Close Menu
Tr-Urdu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Tr-Urdu
    Subscribe
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    Tr-Urdu
    You are at:Home»پاکستان کمیونٹی»ترکیہ  سے   پاکستان کے سفیر محمد سائرس سجاد قاضی   کی روانگی  اور نئے سفیر ڈاکٹر یوسف جنید   کی نامزدگی
    پاکستان کمیونٹی

    ترکیہ  سے   پاکستان کے سفیر محمد سائرس سجاد قاضی   کی روانگی  اور نئے سفیر ڈاکٹر یوسف جنید   کی نامزدگی

    ڈاکٹر فرقان حمیدBy ڈاکٹر فرقان حمید24اکتوبر , 2022Updated:24اکتوبر , 20222 تبصرے8 Mins Read
    پوسٹ شئیر کریں
    Facebook Twitter LinkedIn Email

    نئے سفیر ڈاکٹر ڈاکٹر یوسف جنید  جلد ہی صدر ایردوان کواسنادِ  سفارت پیش کریں گے

    محمد سائرس سجاد قاضی  گزشتہ پانچ سال سے  ترکیہ میں سفیر پاکستان  کے طور پر اپنی خدمات سر انجام دینے کے بعد پاکستان میں نئی اسائنمنٹ کےلیےترکیہ کوخیرآباد کہہ

    چکے ہیں اوراب ان کی جگہ ڈاکٹر یوسف جنید انقرہ میں سفیر پاکستان کی حیثیت سے فرائض  سر انجام دیں گے

    نیا بھر میں عام طور  پر پاکستان   کے بیوروکریٹس  اور خاص طور سفارتکاروں   کے بارے  میں  کوئی مثبت  رائے نہیں پائی جاتی ہے اور ان سفارتکاروں کے صرف اپنے اور  اپنے خاندان کے  مفاد  ہی  میں کام کرنے  کا لیبل لگادیا  جاتا ہے۔   اس لیے پاکستان کے عوام  سفارتخانوں اور سفارتکاروں سے دور رہنے ہی میں اپنی عافیت سمجھتے ہیں ۔ ترکیہ اس لحاظ سے  بڑا خوش قسمت ملک ہے کہ  یہاں پر حکومتِ پاکستان  نے جتنے بھی  سفیر  متعین  کیے  انہوں نے  ایک دوسرے سے  بڑھ  چڑھ کر نہ صرف پاکستان کمیونٹی  کا خیال  رکھ بلکہ  دونوں ممالک کی حکومتوں اور عوام کو ایک دوسرے  کے قریب لانے  میں کوئی دقیقہ  فروگزاشت نہ کیا  اور کمیونٹی کے دل جیتنے میں کامیاب رہے    اور اسی لگن   اور

    محنت  کے بل بوتے پر   دونوں ممالک کے تعلقات  میں وقت کے ساتھ ساتھ   اضافہ ہی ہوتا رہا ہے۔

