Close Menu
Tr-Urdu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Tr-Urdu
    Subscribe
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    Tr-Urdu
    You are at:Home»کالم اور مضامین»طاقت کی نئی لغت، عالمی نظام کا انہدام اور وینزویلا کا خوف دنیا پرطاری، جس کی لاٹھی اس کی بھینس
    کالم اور مضامین

    طاقت کی نئی لغت، عالمی نظام کا انہدام اور وینزویلا کا خوف دنیا پرطاری، جس کی لاٹھی اس کی بھینس

    ڈاکٹر فرقان حمیدBy ڈاکٹر فرقان حمید5جنوری , 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔18 Mins Read
    مادورو امریکہ کی قید میں
    پوسٹ شئیر کریں
    Facebook Twitter LinkedIn Email

    خصوصی تجزیہ : ڈاکٹر فرقان حمید

    دنیا کی تاریخ میں بعض واقعات اپنی نوعیت میں محض ایک ملک، ایک خطے یا ایک حکومت تک محدود نہیں رہتے، بلکہ وہ بین الاقوامی نظام کی روح کو جھنجھوڑ دیتے ہیں۔ وینزویلا میں صدر نکولس مادورو کے خلاف امریکی فوجی کارروائی اور ان کی گرفتاری بھی ایسا ہی ایک واقعہ ہے جس نے نہ صرف لاطینی امریکہ بلکہ پوری دنیا میں طاقت، خودمختاری اور عالمی قانون کے تصور کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ یہ محض ایک فوجی آپریشن نہیں تھا، بلکہ طاقت کے اس تصور کا عملی مظاہرہ تھا جس میں قانون، اخلاقیات اور اقوامِ متحدہ جیسے ادارے محض غیر متعلقہ الفاظ بن کر رہ جاتے ہیں۔

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا میں فوجی مداخلت کے ذریعے یہ واضح کر دیا کہ اکیسویں صدی میں بھی طاقت کا استعمال کسی اخلاقی جواز یا عالمی اتفاقِ رائے کا محتاج نہیں۔ طاقت خود ہی اپنا جواز پیدا کر لیتی ہے۔ مادورو اس وقت امریکی جیل میں ہیں اور ٹرمپ یہ اعلان کر چکے ہیں کہ امریکہ اب وینزویلا  کے’ نظم و نسق کو چلائے گا’،  یہاں تک کہ وہاں اقتدار کی ایسی منتقلی مکمل ہو جائے جو واشنگٹن کو ‘محفوظ، مناسب اور منصفانہ’  محسوس ہو۔

    یہ الفاظ بظاہر نرم ہیں، مگر ان کے پیچھے چھپا پیغام بے حد سخت اور خوفناک ہے:
    دنیا میں اقتدار کی قانونی حیثیت کا فیصلہ اب ووٹ نہیں، بلکہ امریکی طاقت کرے گی۔

    یہ پہلا موقع نہیں کہ امریکہ نے کسی ملک میں حکومت کی تبدیلی کے لیے طاقت کا سہارا لیا ہو، مگر یہ پہلا موقع ضرور ہے کہ ایک عالمی طاقت نے اس قدر کھلے الفاظ میں یہ اعلان کیا ہو کہ وہ ایک خودمختار ملک کے’ نظم و نسق کو چلائے گا’ ۔ اس اعلان نے دنیا بھر کے دارالحکومتوں میں خطرے کی گھنٹیاں بجا دی ہیں، خصوصاً اُن ممالک میں جہاں حکومتیں عوامی حمایت سے محروم مگر طاقت کے زور پر قائم ہیں۔

    فوجی کامیابی، سیاسی تباہی

    امریکی حکام اس کاروائی کو اپنی فوجی مہارت اور طاقت کا شاہکار قرار دے رہے ہیں۔ بڑے پیمانے پر بحری بیڑے کی منظم تعیناتی، انٹیلی جنس کا مؤثر استعمال اور ایک بھی امریکی فوجی کی جان گنوائے بغیر صدر مادورو کی گرفتاری ،  بلاشبہ یہ سب ایک فوجی کامیابی ہے۔ لیکن تاریخ ہمیں بار بار یہ سبق دیتی ہے کہ فوجی کامیابی کبھی بھی سیاسی کامیابی کی ضمانت نہیں ہوتی۔

