Close Menu
Tr-Urdu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Tr-Urdu
    Subscribe
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    Tr-Urdu
    You are at:Home»ترکیہ»کیا ترکیہ کی لاٹری نکل آئی ہے؟ ترکیہ کیسے توانائی کا عالمی مرکز بننے جا رہا ہے؟
    ترکیہ

    کیا ترکیہ کی لاٹری نکل آئی ہے؟ ترکیہ کیسے توانائی کا عالمی مرکز بننے جا رہا ہے؟

    ڈاکٹر فرقان حمیدBy ڈاکٹر فرقان حمید9دسمبر , 2022کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read
    پوسٹ شئیر کریں
    Facebook Twitter LinkedIn Email

    تحریر ڈاکٹر فرقان حمید

    اگر یہ کہا جائے کہ روس اور یوکرین کے درمیان ہونے والی جنگ کا سب سے زیادہ فائدہ ترکیہ کو پہنچا ہے تو غلط نہ ہوگا۔دنیا اور خاص طور پر یورپ توانائی کے بحران سے دوچار ہے  اور اس کیے لیے لوڈ شیڈنگ کے پلان اور پروگرام مرتب کیے جا رہے ہیں تو ترکیہ جس کا توانائی کے شعبے زیادہ تر انحصار  غیر ممالک پر اپنے تئیں بھی   پٹرول اور گیس  کے ذخائیر کی تلاش میں سرگرداں ہیں اور اسے   کچھ حد تک   تو ضرور کامیابی حاصل ہوئی ہے لیکن ابھی بھی وہ  اپنی توانائی کی زیادہ تر ضروریاتغیر ممالک ہی سے پورا کرتا ہےلیکن   روس اور یوکرین کی جنگ نے  اسے ایک یسا  موقع  فراہم کیا ہے جس کے نتیجے میں وہ توانائی کے ڈپو کی حیثیت اختیار کرنے والا ہے۔  اگر روس یوکرین جنگ جاری رہی تو یورپ توانائی کے شدید بحران سے دوچار ہو جائے گا    اور سردیوں  میں   ٹھٹھر نے سے بچنے کے لیے اسے کوئلے  کو بھی استعمال کرنا پڑے گا لیکن اس کے برعکس   ترکیہ  جو ماضی میں ہمیشہ ہی توانائی  کے حصول میں مشکلات سے دوچار رہا ہے  موجودہ دور اور مستقبل میں توانائی  کے مرکز کی حیثیت اختیار کر جائے گا۔

    اس سلسلے میں ترکیہ اور روس کے درمیان طویل عرصے  سے مذاکرات جاری تھے اور اب ان مذاکرات نے پھل دینا شروع کردیا ہے۔

    ترکیہ  کو توانائی کے مرکز بنانے کے سلسلے میں روس کے گازپروم ( GAZPROM)کے سی ای او  الیکسی ملر ان دنوں ترکیہ کے دورے پر تشریف لائے ہوئے  ہیں اور انہوں نے صدر رجب طیب ایردوان سے ملاقات کی ہے۔ ملاقات کے دوران ترکیہ کو روسی گیس کی فراہمی سے اور مرکز قائم کرنے  اور اسے حتمی شکل دینے کے بارے میں  تبادلہ خیال کیا گیا۔

    گاز پروم  کے سی ای او نے اپنے دورے کے دائرہ کار میں  ترکیہ  کے توانائی اور قدرتی وسائل کے وزیر فاتح دونمیز سے بھی ملاقات کی ہے۔

    اس سے قبل روس کے صدر  اپنے بیان میں کہہ چکے ہیں کہ وہ ترکیہ کو   خطے کے  قدرتی گیس کا مرکز بنانے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ ہم ترکیہ کے راستے یورپی ممالک کو گیس فراہم  کرسکتے  ہیں  اور  ترکیہ  نے یورپی یونین کو گیس کی فراہمی کا سب سے قابل اعتماد طریقہ ہو سکنے کو ثابت  کردیا ہے۔

