Close Menu
Tr-Urdu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Tr-Urdu
    Subscribe
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    Tr-Urdu
    You are at:Home»ترکیہ»علی شاہین ، روایات سے ہٹ کر، دلوں میں اترنےوالی قانون سازی اور سفارت کاری کے معمار
    ترکیہ

    علی شاہین ، روایات سے ہٹ کر، دلوں میں اترنےوالی قانون سازی اور سفارت کاری کے معمار

    ڈاکٹر فرقان حمیدBy ڈاکٹر فرقان حمید4جنوری , 2026Updated:4جنوری , 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔5 Mins Read
    علی شاہین غازی انتیپ سے رکنِ پارلیمنٹ
    پوسٹ شئیر کریں
    Facebook Twitter LinkedIn Email

    اکیسویں صدی کی خارجہ پالیسی اب صرف سفارت خانوں، سرکاری بیانات یا رسمی معاہدوں تک محدود نہیں رہی۔ جدید عالمی سیاست میں وہ شخصیات فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہیں جو بیک وقت علم، ثقافت، زبان، تعلقات اور اعتماد کو ریاستی طاقت میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہوں۔ ترکیہ کی بدلتی ہوئی خارجہ پالیسی، جسے آج’متنوع محوروں’، 360 ڈگری سفارت کاری اور اسٹریٹجک ‘ایشیا آ نیو’ وژن کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، وہاں بعض پارلیمنٹیرین محض قانون ساز نہیں بلکہ سافٹ پاور کے مؤثر ستون کے طور پر ابھر کر سامنے آ رہے ہیں۔ ان میں ایک نمایاں اور منفرد نام جسٹس اینڈ ڈولپمینٹ پارٹی (آق)  کے غازی  انتیپ سے رکنِ پارلیمنٹ علی شاہین کا ہے۔

    علی شاہین-صدر ایردوان

    سیاسی و سفارتی حلقوں میں علی شاہین کو اب ایک روایتی علاقائی سیاست دان کے بجائے ایک ایسے بین الاقوامی اداکار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو انقرہ کی خارجہ ترجیحات کو میدانِ عمل میں مؤثر انداز میں آگے بڑھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کی شخصیت، کیریئر اور علمی و سفارتی پس منظر کو پرکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ وہ جدید ترک خارجہ پالیسی کے اس ماڈل کی نمائندگی کرتے ہیں جس میں پارلیمنٹ، سفارت کاری اور علمی ادارے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے نظر آتے ہیں۔

    جنوبی ایشیا: جہاں علم، یادداشت اور تعلقات یکجا ہوتے ہیں

    علی شاین، وزیراعظم پاکستان -صدر ترکیہ

    علی شاہین کی سب سے نمایاں اور نایاب خصوصیت جنوبی ایشیا، خصوصاً پاکستان سے متعلق ان کی گہری علمی، فکری اور عملی وابستگی ہے، ایک ایسا دائرہ جو ترک سیاست میں محدود افراد کے پاس ہے۔ انہوں نے جامعہ کراچی سے بین الاقوامی تعلقات میں گریجویشن اور ماسٹرز کی تعلیم حاصل کی، جہاں انہوں نے جنوبی ایشیا کی سیاست، سلامتی، تہذیب اور ریاستی حرکیات کو محض بطور مضمون نہیں بلکہ بطور زندہ حقیقت سمجھا۔

    علی شاہین، غازی انتیپ سے رکنِ پارلیمنٹ

    اسی تعلیمی بنیاد کو انہوں نے ادارہ جاتی شکل دیتے ہوئے جنوبی ایشیائی اسٹریٹجک ریسرچ سینٹر (GASAM) کی بنیاد رکھی، جو آج ترکیہ میں جنوبی ایشیا پر تحقیق، پالیسی مباحث اور اسٹریٹجک مکالمے کا ایک اہم پلیٹ فارم سمجھا جاتا ہے۔ یہ وہ مرحلہ تھا جہاں علی شاہین نے خود کو محض ایک سیاست دان کے بجائے اسٹریٹجک نالج کریئیٹر کے طور پر منوایا۔

    ان کی خدمات محض علمی یا علامتی نہیں رہیں۔ ترکیہ اور پاکستان کے درمیان سیاسی، پارلیمانی اور عوامی روابط کے فروغ میں ان کے عملی کردار کو ریاستِ پاکستان نے‘ستارۂ قائدِ اعظم’ سے نواز کر تسلیم کیا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ علی شاہین کو اسلام آباد میں ایک ایسے رہنما کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو مشکل اوقات میں اعتماد، تسلسل اور حل کی علامت ہیں۔ سفارتی مبصرین کے نزدیک یہ اعزاز انہیں انقرہ-اسلام آباد تعلقات میں ایک مؤثر Bridge Builder اور Crisis Facilitator کے طور پر مستحکم کرتا ہے۔

    زبان: جب سفارت کاری دلوں تک پہنچتی ہے

    عالمی سیاست میں زبان محض ابلاغ کا ذریعہ نہیں بلکہ اعتماد اور قربت کی کنجی ہوتی ہے۔ علی شاہین کی لسانی مہارت انہیں اپنے ہم عصروں سے ممتاز بناتی ہے۔ جہاں انگریزی اور فرانسیسی جیسی زبانیں ترک پارلیمانی حلقوں میں عام سمجھی جاتی ہیں، وہاں اردو  زبان پر ان کی گہری دسترس انہیں جنوبی ایشیا میں ایک غیر معمولی سفارتی برتری فراہم کرتی ہے۔