    امریکہ کی گزشتہ تین دہائیوں کی مداخلتوں پر نظر ڈالیں تو ایک ہی کہانی بار بار دہرائی جاتی ہے:
    عراق، افغانستان، لیبیا ،  ہر جگہ فوجی طاقت نے حکومتیں تو گرا دیں، مگر مستحکم ریاستیں پیدا نہ کر سکی۔

    2003 میں عراق پر حملے کے بعد ملک تباہی، فرقہ واریت اور بدامنی کی ایسی دلدل میں دھنسا جس سے وہ آج تک نہیں نکل سکا۔ افغانستان میں بیس برس تک قیام، کھربوں ڈالر خرچ کرنے اور ہزاروں جانوں کی قربانی کے بعد، 2021 میں امریکہ کو وہ سب کچھ چھوڑ کر جانا پڑا جس کے لیے وہ آیا تھا۔ یہ مثالیں اس حقیقت کی یاد دہانی ہیں کہ بندوق سے اقتدار چھینا تو جا سکتا ہے، مگر استحکام خریدا نہیں جا سکتا۔

    وینزویلا میں بھی یہی سوال پوری شدت سے ابھر رہا ہے:کیا امریکی ٹینک، میزائل اور بحری جہاز ایک بکھرے ہوئے، بدعنوانی سے لتھڑے اور شدید سیاسی تقسیم کا شکار معاشرے کو جوڑ سکتے ہیں؟

    داخلی کمزوریاں اور بیرونی حملہ

    یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ نکولس مادورو نے انتخابی شکست تسلیم نہ کر کے وینزویلا کے عوام کی مرضی کو نظرانداز کیا۔ اسی وجہ سے ملک کے ایک طبقے نے ان کی معزولی کا خیرمقدم بھی کیا ہے۔ لیکن یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے:کیا کسی حکمران کی سیاسی ناکامی، کسی غیر ملکی طاقت کو یہ حق دیتی ہے کہ وہ فوجی طاقت کے ذریعے اس ملک کی قیادت اٹھا لے؟

    یہ سوال صرف وینزویلا کے لیے نہیں، بلکہ ہر اُس ملک کے لیے ہے جہاں جمہوریت کمزور اور اقتدار چند ہاتھوں میں مرتکز ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج عرب اور خلیجی ریاستوں( جو تیل کی دولت سے مالا مال ہیں ) میں غیر معمولی بے چینی پائی جاتی ہے۔ وہاں کے حکمران بخوبی سمجھتے ہیں کہ اگر امریکہ کسی بھی مرحلے پر انہیں ‘بدعنوان’، ‘غیر جمہوری’ یا ‘عوامی مینڈیٹ سے محروم’قرار دے دے، تو وینزویلا جیسا منظرنامہ دہرایا جا سکتا ہے۔

    یہی خوف اب ان ریاستوں کو امریکہ اور اسرائیل کے خلاف کسی بھی سخت موقف سے باز رکھے گا۔ اقتدار کی بقا، اصولوں پر قربانی سے کہیں زیادہ عزیز ہو چکی ہے۔

    منرو ڈاکٹرائن: پرانی سوچ، نیا عذاب

    صدر ٹرمپ نے اس موقع پر 1823 کے منرو ڈاکٹرائن کو ایک بار پھر زندہ کر دیا۔ یہ نظریہ دراصل لاطینی امریکہ کو امریکی اثر و رسوخ کا خصوصی دائرہ قرار دیتا ہے اور دیگر طاقتوں کو خبردار کرتا ہے کہ وہ اس خطے میں مداخلت نہ کریں۔ ٹرمپ نے نہ صرف اس نظریے کی توثیق کی بلکہ کولمبیا کے صدر کو کھلی دھمکی دی کہ اب انہیں بھی اپنی فکر کرنی چاہیے۔ میکسیکو اور کیوبا کا ذکر بھی اسی تناظر میں کیا گیا۔یہ پیغام واضح ہے:امریکہ اپنے جغرافیائی اثر و رسوخ کو نہ صرف محفوظ رکھنا چاہتا ہے بلکہ اسے طاقت کے ذریعے وسعت دینا چاہتا ہے۔