    محمد سائرس سجاد قاضی  گزشتہ پانچ سال سے  ترکیہ میں سفیر پاکستان  کے طور پر اپنی خدمات سر انجام دینے کے بعد پاکستان میں نئی اسائنمنٹ  (نومبر میں گریڈ بائیس میں  ترقی ہونے کے بعد انہیں سیکریٹری  خارجہ  مقرر کیے جانے کی خبریں  بھی  گرم ہیں   )کے لیےترکیہ کو خیر آباد کہتے ہوئے  وطن  روانہ ہوگئے ہیں۔ وہ  اس سے پہلےجنیوا،  نیو دہلی  اور واشنگٹن میں  ایک اچھے سفارتکار  کے طور پر   اور  پھر      ہنگری میں سفیر ِ پاکستان کے طور پر  اپنے فرائض ادا کرچکے ہیں  لیکن   اس سے پہلے وہ پرائم منسٹر ہاوس بھی دو سال تک اعلیٰ عہدے پر  فائض رہے ہیں۔ میرے ذاتی خیال  کے مطابق سائرس قاضی پاکستان  کے دیگر سفیروں سے اس لحاظ سے بالکل مختلف ہیں کہ  یہ بڑے دھیمے   اور  نرم مزاج کے مالک   اور  بڑے  ملنسار  انسان ہونے کے ساتھ  ساتھ  بڑے  Down to earthہیں ۔   ان میں تکبر ، گھمنڈ یا غرور  نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ انہوں نے اپنے ترکیہ میں  قیام کے دوران سب کے ساتھ دوستانہ اور برادرانہ مراسم   قائم کیے رکھے،   پاکستان اور ترکیہ  دونوں کےدرمیان تجارتی،  ثقافتی،سیاسی، تعلیمی اور سماجی  تعلقات کو فروغ دینے  میں نمایاں کردار ادا کیا اور  اپنے گھر اور سفارتخانے کے دروازے   ہمیشہ پاکستانی کمیونٹی کے لیے   کھلے رکھے۔ کمیونٹی کے مسائل سے آگاہی  اور ان کے حل کے لیے  ہر ماہ باقاعدگی سے کچہری کا انعقاد کرتے رہے۔ راقم کے سفیر پاکستان کے ساتھ ہمیشہ ہی بڑے گہرے اور قریبی مراسم رہے ہیں اور ہم شہری  (ترکی زبان میں ہم شہری  سے مراد ایک  ہی شہر  سے تعلق رکھنے والے افراد جو ایک دوسرے کا خاص خیال رکھتے ہوں )  ہونے کے ناتے کچھ زیادہ ہی مہربان رہے ہیں۔ان سے ترکیہ کی صورتِ حال سے متعلق   اکثر و بیشتر  سیر حاصل بات چیت کا سلسلہ جاری  رہتا ۔ ترکیہ سے متعلق  کسی خبر کو جا ننے  یا تصدق کرنے کے لیے راقم  سے ضرور  ٹیلی فون پر رابطہ  قائم  کرتے  اور سرکاری یا  نجی طور پر دیے جانے والے ڈنر پر     بھی  مدعو کرتے۔  ان کے پانچ سالہ  دور  کو  ترکیہ اور پاکستان کے تعلقات کو فروغ دینے کے لیے کی جانے والی جدو جہد اور محنت کی وجہ سےسنہری حروف سے لکھا جائے گا۔ ان کے دور میں دونوں ممالک کے درمیان  تجارتی تعلقات کو فروغ دینے کی بھر پور کوشش کی گئی   اور دونوں ممالک کے درمیان  کئی ایک سمجھوتے بھی طے کیے گئے   ان  ہی کے دور میں ترکیہ میں   بڑی تعداد میں پاکستانی طلبا کی اسکالرشپ دی جانے لگی کیونکہ اس سے قبل    پاکستان سے ترکی آنے والے طلبا کی تعداد محدود تھی  جو وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی جا رہی ہے  اور سفیر پاکستان ہی کی کوششوں سے  ترکی کی مختلف  پر  ائیویٹ  کمپنیوں  میں  انٹرنشپ  بھی دی جا رہی ہے۔ علاوہ ازیں ترکی کی مختلف یونیورسٹیوں میں  پاکستانی  اساتذہ بھی شعبہ تدریس سے منسلک  ہو کر پاکستان کا نام روشن کرنے میں مصرف ہیں۔  سفیر پاکستان کے دور میں پاکستان کے سابق وزیراعظم  عمران خان اور موجود وزیراعظم   شہباز شریف نے ترکیہ کا  کامیاب دورہ کیا اور دونوں ممالک کے  درمیان مختلف  شعبوں میں   سمجھوتے  طے کروانے میں   سفیر پاکستان نے  بڑا اہم کردارا ادا کیا۔  پاکستان کے دونوں وزرائے اعظم کے دورے سے قبل  جب صدر ایردوان نے پاکستان  کے دورے کے دوران    پارلیمنٹ  سے خطاب  اور  مختلف شعبوں میں تعاون   کے سمجھوتوں  اور  حال ہی میں   دونوں ممالک کے درمیان  ترجیحاتی تجارتی  سمجھوتے  پر دستخط میں سفیر پاکستان کے رول کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ آپ نے اپنے قیام ترکیہ میں  جو امور سر انجام دیے ہیں ان کوکبھی  بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا ، خاص طور پر آپ نے مشکل حالات میں    جس طریقے سے ترکوں کے دلوں میں  پاکستان سے محبت کا  جو  چراغ روشن کیا ہے  اسے  کو بھلا کون  بھول سکتا ہے؟  ہمیں پختہ یقین ہے کہ آپ پاکستان میں رہتے ہوئے  بھی ترکوں کی محبت کو اپنے دل میں محسوس کرتے رہیں گے۔آپ جہاں بھی رہیں خوش رہیں اور پاکستان کا نام روشن کرتے رہیں ۔ اللہ آپ کو اپنے حفظ و امان میں رکھے اور  آپ کا حامی و ناصر ہو۔

    سفیر پاکستان محمد سائرس سجاد قاضی کے پاکستان روانہ ہونے کے بعد ترکیہ  میں دس سال سے زاہد عرصے   تک پاکستان  قونصل خانے میں قونصلر جنرل کی حیثیت سے فرائض

    ادا کرنے والے  ڈاکٹر  یوسف جنید انقرہ میں   سفیر پاکستان کی حیثیت سے فرائض  سر انجام دیں گے۔

    جیسا کہ عرض کرچکا خوش قسمتی سے  ترکیہ میں عام طور پر ایسے ہی سفیروں  کو متعین کیا گیا ہے جو   بڑے نرم مزاج   اور ترک دوست واقع ہوئے ہیں۔ استنبول میں قونصلر

