Close Menu
Tr-Urdu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Tr-Urdu
    Subscribe
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    Tr-Urdu
    You are at:Home»ترکیہ»برطانوی میگزین ” دی اکانومسٹ” کی صدر ایردوان کی شان میں گستاخی ،ایردوان دور میں ترکیہ ڈکٹیٹر شپ کی دہلیز پر ترکیہ سمیت دنیا بھر سے شدید ردِ عمل
    ترکیہ

    برطانوی میگزین ” دی اکانومسٹ” کی صدر ایردوان کی شان میں گستاخی ،ایردوان دور میں ترکیہ ڈکٹیٹر شپ کی دہلیز پر

    ترکیہ سمیت دنیا بھر سے شدید ردِ عمل

    ڈاکٹر فرقان حمیدBy ڈاکٹر فرقان حمید20جنوری , 2023Updated:20جنوری , 2023کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read
    دی اکانومسٹ
    پوسٹ شئیر کریں
    Facebook Twitter LinkedIn Email

    برطانوی میگزین دی اکانومسٹ میگزین کے بے  ہودہ سرورق   پر   ترکیہ  صدر ایردوان کے دور میں   ” ڈکٹیٹر شپ کی دہلیز”  کی سرخی جمانے پر ترکیہ  اور دنیا بھر سے شدید ردِ  عمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں سیاست دانوں، فنکاروں اور سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے شدید  ردعمل سامنے آیا ہے۔ ردِ عمل پیش کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب ترکیہ میں عام انتخابات  قریب آرہے ہیں  مغربی میڈیا  ترکیہ کو جان بوجھ کر   نشانہ بنا رہا ہے۔

    دی اکانومسٹ

    برطانری جریدے  دی اکانومسٹ کے سرورق میں صدر ایردوان کو نشانہ بناتے ہوئَ ان پر  ڈکٹیٹرشپ کا الزام عائد کیا جاچکا ہے جو کہ کسی صورت جریدے کو زیب نہیں دیتا ہے۔ اسی وجہ سے دنیا بھر میں سوشل میڈیا ہے دی اکانومسٹ جریدے  کے خلاف لاکھوں  کی تعداد میں  ٹویٹس کی  گئی ہیں۔

    صدر رجب طیب ایردوان

    جریدے  کے اسکینڈل سرورق پر  جس پر ترک پرچم کو مسخ کیا گیا اور اس پر صدر ایردوان کی شبہ کو پیش کیا گیا ہے سے متعلق  پہلا شدید ردِ عمل  صدر کے اطلاعاتی امور  کے آفس  کے ڈائریکٹر  فخر الدین آلتون کی جانب سے  آیا ہے۔

    صدر کے اطلاعاتی امور کے ڈائیریکٹر فخر الدین آلتون نے صدر رجب طیب ایردوان کے بارے میں دی اکانومسٹ میگزین کے سرورق پر شائع  خبر سے متعلق  اپنے  شدید ردعمل کا اظہار کیا۔

    اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں، آلتون نے کہا،  انہوں نے دوبارہ صدر ایردوان کے خلاف اپنی مہم کا آغاز کردیا ہے۔جریدے نے   فکری طور غیر حقائق ،  بورنگ اور جان بوجھ کر جہالت کی بنیاد پر ترکیہ کی تصویر کشی  کی ہے ۔

    انہوں نے اپنی پوسٹ میں کہا ہے کہ انہوں نے وہی پرانے گھسے پٹے  الفاظ ، غلط معلومات اور متکبرانہ پروپیگنڈے کے ساتھ  جمہوریہ ترکیہ میں ڈیموکریسی  کے خاتمے کا پراپگنڈہ  کیا ہے  اور   اشتعال انگیز سرخیوں اور اشتعال انگیز تصاویر کے ساتھ ان کی مارکیٹنگ کی تکنیک انہیں اپنے نام نہاد میگزین فروخت کرنے میں مدد گار  ثابت ہو سکتی ہے  لیکن قارئین کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہہ یہ سستی شہرت، ڈس انفارمیشن  اور  پروپیگنڈا  پر مبنی    صحافت ہے۔

    فخر الدین آلتون

    آلتون نے کہا کہ ترک عوام نے بارہا جمہوریت، مساوات اور آزادی کے لیے سڑکوں پر نکل کر ڈیموکریسی کے ساتھ  اپنی وابستگی  کا اظہار کیا ہے۔