    عرب دنیا، خلیجی ریاستیں اور اقتدار کے لرزتے ستون

    وینزویلا میں صدر مادورو کی گرفتاری کے بعد جو سب سے گہرا اور خاموش ردِعمل سامنے آیا، وہ لاطینی امریکہ یا یورپ سے زیادہ عرب اور خلیجی دنیا میں محسوس کیا گیا۔ یہاں کسی نے کھل کر مذمت نہیں کی، کوئی سخت بیان سامنے نہیں آیا، کوئی احتجاجی سفارت کاری نہیں ہوئی۔ اس خاموشی کی وجہ لاعلمی نہیں، بلکہ خوف ہے ،  ایک ایسا خوف جو اقتدار کے ایوانوں میں سرایت کر چکا ہے۔

    عرب اور خلیجی ممالک کے حکمران بخوبی جانتے ہیں کہ ان کے اقتدار کی بنیادیں کمزور ہیں۔ بیشتر ریاستوں میں نہ مکمل جمہوریت ہے، نہ شفاف احتساب، نہ عوامی شمولیت۔ اقتدار یا تو خاندانی ہے، یا عسکری، یا مخصوص طاقتور طبقات کے سہارے قائم ہے۔ ایسے میں وینزویلا کا واقعہ ایک واضح انتباہ بن کر سامنے آیا ہے۔

    امریکہ کا  پیغام نہایت سادہ مگر ہولناک
    اگر امریکہ کسی مرحلے پر یہ فیصلہ کر لے کہ آپ کی حکومت اس کے مفادات کے خلاف ہے، تو آپ کے خلاف الزامات کی کمی نہیں ہو گی۔

    بدعنوانی، انسانی حقوق، منشیات، دہشت گردی، انتخابی دھاندلی ،  الزامات کی فہرست پہلے سے تیار ہوتی ہے۔ بس وقت اور فیصلہ درکار ہوتا ہے۔

    ایران: اگلا ہدف؟

    عرب دنیا میں سب سے زیادہ تشویش ایران کے گرد گھوم رہی ہے۔ وینزویلا کے بعد یہ سوال اب محض تجزیہ نہیں رہا بلکہ ایک سنجیدہ خدشہ بن چکا ہے:کیا امریکہ ایران میں بھی اسی طرز کا ماڈل دہرا سکتا ہے؟

    ایران میں پہلے ہی داخلی بے چینی، معاشی دباؤ، پابندیاں، کرنسی کی گراوٹ اور عوامی احتجاج موجود ہے۔ امریکہ اور اسرائیل برسوں سے یہ مؤقف اختیار کرتے آئے ہیں کہ ایرانی نظام ‘ عوامی نمائندگی’ سے محروم ہے۔ اب وینزویلا کی مثال سامنے آنے کے بعد یہ دلیل زیادہ خطرناک شکل اختیار کر چکی ہے۔

    اگر امریکہ یہ طے کر لے کہ ایرانی قیادت کو ‘ عالمی سلامتی کے لیے خطرہ’  قرار دیا جائے، تو پھر بین الاقوامی قانون، اقوامِ متحدہ یا سفارتی آداب محض رسمی رکاوٹیں بن کر رہ جائیں گی۔ وینزویلا کے بعد یہ نظیر قائم ہو چکی ہے کہ ایک ریاست کے سربراہ کو اس کے گھر سے اٹھایا جا سکتا ہے۔

    یہی خوف عرب حکمرانوں کو خاموش کیے ہوئے ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ اگر ایران کے ساتھ کھل کر کھڑے ہوئے، یا اسرائیل کے خلاف سخت مؤقف اپنایا، تو اگلا نام ان کا بھی ہو سکتا ہے۔