    جنرل کی حیثیت سے  یوسف جنید نے ترکوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری  کرنے کی جانب  راغب کرنے  میں بڑا نمایا ں کردار ادا کیا۔ انہیں ترکی زبان پر بھی دسترس حاصل  ہے جس کی وجہ سے  ترک حکام سے رابطہ  قائم کرنے میں انہیں ذرہ بھر بھی مشکلات کا سامنا  نہیں کرنا پڑتا ہے۔ ان  کو  قونصلر جنرل کے طور پردس سال کا جو تجربہ حاصل ہے  اور ترکوں کے ساتھ جو قریبی مراسم قائم ہیں ان سے استفعادہ کرتے ہوئے ان  کو پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تعلقات کو مزید فروغ دینے اور مختلف شعبوں میں تعاون  کے سمجھوتے طے کروانے میں کسی قسم کی مشکلات کا کوئی سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ وہ ترک حکام کی  نفسیات کو  بہت اچھی طرح سمجھتے ہیں   اور ان میں گھل مل جانے کے فن سے بخوبی آگاہ ہیں ۔  یہی وجہ ہے کہ ان کا تعلق  فارن آفس سے نہ ہونے  بلکہ کامرس  اینڈ ٹریڈ منسٹری سے  ہونے  کے باوجود ان کو ترکیہ میں سفیر پاکستان کے طور پر متعین کیا گیا ہے کیونکہ وزیراعظم پاکستان جانتے ہیں کہ ڈاکٹر  یوسف جنید  دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے  مزید قریب لانے  اور مختلف شعبوں میں تعاون  کے   سمجھوتے طے کروانے میں ان سے بہتر کوئی اور شخصیت نہیں ہے۔ شہباز شریف کے  پنجاب کے وزیر اعلی  ہونے کے دور میں  استنبول بلدیہ اور  دیگر اداروں کے ساتھ  تعاون کے جو معاہدے بھی طے پائے تھے اس میں اس وقت کے قونصلر جنرل  ڈاکٹر یوسف جنید نے بڑا اہم کردار ادا کیا تھا اور اس بار ان کو سفیر پاکستان کے فرائض سونپنے  کے پیچھے  شہباز شریف کی آشیر آباد حاصل ہے ۔ سفیر پاکستان  آپ کو ترکیہ میں ہم خوش آمدید کہتے ہیں ۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleپاکستان میں   “ایردوان ٹینٹ سٹی”
    Next Article سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا وزیراعظم شہباز شریف  کا پرتپاک استقبال
    ڈاکٹر فرقان حمید

    Related Posts

    انقرہ میں اے پی ایس پشاور کے شہداء کی یاد میں پُر وقار تعزیتی تقریب،پاکستان اور ترکیہ کی دہشت گردی کے خلاف مشترکہ جدوجہد کا اعادہ

    16دسمبر , 2025

    انقرہ میں سفارتخانہ پاکستان اور پاکستان ایمبیسی انٹرنیشنل اسٹڈی گروپ کے اشتراک سے ہونہار پاکستانی طلبہ کے اعزاز میں ثقافتی تقریب

    6نومبر , 2025

    انقرہ سفارتخانہ پاکستان میں یومِ سیاہ کشمیر کی تقریب ، ظلم کے خلاف استقامت، اتحادِ امت اور انصاف کی پکار

    27اکتوبر , 2025

    2 تبصرے

    1. asdfasdfasdf on 24دسمبر , 2022 11:47 صبح

      asdfasdfasdf

      • furqan on 26دسمبر , 2022 3:48 شام

        شکریہ

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    ٹیگز
    #اسرائیل #حقان فیدان #حماس #سیاحت #غزہ #فلسطین آئی ٹی استنبول اسلام آباد افراطِ زر الیکشن 2024 انتخابات انقرہ اپوزیشن ایردوان بھونچال بیسٹ ماڈل آف ترکیہ ترقی ترک صدی ترک میڈیا ترکیہ تعلیم حزبِ اختلاف دنیا دہماکہ دی اکانومسٹ روس سلائِڈر سلائیڈر--- شہباز شریف صدر ایردوان صدر ایردوان، وزیراعظم شہباز شریف، پاکستان، ترکیہ عدلیہ عمران خان فیچرڈ قاتلانہ حملہ لانگ مارچ مغربی میڈیا ملت اتحاد وزیراعظم وزیراعظم شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف، صدر ایردوان، پاکستان، امداد پاکستان پاک فوج یورپ
    • Facebook
    • Twitter
    • Instagram
    اہم خبریں

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    ترکیہ اسکالرشپس: دنیا کی جامع ترین ( fully funded)اسکالرشپس، آن لائن درخواستوں کا طوفان، ویب سائٹ کو کریش کے خدشات

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    مقبول پوسٹس

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026
    Tr-Urdu All Rights Reserved © 2022
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.