    انہوں نے  کہا کہ  ترکیہ  میں ڈیمو کریسی کے تحفظ کے لیے ترک عوام نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے   15 جولائی 2016 کو فتح اللہ دہشت گرد تنظیم کی ناکام  بغاوت کی کوشش اور کئی دیگر آفات  سے ملک کو بچایا ۔

    انہوں نے کہا کہ جب صدر اردگان نےترک  شہریوں کو ڈیموکریسے کے تحفظ کے لیے سڑکوں پر نکلنے کی اپیل کی تو لاکھوں لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور اپنے شدید ردِ عمل کا اظہار کیا۔

    آلتون  نے کہا کہ دی اکانومسٹ کے نام نہاد صحافیوں اور ایڈیٹرز نے ڈیموکریسی  کے لیے ترکوں  کی  جدوجہد کے بارے میں صحیح صحافت کرنے کی کبھی زحمت ہی  نہیں کی ہے ۔

    انہوں نے کہا کہ صدر ایردوان نے  جتنے بھی انتخابات میں حصہ لیا ان میں کامیابی ہی حاصل کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نام نہاد صحافیوں کی  ڈیموکریسی ہی کے ذریعے منتخب  صدر ایردوان سے نہ ختم ہونے والی نفرت ناقابل فہم  ہے۔

    آلتون نے کہا کہ ملک  اس وقت گرما  گرم سیاسی بحث و  الے انتخابی دور کی طرف بڑھ رہا ہے ۔

    انہوں نے کہا کہ ترکیہ  میں  حقیقی ڈیموکریسی موجود ہے ، آلتون نے کہا، “اپوزیشن  کئی ماہ  سے  اپنی حکمت عملی طے کرنے کی  جدوجہد  میں مصروف  ہے۔  ترک ڈیموکریسی بڑی متحرک  ڈیموکریسی ہے  اور ترک باشندے  سیاسی نظام پر مکمل طور  پر بھروسہ کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ  دی اکانومسٹ  کے رپورٹرز نے   ترکیہ میں کیا کچھ ہو رہا ہے جاننے کی ذرہ  بھر بھی زحمت نہیں کی ہے۔ میں اس جریدے   کی خبروں  سے متعلق شک و شبہات نہ کرنے والے     قارئین کو اس جریدے  کی  افسوسناک حالت کے بارے میں متنبہ کرنا چاہتا ہوں۔

     

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Article

    امریکہ ایردوان کو قائل کرنے میں اب تک ناکام، ایردوان کو رام کرنے کےنئے نئے طریقہ کار پر غور

    واشنگٹن میں چاوش اولو کےامریکی ہم منصب سےمذاکرات

    Next Article

    ترکیہ کاسویڈن میں قرآن کریم نذرِ آتش کے واقعے پر شدید رد عمل، سویڈن کےوزیردفاع کوترکیہ آنےسےروک دیا

    پاکستان سمیت عالمِ اسلام میں شدید احتجاج جاری

    ڈاکٹر فرقان حمید

    Related Posts

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    21جنوری , 2026

    Comments are closed.

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    ٹیگز
    #اسرائیل #حقان فیدان #حماس #سیاحت #غزہ #فلسطین آئی ٹی استنبول اسلام آباد افراطِ زر الیکشن 2024 انتخابات انقرہ اپوزیشن ایردوان بھونچال بیسٹ ماڈل آف ترکیہ ترقی ترک صدی ترک میڈیا ترکیہ تعلیم حزبِ اختلاف دنیا دہماکہ دی اکانومسٹ روس سلائِڈر سلائیڈر--- شہباز شریف صدر ایردوان صدر ایردوان، وزیراعظم شہباز شریف، پاکستان، ترکیہ عدلیہ عمران خان فیچرڈ قاتلانہ حملہ لانگ مارچ مغربی میڈیا ملت اتحاد وزیراعظم وزیراعظم شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف، صدر ایردوان، پاکستان، امداد پاکستان پاک فوج یورپ
    • Facebook
    • Twitter
    • Instagram
    اہم خبریں

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    ترکیہ اسکالرشپس: دنیا کی جامع ترین ( fully funded)اسکالرشپس، آن لائن درخواستوں کا طوفان، ویب سائٹ کو کریش کے خدشات

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    مقبول پوسٹس

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026
    Tr-Urdu All Rights Reserved © 2022
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.