    اسرائیل کے خلاف خاموشی کیوں؟

    غزہ میں ہونے والے مظالم، انسانی المیے اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزیوں کے باوجود عرب دنیا کی قیادت کی جانب سے محض رسمی بیانات سامنے آ رہے ہیں۔ عملی سطح پر کوئی بڑا قدم نہیں اٹھایا جا رہا۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہی خوف ہے جو وینزویلا کے واقعے کے بعد کئی گنا بڑھ چکا ہے۔اب مسئلہ صرف فلسطین نہیں رہا، بلکہ اقتدار کی بقا بن چکا ہے۔حکمران طبقات یہ سوال خود سے کر رہے ہیں:’گر ہم نے امریکہ یا اسرائیل کے خلاف حد سے آگے بڑھ کر بات کی، تو کیا ہمیں بھی کسی دن ‘عوامی دشمن’ یا ‘بدعنوان آمر’ قرار دے کر نشانہ بنایا جا سکتا ہے؟’

    وینزویلا نے اس سوال کو محض مفروضہ نہیں رہنے دیا، بلکہ ایک ممکنہ حقیقت بنا دیا ہے۔

    طاقت اور اخلاقیات کی علیحدگی

    بین الاقوامی نظام کی بنیاد اس اصول پر رکھی گئی تھی کہ طاقت کو قانون کے تابع رکھا جائے گا۔ اقوامِ متحدہ، عالمی عدالتِ انصاف، انسانی حقوق کے معاہدے ،  یہ سب اسی تصور کی پیداوار تھے۔ مگر وینزویلا میں ہونے والی امریکی کارروائی نے اس تصور کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ اب طاقت اور اخلاقیات مکمل طور پر الگ ہو چکے ہیں۔طاقت خود فیصلہ کرتی ہے کہ کون ظالم ہے، کون آمر، کون مجرم اور کون قابلِ گرفت۔

    یہی وجہ ہے کہ یورپ بھی اس معاملے میں خاموش ہے۔ برطانوی وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر ہوں یا یورپی یونین کے دیگر رہنما ،  سب جانتے ہوئے بھی اس کارروائی کی مذمت سے گریز کر رہے ہیں کہ یہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی صریح خلاف ورزی ہے۔ مگر وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ امریکہ کو ناراض کرنے کی قیمت بہت زیادہ ہو سکتی ہے۔

    اقتدار بمقابلہ عوام

    وینزویلا کا واقعہ دنیا بھر کی اُن حکومتوں کے لیے بھی لمحۂ فکریہ ہے جو عوامی حمایت سے محروم مگر طاقت کے زور پر قائم ہیں۔ افریقہ، مشرقِ وسطیٰ، وسطی ایشیا اور حتیٰ کہ بعض لاطینی امریکی ممالک میں بھی ایسی حکومتیں موجود ہیں جن کی اصل طاقت عوام نہیں بلکہ عسکری، قبائلی یا بیرونی حمایت ہے۔ان سب کے لیے پیغام واضح ہے:اگر عوامی ناراضی کسی مرحلے پر امریکی مفاد سے ہم آہنگ ہو گئی، تو آپ کا اقتدار چند گھنٹوں میں ختم ہو سکتا ہے۔

    یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں حکمرانوں کی راتوں کی نیند اڑ چکی ہے، چاہے وہ اس کا اعتراف کریں یا نہیں۔

    چین اور روس کی خاموشی: طوفان سے پہلے کی سکوت؟

    وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائی کے بعد اگر دنیا کی نظریں کسی ایک نکتے پر مرکوز ہوئیں، تو وہ چین اور روس کا ردِعمل تھا ،  یا درست لفظوں میں کہا جائے تو، ان کی غیر معمولی خاموشی۔ یہ خاموشی محض سفارتی احتیاط نہیں، بلکہ ایک گہرا اسٹریٹجک پیغام بھی اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔

    عالمی سیاست کے مبصرین اس بات پر حیران ہیں کہ وہ چین اور روس، جو خود کو کثیر قطبی دنیا (Multipolar World) کے علمبردار کہتے ہیں، جو امریکی بالادستی کو چیلنج کرنے کے دعوے کرتے رہے ہیں، وہ اس قدر محدود، محتاط اور محتسب ردِعمل پر کیوں اکتفا کر رہے ہیں؟

    چین نے رسمی طور پر امریکی اقدام کی مذمت ضرور کی، یہ کہہ کر کہ امریکہ کی تسلط پسندانہ کارروائیاں بین الاقوامی قانون اور وینزویلا کی خودمختاری کی خلاف ورزی ہیں اور اس سے لاطینی امریکہ اور کیریبین کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ مگر یہ مذمت الفاظ سے آگے نہ بڑھ سکی۔ نہ کوئی عملی اقدام، نہ کوئی سفارتی محاذ آرائی، نہ اقوامِ متحدہ میں کوئی فیصلہ کن کردار۔

