Close Menu
Tr-Urdu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Tr-Urdu
    Subscribe
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    Tr-Urdu
    You are at:Home»ترکیہ»ایردوان کے خلاف قائم 6 جماعتوں کے اتحاد کی  “مضبوط پارلیمانی نظام آئینی ترمیم”کی تجاویز
    ترکیہ

    ایردوان کے خلاف قائم 6 جماعتوں کے اتحاد کی  “مضبوط پارلیمانی نظام آئینی ترمیم”کی تجاویز

    ڈاکٹر فرقان حمیدBy ڈاکٹر فرقان حمید28نومبر , 2022کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read
    پوسٹ شئیر کریں
    Facebook Twitter LinkedIn Email

    ترکیہ کی حزب اختلاف کی 6 جماعتوں کی طرف سے تشکیل دیے  گئے  گول میز  مذاکرات  میں   156 صفحات پر مشتمل “مضبوط پارلیمانی نظام آئینی ترمیم” کی تجویز پیش کی گئی۔ تجویز میں موجودہ آئین کے 85  ویں شق  میں   ترمیم کرنے  کا کہا گیا ہے۔صدر  کے انتخاب کے لیے حزبِ اختلاف   کی طرف سے پیش کردہ تجویز قابلِ توجہ ہے۔

    انقرہ کے ایک ہوٹل میں حزب اختلاف کے چھ رہنماؤں کی طرف سے تشکیل دی گئی چھ جماعتوں کے گول میز مذاکرات  کے تحت  “مضبوط پارلیمانی نظام کے لیے آئینی ترمیم کی تجویز” کو متعارف کروایا گیا۔   اس پروگرام میں ریپبلکن پیپلز پارٹی (CHP) کے چیئرمین کمال کلیچدار اولو  گڈ پارٹی (IYI) پارٹی کی  چیئرمین  پرسن  میرال آقشینر ،  ڈیموکریٹ پارٹی کے چیئرمین گُلتیکن اوئیسال سعادت پارٹی  کے چئیرمین تیمل قارا مولا اولو  ، دیوا پارٹی کے چیئرمین علی باباجان  اور فیوچر پارٹی کے چیئرمین احمد داود اولو کے علاوہ  دیگر افراد نے شرکت کی۔  

    مذاکرات کے موقع پر  چھ جماعتوں کے ماہرین کی جانب سے   نئی تیار کردہ تجویز  کی پریزنٹیشن دی گئی۔

    آرٹیکل 85 میں ترامیم

    150 صفحات پر مشتمل مسودے میں موجودہ آئین کے 85 آرٹیکلز میں ترمیم کرنے کی تجویوز پیش کی گئی ہے۔ اس تجویوز کے تحت صدر کے اختیارات کو محدود کردیا گیا ہے۔ اس تجویوز کے مطابق صدر صرف ایک سات سال کے عرصے کے لیے صرف ایک بار ہی منتخب کیا جائے گا۔  منتخب صدر اپنی پارٹی سے تعلوق منقطع  کرتے ہوئے ایک غیر جانبدار حیثیت سے فرائض ادا کرے گا۔ صدر جس کی میعاد ختم ہو چکی ہے وہ منتخب سیاسی عہدہ سنبھالنے کے قابل نہیں ہو گا۔

    دیگر اہم موضوعات

    پیش کردہ  تجویزکے مطابق  مضبوط پارلیمانی نظام کی آئینی ترمیم کے ساتھ ہی  ترکیہ کی قومی اسمبلی ہی کو بین الاقوامی معاہدوں سے دستبردار ہونے کا اختیار حاصل ہو گا، اور ایک حتمی اکاؤنٹس کمیٹی، جس کا چیئرمین حزب اختلاف کی مرکزی جماعت سے ہو گا، قائم کیا جائے گا۔ حکومتی بحرانوں  کی روک تھام کے لیے  عدم اعتماد  کے ووٹ کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جائے گا۔  ہنگامی صورتحال کو منظوری کے لیے بل پارلیمنٹ کی منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔  سیاسی جماعتوں  کو کالعدم قرار دینے  کے  بارے میں  ترکیہ کی قومی اسمبلی  کی  منظوری  بھی درکار ہوگی۔ مجوزہ آئینی ترمیم کےذریعے  ہائر ایجوکیشن   کونسل کو ختم کر کے سپریم کونسل آف ہائر ایجوکیشن قائم کی جائے گی۔

    انتخابات کے فوراً بعدان تجاویز کو   اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔

    تیار کردہ اس آئینی ترمیم کے پیکج  کے دیباچے میں، “ہماری آئینی ترمیم کی تجویز ایک سماجی معاہدے کا مسودہ ہے۔ اس نوعیت کے مطابق، ہم اپنی ترامیم کی تجاویز انتخابات کے فوراً بعد، اکثریت اور مفاہمت کے اصولوں کے مطابق معاشرے کے تمام طبقات کے ساتھ گفت و شنید کے بعد جمہوریت کے لازمی  عنصر  ترکیہ کی قومی اسمبلی  میں پیش کیا جائے گا۔

    پروگرام کا اختتام  اس آئینی ترمیم  کے پیکج  کی پریذینٹیشن کےبعد پارٹی کے چھ قائدین  نے  اسٹیج پر آ کر آئینی ترمیمی کتابچے کے ساتھ تصاویر اتروائیں اوریہ مذاکرات اپنے اختتام کو پہنچے ۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleترک میڈیا پرعمران خان چھاگئے، راولپنڈی  خطاب   کی بریکنگ نیوز
    Next Article چھ سال بعد  پاک آرمی میں نئے دور کا آغاز، جنرل عاصم منیر نے پاک فوج کے17 ویں سربراہ کی حیثیت سے فوج کی کمانڈ سنبھال لی
    ڈاکٹر فرقان حمید

    Related Posts

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    21جنوری , 2026

    Comments are closed.

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    ٹیگز
    #اسرائیل #حقان فیدان #حماس #سیاحت #غزہ #فلسطین آئی ٹی استنبول اسلام آباد افراطِ زر الیکشن 2024 انتخابات انقرہ اپوزیشن ایردوان بھونچال بیسٹ ماڈل آف ترکیہ ترقی ترک صدی ترک میڈیا ترکیہ تعلیم حزبِ اختلاف دنیا دہماکہ دی اکانومسٹ روس سلائِڈر سلائیڈر--- شہباز شریف صدر ایردوان صدر ایردوان، وزیراعظم شہباز شریف، پاکستان، ترکیہ عدلیہ عمران خان فیچرڈ قاتلانہ حملہ لانگ مارچ مغربی میڈیا ملت اتحاد وزیراعظم وزیراعظم شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف، صدر ایردوان، پاکستان، امداد پاکستان پاک فوج یورپ
    • Facebook
    • Twitter
    • Instagram
    اہم خبریں

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    ترکیہ اسکالرشپس: دنیا کی جامع ترین ( fully funded)اسکالرشپس، آن لائن درخواستوں کا طوفان، ویب سائٹ کو کریش کے خدشات

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    مقبول پوسٹس

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026
    Tr-Urdu All Rights Reserved © 2022
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.