Close Menu
Tr-Urdu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Tr-Urdu
    Subscribe
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    Tr-Urdu
    You are at:Home»ترکیہ»ترکیہ اسکالرشپس: دنیا کی جامع ترین ( fully funded)اسکالرشپس، آن لائن درخواستوں کا طوفان، ویب سائٹ کو کریش کے خدشات
    ترکیہ

    ترکیہ اسکالرشپس: دنیا کی جامع ترین ( fully funded)اسکالرشپس، آن لائن درخواستوں کا طوفان، ویب سائٹ کو کریش کے خدشات

    ڈاکٹر فرقان حمیدBy ڈاکٹر فرقان حمید16جنوری , 2026Updated:16جنوری , 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔6 Mins Read
    ترکیہ اسکلار شپس2026
    پوسٹ شئیر کریں
    Facebook Twitter LinkedIn Email

    دنیا اس وقت جس تیزی سے بدل رہی ہے، اس نے یہ حقیقت ایک بار پھر ثابت کر دی ہے کہ طاقت کا اصل سرچشمہ نہ صرف اسلحہ ہے، نہ معیشت، بلکہ علم، تعلیم اور انسانی سرمایہ ہے۔ اکیسویں صدی میں وہی ریاستیں عالمی سیاست، معیشت اور تہذیب میں فیصلہ کن کردار ادا کر رہی ہیں جنہوں نے تعلیم کو محض قومی ضرورت نہیں بلکہ اسٹریٹجک پالیسی بنا لیا ہے۔ یہی وہ پس منظر ہے جس میں جمہوریۂ ترکیہ کا ترکیہ اسکالرشپس پروگرام ایک منفرد، کامیاب اور قابلِ تقلید ریاستی ماڈل بن کر ابھرتا ہے۔

    ترکیہ اسکالر شپس2026

    ترکیہ اسکالرشپس کو محض ایک تعلیمی وظیفہ سمجھنا اس پروگرام کی فکری گہرائی اور سیاسی بصیرت کو کم کر کے دیکھنے کے مترادف ہے۔ درحقیقت یہ پروگرام ترکیہ کی سافٹ پاور، سفارتی حکمتِ عملی، تہذیبی رابطے اور مستقبل کی قیادت سازی کا ایک مربوط منصوبہ ہے، جس کے اثرات آج دنیا کے درجنوں ممالک میں نمایاں ہو رہے ہیں۔

    تعلیم: اکیسویں صدی کی سب سے مؤثر طاقت

    عالمی تاریخ گواہ ہے کہ جس قوم نے علم کو ترجیح دی، وہی قیادت کے منصب پر فائز ہوئی۔ مغرب کی سائنسی برتری، چین کی تکنیکی پیش رفت، جاپان اور جنوبی کوریا کی ترقی، یہ سب تعلیم پر سرمایہ کاری کا نتیجہ ہیں۔ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ مسلم دنیا کی اکثریت آج بھی تعلیم کو اخراجات سمجھتی ہے، سرمایہ کاری نہیں۔

    ایسے ماحول میں ترکیہ نے تعلیم کو محض داخلی ترقی تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے بین الاقوامی اثر و رسوخ کا ذریعہ بنایا۔ ترکیہ اسکالرشپس اسی سوچ کا عملی مظہر ہے، جہاں غیر ملکی طلبہ کو تعلیم دے کر نہ صرف انسانی ہمدردی کا پیغام دیا جاتا ہے بلکہ مستقبل کے عالمی فیصلوں میں شراکت داری کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔

    ترکیہ اسکالرشپس: ایک فکری انقلاب

    ترکیہ اسکالر شپس2026

    ترکیہ اسکالرشپس دراصل ایک فکری انقلاب ہے۔ یہ پروگرام ان نوجوانوں کو مواقع فراہم کرتا ہے جو صلاحیت رکھتے ہیں مگر وسائل نہیں۔ یہ ان خوابوں کو حقیقت میں بدلتا ہے جو ترقی پذیر ممالک کے نوجوانوں کی آنکھوں میں پلتے ہیں مگر اکثر وسائل کی کمی کے باعث دفن ہو جاتے ہیں۔