    روس کا رویہ اس سے بھی زیادہ محتاط رہا۔ ماسکو کی جانب سے سخت بیانات تو سامنے آئے، مگر وہ سطحی نوعیت کے تھے۔ ایسا محسوس ہوا جیسے دونوں طاقتیں کسی بڑے فیصلے سے قبل حالات کا بغور مشاہدہ کر رہی ہوں۔

    خاموشی کی اصل وجہ: خطرہ یا موقع؟

    یہ خاموشی محض خوف یا کمزوری کا اظہار نہیں، بلکہ اس میں ایک ممکنہ موقع بھی پوشیدہ ہے۔ وینزویلا میں امریکی کارروائی نے بین الاقوامی سیاست میں ایک ایسی لکیر کھینچ دی ہے، جس کے بعد کئی وہ کام ‘قابلِ قبول’  ہو سکتے ہیں جو پہلے ناقابلِ تصور سمجھے جاتے تھے۔

    اگر امریکہ یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ وہ کسی ملک کے صدر کو ‘عالمی سلامتی’ ، ‘ منشیات’ ، ‘ بدعنوانی’  یا ‘ غیر جمہوری طرزِ حکومت’ کے نام پر فوجی طاقت سے گرفتار کر سکتا ہے، تو پھر یہی منطق دوسرے ممالک کیوں استعمال نہیں کر سکتے؟یہی وہ نکتہ ہے جو چین اور روس کو خاموش مگر متفکر بنائے ہوئے ہے۔

    تائیوان: چین کے لیے نیا جواز؟

    چین برسوں سے تائیوان کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتا آیا ہے۔ بیجنگ کا مؤقف واضح ہے کہ تائیوان کوئی آزاد ملک نہیں بلکہ چین کا ایک باغی صوبہ ہے، جسے کسی نہ کسی مرحلے پر مرکزی دھارے میں واپس لایا جائے گا۔اب وینزویلا کے بعد ایک خطرناک سوال جنم لے چکا ہے:اگر امریکہ کسی غیر دوست حکومت کے سربراہ کو اغوا کر سکتا ہے، تو چین تائیوان کی قیادت کے خلاف اسی منطق کو کیوں استعمال نہیں کر سکتا؟

    چینی اسٹریٹجک حلقوں میں اس نکتے پر سنجیدہ بحث جاری ہے۔ اگر امریکہ کہتا ہے کہ وہ وینزویلا میں ‘عوامی مفاد’  اور ‘ علاقائی سلامتی’  کے لیے مداخلت کر رہا ہے، تو چین بھی یہ کہہ سکتا ہے کہ تائیوان کی علیحدگی اس کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔

    یہی وہ مقام ہے جہاں وینزویلا ایک خطرناک مثال  بن جاتا ہے ،  ایک ایسی  مثال  جسے دیگر طاقتیں بھی اپنے حق میں استعمال کر سکتی ہیں۔

    یوکرین: روس کے لیے کھلتا ہوا دروازہ

    اسی طرح روس کے لیے بھی یوکرین کا معاملہ ایک نئے زاویے سے سامنے آ رہا ہے۔ روس پہلے ہی یہ دعویٰ کرتا آیا ہے کہ یوکرین میں مغربی مداخلت اس کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔ اب اگر امریکہ نے ایک خودمختار ملک کے صدر کو طاقت کے زور پر گرفتار کر لیا ہے، تو پھر روس کیوں یہ حق استعمال نہ کرے کہ وہ یوکرین کی قیادت کو ‘علاقائی عدم استحکام’ کا ذمہ دار ٹھہرا کر نشانہ بنائے؟

    یہ سوال اب محض قیاس نہیں رہا۔ وینزویلا کے بعد عالمی سیاست میں ایک ایسا غیر تحریری اجازت نامہ جاری ہو چکا ہے، جس کے تحت طاقتور ممالک اپنی تشریحات کے مطابق بین الاقوامی قانون کو استعمال یا نظرانداز کر سکتے ہیں۔

