Close Menu
Tr-Urdu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Tr-Urdu
    Subscribe
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    Tr-Urdu
    You are at:Home»پاکستان»اسرائیل اور امریکہ کا ایران کے بعد اگلا ہدف کیا پاکستان اور ترکیہ ہیں؟ سفارتی توازن کی باریک لکیر اور عوام کو لاحق خدشات
    پاکستان

    اسرائیل اور امریکہ کا ایران کے بعد اگلا ہدف کیا پاکستان اور ترکیہ ہیں؟ سفارتی توازن کی باریک لکیر اور عوام کو لاحق خدشات

    ڈاکٹر فرقان حمیدBy ڈاکٹر فرقان حمید4مارچ , 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔12 Mins Read
    اسرائیل کا اگلا ہدف پاکستان اور ترکیہ
    پوسٹ شئیر کریں
    Facebook Twitter LinkedIn Email

    خصوصی تجزیہ : ڈاکٹر فرقان حمید

    مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر ایک ایسے ہمہ گیر بحران کی لپیٹ میں ہے جس کے اثرات خطے کی جغرافیائی سرحدوں سے کہیں آگے تک محسوس کیے جا رہے ہیں۔ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ  اب  کسی  وقت بھی عالمی جنگ کا روپ اختیار کرسکتی ہے اور اس کے نتیجے میں طاقت کے توازن، سفارتی حکمتِ عملی  اور علاقائی   ممالک  کے  اتحاد کی نوعیت تیزی سے بدل رہی ہے۔ ایران پر   اسرائیل اور امریکہ کے مشترکہ    اچانک (مذاکرات جاری رکھنے کے دوران ہی ) حملوں  کے بعد تہران نے جس انداز میں ردعمل دیا، اس نے واضح کر دیا کہ یہ محض  ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان محدود تصادم نہیں بلکہ ایک وسیع تر اسٹرٹیجک محاذ آرائی ہے جس میں خلیجی ریاستیں، عالمی طاقتیں اور مسلم دنیا کے اہم ممالک بھی براہِ راست یا بالواسطہ طور پر شامل ہو چکے ہیں۔

    مشرقِ وسطیٰ میں ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے مسلط کی گئی جنگ نے صرف تہران کو ہی نشانہ نہیں بنایا بلکہ اس کے ارتعاش پورے خطے میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے  حملوں کے بعد   ایران نے اسرائیل پر براہِ راست حملوں کے ساتھ ساتھ متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین اور سعودی عرب میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا۔ تہران کا استدلال یہ ہے کہ ان ممالک کی سرزمین پر قائم امریکی اڈے دراصل امریکہ کی عسکری موجودگی کا حصہ ہیں، اور اگر ان اڈوں سے ایران کے خلاف کوئی کاروائی ہوتی ہے تو انہیں جائز عسکری ہدف تصور کیا جائے گا۔ ایران کے نزدیک یہ اڈے محض میزبان ممالک کی حدود میں واقع تنصیبات نہیں بلکہ عملی طور پر امریکی خودمختار دائرۂ اختیار کا تسلسل ہیں۔ اسی منطق کے تحت ایران نے بعض مقامات پر امریکی سفارت خانوں اور قونصل خانوں کو بھی ہدف بنانے کی کوشش کی، یہ کہتے ہوئے کہ سفارتی تنصیبات بین الاقوامی قانون کے تحت میزبان ملک میں ہوتے ہوئے بھی بھیجنے والے ملک کی نمائندہ حیثیت رکھتی ہیں اور عملی طور پر اس کی سرزمین کا درجہ رکھتی ہیں۔

    یہ صورتِ حال اس لیے بھی زیادہ نازک ہے کہ خلیجی ریاستوں، بالخصوص متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین اور سعودی عرب، پہلے ہی واضح اعلان کر چکے تھے کہ  وہ اپنی سرزمین ایران پر حملے کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں  گے ۔ ان ممالک نے بظاہر غیر جانبداری اور علاقائی استحکام کو ترجیح دینے کا عندیہ دیا تھا، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ایران کے ساتھ براہِ راست تصادم ان کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کے باوجود ایران کی جانب سے امریکی اڈوں کو نشانہ بنانا دراصل ایک علامتی اور اسٹرٹیجک پیغام ہے: تہران یہ باور کرانا چاہتا ہے کہ اگر امریکہ خطے میں اپنی فوجی موجودگی برقرار رکھے گا اور اسرائیل کی پشت پناہی کرے گا تو اس کے مفادات، خواہ وہ کسی بھی ملک کی سرزمین پر کیوں نہ ہوں، محفوظ نہیں رہیں گے۔ اس طرزِ عمل سے خطے کی ریاستوں کے لیے ایک نئی سفارتی آزمائش پیدا ہو گئی ہے، کیونکہ وہ ایک طرف امریکہ کے دفاعی اتحاد  کا حصہ ہیں اور دوسری طرف ایران کے ساتھ کھلی جنگ کے متحمل نہیں ہو سکتیں۔

