Close Menu
Tr-Urdu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Tr-Urdu
    Subscribe
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    Tr-Urdu
    You are at:Home»کالم اور مضامین»مریم نواز سے وابستہ اصل امید
    کالم اور مضامین

    مریم نواز سے وابستہ اصل امید

    ڈاکٹر فرقان حمیدBy ڈاکٹر فرقان حمید31جنوری , 2023کوئی تبصرہ نہیں ہے۔6 Mins Read
    مریم نواز
    پوسٹ شئیر کریں
    Facebook Twitter LinkedIn Email

    تحریر فاروق عادل

     

    مریم نواز لوٹ آئی ہیں اور مسلم لیگ کے متوالوں نے ان کا پرجوش خیر مقدم بھی کر دیا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ مریم نواز نے گزشتہ چار ماہ کے دوران میں ایسا کیا کیا ہے کہ وہ ایسے استقبال کی حق دار بنیں اور ایسا کیا ہے جو وہ اب کریں گی تو ان کی جماعت میں زندگی کی ایک نئی لہر دوڑ جائے گی؟یہ سوالات ایک بحث کے متقاضی ہیں۔ اس بحث میں جانے سے قبل مریم نواز کو سمجھنے کے علاوہ پارٹی میں ان کے کردار کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔

    ذرا سا پیچھے جائیں۔ یہی کوئی پانچ ساڑھے پانچ برس۔ قوم نے انھیں یہ کہتے سنا کہ میں نے آج( انھوں نے سینکڑوں میں) ایک نمبر  بتاتے ہوئے کہا کہ اتنے سوالوں کے جواب دے کر وہ قرض بھی چکا دیا ہے جو مجھ پر واجب بھی نہ تھا۔ یہ وہی زمانہ تھا جب مریم نواز کا سیاست سے ابھی تک کوئی تعلق واسطہ نہیں تھا پھر کیوں انھیں مقدمات میں الجھایا جا رہا تھا، خود انھیں بھی اس کا احساس تھا جبھی تو پہلی پیشی کے بعد انھوں نے کہا کہ میں جانتی ہوں کہ میرے ساتھ ایسا سلوک کیوں کیا جا رہا ہے؟ پھر کہا کہ وہ مجھے نواز شریف کی کمزوری نہیں طاقت پائیں گے۔ مریم نواز جب یہ بیان دے رہیں تھیں، سینیٹر عرفان صدیقی اس وقت وزیر اعظم ہاؤس میں وزیر اعظم کے پاس موجود تھے اور ٹیلی ویژن پر یہ مناظر دیکھ رہے تھے۔ انھوں کہا، جناب وزیر اعظم یہ لوگ تو مائنس ون کرنے چلے تھے لیکن ان کی بدقسمتی دیکھئے کہ مائنس ون تو کیا ہوتا ، یہ پلس ون کر بیٹھے ہیں۔

    مریم نواز

    کسی زیادتی، واقعہ یا اتفاق کے نتیجے میں کسی شخص کا یوں اچانک نمایاں ہو جانا کوئی بڑی بات نہیں لیکن وہ واقعہ جسے عرفان صدیقی صاحب نے پلس ون سے تعبیر کیا، نہ اتنا معمولی ہے کہ کوئی اسے نظر انداز کر سکے اور نہ اتنا آسان ہے کہ کوئی فرزانہ کہہ دے کہ فلاں قیادت کے منصب پر فائز ہو گیا ہے تو اس پر یقین کر لیا جائے۔ کسی قوم یا کسی اجتماعیت کی زندگی میں ایسا واقعہ  پے در پے آزمائشوں سے گزرنے اور سرخ رو ہونے کے بعد ہی رونما ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے یہاں ایسا واقعہ ہو گزرا ہے۔ پانامہ کا تنازع اٹھنے اور اقامے کی بنیاد پر میاں نواز شریف کو پہلے حکومت اور اس کے بعد سیاست سے بھی نکالنے کی کوششوں سے جس دور کا آغاز ہوا تھا، مریم نواز کو ان میں مکمل پر لپیٹ کرسیاست سے  بارہ پتھر باہر رکھنے کی کوشش کی گئی لیکن واقعہ یہ ہے کہ مریم نواز اس ان تمام مشکلات سے نہ صرف سرخ رو گزریں بلکہ ان کی جماعت میں قیادت کا جو خلا پیدا کیا گیا تھا، یہ کمی بھی انھوں نے پوری کی۔