    یہاں ترکیہ ایک ایسے استاد کے طور پر سامنے آتا ہے جو صرف علم نہیں دیتا بلکہ اعتماد، شناخت اور مستقبل بھی عطا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ترکیہ اسکالرشپس کے فارغ التحصیل طلبہ آج افریقہ، ایشیا، مشرقِ وسطیٰ، یورپ اور لاطینی امریکہ میں اہم ریاستی، تعلیمی اور پالیسی ساز اداروں میں موجود ہیں۔

    ریاستی وژن اور ادارہ جاتی ہم آہنگی

    کسی بھی بڑے منصوبے کی کامیابی کا راز اس کے پیچھے موجود ریاستی وژن اور ادارہ جاتی ہم آہنگی میں ہوتا ہے۔ ترکیہ اسکالرشپس کی کامیابی بھی اسی اصول کی مرہونِ منت ہے۔ 2012ء میں تمام تعلیمی وظائف کو ایک مربوط شناخت دے کر Türkiye Scholarships کے نام سے منظم کرنا ایک تاریخی فیصلہ تھا۔

    اس پروگرام کی نگرانی Presidency for Turks Abroad and Related Communities (YTB) کر رہی ہے، جبکہ ترک ہائر ایجوکیشن کونسل (YÖK)، یورت کور، وزارتِ خارجہ اور مائیگریشن اتھارٹی جیسے ادارے اس میں شراکت دار ہیں۔ یہ اشتراک اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ طالب علم کو داخلے سے لے کر گریجویشن تک ایک منظم، شفاف اور محفوظ تعلیمی سفر فراہم کیا جائے۔

    دنیا کی  جامع  ترین  ( fully funded)اسکالرشپس

    اگر عالمی سطح پر موجود اسکالرشپس کا جائزہ لیا جائے تو واضح فرق سامنے آتا ہے۔ بیشتر اسکالرشپس یا تو صرف فیس معاف کرتی ہیں یا جزوی مالی امداد فراہم کرتی ہیں۔ اس کے برعکس ترکیہ اسکالرشپس ایک ہمہ جہتی پیکج ہے۔

    یہ پروگرام طالب علم کی فیس، رہائش، صحت، ماہانہ اخراجات، سفری سہولت، زبان کی تعلیم اور سماجی انضمام—سب کا بندوبست کرتا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ طالب علم مالی دباؤ، رہائشی مسائل یا انتظامی رکاوٹوں سے آزاد ہو کر مکمل توجہ علم کے حصول پر دے سکے۔

    ماہانہ وظیفہ: باوقار زندگی کی ضمانت

    ترکیہ اسکالر شپس2026

    ترکیہ اسکالرشپس کے تحت دیا جانے والا ماہانہ وظیفہ محض علامتی نہیں بلکہ عملی طور پر ایک باوقار طالب علم زندگی کی ضمانت ہے۔ انڈرگریجویٹ طلبہ کے لیے 4,500 ترک لیرا، ماسٹرز کے لیے 6,500 اور پی ایچ ڈی کے لیے 9,000 ترک لیرا، یہ رقم موجودہ معاشی حالات میں ایک طالب علم کے لیے معقول سمجھی جاتی ہے۔

    یہی پہلو ترکیہ اسکالرشپس کو محض تعلیم نہیں بلکہ انسانی وقار کا منصوبہ بنا دیتا ہے۔

    ترکی زبان: تہذیب تک رسائی کا ذریعہ

    زبان کسی بھی معاشرے کو سمجھنے کی کنجی ہوتی ہے۔ ترکیہ اسکالرشپس میں شامل ایک سالہ ترکی زبان کا کورس محض تعلیمی ضرورت نہیں بلکہ تہذیبی انضمام کا ذریعہ ہے۔ یہ کورس طلبہ کو ترکی معاشرے، اقدار اور روزمرہ زندگی سے جوڑ دیتا ہے۔

    یہی وجہ ہے کہ ترکیہ میں تعلیم حاصل کرنے والے غیر ملکی طلبہ خود کو اجنبی نہیں بلکہ معاشرے کا فعال حصہ محسوس کرتے ہیں۔