    عالمی نظام کی ٹوٹ پھوٹ

    یہ تمام صورتحال اس بات کی طرف اشارہ کر رہی ہے کہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد قائم ہونے والا عالمی نظام شدید بحران کا شکار ہو چکا ہے۔ اقوامِ متحدہ، سلامتی کونسل، عالمی قوانین ،  یہ سب اس تصور پر قائم تھے کہ طاقت کو ضابطے میں رکھا جائے گا۔مگر وینزویلا کے بعد یہ تصور کمزور پڑ چکا ہے۔اب دنیا ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے جہاںطاقت خود قانون بن رہی ہے، اور قانون طاقت کے تابع ہوتا جا رہا ہے۔

    یہی وجہ ہے کہ چین اور روس کھل کر ردِعمل دینے کے بجائے خاموشی سے یہ دیکھ رہے ہیں کہ امریکہ کہاں تک جاتا ہے، اور دنیا کہاں تک برداشت کرتی ہے۔

    خاموشی کا انجام

    یہ خاموشی عارضی ہو سکتی ہے، مگر اس کے نتائج دیرپا ہوں گے۔ اگر چین اور روس اس نظیر کو قبول کر لیتے ہیں ،  چاہے خاموشی کے ذریعے ہی سہی  تو پھر مستقبل میں کسی بھی طاقت کے لیے کسی بھی ملک میں مداخلت کا راستہ کھل جائے گا۔یہی وہ لمحہ ہے جہاں عالمی سیاست ایک خطرناک موڑ پر کھڑی ہے۔

    خاموشی کی اصل وجہ

    چین اور روس کی خاموشی دراصل خوف یا بے بسی نہیں، بلکہ ایک سرد مہر حساب کتاب ہے۔ وہ دیکھ رہے ہیں کہ:

    • امریکہ نے عالمی قانون کی پروا نہیں کی
    • یورپ نے عملی مزاحمت نہیں کی
    • اقوامِ متحدہ محض تماشائی بنی رہی

    اس منظرنامے میں چین اور روس یہ نتیجہ اخذ کر رہے ہیں کہاگر کل وہ بھی ایسا کریں، تو شاید انہیں بھی اسی طرح نظرانداز کر دیا جائے۔یہی سوچ دنیا کو ایک نہایت خطرناک موڑ کی طرف لے جا رہی ہے۔

    طاقت کا نیا عالمی اصول

    وینزویلا آپریشن کے بعد اب ایک نیا غیر اعلانیہ اصول جنم لے چکا ہے:طاقت ہی مقننہ ہے۔ جس کے پاس بحری بیڑے، ڈرون اور معاشی دباؤ ہے، وہی حق پر ہو گا۔یہ اصول نہ صرف چھوٹے ممالک بلکہ درمیانی طاقتوں کے لیے بھی تباہ کن ہے۔ اب کسی ملک کی خودمختاری اس بات کی ضمانت نہیں رہی کہ اس کا رہنما محفوظ ہے۔

    امریکہ، تیل اور طاقت: سامراج کی کھلی واپسی

    وینزویلا میں ہونے والی امریکی فوجی کارروائی کو اگر محض ایک وقتی یا غیر معمولی اقدام سمجھا جائے تو یہ تاریخ اور سیاست دونوں کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ کارروائی امریکی خارجہ پالیسی کے ایک طویل، خون آلود اور مفاد پرستانہ سلسلے کی تازہ کڑی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اس بار پردے ہٹا دیے گئے ہیں، جواز کم اور طاقت کا اظہار زیادہ نمایاں ہے۔امریکہ کی خارجہ پالیسی کو اگر ایک جملے میں سمیٹا جائے تو وہ کچھ یوں بنتی ہے:جہاں مفاد ہو، وہاں مداخلت جائز ہے۔

    یہ مفاد کبھی جمہوریت کے نام پر سامنے آیا، کبھی انسانی حقوق کے پردے میں، کبھی دہشت گردی کے خلاف جنگ کے عنوان سے، اور کبھی منشیات، بدعنوانی یا آمریت کے خلاف کارروائی کے نام پر۔ مگر ہر بار کہانی کے پس منظر میں ایک ہی عنصر نمایاں رہا:وسائل ، خصوصاً تیل اور معدنی دولت۔