    اس بحران کے پس منظر میں امریکہ کا کردار کلیدی ہے۔ واشنگٹن اسرائیل کی سلامتی کو اپنی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون قرار دیتا رہا ہے، اور حالیہ بحران میں بھی اس کی عسکری، انٹیلی جنس اور سفارتی حمایت واضح طور پر نظر آتی ہے۔ ایران کے نزدیک یہی حمایت اصل مسئلے کی جڑ ہے۔ تہران کا خیال ہے کہ اسرائیل تنہا اتنی بڑی کاروائی کا متحمل نہیں ہو سکتا تھا، لہٰذا اس کے پیچھے امریکی سرپرستی کارفرما ہے۔ امریکہ دوسری جانب یہ مؤقف اختیار کرتا ہے کہ وہ صرف اپنے اتحادی کے دفاع میں مدد فراہم کر رہا ہے اور خطے میں استحکام کا خواہاں ہے۔ مگر زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ اس کشمکش نے پورے مشرقِ وسطیٰ کو غیر یقینی کی کیفیت میں مبتلا کر دیا ہے، جہاں کسی بھی غلط اندازے یا غیر متوقع کار وائی سے وسیع تر جنگ بھڑک سکتی ہے۔

    سفارتی توازن کی باریک لکیر

    اس بحران نے خاص طور پر دو اہم اسلامی برادر ممالک پاکستان اور ترکیہ دونوں کو   ایک پیچیدہ سفارتی، تزویراتی اور معاشی امتحان میں ڈال دیا ہے۔ دونوں ممالک ایران کے ہمسایہ ہیں، دونوں کی اپنی علاقائی ترجیحات اور عالمی طاقتوں سے گہرے روابط ہیں، اور دونوں کے عوام میں یہ احساس شدت اختیار کر رہا ہے کہ اگر جنگ پھیلتی ہے تو اس کی آگ ان کے دروازوں تک بھی پہنچ سکتی ہے   اور اسرائیل جو پاکستان اور ترکیہ دونوں کی دفاعی صلاحیتوں  سے خوفزدہ ہے  ایران کے بعد  پاکستان اور ترکیہ کو  ایک ایک کرکے نشانہ بناسکتا ہے۔

    ایسے میں پاکستان اور ترکیہ کی سفارتی سرگرمیاں غیر معمولی اہمیت رکھتی ہیں۔ رجب طیب ایردوان کی قیادت میں ترکیہ نے ہمیشہ خود کو ایک فعال سفارتی طاقت کے طور پر پیش کیا ہے جو مشرق و مغرب کے درمیان پل کا کردار ادا کر سکتی ہے۔ انقرہ کے تہران، دوحہ، ریاض اور واشنگٹن سب کے ساتھ رابطے موجود ہیں، اور وہ نیٹو کا رکن ہونے کے باوجود مسلم دنیا میں ایک الگ شناخت رکھتا ہے۔ اسی طرح پاکستان کے وزیرِاعظم  شہباز شریف نے بھی واضح کیا ہے کہ پاکستان کسی بلاک سیاست کا حصہ بننے کے بجائے خطے میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے متوازن کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔ پاکستان کی ایران کے ساتھ طویل سرحد ہے، سعودی عرب کے ساتھ قریبی دفاعی اور اقتصادی تعلقات ہیں۔یہی کثیرالجہتی روابط اسے ایک ممکنہ ثالث کے طور پر نمایاں کرتے ہیں۔