    آزمائشوں میں پیٹھ نہ دکھانا اور مایوسی کے شکار کارکنوں کو حوصلہ دینے جیسی خوبیاں ہی ہوتی ہیں جو کسی کو از خود قیادت کے منصب پر فائز کر دیتی ہیں۔ مریم نواز کے ساتھ یہی ہوا ہے۔ اپنے ان ہی اوصاف کی وجہ سے وہ نہ صرف مسلم کے کارکنوں کی امید ہیں بلکہ قوم کے ان طبقات کے لیے روشنی کی ایک کرن ہیں جو گزشتہ چار برس کے عرصے میں تبدیلی کے نام پر مایوسیوں کا شکار ہوئے اور اب وہ واقعی ایک نئی اور پر عزم قیادت کے منتظر ہیں۔ مریم نواز اس اعتبار سے ان کے لیے ایک امید ہیں۔

    ملک گزشتہ برسوں میں جس قسم کے حالات سے گزرا ہے اور اس عرصے میں معیشت کو جس بے دردی سے تباہ کیا گیا ہے، اس نے ملک کو مالی اعتبار سے ہی کمزور نہیں کیا بلکہ قوموں کی برادری میں بے توقیر بھی کیا ہے۔ حال ہی میں سعودی وزیر خزانہ کا ایک  بیان سامنے آیا ہے۔ یہ ایک حیران کن بیان ہے۔ اس بیان میں انھوں نے کہا کہ ہم مالی اعتبار سے آپ کے ساتھ جو تعاون کرتے ہیں، یہ دراصل ہمارے خون پسینے کی کمائی اور ہمارے ٹیکس گزاروں کی دولت ہے، ماضی میں جو ہوا، ہوا، اب ہم اسے اندھے کنویں میں نہیں پھینک سکتے۔ ہم آپ کے ساتھ تعاون کرنا چاہتے ہیں لیکن اس سے پہلے ضروری ہے کہ پہلے آپ اپنے نظام میں اصلاحات کریں۔

    مریم نواز

    ہمارے ذرائع ابلاغ نے اول  تو اس بیان کو زیادہ اہمیت ہی نہیں دی لیکن جو تھوڑی بہت اہمیت دی گئی ہے، اسے بھی مالی ڈسپلن قائم کرنے سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یہ بیان یقینا مالی ڈسپلن پر ایک حد تک توجہ دینے پر زور دیتا ہے لیکن اس سے کہیں زیادہ اس کا تعلق سیاسی ڈسپلن پر توجہ دینے سے ہے۔ ہمارے سعودی دوستوں نے دراصل ہمیں یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ یہ جو آپ نے اپنے ملک کو ایک تجربہ گاہ بنا رکھا ہے ، یہ درست نہیں ہے۔ کبھی ایسے لوگوں کو قیادت کے منصب پر لا بٹھایا گیا جو پلے بوائے سے اوپر اٹھ کر قیادت کے تقاضوں کو سمجھ ہی نہ سکے ، قوم نے  انھیں اپنی پارلیمانی قوت سے اٹھا پھینکا تو قوم کا فیصلہ تسلیم کرنے کے بجائے تو مزید  توڑ پھوڑکا راستہ اختیار کیا گیا تاکہ کچھ نئے چہرے متعارف کروائے جا سکیں یا کوئی نیا تجربہ کیا جاسکے۔ ہمارے سعودی دوستوں نے دراصل ہمیں ایسے تجربوں سے خبردار کیا ہے کیونکہ صرف وہ نہیں ہر سمجھ دار جانتا ہے کہ ایسے تجربات صرف وقت اور اعتبار ہی صائع نہیں کرتے بلکہ کسی قوم کو نئی آزمائشوں میں بھی مبتلا کر دیتے ہیں۔ 