    وہ کہہ چکے ہیں کہ  ترک سٹریم قدرتی گیس پائپ لائن کے بارے میں صدر ایردوان  کے نقطہ نظر ہی کی بدولت یہ سب کچھ ممکن ہوا ہے ۔ یہ مرکز نہ صرف گیس کی ترسیل کے لیے، بلکہ قیمت کے تعین کے لیے بھی ایک پلیٹ فارم  ثابت ہوگا، کیونکہ قیمتوں کا مسئلہ بہت اہم ہے۔ آج قیمتیں غیر مستحکم ہیں۔ ہم سیاست کیے بغیر مارکیٹ کی سطح پر قیمتوں کو کنٹرول کر سکتے ہیں۔

    ترکیہ اور روس کے درمیان بڑی تیزی سے   تجارتی حجم میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور روس اپنے اوپر لگائی جانے والی پابندیوں کی وجہ سے  ترکیہ کے توسط سے  اپنی تمام ضروریات پوری کررہا ہے جس سے ترکیہ  کے تجارتی حجم پر بڑے مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں  اور اب روس کے صدر پوتن کی جانب سے   ترکیہ کو قدرتی گیس اور ہائیڈرو کاربن کی ترسیل کی تیاریاں مکمل کیے جانے کے اعلان کے بعد ترکیہ کی لاٹری نکل آئی ہے اورروس –  یوکرین جنگ میں اگر کسی ملک کو فائدہ پہنچا ہے تو وہ بلاشبہ  ترکیہ ہی ہے اور مزے کی بات ہے صدر رجب طیب ایردوان  روس  کے  صدر پوتن کے جتنے قریب ہیں اتنی ہی قربت صدر ایردوان اور صدر زیلنسکی   کے درمیان بھی دیکھی جاسکتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ صدر ایردوان ہی کی کوششوں کے نتیجے میں   یوکرین کے اناج کو عالمی منڈیو ں تک پہنچایا جا رہا ہے۔  ایک طرف روسی  سیاحوں کا ترکیہ آمد کا سلسلہ جاری ہے اور  ترکیہ کے سیاحتی شہر اس وقت روسی سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں تو  دوسری طرف ترکیہ بڑی تعداد میں اپنے ڈرانز  یوکرین کو فروخت کرتے ہوئے یوکرین کے عوام کی ہمدردیاں بھی حاصل کررہا ہے۔ یعنی  دوسرے الفاظ میں روس اور یوکرین  کے عوام دونوں ہی ترکیہ کے عشق میں ڈوبے ہوئے آپس میں جنگ کو جاری رکھتے ہوئے ترکیہ کے لیے جیب گرم کررہے ہیں  اور ترکیہ کے مالی بحران پر قابو پانے میں  کچھ حد تک مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔  

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleترکیہ ہی کی کاوشوں اور  ثالثی  کے نتیجے میں  دنیا   اناج کے بحران سے محفوظ رہی ہے: صدر ایردوان
    Next Article لکس اسٹائل ایوارڈز2022 بہترین فلم کھیل کھیل، فنکار سجل علی،بلال عباس بہترین ڈرامہ  چپکے چپکے،فنکار فیروز خان، عائزہ خان،قرار پائے
    ڈاکٹر فرقان حمید

    Related Posts

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    21جنوری , 2026

    Comments are closed.

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    ٹیگز
    #اسرائیل #حقان فیدان #حماس #سیاحت #غزہ #فلسطین آئی ٹی استنبول اسلام آباد افراطِ زر الیکشن 2024 انتخابات انقرہ اپوزیشن ایردوان بھونچال بیسٹ ماڈل آف ترکیہ ترقی ترک صدی ترک میڈیا ترکیہ تعلیم حزبِ اختلاف دنیا دہماکہ دی اکانومسٹ روس سلائِڈر سلائیڈر--- شہباز شریف صدر ایردوان صدر ایردوان، وزیراعظم شہباز شریف، پاکستان، ترکیہ عدلیہ عمران خان فیچرڈ قاتلانہ حملہ لانگ مارچ مغربی میڈیا ملت اتحاد وزیراعظم وزیراعظم شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف، صدر ایردوان، پاکستان، امداد پاکستان پاک فوج یورپ
    • Facebook
    • Twitter
    • Instagram
    اہم خبریں

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    ترکیہ اسکالرشپس: دنیا کی جامع ترین ( fully funded)اسکالرشپس، آن لائن درخواستوں کا طوفان، ویب سائٹ کو کریش کے خدشات

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    مقبول پوسٹس

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026
    Tr-Urdu All Rights Reserved © 2022
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.