    علی شاہین، غازی انتیپ سے رکنِ پارلیمنٹ

    اردو  زبان کے ذریعے علی شاہین خطے کے عوام، دانشوروں اور سیاسی قیادت سے براہِ راست، بغیر ترجمان کے، بغیر فاصلوں کے رابطہ قائم کرتے ہیں ۔ یہی وہ عنصر ہے جسے سفارتی ادب میں ’’دلوں کی سفارت کاری‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انگریزی اور عربی زبان پر عبور انہیں اسلامی تعاون تنظیم (OIC) اور مشرقِ وسطیٰ کے سفارتی ماحول میں بھی ایک فطری اور مؤثر کردار ادا کرنے کے قابل بناتا ہے۔

    یورپ سے لاطینی امریکہ تک: ایک عالمی پروفائل

    علی شاہین-انگیلا مرکل

    علی شاہین کا سیاسی سفر کسی ایک جغرافیے تک محدود نہیں۔ یورپی یونین امور کے نائب وزیر کی حیثیت سے انہوں نے مغربی بیوروکریسی، یورپی ادارہ جاتی ڈھانچے اور سفارتی مذاکرات کی پیچیدگیوں کو اندر سے سمجھا۔ یہ تجربہ انہیں مغرب کے ساتھ ترکیہ کے تعلقات میں ایک حقیقت پسند اور باخبر آواز بناتا ہے۔

    دوسری جانب لاطینی امریکہ اور کیریبین پارلیمنٹ (Parlatino) میں ترک وفد کی سربراہی نے ان کے سفارتی دائرے کو جنوبی نصف کرے تک پھیلا دیا۔ اس کے علاوہ نیٹو پارلیمانی اسمبلی کی رکنیت اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ علی شاہین نہ صرف اسلامی دنیا یا ایشیا بلکہ ٹرانس اٹلانٹک سسٹم میں بھی ترکیہ کے مؤقف کو سمجھنے اور پیش کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

    ترکیہ کی خارجہ پالیسی میں ایک تکمیلی طاقت

    مجموعی طور پر علی شاہین ترکیہ کی خارجہ پالیسی میں ایک ایسے تکمیلی عنصر کے طور پر ابھر رہے ہیں جو ریاستی اداروں، سفارتی مشنوں اور پارلیمانی پلیٹ فارمز کے درمیان فکری اور عملی ربط پیدا کرتا ہے۔ بالخصوص ‘ایشیا آ نیو’ وژن، پاکستان اور جنوبی ایشیا کے ساتھ تعلقات، اور عالمِ اسلام میں ترکیہ کے بڑھتے ہوئے کردار کے تناظر میں، آئندہ برسوں میں علی شاہین کا علمی، لسانی اور سفارتی سرمایہ انقرہ کے لیے ایک خاموش مگر فیصلہ کن قوت ثابت ہو سکتا ہے۔

    یہی وجہ ہے کہ عالمی مبصرین اب علی شاہین کو محض ایک رکنِ پارلیمنٹ نہیں بلکہ ترکیہ کی بدلتی ہوئی عالمی شناخت کا نمائندہ چہرہ قرار دے رہے ہیں۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleپاکستان کے سفیر سہیل محمود نے ڈی-8 تنظیم برائے اقتصادی تعاون کےسیکریٹری جنرل کا منصب سنبھال لیا
    Next Article طاقت کی نئی لغت، عالمی نظام کا انہدام اور وینزویلا کا خوف دنیا پرطاری، جس کی لاٹھی اس کی بھینس
    ڈاکٹر فرقان حمید

    Related Posts

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    21جنوری , 2026

    Comments are closed.

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    ٹیگز
    #اسرائیل #حقان فیدان #حماس #سیاحت #غزہ #فلسطین آئی ٹی استنبول اسلام آباد افراطِ زر الیکشن 2024 انتخابات انقرہ اپوزیشن ایردوان بھونچال بیسٹ ماڈل آف ترکیہ ترقی ترک صدی ترک میڈیا ترکیہ تعلیم حزبِ اختلاف دنیا دہماکہ دی اکانومسٹ روس سلائِڈر سلائیڈر--- شہباز شریف صدر ایردوان صدر ایردوان، وزیراعظم شہباز شریف، پاکستان، ترکیہ عدلیہ عمران خان فیچرڈ قاتلانہ حملہ لانگ مارچ مغربی میڈیا ملت اتحاد وزیراعظم وزیراعظم شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف، صدر ایردوان، پاکستان، امداد پاکستان پاک فوج یورپ
    • Facebook
    • Twitter
    • Instagram
    اہم خبریں

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    ترکیہ اسکالرشپس: دنیا کی جامع ترین ( fully funded)اسکالرشپس، آن لائن درخواستوں کا طوفان، ویب سائٹ کو کریش کے خدشات

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    مقبول پوسٹس

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026
    Tr-Urdu All Rights Reserved © 2022
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.