    ایران: دباؤ، پابندیاں اور ممکنہ تصادم

    ایران اب تک براہِ راست فوجی مداخلت سے بچا ہوا ہے، مگر اس پر دباؤ کی شدت مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔ معاشی پابندیاں، سفارتی تنہائی، اندرونی بے چینی ،  یہ سب ایک منظم حکمتِ عملی کا حصہ ہیں۔

    وینزویلا کے بعد یہ اندیشہ اب زیادہ حقیقت پسندانہ ہو گیا ہے کہ ایران میں بھی کسی مرحلے پر ‘عوامی مفاد’  یا ‘علاقائی سلامتی’کے نام پر براہِ راست اقدام کیا جا سکتا ہے۔یہی خدشہ مشرقِ وسطیٰ کو بے چین کیے ہوئے ہے۔

    وینزویلا: تسلسل کی آخری کڑی

    وینزویلا اس تمام تاریخ میں ایک نیا باب نہیں بلکہ ایک تسلسل ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ یہاں وسائل کی مقدار غیر معمولی ہے۔
    دنیا کے سب سے بڑے ثابت شدہ تیل ذخائر، سونا، قدرتی گیس، میٹھا پانی ، یہ سب وینزویلا کو امریکی سامراج کے لیے ایک خواب بنا دیتے ہیں۔صدر ٹرمپ نے جب یہ کہا کہ ‘وینزویلا کا تیل ہماری کمپنیاں نکالیں گی’تو اس نے دراصل امریکی خارجہ پالیسی کا نچوڑ ایک جملے میں بیان کر دیا۔

    یہ جمہوریت کی جنگ نہیں، یہ آزادی کی مہم نہیں ،یہ وسائل کی جنگ ہے۔

    انیسویں صدی کی واپسی

    ٹرمپ کے دور میں امریکہ نے وہ زبان دوبارہ اختیار کی ہے جو انیسویں صدی کے نوآبادیاتی نظام کی علامت تھی۔’ہم آئیں گے، ہم لیں گے، ہم چلائیں گے’یہ وہی زبان ہے جو کبھی برطانوی، فرانسیسی اور ہسپانوی سامراج استعمال کرتا تھا۔فرق صرف یہ ہے کہ آج اس زبان کے پیچھے جدید ہتھیار، عالمی میڈیا اور معاشی دباؤ کھڑے ہیں۔

    خوف کی نئی دنیا، کمزور ریاستیں اور مستقبل کا عالمی منظرنامہ

    وینزویلا میں پیش آنے والا واقعہ محض ایک ملک کے صدر کی گرفتاری یا ایک عسکری کاروائی نہیں، بلکہ یہ اکیسویں صدی کے عالمی نظام کے چہرے سے نقاب اٹھانے کے مترادف ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جہاں دنیا ایک نئے دور میں داخل ہوتی دکھائی دیتی ہے ،  ایک ایسی دنیا جہاں قانون کمزور، طاقت بے لگام، اور ریاستیں غیر محفوظ ہو چکی ہیں۔

    آج دنیا کو جس سب سے بڑے خطرے کا سامنا ہے، وہ جنگ نہیں بلکہ خوف ہے۔ خوف اس بات کا کہ اگر وینزویلا کے صدر کو اس کے دارالحکومت، اس کے محل، اس کے بستر سے اٹھایا جا سکتا ہے، تو پھر کون محفوظ ہے؟
    یہ خوف صرف لاطینی امریکہ تک محدود نہیں، بلکہ ایشیا، افریقہ، مشرقِ وسطیٰ اور یہاں تک کہ یورپ کی کمزور یا نیم خودمختار ریاستوں تک پھیل چکا ہے۔

    ریاستی خودمختاری: ایک کھوکھلا تصور؟

    اس نئی عالمی ترتیب میں سب سے زیادہ خطرہ ان ریاستوں کو ہے:

    • جو قدرتی وسائل سے مالا مال ہیں
    • جو آزاد خارجہ پالیسی رکھتی ہیں
    • جو بڑی طاقتوں کے بلاک میں شامل ہونے سے انکار کرتی ہیں
    • یا جو چین، روس، ایران جیسے ممالک سے تعلقات رکھتی ہیں