    پاکستان اور ترکیہ دونوں کے لیے سب سے بڑا چیلنج توازن برقرار رکھنا ہے۔ اگر وہ کھل کر ایران کی حمایت کرتے ہیں تو خلیجی ریاستوں اور امریکہ کے ساتھ تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں؛ اور اگر وہ مکمل طور پر امریکہ یا اسرائیل کے بیانیے کے قریب جاتے ہیں تو ایران کے ساتھ سرحدی اور علاقائی سلامتی کے مسائل جنم لے سکتے ہیں۔ چنانچہ ان ممالک کی حکمتِ عملی کا بنیادی نکتہ سفارت کاری کو فعال رکھنا، کشیدگی میں کمی کے لیے بیک ڈور رابطے جاری رکھنا اور مسلم دنیا کے اندر ایک مشترکہ موقف کی تلاش ہے۔ ترکیہ ماضی میں روس اور یوکرین کے درمیان غلہ معاہدے جیسے معاملات میں ثالثی کر چکا ہے، جبکہ پاکستان نے بھی سعودی عرب اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے پسِ پردہ رابطوں میں کردار ادا کیا تھا۔ موجودہ بحران میں یہ تجربہ کار سفارت کاری قیمتی ثابت ہو سکتی ہے۔

    ایران کی جانب سے خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کی حکمتِ عملی ایک طرف امریکہ کو براہِ راست پیغام دیتی ہے تو دوسری طرف خلیجی قیادت کو بھی ایک دباؤ میں رکھتی ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو مکمل طور پر غیر جانبدار رکھے۔ تاہم یہ حکمتِ عملی خطرات سے خالی نہیں۔ اگر کسی حملے میں میزبان ملک کو بھاری جانی یا مالی نقصان پہنچتا ہے تو وہ ایران کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرنے پر مجبور ہو سکتا ہے،(جیسا کہ سعودی  عرب جوابی کاروائی کرنے   کا حق موجود ہونے کا اعلان کرچکا ہے )   جس سے خطہ مزید تقسیم کا شکار ہو جائے گا۔ اسی لیے پاکستان اور ترکیہ جیسے ممالک کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ وہ اس بیانیے کو فروغ دیں جس میں سفارتی حل کو عسکری تصادم پر ترجیح دی جائے۔

    یہ بحران دراصل مشرقِ وسطیٰ کی اس تاریخی کشمکش کا تسلسل ہے جس میں طاقت، نظریہ اور جغرافیہ ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہیں۔ ایران خود کو مزاحمتی محور کا علمبردار سمجھتا ہے، اسرائیل اپنی سلامتی کو اولین ترجیح قرار دیتا ہے، اور امریکہ اپنے اتحادیوں کے تحفظ اور خطے میں اثر و رسوخ کو برقرار رکھنے کے لیے سرگرم ہے۔ اس تکون میں خلیجی ریاستیں اپنی بقا، اقتصادی استحکام اور عالمی سرمایہ کاری کے مفادات کو محفوظ رکھنا چاہتی ہیں۔ اگر اس پیچیدہ منظرنامے میں کوئی عنصر توازن قائم کر سکتا ہے تو وہ فعال اور غیر جانب دار سفارت کاری ہے، جس کی مثال پاکستان اور ترکیہ پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    بالآخر، یہ بحران صرف میزائلوں اور ڈرونز کا نہیں بلکہ بیانیے اور سفارت کاری کا بھی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ امریکی اڈے اور سفارتی تنصیبات عملی طور پر امریکی سرزمین کا درجہ رکھتی ہیں، بین الاقوامی قانون اور علاقائی سیاست میں ایک نئی بحث کو جنم دے رہا ہے۔ دوسری طرف خلیجی ریاستوں کا اعلان کہ وہ اپنی سرزمین کو ایران کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گی، ایک اہم سفارتی اشارہ ہے جسے مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ اگر پاکستان اور ترکیہ اپنی کوششوں کو مربوط، مستقل اور نتیجہ خیز بنا پاتے ہیں تو وہ نہ صرف مسلم دنیا میں ایک تعمیری کردار ادا کریں گے بلکہ ممکن ہے کہ اس بھڑکتی ہوئی آگ کو پھیلنے سے روکنے میں بھی کامیاب ہو جائیں۔ موجودہ حالات میں یہی وہ راستہ ہے جو مشرقِ وسطیٰ کو ایک ہمہ گیر تباہی سے بچا سکتا ہے۔

    اگر ماضی پر ایک نگاہ ڈالی جائے تو  پتہ چلتا ہے کہ پاکستان، ترکیہ اور ایران کے تعلقات کی بنیاد محض جغرافیائی قربت پر نہیں بلکہ ایک تاریخی اشتراک پر بھی قائم ہے۔ 1960 اور 70 کی دہائی میں تینوں ممالک آر سی ڈی (Regional Cooperation for Development) کے پلیٹ فارم پر ایک دوسرے کے ساتھ قریبی تعاون میں بندھے ہوئے تھے۔ اس دور میں اقتصادی، تجارتی اور تزویراتی تعاون کی ایک فعال فضا موجود تھی۔بعد ازاں عالمی اور علاقائی سیاست کی تبدیلیوں  کی وجہ سے اس اتحاد  نے وسیع البنیاد  ای  سی او Economic Cooperation Organizationکی شکل اختیار کرلی لیکن یہ آر سی ڈی جیسی فعال اور عملی تنظیم ثابت نہ ہو سکی، اسی لیے  آج جب ایران جنگ کی لپیٹ میں ہے، تو یہ سوال دوبارہ اٹھ رہا اگر یہ تینوں ممالک  پہلے کی طرح یکجا نہ ہوئے تو خطے کی صورتِ حال  مزید خراب ہوسکتی ہے۔