    قومی سیاست کے نشیب و فراز کا سنجیدگی سے جائزہ لینے والے جانتے ہوں گے کہ سعودی وزیر خزانہ کے اس بیان کے بعد نئے تجربات کے ضمن میں ہماری سیاست میں ٹھہرا ؤنظر آیا ہے۔ ایسے ماحول میں مریم نواز کی واپسی محض ایک فرد کی اپنے وطن واپسی نہیں ہے بلکہ یہ ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔ یہ واقعہ صرف مسلم لیگ اور اس سے ہم دردی رکھنے والوں کے لیے امید کی کرن نہیں بلکہ ملک میں سیاسی اعتبار سے ایک نئے دور کی ابتدا بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ ایک ایسا سیاسی دور جو ملک کو ایک متحمل مزاج لیکن پر عزم ملک میں تبدیل کر سکے۔ ایک ایسی تبدیلی جو مختلف مسائل میں گھرے ہوئے پاکستان کو اپنے قومی مقاصد اور مفادات کا پاس رکھتے ہوئے ایک ایسی ریاست میں تبدیل کر دے جو اقوام عالم کی توقعات پر بھی پورا اتر سکے۔ توقع کی جا سکتی ہے کہ مریم نواز ایک ایسی تبدیلی ہی کا پیش خیمہ ثابت ہوں گی۔

     

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleپاکستان دوست برہان قایا ترک کا پشاور حملے میں 80 افراد کی شہادت پر سفیر پاکستان ڈاکٹر یوسف جنید سے اظہار تعزیت
    Next Article

    مغربی میڈیانےترکیہ کےانتخابات سےقبل صدر ایردوان کےخلاف پروپگینڈہ مہم کوتیزترکردیا

    مغربی میڈیا:یہ انتخابات اپوزیشن کوجیتنےکی ضرورت ہے

    ڈاکٹر فرقان حمید

    Related Posts

    دنیا کے تواز ن کا پانسہ پلٹنے والے نئےدفاعی ستون، جلد ہی پاک-ترک -سعودی ا سلامی اتحادقائم کیے جانے کی توقع

    15جنوری , 2026

    عوام فوج کو اور فوج عوام کو گلے لگا ئے ، یہی وقت کا تقاضا اور ضرورت ہے ایک ایسا مصالحتی کالم جو سینسر کی نذر ہوگیا

    8جنوری , 2026

    طاقت کی نئی لغت، عالمی نظام کا انہدام اور وینزویلا کا خوف دنیا پرطاری، جس کی لاٹھی اس کی بھینس

    5جنوری , 2026

    Comments are closed.

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    ٹیگز
    #اسرائیل #حقان فیدان #حماس #سیاحت #غزہ #فلسطین آئی ٹی استنبول اسلام آباد افراطِ زر الیکشن 2024 انتخابات انقرہ اپوزیشن ایردوان بھونچال بیسٹ ماڈل آف ترکیہ ترقی ترک صدی ترک میڈیا ترکیہ تعلیم حزبِ اختلاف دنیا دہماکہ دی اکانومسٹ روس سلائِڈر سلائیڈر--- شہباز شریف صدر ایردوان صدر ایردوان، وزیراعظم شہباز شریف، پاکستان، ترکیہ عدلیہ عمران خان فیچرڈ قاتلانہ حملہ لانگ مارچ مغربی میڈیا ملت اتحاد وزیراعظم وزیراعظم شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف، صدر ایردوان، پاکستان، امداد پاکستان پاک فوج یورپ
    • Facebook
    • Twitter
    • Instagram
    اہم خبریں

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    ترکیہ اسکالرشپس: دنیا کی جامع ترین ( fully funded)اسکالرشپس، آن لائن درخواستوں کا طوفان، ویب سائٹ کو کریش کے خدشات

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    مقبول پوسٹس

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026
    Tr-Urdu All Rights Reserved © 2022
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.