ کو مضبوط کیا۔ پاکستانی دفاعی سازوسامان کی عملی کارکردگی نے عالمی ماہرین کو متاثر کیا اور یہی وجہ ہے کہ اس کی مانگ میں اضافہ دیکھنے میں آیا پاکستانی دفاعی سازوسامان کی عملی کارکردگی، میدانِ جنگ میں اس کی افادیت اور جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال نے نہ صرف عالمی عسکری ماہرین کو حیران کیا بلکہ کئی ممالک کو پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں پر سنجیدگی سے غور کرنے پر مجبور کر دیا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے دفاعی نظام، ہتھیاروں، ڈرون ٹیکنالوجی، میزائل ڈیفنس سسٹمز اور الیکٹرانک وارفیئر صلاحیتوں کی مانگ میں واضح اضافہ دیکھنے میں آیا۔ ماضی میں جہاں پاکستان کو صرف ایک صارف یا درآمد کنندہ ملک کے طور پر جانا جاتا تھا، آج وہ ایک ابھرتا ہوا دفاعی برآمد کنندہ بن کر سامنے آیا ہے۔ عالمی دفاعی نمائشوں، عسکری فورمز اور اسٹریٹیجک مکالموں میں پاکستانی وفود کو اب سنجیدگی، احترام اور دلچسپی کے ساتھ سنا جا رہا ہے۔

    یہ تبدیلی محض ہتھیاروں کی فروخت تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات پاکستان کی مجموعی عالمی شناخت پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ دفاعی خود اعتمادی نے پاکستان کے سفارتی بیانیے کو تقویت دی ہے اور دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ پاکستان نہ صرف اپنے دفاع کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے بلکہ علاقائی اور عالمی استحکام میں مثبت کردار ادا کرنے کی اہلیت بھی رکھتا ہے۔

    پاکستان کا نیا عالمی تاثر

    یہ تمام پیش رفت اس حقیقت کی عکاس ہے کہ پاکستان کا عالمی تاثر تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ وہ پاکستان جسے کبھی عدم استحکام، داخلی کمزوری اور سفارتی دباؤ کے تناظر میں دیکھا جاتا تھا، آج عالمی میڈیا اور بین الاقوامی جرائد میں ایک مضبوط، پُراعتماد اور فیصلہ کن ریاست کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ یورپی، امریکی اور ایشیائی تجزیاتی جرائد میں پاکستان کی عسکری حکمتِ عملی، سیاسی قیادت کی سنجیدگی اور اسٹریٹیجک ضبط و تحمل کو سراہا جا رہا ہے۔

    یہ تبدیلی کسی ایک واقعے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک جامع قومی حکمتِ عملی کا ثمر ہے جس میں سیاسی قیادت، عسکری اداروں اور سفارتی مشینری نے ایک صفحے پر ہو کر کام کیا۔ یہی قومی ہم آہنگی پاکستان کی اصل طاقت بن کر ابھری ہے۔

    ایک ابھرتا ہوا پاکستان

    یہ تجزیاتی جائزہ واضح کرتا ہے کہ پاکستان ایک نئے عالمی مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ دفاعی خود اعتمادی، عالمی منڈی میں ساکھ، عالمِ عرب میں بڑھتا ہوا وقار، سیاسی قیادت کی فعالیت اور عسکری قیادت کی بصیرت، یہ تمام عوامل مل کر پاکستان کو ایک نئے اسٹریٹیجک مقام پر لا کھڑا کر رہے ہیں۔

    یہ وہ پاکستان ہے جسے اب دنیا سنجیدگی سے سنتی ہے، جس کے فیصلوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، اور جس کی عسکری و سیاسی قیادت عالمی میز پر وزن رکھتی ہے۔ اگر یہی سمت، یہی ہم آہنگی اور یہی خود اعتمادی برقرار رہی تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان کو عالمی نظام میں ایک فیصلہ کن اور باوقار طاقت کے طور پر تسلیم کیا جائے گا۔

    چین، ترکیہ، آذربائیجان ، مشرقِ وسطیٰ اور دیگر خطوں میں پاکستان کے دفاعی نظام کو سنجیدگی سے دیکھا جانے لگا۔