    محفوظ، مستحکم اور مہمان نواز ترکیہ

    بین الاقوامی طلبہ کے لیے تحفظ سب سے بڑی ترجیح ہوتی ہے۔ ترکیہ اس حوالے سے ایک محفوظ اور مستحکم ملک کے طور پر جانا جاتا ہے۔ سرکاری ہاسٹلز، جدید کیمپس، منظم ٹرانسپورٹ اور بین الاقوامی طلبہ کے لیے خصوصی سہولت مراکز اس بات کا ثبوت ہیں کہ ترکیہ تعلیم کو صرف تعلیمی مسئلہ نہیں بلکہ ریاستی ذمہ داری سمجھتا ہے۔

    مسلم دنیا کے لیے ایک قابلِ تقلید ماڈل

    ترکیہ اسکالرشپس مسلم دنیا کے لیے ایک آئینہ بھی ہے۔ یہ پروگرام ثابت کرتا ہے کہ اگر سیاسی ارادہ، فکری وژن اور ادارہ جاتی نظم موجود ہو تو تعلیم کے ذریعے عالمی اثر و رسوخ حاصل کیا جا سکتا ہے۔

    یہ سوال مسلم دنیا کے پالیسی سازوں کے لیے لمحۂ فکریہ ہے کہ کیا ہم نے تعلیم کو کبھی اس سطح پر قومی ترجیح بنایا؟ اگر نہیں، تو ترکیہ کا ماڈل ہمارے سامنے ایک واضح راستہ ہے۔

    2026 کی درخواستیں: فیصلہ کن لمحہ

    ترکیہ اسکالرشپس 2026 کے لیے درخواستوں کا آغاز ہو چکا ہے اور یہ عمل 20 فروری 2026 تک جاری رہے گا۔ یہ محض ایک ڈیڈ لائن نہیں بلکہ ہزاروں نوجوانوں کے مستقبل کا فیصلہ کن لمحہ ہے۔

    ایک اسکالرشپ، ایک سوچ، ایک مستقبل

    ترکیہ اسکالرشپس دراصل ایک سوچ ہے، وہ سوچ جو تعلیم کو طاقت، نوجوان کو سرمایہ اور علم کو سفارت کاری سمجھتی ہے۔ یہ پروگرام ثابت کرتا ہے کہ اگر نیت صاف، وژن واضح اور عمل مضبوط ہو تو تعلیم کے ذریعے دنیا کو بدلا جا سکتا ہے۔

    یہ صرف طلبہ کے لیے نہیں بلکہ ریاستوں کے لیے بھی ایک پیغام ہے:
    تعلیم پر سرمایہ کاری دراصل مستقبل پر سرمایہ کاری ہے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleدنیا کے تواز ن کا پانسہ پلٹنے والے نئےدفاعی ستون، جلد ہی پاک-ترک -سعودی ا سلامی اتحادقائم کیے جانے کی توقع
    Next Article ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات
    ڈاکٹر فرقان حمید

    Related Posts

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    21جنوری , 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    ٹیگز
    #اسرائیل #حقان فیدان #حماس #سیاحت #غزہ #فلسطین آئی ٹی استنبول اسلام آباد افراطِ زر الیکشن 2024 انتخابات انقرہ اپوزیشن ایردوان بھونچال بیسٹ ماڈل آف ترکیہ ترقی ترک صدی ترک میڈیا ترکیہ تعلیم حزبِ اختلاف دنیا دہماکہ دی اکانومسٹ روس سلائِڈر سلائیڈر--- شہباز شریف صدر ایردوان صدر ایردوان، وزیراعظم شہباز شریف، پاکستان، ترکیہ عدلیہ عمران خان فیچرڈ قاتلانہ حملہ لانگ مارچ مغربی میڈیا ملت اتحاد وزیراعظم وزیراعظم شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف، صدر ایردوان، پاکستان، امداد پاکستان پاک فوج یورپ
    • Facebook
    • Twitter
    • Instagram
    اہم خبریں

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    ترکیہ اسکالرشپس: دنیا کی جامع ترین ( fully funded)اسکالرشپس، آن لائن درخواستوں کا طوفان، ویب سائٹ کو کریش کے خدشات

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    مقبول پوسٹس

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026
    Tr-Urdu All Rights Reserved © 2022
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.