    پاکستان اور ترکیہ دونوں نےاسرائیل کے  ایران پر حملوں کی مذمت  کرنے کے ساتھ ساتھ   خلیجی  ممالک پر ایران کے حملوں کی بھی مذمت کی ہے  لیکن اہم بات  دونوں ممالک کی جانب سے   امریکہ  کی مذمت  سے  گریز  کرنا ہے  حالانکہ  ایران پر حملوں میں  امریکہ  اسرائیل پر بازی لیے ہوئے ہے۔ 

    پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈارنے واضح کیا کہ اسلام آباد صورتحال کو قریب سے مانیٹر کر رہا ہے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی ذرائع استعمال کیے جا رہے ہیں جبکہ ترکیہ کے وزیر خارجہ حقان فیدان  مسلسل علاقائی اور عالمی دارالحکومتوں سے رابطے میں ہیں۔

    دوسری طرف امریکہ کے سابق صدر اور موجودہ سیاسی منظرنامے کے مرکزی کردار ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ دونوں ممالک کے قریبی روابط اس توازن کو مزید پیچیدہ  بنا رہے ہیں۔صدر ٹرمپ کی جانب سے   پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل  کی تعریفوں کے پل باندھنا  اور اس کے ساتھ ہی ساتھ  ترک صدر رجب طیب ایردوان  کو اپنا بہترین  اور قابلِ اعتماد  دوست قرار دینایہ سب کچھ  وہ سفارتی باریک لکیر ہے جس پر چلنا آسان نہیں۔

    پاکستان اور ترک عوام کے  خدشات : اگلا ہدف ہم ہیں کیا؟

    ایران پر حملوں کے بعد ترکیہ اور پاکستان کے عوام میں ایک گہرا اضطراب پایا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا، ٹی وی مباحثوں اور عوامی گفتگو میں یہ سوال بار بار سننے کو ملتا ہے کہ ‘ کیا ایران کے بعد اگلا نشانہ ہم ہوں گے؟” یہ تاثر محض جذباتی ردعمل نہیں بلکہ خطے میں تیزی سے بدلتے ہوئے اسٹریٹجک توازن اور طاقت کی نئی صف بندیوں کا منطقی نتیجہ ہے۔

    پاکستان میں عوام کی ایک بڑی تعداد امریکہ اور اسرائیل کی پالیسیوں کو خطے میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ سمجھتی ہے۔ افغانستان کی طویل جنگ، عراق پر حملہ، اور اب ایران کے خلاف کاروائی ،  یہ تمام واقعات عوامی ذہن میں ایک تسلسل کی صورت رکھتے ہیں۔ اسی تناظر میں اسرائیل کو ایک جارح قوت اور امریکہ کو اس کا پشت پناہ سمجھا جاتا ہے۔ چنانچہ ایران کے خلاف کاروائی کو صرف ایک ملک پر حملہ نہیں بلکہ پورے خطے میں مزاحمتی محور کو کمزور کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

    ترکیہ میں بھی ملتی جلتی سوچ پائی جاتی ہے۔ اگرچہ ترکیہ نیٹو کا رکن ہے، لیکن عوامی سطح پر امریکہ کی مشرقِ وسطیٰ پالیسیوں پر شدید تنقید موجود ہے، خصوصاً شام، فلسطین اور  دہشت  گرد تنظیم PKK کے حوالے سے۔ فلسطین کے مسئلے پر اسرائیل کے خلاف ترکیہ  عوام کی حساسیت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ اسی پس منظر میں ایران کے خلاف جنگ کو محض دو ریاستوں کا تصادم نہیں بلکہ ایک بڑے جغرافیائی اور نظریاتی تصادم کا حصہ سمجھا جا رہا ہےترک عوام  اس بات سے بھی بخوبی آگاہ ہیں کہ ترکیہ میں دہشت گرد تنظیم  PKK  کی مغرب   خاص طور پر امریکہ پشت پناہی کرتے رہے ہیں۔ 