    اس تبدیلی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستانی دفاعی مصنوعات اب صرف کاغذی دعوؤں یا تجرباتی مراحل تک محدود نہیں رہیں بلکہ میدانِ جنگ میں اپنی افادیت ثابت کر چکی ہیں۔ جدید ڈرون ٹیکنالوجی، فضائی دفاعی نظام، میزائل صلاحیتیں اور الیکٹرانک وارفیئر کے شعبوں میں پاکستان کی کارکردگی نے عالمی عسکری مبصرین کو یہ تسلیم کرنے پر مجبور کیا کہ پاکستان اب دفاعی میدان میں ایک قابلِ بھروسا اور خود کفیل ریاست بن چکا ہے۔

    عالمی رہنما کیونکر پاکستان اور پاکستانی قیادت کے گرویدہبن چکے ہیں؟

    یہ تمام تبدیلیاں کسی حادثے، وقتی جذبات یا محض سفارتی بیانات کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک واضح، مربوط اور طویل المدت قومی حکمتِ عملی کا حاصل ہیں۔ چار روزہ جنگ نے صرف سرحدی نقشے پر لکیریں نہیں ہلائیں بلکہ عالمی طاقت کے توازن میں پاکستان کی جگہ کو ازسرِنو متعین کر دیا۔ دنیا نے یہ دیکھ لیا کہ پاکستان اب دفاعی طور پر محتاط نہیں بلکہ پُراعتماد ہے، ردِعمل دینے والا نہیں بلکہ پیش بندی کی صلاحیت رکھتا ہے، اور علاقائی سیاست کا محض فریق نہیں بلکہ سمت متعین کرنے والا کردار بن چکا ہے۔آج دنیا پاکستان کو اس لیے سیلوٹ نہیں کر رہی کہ وہ  اپنے سے  کئی گناہ طاقتور دشمن سے  جنگ جیت گیا، بلکہ اس لیے کہ اس نے ثابت کر دیا کہ وہ جنگ سے آگے دیکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ وہ ریاست جو کبھی عالمی بے یقینی کی علامت سمجھی جاتی تھی، آج استحکام، ڈیٹرینس اور خود اعتمادی کی مثال بن کر ابھری ہے۔ یہ لمحہ وقتی نہیں، یہ ایک نئے دور کا آغاز ہے، ایسا دور جس میں پاکستان کو اب نظر انداز کرنا ممکن نہیں رہا۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleقائد اعظم محمد علی جناحؒ کا پاکستان
    Next Article ترکیہ کے بغیر پائلٹ جنگی طیارے بائیراکتار قزل ایلما (Bayraktar KIZILELMA) نے عالمی ہوا بازی میں تاریخ رقم کر دی
    ڈاکٹر فرقان حمید

    Related Posts

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026

    ترکیہ اسکالرشپس: دنیا کی جامع ترین ( fully funded)اسکالرشپس، آن لائن درخواستوں کا طوفان، ویب سائٹ کو کریش کے خدشات

    16جنوری , 2026

    دنیا کے تواز ن کا پانسہ پلٹنے والے نئےدفاعی ستون، جلد ہی پاک-ترک -سعودی ا سلامی اتحادقائم کیے جانے کی توقع

    15جنوری , 2026

    Comments are closed.

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    ٹیگز
    #اسرائیل #حقان فیدان #حماس #سیاحت #غزہ #فلسطین آئی ٹی استنبول اسلام آباد افراطِ زر الیکشن 2024 انتخابات انقرہ اپوزیشن ایردوان بھونچال بیسٹ ماڈل آف ترکیہ ترقی ترک صدی ترک میڈیا ترکیہ تعلیم حزبِ اختلاف دنیا دہماکہ دی اکانومسٹ روس سلائِڈر سلائیڈر--- شہباز شریف صدر ایردوان صدر ایردوان، وزیراعظم شہباز شریف، پاکستان، ترکیہ عدلیہ عمران خان فیچرڈ قاتلانہ حملہ لانگ مارچ مغربی میڈیا ملت اتحاد وزیراعظم وزیراعظم شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف، صدر ایردوان، پاکستان، امداد پاکستان پاک فوج یورپ
    • Facebook
    • Twitter
    • Instagram
    اہم خبریں

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    ترکیہ اسکالرشپس: دنیا کی جامع ترین ( fully funded)اسکالرشپس، آن لائن درخواستوں کا طوفان، ویب سائٹ کو کریش کے خدشات

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    مقبول پوسٹس

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026
    Tr-Urdu All Rights Reserved © 2022
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.