    وینزویلا کے بعد یہ فہرست مختصر نہیں، بلکہ طویل ہے۔ پیغام واضح ہے:یا ہمارے ساتھ ہو، یا ہمارے خلاف۔

    دنیا کب تک یہ سب خاموشی سے دیکھتی رہے گی؟

    اگر آج وینزویلا ہے، تو کل کوئی اور ہو سکتا ہے۔اگر آج لاطینی امریکہ ہے، تو کل ایشیا یا افریقہ ہو سکتا ہے۔یہی وہ مرحلہ ہے جہاں عالمی نظام یا تو:

    • مکمل انتشار کی طرف جائے گا
      یا
    • ایک نئی مزاحمتی صف بندی جنم لے گی

    چین، روس، ایران، ترکیہ ، پاکستان  اور دیگر خودمختار خارجہ پالیسی رکھنے والے ممالک کے لیے یہ لمحہ انتباہ بھی ہے اور موقع بھی  کہ یا تو اجتماعی طاقت کا نیا توازن قائم کیا جائے، یا پھر طاقتور کے رحم و کرم پر دنیا چھوڑ دی جائے۔

    طاقت کا غرور، تاریخ کا فیصلہ

    تاریخ کا ایک اٹل اصول ہے:طاقت جب خود کو قانون سمجھنے لگے، تو زوال کا آغاز ہو جاتا ہے۔

    امریکہ آج بظاہر طاقت کے عروج پر ہے، مگر تاریخ گواہ ہے کہ کوئی سلطنت ہمیشہ قائم نہیں رہی۔
    وینزویلا کا واقعہ شاید وقتی فتح ہو، مگر اس نے دنیا بھر میں ایک ایسی بے چینی، ایک ایسا عدم اعتماد اور ایک ایسی خاموش مزاحمت کو جنم دے دیا ہے جو آنے والے برسوں میں عالمی سیاست کا رخ بدل

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleعلی شاہین ، روایات سے ہٹ کر، دلوں میں اترنےوالی قانون سازی اور سفارت کاری کے معمار
    Next Article خواجہ آصف : پاکستان نے بھارت کا دنیا کے سامنے ایسا منہ کالا کیا ہے جسےصاف کرنا اب بھارت کے لیے ممکن نہیں
    ڈاکٹر فرقان حمید

    Related Posts

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026

    ترکیہ اسکالرشپس: دنیا کی جامع ترین ( fully funded)اسکالرشپس، آن لائن درخواستوں کا طوفان، ویب سائٹ کو کریش کے خدشات

    16جنوری , 2026

    دنیا کے تواز ن کا پانسہ پلٹنے والے نئےدفاعی ستون، جلد ہی پاک-ترک -سعودی ا سلامی اتحادقائم کیے جانے کی توقع

    15جنوری , 2026

    Comments are closed.

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    ٹیگز
    #اسرائیل #حقان فیدان #حماس #سیاحت #غزہ #فلسطین آئی ٹی استنبول اسلام آباد افراطِ زر الیکشن 2024 انتخابات انقرہ اپوزیشن ایردوان بھونچال بیسٹ ماڈل آف ترکیہ ترقی ترک صدی ترک میڈیا ترکیہ تعلیم حزبِ اختلاف دنیا دہماکہ دی اکانومسٹ روس سلائِڈر سلائیڈر--- شہباز شریف صدر ایردوان صدر ایردوان، وزیراعظم شہباز شریف، پاکستان، ترکیہ عدلیہ عمران خان فیچرڈ قاتلانہ حملہ لانگ مارچ مغربی میڈیا ملت اتحاد وزیراعظم وزیراعظم شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف، صدر ایردوان، پاکستان، امداد پاکستان پاک فوج یورپ
    • Facebook
    • Twitter
    • Instagram
    اہم خبریں

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    ترکیہ اسکالرشپس: دنیا کی جامع ترین ( fully funded)اسکالرشپس، آن لائن درخواستوں کا طوفان، ویب سائٹ کو کریش کے خدشات

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    مقبول پوسٹس

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026
    Tr-Urdu All Rights Reserved © 2022
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.