    دونوں ممالک کے عوام میں یہ احساس بھی موجود ہے کہ اگر خطے میں ‘ریجیم چینج’  یا مزاحمتی قوتوں کو کمزور کرنے کا عمل جاری رہا تو اس کے اثرات ترکیہ اور پاکستان تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے اور چین کے ساتھ اس کی اسٹریٹجک شراکت داری امریکہ کے لیے حساس معاملہ ہے۔ اسی طرح ترکیہ نے حالیہ برسوں میں خود مختار دفاعی پالیسی، ڈرون ٹیکنالوجی اور علاقائی خودمختاری کے حوالے سے مغربی بلاک سے مختلف راستہ اپنایا ہے۔ یہ عوامل عوامی خدشات کو مزید تقویت دیتے ہیں۔

    چنانچہ ‘ اگلا نشانہ ہم؟’ کا سوال دراصل ایک وسیع تر بے یقینی، عدم اعتماد اور عالمی طاقتوں کی نیتوں پر شکوک کا اظہار ہے۔ ترکیہ اور پاکستان کے عوام کی ایک بڑی تعداد ایران کے حق میں اس لیے کھڑی نظر آتی ہے کہ وہ اسے خطے میں مغربی مداخلت کے خلاف مزاحمت کی علامت سمجھتی ہے۔ یہ نقطۂ نظر حکومتوں کی سفارتی مجبوریوں سے ہٹ کر عوامی جذبات اور تاریخی تجربات کا عکاس ہے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleانقرہ میں ڈی۔8 کے سیکرٹری جنرل سہیل محمود کی نائب صدر ، وزیر خارجہ اور دیگر اعلیٰ حکام سے مذاکرات
    ڈاکٹر فرقان حمید

    Related Posts

    انقرہ میں ڈی۔8 کے سیکرٹری جنرل سہیل محمود کی نائب صدر ، وزیر خارجہ اور دیگر اعلیٰ حکام سے مذاکرات

    24فروری , 2026

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل کی جانب سے وزیراعظم طارق رحمان کو منصب سنبھالنے پر مبارکباد

    17فروری , 2026

    صدر ایردوان کا ایسا قدم جو آج تک کوئی ترک رہنما نہ اٹھا سکا

    11فروری , 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    ٹیگز
    #اسرائیل #حقان فیدان #حماس #سیاحت #غزہ #فلسطین آئی ٹی استنبول اسلام آباد افراطِ زر الیکشن 2024 انتخابات انقرہ اپوزیشن ایردوان بھونچال بیسٹ ماڈل آف ترکیہ ترقی ترک صدی ترک میڈیا ترکیہ تعلیم حزبِ اختلاف دنیا دہماکہ دی اکانومسٹ روس سلائِڈر سلائیڈر--- شہباز شریف صدر ایردوان صدر ایردوان، وزیراعظم شہباز شریف، پاکستان، ترکیہ عدلیہ عمران خان فیچرڈ قاتلانہ حملہ لانگ مارچ مغربی میڈیا ملت اتحاد وزیراعظم وزیراعظم شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف، صدر ایردوان، پاکستان، امداد پاکستان پاک فوج یورپ
    • Facebook
    • Twitter
    • Instagram
    اہم خبریں

    اسرائیل اور امریکہ کا ایران کے بعد اگلا ہدف کیا پاکستان اور ترکیہ ہیں؟ سفارتی توازن کی باریک لکیر اور عوام کو لاحق خدشات

    انقرہ میں ڈی۔8 کے سیکرٹری جنرل سہیل محمود کی نائب صدر ، وزیر خارجہ اور دیگر اعلیٰ حکام سے مذاکرات

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل کی جانب سے وزیراعظم طارق رحمان کو منصب سنبھالنے پر مبارکباد

    صدر ایردوان کا ایسا قدم جو آج تک کوئی ترک رہنما نہ اٹھا سکا

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    مقبول پوسٹس

    اسرائیل اور امریکہ کا ایران کے بعد اگلا ہدف کیا پاکستان اور ترکیہ ہیں؟ سفارتی توازن کی باریک لکیر اور عوام کو لاحق خدشات

    4مارچ , 2026

    انقرہ میں ڈی۔8 کے سیکرٹری جنرل سہیل محمود کی نائب صدر ، وزیر خارجہ اور دیگر اعلیٰ حکام سے مذاکرات

    24فروری , 2026
    Tr-Urdu All Rights Reserved © 2022
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.